02/12/2024
Chess - شطرنج
شطرنج کے بارے میں اسلام میں کوئی واضح حکم قرآن میں موجود نہیں ہے، لیکن اس پر مختلف اسلامی اسکالرز نے اپنے زمانے اور حالات کے مطابق فتوے دیے ہیں۔ اس مسئلے پر علماء کی رائے مختلف ہے، اور اس کا فیصلہ کھیل کے سیاق و سباق، مقصد، اور اس کے اثرات پر منحصر ہے۔
شطرنج کی اجازت اور ممانعت پر دلائل:
شطرنج کے جواز کے حق میں:
1. تفریح اور ذہنی مشق:
شطرنج کو ایک ذہنی مشق اور تفریح کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جو عقل کو تیز کرتا ہے اور حکمت عملی سکھاتا ہے۔
2. کوئی حرام عنصر شامل نہ ہو:
اگر شطرنج میں جوا، شرط لگانا، یا وقت کا ضیاع شامل نہ ہو اور یہ عبادات میں رکاوٹ نہ ڈالے، تو یہ کھیل حرام نہیں سمجھا جاتا۔
3. علماء کی رائے:
بعض فقہاء (جیسے امام شافعیؒ اور امام ابو یوسفؒ) نے شطرنج کو جائز قرار دیا ہے، بشرطیکہ یہ وقت ضائع کرنے یا حرام کاموں کا سبب نہ بنے۔
شطرنج کی ممانعت کے دلائل:
1. وقت کا ضیاع:
اگر شطرنج کھیلنے میں وقت کا ضیاع ہو، اور یہ عبادات، تعلیم، یا دیگر اہم کاموں میں رکاوٹ بنے، تو یہ منع کیا گیا ہے۔
2. جوا یا شرط:
اگر شطرنج کو جوا یا شرط کے ساتھ کھیلا جائے، تو یہ حرام ہے کیونکہ جوا قرآن مجید میں واضح طور پر حرام قرار دیا گیا ہے:
“شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوا کے ذریعے تمہارے درمیان دشمنی اور بغض ڈال دے…” (سورۃ المائدہ، 5:91)
3. اسلامی تاریخ میں اختلاف:
بعض علماء، جیسے امام ابن تیمیہؒ اور امام مالکؒ، نے شطرنج کو وقت ضائع کرنے اور بعض اوقات غفلت کا باعث بننے کی وجہ سے مکروہ یا حرام قرار دیا ہے۔
شطرنج کا فیصلہ کن اصول:
اسلام میں شطرنج کا جواز یا ممانعت اس کے کھیلنے کے طریقے اور مقصد پر منحصر ہے:
• جائز: اگر شطرنج تفریح یا ذہنی مشق کے لیے کھیلا جائے، بغیر جوا، شرط، یا عبادات میں خلل ڈالے۔
• ناجائز: اگر یہ وقت کا ضیاع، عبادات کی غفلت، یا جوا/شرط کا سبب بنے۔
اسلام میں شطرنج بذاتِ خود نہ مکمل حرام ہے اور نہ مکمل حلال، بلکہ اس کا فیصلہ اس کے کھیلنے کے طریقے، نیت، اور اثرات پر ہوتا ہے۔ اگر یہ تعمیری سرگرمی کے طور پر کھیلا جائے تو جائز ہے، لیکن اگر یہ دین یا دنیا کے فرائض میں رکاوٹ بنے، تو یہ ممنوع ہو سکتا ہے۔