05/09/2026
دندی کا وہ تنہا درخت۔۔۔ جس نے مجھے اپنی طرف بلا لیا
سرن ویلی، مانسہرہ کے ڈاڈر کے مقام پر ایک خوبصورت سا گاؤں ہے۔۔۔ دندی۔ پہاڑوں کے درمیان چھپا ہوا یہ گاؤں پہلی نظر میں ہی دل کو اپنے حصار میں لے لیتا ہے۔ یہاں زندگی آج بھی بہت سادہ ہے۔ کچے مکان، چھوٹی چھوٹی کھیتیاں، مٹی کی خوشبو، پھلوں سے لدے درخت اور وہ لوگ جن کے چہروں پر مصنوعی مسکراہٹ نہیں بلکہ پہاڑوں جیسی سادگی بسی ہوئی ہے۔ میں جب یہاں پہنچی تو میری نظریں اچانک سامنے بلند پہاڑ کی ایک چوٹی پر جا ٹھہریں۔ وہاں۔۔۔ سب سے الگ، سب سے تنہا۔۔۔ ایک چیڑ کا درخت کھڑا تھا۔ نہ اس کے آس پاس کوئی دوسرا درخت تھا، نہ کوئی گھر، نہ کوئی انسان۔ بس وہ۔۔۔ اور آسمان۔ وہ اتنی بلندی پر کھڑا تھا کہ مجھے یوں لگا جیسے کسی نے اسے زمین سے اٹھا کر آسمان کے قریب رکھ دیا ہو۔ میں نہ جانے کتنی دیر اسے دیکھتی رہی۔ پھر میرے دل میں ایک عجیب سی خواہش نے جنم لیا: مجھے اس درخت کے پاس جانا ہے۔ مقامی ساتھی نے پہاڑ کی طرف دیکھا اور کہا: "وہ بہت دور ہے۔ آپ کو صرف نزدیک نظر آ رہا ہے۔ راستہ بھی آسان نہیں۔" میں نے مسکرا کر کہا: کچھ بھی ہو جائے، مجھے وہاں جانا ہے۔
صبح ہم گھر سے نکلے اور پیدل سفر شروع کر دیا۔ راستہ جیسے کسی مصور کی بنائی ہوئی تصویر ہو۔ کچے راستے کے دونوں طرف چھوٹے چھوٹے کھیت تھے۔ کہیں سبزیاں لہلہا رہی تھیں، کہیں کالے آلوچے کے درخت تھے، کہیں ناشپاتی کی شاخیں پھلوں کے بوجھ سے جھکی ہوئی تھیں، اور کہیں آڑو کے درخت اپنے رنگ بکھیر رہے تھے۔ دور کہیں آبشار شور مچا رہی تھی۔ اس کا پانی چٹانوں سے ٹکراتا تو یوں لگتا جیسے پہاڑ اپنی ہی زبان میں کوئی قدیم گیت گا رہا ہو۔ ہم آہستہ آہستہ بلندی کی طرف بڑھتے گئے۔ پھر ایک مقام پر پہنچ کر میرے مقامی ساتھی نے رک کر کہا: "میں اس سے آگے نہیں جا سکتا۔۔۔ اب آپ کو اکیلے جانا ہوگا۔" میں نے ایک لمحے کے لیے اسے دیکھا۔ سامنے پہاڑ تھا۔۔۔ اوپر وہی تنہا درخت۔۔۔ اور درمیان میں ایک ایسا راستہ جس کا اختتام مجھے معلوم نہیں تھا۔ میں نے دل میں کہا: "تو پھر اکیلی ہی سہی۔۔۔" اور میں چل پڑی۔ اس کے بعد کا سفر صرف میرا تھا۔ پہاڑ، راستہ، بادل، درخت۔۔۔ اور میں۔
چڑھائی مشکل تھی، مگر جب پہاڑ آپ کا ہاتھ تھام لیں تو مشکل سے مشکل راستہ بھی آسان ہو جاتا ہے۔ اچانک آسمان پر کالی گھٹائیں اور گہری ہو گئیں۔ پھر بارش شروع ہو گئی۔ پہلے چند بوندیں۔۔۔ پھر بے شمار بوندیں۔ بارش چٹانوں سے ٹکراتی، درختوں کی شاخوں پر بکھرتی، پتوں پر پھسلتی اور پھر زمین پر گر جاتی۔ میں رک گئی۔ میں نے آنکھیں بند کر لیں۔ اور تب مجھے محسوس ہوا کہ جنگل میں کوئی ایسا سنگیت بکھر گیا ہے جسے شاید دنیا کے کسی ساز نے کبھی نہیں چھیڑا۔ چٹان پر پڑتی بارش کی آواز الگ تھی۔ درختوں پر گرتی بوندوں کی آواز الگ۔ دور آبشار کا شور الگ۔ ہوا کی سرسراہٹ الگ۔ اور ان سب کے درمیان میری اپنی سانسوں کی آواز۔۔۔ یہ قدرت کا ایسا ساز تھا جس میں کوئی موسیقار نہیں تھا، مگر پھر بھی پوری کائنات موسیقی بن گئی تھی۔ قدرت کا ساز جب بجتا ہے تو اسے صرف کان نہیں، روح سنتی ہے۔ وہ لمحہ ایسا نشہ آور، ایسا مسرور کن تھا کہ میں خود کو بھول گئی۔
اور نہ جانے کیوں اس بارش، اس جنگل، ان پہاڑوں اور ان آوازوں میں مجھے اپنے لوگ یاد آنے لگے۔ شاید انسان ساری زندگی اپنے اپنوں کو تلاش کرتا رہتا ہے۔ کبھی لوگوں کے درمیان۔ کبھی یادوں میں۔۔۔ اور کبھی پہاڑوں کی خاموش چوٹیوں پر۔ میں نے سوچا، شاید یہ پہاڑ بھی میرے اپنے ہیں۔ شاید اسی لیے میں ان کی طرف بھاگتی ہوں۔ ان کے چہروں کو دیکھتی ہوں۔ ان کی آوازیں سنتی ہوں۔ ان کی خاموشی میں اپنا نام تلاش کرتی ہوں۔ شاید میں ان پہاڑوں سے محبت نہیں کرتی۔۔۔ شاید یہ پہاڑ ہی مجھے اپنی محبت کی طرح اپنی طرف بلاتے ہیں۔
بارش تھمی تو میں نے دوبارہ سفر شروع کیا۔ کپڑے بھیگ چکے تھے، راستہ پھسلن بھرا تھا، مگر دل میں عجیب سی روشنی تھی۔ جیسے منزل اب زیادہ دور نہیں۔ پھر راستہ مزید دشوار ہونے لگا۔ کچھ جگہوں پر صرف ایک پاؤں رکھنے جتنی پگڈنڈی تھی۔ ایک طرف پہاڑ کی دیوار۔ دوسری طرف گہری کھائی۔ میں نے نیچے دیکھا تو بڑی بڑی چٹانیں اتنی چھوٹی دکھائی دے رہی تھیں جیسے کسی نے زمین پر کنکریاں بکھیر دی ہوں۔ ذرا سی غفلت۔ اور انسان ہمیشہ کے لیے اسی پہاڑ کا حصہ بن سکتا تھا۔ آگے کچھ بڑی بڑی غاریں بھی نظر آئیں۔ گاؤں والوں نے بتایا تھا کہ ان پہاڑوں میں جنگلی جانور بھی ہوتے ہیں، کبھی شیر بھی دیکھے گئے ہیں۔ مگر میری دیوانگی مجھے روکے ہوئے نہیں تھی۔ میں چلتی رہی۔ کبھی آہستہ۔۔۔ کبھی تیز۔۔۔ اور کبھی واقعی ایسے جیسے گاؤں کی کوئی گوری اپنے شہری بابو سے ملنے کے لیے پہاڑوں کی طرف دوڑ رہی ہو۔
آخر وہ لمحہ آ گیا۔۔۔ میں اس درخت کے قریب پہنچ گئی۔ وہی تنہا چیڑ کا درخت۔ جسے میں نے بہت دور سے دیکھا تھا۔ جس نے مجھے اپنے پاس بلایا تھا۔ اب میں اس کے سامنے کھڑی تھی۔ میں نے اپنا ہاتھ اس کی کھردری چھال پر رکھا۔ کچھ لمحے کچھ نہیں کہا۔ بس اسے دیکھا۔ وہ خاموش تھا۔۔۔ مگر مجھے لگا جیسے اس نے میرے سارے سفر کو سن لیا ہے۔ میری تھکن۔۔۔ میری تنہائی۔۔۔ میری بےقراری۔۔۔ اور شاید میرے اندر چھپی وہ خواہش بھی جس کا مجھے خود کبھی پورا علم نہیں ہوا۔ میں وہاں کھڑی ہو کر سوچتی رہی: انسان آخر کن چیزوں کے لیے سفر کرتا ہے؟ منزل کے لیے؟ نہیں۔۔۔ شاید اپنے آپ کو تلاش کرنے کے لیے۔
