Now and then of Pakistan

Now and then of Pakistan Its all about politics international law and many more just stay tuned with this page.

Must read this ....
18/05/2026

Must read this ....

HARRY ... the nightmare for Australia
10/11/2024

HARRY ... the nightmare for Australia

NO LOOK interview
10/11/2024

NO LOOK interview

CONFLICTING THEORIES  OF  STATE: What is the nature of state power ,and whose interests does the state represents?      ...
08/01/2023

CONFLICTING THEORIES OF STATE: What is the nature of state power ,and whose interests does the state represents? 1.Pluralist State: They believe that state acts as an 'Umpire ' or 'Referee' in society. Pluralism holds that the state is neutral. The state is not biased in favour of any particular interest or group ,and it does not have an interest of its own that is separate from those of society. As SCHWARZMANTEL(1994) Put it ,the state is 'THE SERVANT OF SOCIETY AND NOT ITS MASTER'. 2.THE CAPITALIST STATE : The Marxist notion of a capitalist state offers a clear alternative to the pluralist image of the state as a neutral arbiter or umpire .Marxists have typically argued that the state cannot be understood separately from the economic structure of society . This view has usually been understood in terms of classical formulation that the state is nothing but an instruments of class oppression : The state emerges out of and in a sense reflects,the class system. The executive of the modern state is but a committee for managing the common affairs of the whole bourgeoisie.Marx attitude towards the state is was not negative ...He argued that the state could be used constructively during the transition from Capitalism to Communism in the form of the 'revolutionary dictatorship of the proletariat ' . The overthrow of Capitalism would see the destruction of the bourgeoisie state and the creation of an alternative ,PROLETARIAN ONE. 3.THE LEVITHAN STATE: The state is a parasitic growth that threatens both individual liberty and economic security . The central feature of this view is that the state pursues interests that are separate from those of the society ..... 4.THE PATRIARCHAL STATE : Systems of male power in a society .It emphasizes that gender inequality is systematic ,institutionalized and pervasive.Women as homemakers are dependent on men as breadwinners

Daily jangfarmanفرمان الہیnamazنماز کے اوقاتجمعرات 5؍جمادی الثانی 1444ھ29؍دسمبر 2022ءتازہ ترین آج کا اخبار آج کے کالمز...
31/12/2022

