10/09/2026
پنجاب میں بڑا زرعی انقلاب---10 لاکھ کسان کارڈز،360 ارب کا لون-99 فیصد لون کی ریکوری،شفافیت 100 فیصد
تھل سے پوٹھوہار تک،جنوبی پنجاب سے سینٹرل پنجاب تک کسان کی ایمپارومنٹ کا سلسلہ وزیر اعلی مریم نواز شریف نے
تیز کر دیا
24 ہزار گرین ٹریکٹر، 10 لاکھ کی سبسڈی،12 ہزار سپر سیڈرز اور 10 مزید ماڈل ایگری مالز پنجاب کے کسانوں کے لئے حاضر
پنجاب 1 Million کسان کارڈز کی فراہمی کا تاریخی ہدف حاصل کرنے سے صرف ایک ماہ دور
31 اگست 2026 تک 10 لاکھ کسان کارڈز کا ہدف مکمل کر لیا جائے گا
سوا دو سال سے یوریا کی قیمتیں کنٹرول میں،وزیر اعلی مریم نواز کا کسان کو کھاد مافیا سے مستقل تحفظ
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت محکمہ زراعت کا اہم اجلاس
وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں کسان کارڈ اور زرعی میکنائزیشن کا تفصیلی جائزہ
پنجاب میں اب تک 9 لاکھ کسان کارڈ جاری کیے جا چکے ہیں
کسان کارڈ پروگرام میں مزید 50 ہزار کاشتکاروں کا اضافہ، تعداد 10 لاکھ کے ہدف کی طرف گامزن
کسانوں کو اب تک 360 ارب روپے کے بلا سود قرضے جاری کیے جا چکے ہیں
وزیر اعلیٰ کسان کارڈ کے تحت دیے گئے قرضوں کی ریکوری کی شرح 99 فیصد رہی
جاری کردہ قرضوں کا 80 فیصد حصہ کسانوں نے کھادوں کی خریداری کے لیے استعمال کیا
خریف کی فصل کے لیے 116 ارب کا قرضہ فراہم،جس میں سے 62 ارب روپے استعمال ہو چکے ہیں
خریف قرضوں کا 75 فیصد حصہ کاشتکاروں نے خالصتاً کھاد پر خرچ کیا
بین الاقوامی آڈٹ فرم KPMG کسان کارڈ کے اثرات کی رپورٹ 30 ستمبر تک پیش کرے گی
وزیر اعلیٰ پنجاب کے کسان کارڈ پروگرام کی عالمی سطح پر تشہیر کی جائے گی
ہم نے کسان کو حقیقی معنوں میں ایمپاور کیا ہے-مریم نواز شریف**
پنجاب بھر میں تین مراحل کے دوران 34 ہزار گرین ٹریکٹرز تقسیم کیے جا رہے ہیں
ٹریکٹر حاصل کرنے والے 41 فیصد کاشتکار ایسے ہیں جنہیں زندگی میں پہلی بار ٹریکٹر ملا
20 فیصد کسانوں نے ٹریکٹر کے ساتھ جدید زرعی آلات (Implants) بھی خریدے
32 فیصد کاشتکار دیگر کسانوں کو سروس پرووائیڈر کے طور پر خدمات فراہم کر رہے ہیں
پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار 3 سال میں 50 ہزار ٹریکٹرز دیے جائیں گے، مریم نواز شریف
ماضی میں کسی حکومت نے کسانوں کو اتنی بڑی تعداد میں ٹریکٹرز فراہم نہیں کیے-مریم نواز شریف
ٹریکٹرز کی تقسیم کے پورے طریقہ کار میں انسانی مداخلت مکمل طور پر ختم کر کمپیوٹرائزڈ کر دی گئی ہے-مریم نواز شریف
پنجاب حکومت نیے فیلڈ میں جا کر 12 ہزار 650 ٹریکٹرز کی جسمانی تصدیق کا عمل مکمل کر لیا گیا
اب تک 24,000 ٹریکٹرز کسانوں کے حوالے کیے جا چکے ہیں، 99.7 فیصد فیلڈ میں موجود ہیں
جسمانی تصدیق کے دوران 35 ٹریکٹرز موقع پر موجود نہ ہونے پر الاٹیز کو نوٹسز جاری کر دیے گئے
وزیر اعلیٰ گرین ٹریکٹر اسکیم کے تحت کسانوں کو فی ٹریکٹر 10 لاکھ روپے کی ریکارڈ سبسڈی دی جا رہی ہے
