01/09/2026
---
# شہزاد کرکٹ کلب: گراس روٹ سے قومی افق تک کی ایک مثالی داستان
**تحریر: ملک تنویر صدقال ایڈووکیٹ**
*(بانی رکن، جنہوں نے سال 2003ء میں کلب کے قیام سے لے کر آج تک اس کے ہر عروج و زوال، جدوجہد اور کامیابیوں کا خود بچشمِ خود مشاہدہ کیا اور ہر دور میں اس کے ساتھ وابستہ رہے)*
کسی بھی خطے میں کھیلوں کا فروغ اور نوجوانوں کی تربیت چند جنونی، مخلص اور باہمّت رہنماؤں کے خوابوں کی مرہونِ منت ہوتی ہے۔ ضلع میں کرکٹ کی بقا اور مقامی استعداد کو ایک معیاری پلیٹ فارم فراہم کرنے کا یہ خواب 2003ء میں تعبیر آشنا ہوا، جب ظہیر صدقال ایڈووکیٹ اور تنویر صدقال ایڈووکیٹ نے شہزاد کرکٹ کلب کی بنیاد رکھی۔ کالج گراؤنڈ سے باقاعدہ پریکٹس کے آغاز کے ساتھ ہی اس کلب کے ایک سنہرے، پرعزم اور تاریخ ساز سفر کی پہلی اینٹ رکھی گئی۔
ابتدائی دور اور سنگِ بنیاد رکھنے والے معمار
2006ء تک یہ کلب اپنے تشکیلی مراحل سے گزرتا ہوا مضبوط اور مستحکم قدموں پر گامزن رہا۔ اس ابتدائی اور کٹھن دور میں جن شخصیات نے اپنی بے لوث خدمات اور جذبے سے اس پودے کی آبیاری کی، ان میں ملک فہیم ؛سعید الرحمن ۔ نوازش ملک ۔محمّد ارشد ۔یاسر عدنان، رضوان، فراز شیخ شامل تھے۔ ان مخلص دوستوں نے ہر مشکل وقت میں کلب کا پرچم بلند رکھا اور مقامی سطح پر کرکٹ کا ایک بہترین ماحول قائم کیا۔
ملک فہیم کی آمد: ایک نیا موڑ اور فتح و کامرانی کا دور
کلب کی تاریخ کا سب سے اہم موڑ اس وقت آیا جب ملک فہیم کی شمولیت ہوئی۔ ان کی آمد سے کلب کو نہ صرف انتظامی تقویت ملی بلکہ ایک نئی توانائی اور نیا عزم میسر آیا۔ اس نئے دور میں بہترین صلاحیتوں کے حامل کھلاڑی کلب کا حصہ بنے—
کلب کے اس شاندار اور کامیاب سفر میں کپتانوں کا کردار انتہائی بنیادی رہا ہے۔ خاص طور پر **ظہیر صدقال ایڈووکیٹ، تنویر صدقال ایڈووکیٹ، ملک فہیم، نوازش ملک اور محمد ارشد *سعید الرحمن * نے بطور کپتان اپنی بہترین قیادت، حکمتِ عملی اور بصیرت سے ٹیم کی کامیابیوں میں کلیدی اور اہم ترین کردار ادا کیا۔
اس پیش رفت کے نتیجے میں کلب نے باقاعدہ طور پر ڈسٹرکٹ چیمپئن شپ میں قدم رکھا۔ یہاں سے کامیابیوں کا وہ شاندار سلسلہ شروع ہوا جو آج بھی پوری آن بان کے ساتھ جاری ہے۔ شہزاد کرکٹ کلب نے ڈسٹرکٹ کی سطح پر متعدد ٹورنامنٹس اپنے نام کر کے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ فتح و کامرانی کا یہ سفر صرف اپنے ضلع تک محدود نہ رہا، بلکہ اٹک اور اس کی دیگر تحصیلوں میں منعقد ہونے والے مختلف مقابلوں میں بھی شہزاد کلب نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میدان مارا ۔
کلب کی تشکیلِ نو اور محسنینِ کلب
شہزاد کرکٹ کلب کو ایک جدید اور پیشہ ورانہ سمت دینے میں چند مخلص اور بیدار مغز رہنماؤں کا بنیادی کردار رہا ہے۔ اگر ان محسنین کی خدمات کا اعتراف نہ کیا جائے تو کلب کی تاریخ نامکمل رہے گی:
* ملک ظہیر صدقال ایڈووکیٹ
* ملک تنویر صدقال ایڈووکیٹ
* ملک فہیم
* سعید الرحمن
* نوازش ملک
* محمد ارشد
* حاجی شفیق غوری
* فراز شیخ
* خرم جوگی
* ضیاء الحق (مرحوم )
* فرحان ملک
* کفایت ملک
* وقار وکی
* حسنین عرف مرلی
* طاہر لاہوری
* ملک رفاقت حیات
* یاسر عدنان
ان تمام شخصیات کی انتھک محنت، بے لوث لگن اور قربانیوں کا نتیجہ ہے کہ آج یہ کلب علاقے میں کرکٹ کی سب سے معتبر پہچان بن چکا ہے۔