Daily jangfarmanفرمان الہیnamazنماز کے اوقاتجمعرات 5؍جمادی الثانی 1444ھ29؍دسمبر 2022ء
تازہ ترین آج کا اخبار آج کے کالمز
جمہوریت یا مارشل لا؟
حامد میر
آج کا اخبارادارتی صفحہ29 دسمبر ، 2022
FacebookTwitteryoutubeWhatsapp
نصف صدی کا قصہ ہے دوچار برس کی بات نہیں۔ 20 دسمبر 1972کو پنجاب اسمبلی کے عقب میں کوپر روڈ پر اس وقت کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے اپوزیشن کی ایک توانا آواز، خواجہ محمد رفیق کے سینے پر گولیاں برسا کر انہیں خاموش کر دیا۔ خواجہ محمد رفیق کی وقت کے حکمران ذوالفقار علی بھٹو سے کیا لڑائی تھی؟ خواجہ محمد رفیق کی پچاسویں برسی پر منعقدہ تقریب میں خواجہ صاحب مرحوم پر کم اور عمران خان پر زیادہ باتیں ہوئیں۔ خواجہ صاحب کے برخوردار خواجہ سعد رفیق اس تقریب کے میزبان اور وزیر دفاع خواجہ محمد آصف تقریب کی صدارت فرما رہے تھے۔ دونوں نے عمران خان پر تاک تاک کے نشانے لگائے۔ نشانے بازی کے اس مقابلے میں مجھے بھی گفتگو کا موقع ملا اور میں نے سامعین کو یہ بتانے کی کوشش کی کہ خواجہ محمد رفیق کون تھے؟ ہمارے اس بزرگ کا تعلق مقبوضہ کشمیر کے علاقے اننت ناگ سے امرتسر آ کر آباد ہونے والے ایک خاندان سے تھا جو دہلی ، بھوپال اور ممبئی میں پشمینہ شالوں کا کاروبار کرتا تھا۔ خواجہ محمد رفیق ایم اے او کالج امرتسر میں مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن میں سرگرم تھے اور تحریک پاکستان سے وابستہ تھے۔ خواجہ محمد رفیق کے والد خواجہ غلام محمد انہیں اعلیٰ تعلیم کیلئے برطانیہ بھیجنا چاہتے تھے لیکن قائد اعظم محمد علی جناح نے نوجوان خواجہ محمد رفیق کو پنجاب کے وزیر اعظم خضر حیات ٹوانہ کے خلاف تحریک چلانے کا حکم دیدیا۔ خواجہ صاحب نے متحدہ پنجاب کے یونینسٹ وزیر اعظم کے خلاف جلسے جلوسوں میں شعلہ بیانی شروع کی اور گورداسپور جیل جا پہنچے۔ وہ برطانیہ جانے کی بجائے پاکستان بنانے کی جدوجہد میں مصروف رہے۔ پاکستان بن گیا تو مہاجر بن کر لاہور آ گئے۔ امرتسر، دہلی، بھوپال اور ممبئی میں اپنے خاندان کی جائیدادوں کے کاغذات دکھا کر لاہور میں بہت کچھ لے سکتے تھے لیکن اس مرد درویش نے اندرون لوہاری دروازے میں ایک دس مرلے کے مکان پر اکتفا کیا۔ قائداعظمؒ کی وفات کے بعد حسین شہید سہروردی نے عوامی لیگ بنائی تو خواجہ محمد رفیق نے شیخ مجیب الرحمٰن، نوابزادہ نصر اللہ خان اور مولانا عبدالستار نیازی کے ہمراہ اس نئی جماعت میں شمولیت اختیار کر لی۔1958ءمیں جنرل ایوب خان نے پاکستان میں پہلا مارشل لاء لگایا تو خواجہ محمد رفیق اس فوجی ڈکٹیٹر کو للکارنے والوں میں پیش پیش تھے۔ اس دور میں حسین شہید سہروردی سے لے کر خواجہ محمد رفیق تک تحریک پاکستان کے درجنوں رہنمائوں پر غداری کے مقدمے بنائے گئے۔ وہ جس شہر میں ڈکٹیٹر کے خلاف تقریر کرتے وہاں مقدمہ قائم ہو جاتا۔ خواجہ صاحب ڈھاکہ، کراچی، لاہور اور راولپنڈی میں دو درجن مقدمات بھگتے رہے۔ انہیں ملتان، ساہیوال اور بہاولپور کی جیلوں میں بند رکھا گیا۔ انہی دنوں 23 دن کی بھوک ہڑتال بھی کی اور بیمار پڑ گئے۔ محترمہ فاطمہ جناح نے جنرل ایوب خان کے خلاف صدارتی الیکشن لڑنے کا اعلان کیا تو خواجہ محمد رفیق اور کے ایچ خورشید نے مغربی پاکستان جبکہ شیخ مجیب الرحمٰن نے مشرقی پاکستان میں مادر ملت کی انتخابی مہم چلانی شروع کر دی۔ ذوالفقار علی بھٹو سے خواجہ محمد رفیق کا اختلاف اسی انتخابی مہم میں ہوا۔ جب خان عبدالغفار خان، ولی خان، غوث بخش بزنجو، عطا اللہ مینگل، خیر بخش مری اور شیخ مجیب الرحمٰن نے مادر ملت کی حمایت شروع کی تو جنرل ایوب خان نے مادر ملت کو غدار قرار دیدیا۔ بھٹو صاحب ایوب خان کے ساتھی تھے اور خواجہ محمد رفیق نے ایوب خان کے کسی ساتھی کو کبھی معاف نہ کیا۔ بھٹو صاحب نے معاہدہ تاشقند کے خلاف وزارت خارجہ سے استعفیٰ دیدیا تو خواجہ صاحب بھی معاہدہ تاشقند کی مخالفت کر رہے تھے۔ بھٹو صاحب نے حبیب جالت کے ذریعہ خواجہ محمد رفیق سے ملاقات کی کوشش کی لیکن خواجہ صاحب نے ملاقات سے انکار کر دیا۔ خواجہ صاحب کی پاکستان سے محبت کا یہ عالم تھا کہ شیخ مجیب الرحمٰن نے چھ نکات پیش کئے تو خواجہ صاحب نے اپنے پرانے دوست کو سمجھانے کی کوشش کی۔ شیخ صاحب نہ سمجھے تو خواجہ محمد رفیق نے سیاسی راستہ بدل لیا لیکن شیخ مجیب ان کی اتنی عزت کرتے تھے کہ 1970 کے انتخابات کے بعد انہیں ڈھاکہ سے اپنی خالی نشست پر منتخب کرانے کی پیشکش کی۔

