23/08/2026
شاید دنیا کے ان لوگوں میں سے ہیں جو الیکشن ہارنے کے باوجود چترال کے عوام سے اپنی محبت نہیں ہارتے۔
سینیٹر صاحب جب بھی چترال آتے ہیں تو اپنی استطاعت کے مطابق غریب، نادار اور ضرورت مند لوگوں کی مدد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ چاہے وہ سیلاب متاثرین ہوں یا کسی اور مشکل میں مبتلا افراد، ان کا لوگوں کے درمیان جا کر اپنے ہاتھوں سے مدد کرنا قابلِ تحسین عمل ہے۔
لیکن یہاں ایک اہم مسئلہ بھی ہے جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ چترال کے بہت سے غریب اور سفید پوش لوگ ایسے ہیں جن کی آواز سینیٹر صاحب تک پہنچ ہی نہیں پاتی۔ اس کی ایک بڑی وجہ شاید ان کی ٹیم کا وہ طریقۂ کار ہے جس میں بعض اوقات صرف انہی لوگوں کی درخواستیں آگے پہنچتی ہیں جو ٹیم کے افراد کو پسند ہوں یا ان کے قریب ہوں۔
میری سینیٹر طلحہ محمود صاحب سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ وہ اپنی ٹیم کو ہدایت کریں کہ ہر غریب، مستحق اور سفید پوش شخص کی آواز بلا تفریق ان تک پہنچائی جائے۔ کیونکہ اصل خدمت تب ہی ہوگی جب مدد ضرورت کی بنیاد پر ہو، ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پر نہیں۔
ہم طلحہ محمود صاحب کی چترال سے محبت اور عوامی خدمت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، بس ہماری خواہش ہے کہ چترال کے ہر مستحق انسان تک اس محبت اور مدد کا حق بھی پہنچے۔
Team Talha Mahmood