زرعی شعبے کی ترقی کے لیے 3 ہزار ایگری گریجویٹس کو انٹرن شپ پروگرام میں شامل کیا گیا
ایگری انٹرنز کے ذریعے صوبے کی 12 ملین ایکڑ اراضی پر کسانوں کو توسیعی خدمات فراہم کی گئیں
انٹرن شپ مکمل کرنے والے 30 فیصد ایگری گریجویٹس مستقل طور پر برسرِ روزگار ہو چکے ہیں
زرعی انٹرنز کی مختلف نجی اور سرکاری اداروں میں جاب پلیسمنٹ کی شرح 50 فیصد رہی
انٹرن شپ پروگرام کے اگلے مرحلے میں مزید 1500 ایگری گریجویٹس کو شامل کرنے کا فیصلہ
صوبے بھر میں 10 نئے اور جدید سہولیات سے لیس "ماڈل ایگری مالز" بنائے جائیں گے
اجلاس میں ماڈل ایگری مالز کا ڈیزائن منظور، تصویری شواہد اور ماڈل پیش کر دیے گئے
میکنائزیشن پروگرام کے تحت اب تک 280 جدید ترین زرعی مشینیں کاشتکاروں کو فراہم کی جا چکی ہیں
جون 2027 تک کسانوں کو مجموعی طور پر 2000 جدید زرعی مشینیں فراہم کی جائیں گی
پانی کی بچت کے لیے پنجاب بھر میں نہری کھالوں کی پختگی کا عمل تیزی سے جاری-بریفنگ
کاشتکاروں کی سہولت کے لیے 1000 لیزر لینڈ لیولر فراہم کیے جا رہے ہیں-بریفنگ
جدید آبپاشی کے تحت 1000 ایکڑ اراضی کو ہائی ایفیشینسی اریگیشن سسٹم پر منتقل کر دیا گیا-بریفنگ
پانی کی بہتر فراہمی کے لیے مزید 1200 واٹر کورسز پر کام تیزی سے جاری ہے-بریفنگ
سینٹرل پنجاب میں زیرِ زمین پانی کی سطح برقرار رکھنے کے لیے 1000 ریچارجنگ ویلز قائم کیا جا رہے ہیں-بریفنگ
پوٹھوہار ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت 4000 میں سے 2400 ایکڑ اراضی کو کاشت کے لیے تیار کر لیا گیا-بریفنگ
خطہ پوٹھوہار میں بارانی پانی ذخیرہ کرنے کے لیے 1000 واٹر اسٹوریج پونڈز قائم کر دیے گئے-بریفنگ
وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی جانب سے "Thal Transformation Programme" کی منظوری
تھل کے علاقے میں 11,000 ایکڑ پر ہائی ایفیشینسی اریگیشن سسٹم نصب کیا جائے گا
تھل ریجن میں پانی ذخیرہ کرنے کے لیے 1000 تالاب اور آبپاشی اسکیمیں متعارف کرانے کا فیصلہ
دالوں کی مقامی کاشت کو فروغ دینے کے لیے کسانوں کو 3000 جدید مشینیں فراہم کی جائیں گی
تھل کے پسماندہ علاقوں میں 10,000 ایکڑ رقبے پر مالٹے کے باغات لگانے کی تاریخی منظوری
سموگ اور باقیات جلانے کے خاتمے کے لیے کسانوں میں اب تک 5 ہزار سپر سیڈر تقسیم کیے جا چکے ہیں
رواں سال کسانوں کو مزید 7 ہزار سپر سیڈر فراہم کرنے کا ہدف مقرر
سپر سیڈر ٹیکنالوجی کے زبردست استعمال سے 3.5 ملین ایکڑ رقبے پر گندم کی کاشت کی جائے گی
اکتوبر 2026 تک کسانوں کو فراہم کردہ سپر سیڈرز کی مجموعی تعداد 12,000 تک پہنچا دی جائے گی
وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کو کھاد کی رسد، طلب اور مارکیٹ قیمتوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی
پاکستان یوریا کھاد کی مقامی پیداوار اور ضروریات میں مکمل طور پر خودکفیل ہے،حکام
صوبے میں گزشتہ سوا دو سال سے کھاد کی قیمتوں کو 4400 سے 4500 روپے کی حد میں برقرار رکھا گیا ہے