خواجہ صاحب نے شکریہ کے ساتھ معذرت کر لی لیکن اکثریتی جماعت کو اقتدار متقل کرنے کا مطالبہ کرتے رہے۔ جنرل یحییٰ خان نے انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے والی جماعت کو اقتدار دینے کی بجائے اس جماعت کے خلاف فوجی آپریشن کر دیا۔ بھٹو صاحب نے اس آپریشن کی حمایت کی اور پاکستان ٹوٹ جانے کے بعد صدر مملکت کے ساتھ ساتھ چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بھی بن گئے۔ 20 دسمبر 1972 کو بھٹو صاحب کے اقتدار کا ایک سال مکمل ہو گیا تھا اور خواجہ محمد رفیق نے بھٹو کے اقتدار کی پہلی سالگرہ کو یوم سیاہ کے طور پر منایا تھا۔ اس دن خواجہ صاحب نے وہی سوٹ پہن رکھا تھا جو انہوں نے اپنی شادی پر سلوایا تھا، سر پر جناح کیپ سجا رکھی تھی۔ اپنی آخری تقریر میں انہوں نے پاکستان کو مارشل لا قوانین کی بجائے نئے آئین کے ذریعہ چلانے کا مطالبہ کیا۔ تقریر کے بعد واپس جا رہے تھے کہ ان پر گولیاں برسا دی گئیں۔ پھر ہم نے دیکھا کہ جن جرنیلوں کی مدد سے بھٹو اقتدار میں آئے انہی جرنیلوں نے بھٹو کو پھانسی پر لٹکا دیا۔ پاکستان میں جمہوریت اور آمریت کے درمیان آنکھ مچولی آج بھی جاری ہے۔ خواجہ محمد رفیق کی پچاسویں برسی پر متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما خالد مقبول صدیقی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں تو اس تقریب میں تالیاں بھی بڑی احتیاط سے بچا رہا تھا کیونکہ مجھ پر تالیاں بجانے کے الزام میں بھی مقدمہ قائم ہو جاتا ہے۔ وزیر دفاع کی صدارت میں ہونے والی تقریب کے ڈائس سے حکومت کی ایک اتحادی جماعت کے رہنما کی یہ بات سن کر کون کہہ سکتا ہے کہ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے؟

پچاس سال پہلے خواجہ محمد رفیق کو سیاسی اختلاف کی وجہ سے گولی مار دی گئی تو حکمران وقت صرف وزیر اعظم نہیں بلکہ مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بھی تھا۔ پچاس سال بعد خواجہ محمد رفیق کی برسی پر خالد مقبول صدیقی وزیر دفاع کی موجودگی میں بتا رہے تھے کہ وطن عزیز میں تالیاں بجانے پر بھی مقدمے قائم ہو جاتے ہیں۔ وزیر دفاع نے اس تقریب میں عمران خان کو جیب کترا تو کہہ دیا لیکن یہ نہیں بتایا کہ ان کی اتحادی جماعت تالیاں بجانے میں اتنی محتاط کیوں ہو چکی ہے؟ کیا پاکستان میں آج بھی غیر اعلانیہ مارشل لا نافذ ہے؟ میرے بھائی خواجہ سعد رفیق اور خواجہ محمد صاحب اپنے سیاسی مخالف عمران خان کے بارے میں سچ ضرور بولیں لیکن تھوڑا سا سچ جنرل قمر جاوید باجوہ کے بارے میں بھی بولیں جن کے دور میں اس تاثر کو تقویت ملی کہ ملک میں غیر اعلانیہ مارشل لا نافذ کر دیا گیا ہے۔ کیا باجوہ صاحب نے اپنی ریٹائرمنٹ سے چند دن قبل شہباز شریف کو مارشل لا کی دھمکی نہیں دی تھی؟ کیا باجوہ صاحب اپنے ادارے کی نیوٹرل پالیسی کی خود ہی خلاف ورزی نہیں کر رہے تھے؟ ابھی تک عمران خان نے ان کے بارے میں اصل سچ بولا ہے نہ شہباز شریف نے کچھ بتایا ہے۔ یہ آپس میں لڑے جا رہے ہیں اور لڑانے والے کے بارے میں خاموش ہیں۔ یہی ہماری جمہوریت کا اصل المیہ ہے۔

تازہ ترین
شہباز شریف کا ہتک عزت کا دعویٰ، عمران خان کا دفاع کاحق ختم کرنے کے خلاف اپیل خارج
شہباز شریف کا ہتک عزت کا دعویٰ، عمران خان کا دفاع کاحق ختم کرنے کے خلاف اپیل خارج
ندا یاسر نے کسی بھی اداکارہ کو پورے دس نمبر کیوں نہیں دیے؟
ندا یاسر نے کسی بھی اداکارہ کو پورے دس نمبر کیوں نہیں دیے؟
پاکستانی معروف میزبان ندا یاسر نے حال ہی میں ایک نجی ٹی وی شو میں بطور مہمان شرکت کی اور متعدد دلچسپ موضوعات پر گفتگو کی۔