میں واپس مڑی تو دور وہی گاؤں دکھائی دے رہا تھا۔ کچے گھر، سبز کھیت، پھلوں کے درخت اور ان گھروں میں بسنے والے سادہ لوگ۔۔۔ راستے میں انہی میں سے کچھ لوگوں نے مجھے اپنے گھر بلایا۔ ایک سادہ سا کچا مکان تھا، مگر اندر صفائی اور محبت ایسی کہ دل بھر آیا۔ انہوں نے خالص دودھ میں چائے بنائی۔ پہاڑ کی سرد ہوا، سفر کی تھکن اور خالص دودھ کی گرم چائے۔۔۔ کبھی کبھی زندگی کی سب سے بڑی نعمتیں بہت سادہ ہوتی ہیں۔ گاؤں کی عورتیں مجھے حیرت سے دیکھ رہی تھیں۔ میری سفری لباس اور پہاڑوں پر اکیلے چلنے کا انداز شاید ان کے لیے کچھ عجیب تھا۔ وہ کبھی چہرہ ڈھانپتیں، کبھی ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکراتیں۔ مگر ان کی آنکھوں میں محبت تھی۔ انہوں نے بڑی اپنائیت سے کہا: جلدی واپس جانا۔۔۔ یہاں سانپ بھی ہوتے ہیں اور جنگلی جانور بھی۔
میں نے ان کا شکریہ ادا کیا، کچھ تصویریں بنائیں اور پھر واپسی کا راستہ پکڑ لیا۔
مگر دل وہیں کہیں رہ گیا تھا۔۔۔ اس تنہا درخت کے پاس۔ اس بارش کی بوندوں میں۔ اس پہاڑ کی خاموشی میں۔ اور اس گاؤں کے ان سادہ لوگوں کے درمیان۔ دندی میرے لیے صرف ایک خوبصورت گاؤں نہیں رہا۔ یہ میرے لیے ایک احساس بن گیا ہے۔ ایک ایسا سفر جس میں راستے سے زیادہ دل نے سفر کیا۔ سرن ویلی کا ڈاڈر واقعی قدرت کا ایک ایسا گوشہ ہے جہاں گرمیوں میں بھی پہاڑی ہوا انسان کو اے سی بھلا دیتی ہے۔ یہاں بادل پہاڑوں سے لپٹتے ہیں، آبشاریں راستوں کے ساتھ چلتی ہیں، پھلوں کے درخت مسافروں کو خوش آمدید کہتے ہیں اور سادہ لوگ اپنے چھوٹے سے گھر میں پوری دنیا جتنی محبت سمیٹے بیٹھے ہیں۔
اور وہ درخت؟ وہ آج بھی شاید اسی چوٹی پر کھڑا ہے۔ تنہا۔۔۔ مگر تنہا کہاں؟ اب تو اس کے پاس میری ایک یاد بھی ہے۔ میں نے اس سے کہا تھا: "میں پھر آؤں گی۔۔۔" اور شاید میرا اگلا سفر اسی وعدے کی طرف ہے۔ ان شاء اللہ۔۔۔ اب موسیٰ کا مصلیٰ۔ پتہ نہیں وہاں تک پہنچ پاؤں گی یا نہیں۔ مگر سفر کا مزہ منزل کے یقین میں نہیں۔۔۔ منزل کی جستجو میں ہے۔ عمر کا عدد اپنی جگہ۔۔ مگر میرے اندر کی مسافر آج بھی وہیں ہے جہاں سے یہ سفر شروع ہوا تھا۔ اور جب تک یہ مسافر زندہ ہے۔۔۔ پہاڑ مجھے بلاتے رہیں گے۔ بادل میرے راستے میں آئیں گے۔ بارش میرے لیے قدرت کا سنگیت بجاتی رہے گی۔ اور میں۔۔۔ اپنے ان پہاڑوں کے چہروں میں اپنے اپنوں کو تلاش کرتی رہوں گی۔
#قدرت #پہاڑ #سفر #سفرنامہ #مانسہرہ #دندی #ڈاڈر