سعیدالرحمن کی قيادت: ترقی اور جدید دور کا عروج
2014ء سے کلب کی باگ ڈور سعیدالحمن نے سنبھالی۔ ان کے وژن، شب و روز کی محنت اور بے مثال قیادت کی بدولت شہزاد کرکٹ کلب نہ صرف ضلع کا نمبر ون کلب بنا، بلکہ انہی کی مسلسل کوششوں سے امین کرکٹ گراؤنڈ جیسا شاہکار وجود میں آیا۔ یہ گراؤنڈ اب قومی معیار (National Standards) پر پورا اترنے والے ایک جدید اسٹیڈیم کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
اس اسٹیڈیم میں اب جدید سائنسی اصولوں کے تحت پریکٹس سیشنز اور تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔ سعیدالرحمن کی اس بے مثال کاوش کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ دن دور نہیں جب یہ اسٹیڈیم بین الاقوامی سطح کے کھلاڑی تیار کرنے کا اہم مرکز بنے گا۔
انگلینڈ کی کاؤنٹی سے قومی ٹیم تک: ابھرتے ہوئے درخشندہ ستارے
شہزاد کرکٹ کلب کی تاریخ ہمیشہ سے بہترین ٹیلنٹ کو تلاش کرنے اور اسے تراشنے سے عبارت رہی ہے:
* **نثار عباس (لیجنڈ):** جن کی کلب کے لیے خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ وہ انگلینڈ میں طویل عرصے تک کرکٹ کھیل کر کلب اور علاقے کا نام عالمی سطح پر روشن کر چکے ہیں۔
* **احسن نثار:** ہمارے لیجنڈ نثار عباس کے فرزند، جنہوں نے حال ہی میں انڈر 19 کی سطح پر شاندار ڈبل سنچری اسکور کر کے سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔ ان کی شاندار تکنیک کو دیکھ کر قوی امید ہے کہ وہ بہت جلد پاکستان کی قومی ٹیم میں ملک کا پرچم بلند کریں گے
۔
* **تیمور خان:** جو اس وقت ڈومیسٹک اور لوکل سطح پر مسلسل شاندار پرفارمنس دے رہے ہیں اور ان شاء اللہ جلد ہی پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کرتے نظر آئیں گے۔
***شہاب الرحمٰن** شہزاد کرکٹ کلب کے ایک نہایت باصلاحیت اور بہترین کھلاڑی ہیں، جو انڈر 19 کی سطح سے شہزاد کرکٹ کلب کا حصہ رہے ہیں۔
انہوں نے سب سے پہلے شہزاد کرکٹ کلب کی جانب سے انڈر 19 کرکٹ میں ضلعی سطح پر نمائندگی کی، جس کے بعد ریجنل سطح پر بھی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ بعد ازاں انہوں نے سینئر کرکٹ میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
اس وقت شہاب الرحمٰن انگلینڈ میں مقیم ہیں اور وہاں لیگ کرکٹ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
* اس وقت شہزاد کلب اپنے بہترین دور سے گزر رہا ہے جس میں علاقے کے بہترین کھلاڑی شہزاد کلب کی نمائندگی کر رھے ہیں جن میں
* ہارون اعوان
*سر توقیر
* عبدالماجد
* احسن نثار
* نعمان خالد
*
یہ نمایاں نام شامل ہیں
حرفِ آخر
2003ء میں کالج گراؤنڈ کی ایک عام سی پچ سے شروع ہونے والا یہ مختصر سفر آج ایک منظم، باوقار اور قومی معیار کے کرکٹ انسٹی ٹیوٹ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ بانی اراکین کی بصیرت، کپتانوں اور کھلاڑیوں کی جدوجہد، ضیا الحق (مرحوم) جیسے جنونی کھلاڑیوں کی یادگار قربانیاں اور موجودہ انتظامیہ—خصوصاً سعیدالرحمن کی انتھک محنت کی بدولت شہزاد کرکٹ کلب ڈسٹرکٹ کا سرفہرست کلب بن چکا ہے۔ امین کرکٹ گراؤنڈ کی صورت میں قائم ہونے والا یہ انفراسٹرکچر اس بات کی ضمانت ہے کہ آنے والے کل میں یہاں سے ایسے ہیرے نکلیں گے جو عالمی افق پر پاکستان کا نام روشن کریں گے۔