کورونا کا نیا ویریئنٹ کیا ہے اور کتنا خطرناک ہے؟
کورونا کا نیا ویریئنٹ کیا ہے اور کتنا خطرناک ہے؟
پاکستان میں تاحال اومیکرون سب ویریئنٹ بی ایف 7 کا کیس رپورٹ نہیں ہوا۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے منجمد اثاثے بحال
وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے منجمد اثاثے بحال
نیب کے حکم پر ضلعی انتظامیہ نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے منجمد اثاثے بحال کردیے۔

پی ٹی آئی کے کئی ارکان قومی اسمبلی کے اسپیکر سےخفیہ رابطے
پی ٹی آئی کے کئی ارکان قومی اسمبلی کے اسپیکر سےخفیہ رابطے
اسپیکر نے کہا کہ ہر رکن کو اکیلے تصدیق کےلیے آنا ہوگا، یقینی بنائیں گے کہ کسی پر استعفے کےلیے دباو نہ ہو۔

کراچی: سول اسپتال بچوں کے کارڈیالوجی سرجیکل وارڈ کا افتتاح
کراچی: سول اسپتال بچوں کے کارڈیالوجی سرجیکل وارڈ کا افتتاح
سول اسپتال کراچی میں پیڈز کارڈیالوجی سرجیکل وارڈ کا افتتاح ڈاکٹر عزرا فضل پیچوہو نے کیا۔

عمران خان نے شاہ محمود اور پرویزخٹک کو لاہور بلالیا
عمران خان نے شاہ محمود اور پرویزخٹک کو لاہور بلالیا
عمران خان نے پرویزخٹک، شاہ محمود قریشی کو استعفوں پر واضح مؤقف کیلئےبلایا ہے۔

پشاور؛ محکمہ تعلیم نے تیار پریکٹیکل نوٹ بک پر پابندی عائد کر دی
پشاور؛ محکمہ تعلیم نے تیار پریکٹیکل نوٹ بک پر پابندی عائد کر دی
محکمہ تعلیم خیبر پختو نخوا نے تیار پریکٹیکل نوٹ بک پر پابندی لگا دی ہے

استعفے منظور نہیں کر رہے، کیونکہ الیکشن سے بھاگ رہے ہیں، اسد قیصر
استعفے منظور نہیں کر رہے، کیونکہ الیکشن سے بھاگ رہے ہیں، اسد قیصر
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اسد قیصر کا کہنا ہے کہ استعفے اس لیے منظور نہیں کر رہے، کیوں کہ الیکشن سے بھاگ رہے ہیں۔

استعفوں کی منظوری پر اسپیکر اور پی ٹی آئی اپنے اپنے مؤقف پر قائم
استعفوں کی منظوری پر اسپیکر اور پی ٹی آئی اپنے اپنے مؤقف پر قائم
اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف سے پاکستان تحریکِ انصاف کے وفد نے ملاقات کی ہے، تاہم ملاقات کے بعد بھی استعفوں کی منظوری پر اسپیکر اور پی ٹی آئی اپنے اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔

بیرون ملک سے آنے والےمسافروں کی کورونا اسکریننگ دوبارہ سخت کرنے کا فیصلہ
بیرون ملک سے آنے والےمسافروں کی کورونا اسکریننگ دوبارہ سخت کرنے کا فیصلہ
پاکستان نے بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کی کورونا اسکریننگ دوبارہ سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

’پسوڑی‘ کے بعد بھارتی فنکار ایک اور پاکستانی گانے کے سحر میں مبتلا
’پسوڑی‘ کے بعد بھارتی فنکار ایک اور پاکستانی گانے کے سحر میں مبتلا
شہرۂ آفاق پاکستانی میوزِ ک شو کوک اسٹوڈیو کے سیزن 14 میں ریلیز ہونے والے گانے’پسوری‘ کے بعد اب بھارتی فنکار ایک اور پاکستانی گانے کے سحر میں مبتلا ہوگئے ہیں۔

اسلام آباد: نجی تعلیمی اداروں میں سردیوں کی تعطیلات میں اضافہ
اسلام آباد: نجی تعلیمی اداروں میں سردیوں کی تعطیلات میں اضافہ
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے نجی اسکولوں میں سردیوں کی تعطیلات 1 ہفتے کے لیے بڑھا دی گئیں۔

