10/04/2023
بابر کی کپتانی پر نجم سیٹھی کا بیان: ’ورلڈکپ سر پر ہے اور یہاں بابر پر پریشر ڈالا جا رہا ہے‘
ایسا عموماً کم ہی ہوتا ہے کہ کرکٹ ورلڈ کپ کا سال ہو اور پاکستان کرکٹ ٹیم کی کپتانی ایک تنازع کی شکل اختیار نہ کرے۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان اور مایہ ناز بلے باز بابر اعظم کی کپتانی پر تنازع گذشتہ کئی ماہ سے وقفے وقفے سے سر اٹھاتا رہا ہے اور اس کی بنیاد صرف افواہیں ہی نہیں رہیں۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کی افغانستان سے پہلی مرتبہ سیریز شکست کے بعد نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیم کے اعلان کے بعد سے بابر اعظم کی کپتانی کے بارے میں بحث دیکھنے کو مل رہی ہے۔
افغانستان کے خلاف سیریز میں بابر اعظم سمیت کئی سینیئر کھلاڑیوں کو آرام کا موقع دیا گیا تھا۔ اس سیریز سے قبل بھی بابر اعظم کی کپتانی زیرِ بحث تھی اور چار اپریل کو نجم سیٹھی کی ٹویٹ کے بعد سے اس حوالے سے قیاس آرائیوں کو مزید ہوا ملی
انھوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا تھا کہ ’آج میرے پاس بابر اعظم آئے تھے اور میں نے انھیں بتایا کہ وہ نیوزی لینڈ سیریز کے لیے ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے ٹیم کے کپتان ہوں گے۔ جو افراد غلط خبریں پھیلا رہے تھے آج ان کی نوکری ختم ہو گئی۔‘خیال رہے کہ کرکٹ ورلڈ کپ کے لیے دنیا بھر کی تمام ہی ٹیموں کے ون ڈے کے کپتانوں کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ عموماً باقی دنیا میں اس حوالے سے اعلانات طویل عرصے کے لیے کیے جاتے ہیں۔حال ہی میں نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیمسن کو جب انجری کا سامنا کرنا پڑا تو نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ نے ابھی سے ورلڈ کپ کے لیے ٹام لیتھم کو کپتانی کی ذمہ داریاں دے دی ہیں۔
یسے میں سوشل میڈیا پر یہ سوال اٹھایا جا رہا تھا کہ پاکستان میں سیریز کی بنیاد پر کپتانی کیوں دی جاتی ہے اور اس سب کی وجہ سے پاکستانی ٹیم اور خصوصاً بابر اعظم پر غیر ضروری دباؤ ڈالنے کی کیا ضرورت ہے۔
اس پر جلتی پر تیل اس وقت ڈالا گیا جب نجم سیٹھی نے گذشتہ روز صحافی وحید خان کے یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے نہ صرف ایشیا کپ کی میزبانی اور اس میں انڈیا کی شمولیت سے متعلق پاکستان کے مؤقف کی وضاحت کی بلکہ بابر اعظم کی کپتانی پر بھی تفصیل سے بات کی