16/10/2025
یہ لیگز اور ٹی ٹونٹی کے دور سے پہلے ون ڈے ٹورنامنٹس ہوتے تھے اور بہت سے ہوتے تھے- میرے جیسے پرانے لوگوں سے پوچھیں تو وہ ٹورنامنٹس ان لیگز سے بہت بہتر تھے، کمال تھے کہ آج بھی یاد آتی ہے تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں- 1999 کا شارجہ کپ تھا، پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 196 رنز بنائے تھے اور سری لنکا کی ٹیم مزے سے جیت کی جانب جا رہی تھی- دوسری وکٹ پر رمیش کالووتھرنے اور رسل آرنلڈ کی لمبی پارٹنرشپ سکور کو 157 تک لے گئے- عبد الرزاق نے کالووتھرنے کو معین خان کے ہاتھوں کیچ کروایا تو اس کی جگہ اروندا ڈی سلوا نے لے لی-
آخری دس اوورز میں سری لنکا کو 24 رنز درکار تھے اور 8 وکٹیں ابھی باقی تھیں- پھر نجانے کیا ہوا, پرانی بال کا جادو, ریورس سوئنگ کا جادو, پاکستانی باؤلرز کا کمال, سری لنکن بیٹسمینوں کی سستی یا تماشائیوں کی دعاؤں نے اچانک اثر کر دیا-
دوسری وکٹ گرنے کے بعد سری لنکن اننگ کے معاملات ٹھیک چل پڑے تھے لیکن جب شعیب ملک نے رسل آرنلڈ کو بولڈ کیا اور پھر وسیم اکرم نے یکے بعد دیگرے اروندا ڈی سلوا اور جیاسوریا کو بولڈ کر دیا تو میچ سنسنی خیز ہونے لگا- جیاسوریا جو کہ تب کپتان بھی تھے، خراب فارم کی وجہ سے مڈل آرڈر میں کھیلے پر خراب فارم کہاں پیچھا چھوڑتی ہے-
ابھی بھی میچ سری لنکا کے ہاتھ میں تھا، چالیس گیندوں پر صرف بیس رنز درکار تھے اور ابھی پانچ وکٹیں باقی تھیں- رنز بہت سستی سے لیکن آ رہے تھے، اگلی پندرہ گیندوں پر 9 رنز بنے لیکن کوئی وکٹ نہ گری- پانچ وکٹیں، پچیس گیندیں اور گیارہ رنز-
یہاں عبد الرزاق مہیلا جے وردھنے اور پریرا کو دو مسلسل گیندوں پر پویلین کا راستہ دکھاتے ہیں اور اب میچ ایک بار پھر دلچسپ ہو جاتا ہے- یہاں شاید کپتان وسیم اکرم سے ایک غلطی ہوئی- پرانا گیند ریورس ہو رہا تھا اور اظہر محمود عبد الرزاق جیسی نہ سہی لیکن بہت اچھی باؤلنگ کر رہا تھا لیکن اوور شعیب ملک کو دے دیا گیا- شعیب ملک کے اس اوور میں چھ رنز بن گئے اور کوئی وکٹ نہ گری-
اب سری لنکا کو صرف پانچ رنز درکار تھے اور عبد الرزاق باؤلنگ کریز پر تھے- پہلی پانچ گیندوں پر دو سکور اور بن جاتا ہے اور اب صرف تین رنز باقی ہیں لیکن اوور کی آخری گیند واس کی وکٹوں میں جا گھستی ہے-
سری لنکا کو ابھی بھی تین رنز درکار ہیں اور اب اوور اظہر محمود کو ہی دیا جاتا ہے- اس اوور میں دو رنز بنتے ہیں، چمارا سلوا پوائنٹ پر کھیل کر ایک سکور لیتا ہے اور مرلی کو باؤلنگ کا سامنا کرنا ہے- مرلی ایک تیز سکور بناتا ہے اور سکور برابر ہو جاتا ہے لیکن آخری گیند پر اسی طرح کا ایک سکور بناتے ہوئے مرلی دھرن شعیب ملک کی شاندار تھرو کا شکار بن جاتے ہیں-
ابھی بھی سری لنکا کو ایک سکور درکار ہے اور اب کریز پر چمارا سلوا موجود ہیں جو کافی دیر سے کھیل رہے ہیں- عبد الرزاق کی گیند ریورس کر رہی ہے اور زیادہ تر گیندیں اندر کی جانب آ رہی ہیں- ایسے میں چمارا سلوا ایک کور ڈرائیو کھیلنے کی کوشش کرتے ہیں اور گیند سیدھی وکٹوں میں جا گھستی ہے-
میچ ٹائی ہو چکا ہے- اس میچ کی ویڈیو آج بھی دیکھیں تو بچپن کے، لڑکپن کے کئی ہیروز نظر آئیں گے- صرف کھلاڑیوں کی حد تک نہیں، ٹونی گریگ اور بیری رچرڈز کی کمنٹری بھی موجود ہے اور امپائر ڈیوڈ شیفرڈ بھی دکھائی دے جاتے ہیں-