چین سے آنیوالے تمام مسافروں کا کورونا ٹیسٹ کرنے کا فیصلہ
چین سے آنیوالے تمام مسافروں کا کورونا ٹیسٹ کرنے کا فیصلہ
این سی او سی کی ہدایت پر محکمہ صحت سندھ نے نوٹی فکیشن جاری کرتے ہوئے چین سے آنے والے تمام مسافروں کا کورونا ٹیسٹ لازمی قرار دے دیا۔ این سی او سی کی ہدایت پر محکمہ صحت سندھ نے نوٹی فکیشن جاری کرتے ہوئے چین سے آنے والے تمام مسافروں کا کورونا ٹیسٹ لازمی قرار دے دیا۔

ایک مہینہ ہو گیا کراچی کی سڑکوں پر ٹیکسی چلا رہی ہوں، صبا قمر
ایک مہینہ ہو گیا کراچی کی سڑکوں پر ٹیکسی چلا رہی ہوں، صبا قمر
سوشل میڈیا صارفین کو پاکستانی معروف اداکارہ صبا قمر کی نئی ویڈیو پر کچھ زیادہ ہی پیار آ رہا ہے، اس ویڈیو میں اداکارہ اداس اور گھر جانے کی خواہش کا اظہار کر رہی ہیں۔

شاہ محمود، پرویز خٹک کی اسپیکر قومی اسمبلی سے ملاقات کیلئے معذرت
شاہ محمود، پرویز خٹک کی اسپیکر قومی اسمبلی سے ملاقات کیلئے معذرت
پی ٹی آئی کے وفد نے اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف سے ملاقات کی ہے، تاہم تحریکِ انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی اور پرویز خٹک نے استعفوں کے لیے ملاقات سے معذرت کر لی۔

اہم خبریںکئی PTI ارکان کے اسپیکر سےخفیہ رابطے
کئی PTI ارکان کے اسپیکر سےخفیہ رابطے
اسپیکر نے کہا کہ ہر رکن کو اکیلے تصدیق کےلیے آنا ہوگا، یقینی بنائیں گے کہ کسی پر استعفے کےلیے دباو نہ ہو۔۔

اسپیکر اور PTI اپنے اپنے مؤقف پر قائم
اسپیکر اور PTI اپنے اپنے مؤقف پر قائم
اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف سے پاکستان تحریکِ انصاف کے وفد نے ملاقات کی ہے، تاہم ملاقات کے بعد بھی استعفوں کی منظوری پر اسپیکر اور پی ٹی آئی اپنے اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔۔

شاہ محمود، پرویز خٹک کی اسپیکر سے ملاقات کیلئے معذرت
شاہ محمود، پرویز خٹک کی اسپیکر سے ملاقات کیلئے معذرت
پی ٹی آئی کے وفد نے اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف سے ملاقات کی ہے، تاہم تحریکِ انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی اور پرویز خٹک نے استعفوں کے لیے ملاقات سے معذرت کر لی۔۔

عمران خان لندن میں بے نظیر کے کالج کیوں جاتے تھے؟
عمران خان لندن میں بے نظیر کے کالج کیوں جاتے تھے؟
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے دو ماہ پرانے انٹرویو کا ایک ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہورہا ہے۔ ۔

قرآن میں ایسی آیت نہیں، مفتی منیب نے عمران خان کی تصحیح کر دی
قرآن میں ایسی آیت نہیں، مفتی منیب نے عمران خان کی تصحیح کر دی
ممتاز عالمِ دین مفتی منیب الرحمٰن نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی تصحیح کر دی۔۔

’ایک مہینہ ہو گیا کراچی کی سڑکوں پر ٹیکسی چلا رہی ہوں‘
’ایک مہینہ ہو گیا کراچی کی سڑکوں پر ٹیکسی چلا رہی ہوں‘
سوشل میڈیا صارفین کو پاکستانی معروف اداکارہ صبا قمر کی نئی ویڈیو پر کچھ زیادہ ہی پیار آ رہا ہے، اس ویڈیو میں اداکارہ اداس اور گھر جانے کی خواہش کا اظہار کر رہی ہیں۔۔
,

Its all about politics international law and many more just stay tuned with this page.

Hello Mr. Pakistan
31/12/2022

Hello Mr. Pakistan

Its all about politics international law and many more just stay tuned with this page.

Address

Sargodha

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Now and then of Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category