14/04/2026
جوگی جہلمی پنجابی ادب کا وہ درخشاں نام ہے جس کی شاعری میں مٹی کی خوشبو، محنت کش انسان کی سچائی اور روحانیت کی گہرائی ایک ساتھ محسوس ہوتی ہے۔ ان کا اصل نام اللہ دتہ تھا۔ وہ 1903ء میں کھڑی شریف (میرپور) میں پیدا ہوئے اور بچپن ہی میں اپنے خاندان کے ساتھ جہلم آباد ہو گئے
انہوں نے صرف 15 سال کی عمر میں شاعری کا آغاز کیا، مگر ان کی اصل پہچان کسی درسگاہ یا شاہی دربار سے نہیں بلکہ محنت، پسینے اور زندگی کے تجربات سے بنی۔ وہ پیشے کے اعتبار سے ایک مستری (راج) تھے، اینٹ اور گارے سے گھر بناتے تھے، مگر لفظوں سے دلوں کی دنیا آباد کرتے تھے
جوگی جہلمی کی شاعری میں ایک عجیب سادگی اور سچائی ہے۔ وہ صرف شاعر نہیں تھے بلکہ ایک درویش صفت انسان تھے۔ ان کی آنکھوں میں ایک خاص چمک، انداز میں فقیری اور باتوں میں گہرا اثر ہوتا تھا۔ مشاعروں میں ان کی موجودگی خود ایک محفل بن جاتی تھی، اور لوگ دور دور سے صرف انہیں سننے آتے تھے۔
ان کی واحد معروف کتاب "مندراں" ہے، جو پنجابی شاعری کا ایک اہم خزانہ سمجھی جاتی ہے۔ �
ان کی شاعری میں انسان، محبت، خودی، اور زندگی کے فلسفے کو بڑی سادگی سے بیان کیا گیا ہے۔
وہ صرف لفظوں کے شاعر نہیں تھے بلکہ عمل کے بھی شاعر تھے۔ انہوں نے انگریز دور میں آزادی کے جذبے سے بھرپور نظمیں کہیں اور اس کی پاداش میں قید بھی کاٹی۔ �
🌿
جہلم کی گلیوں میں ایک ایسا شخص بھی چلتا تھا جس کے ہاتھوں میں اینٹیں اور دل میں شاعری ہوتی تھی۔ لوگ اسے مستری کہتے تھے، مگر وقت نے اسے شاعر بنا دیا۔ وہ دیواریں بھی بناتا تھا اور دلوں میں خواب بھی۔
اس کی شاعری کسی کتابی علم کی محتاج نہ تھی، وہ زندگی سے سیکھتا تھا—پسینے کی بوندوں سے، مٹی کی خوشبو سے، اور رات کی خاموشی سے۔ جب وہ بولتا تو لفظ نہیں، احساس بولتے تھے۔
جوگی جہلمی وہ شاعر تھا جو محلوں میں نہیں، لوگوں کے دلوں میں بستا تھا۔ اس نے ہمیں سکھایا کہ اصل شاعری وہ ہے جو انسان کو انسان سے جوڑ دے، جو دکھ میں سہارا بنے اور خوشی میں مسکراہٹ۔
آج وہ اس دنیا میں نہیں، مگر جہلم کی فضاؤں میں، مزدور کے ہاتھوں میں، اور پنجابی زبان کے ہر سچے لفظ میں اس کی آواز اب بھی زندہ ہے۔
یہ معلومات سوشل میڈیا سے اکھٹی کی گئی ھے کمی بیشی ہو سکتی ھے کسی کی دل آزاری ہو تو معزرت خواہ ہوں
تحریر زبیر چوہدری خادم ثقافت