Muhammad Junaid

Muhammad Junaid MBBS 30 | RMU 53 | Reader | Poetry lover
(1)

ہمارے میڈیا کی ترجیحات۔۔۔مظفر گڑھ کینال میں 20 بچے پانی میں ڈوب گئے لیکن اُس پر حکومت کا مدد فراہم کرنا تو کجا، میڈیا پر...
16/08/2026

ہمارے میڈیا کی ترجیحات۔۔۔
مظفر گڑھ کینال میں 20 بچے پانی میں ڈوب گئے لیکن اُس پر حکومت کا مدد فراہم کرنا تو کجا، میڈیا پر بھی خبر نہیں آئی اور شاہد آفریدی کے کتے کے گم ہو جانے کو خبر میڈیا کو زیادہ اہم لگی۔
امرا کے کتے بھی ہماری زندگیوں سے زیادہ اہم ہیں۔ اُن کی نظر میں ہم سب ایک ریوڑ ہیں ۔۔۔جب دل چاہے، جس وقت دل چاہے، جدھر دل چاہے، ہمیں ہانک دیا جائے۔ اور ہم اتنی ڈھیٹ ، بے حس اور حق فراموش قوم ہیں کہ ہم یہ سب نا صرف برداشت کر رہے ہیں بلکہ اس سلسلے میں اُن کو سراہ رہے ہیں۔

ہم مردہ اور ضمیر فروش قوم ہیں 🤬

مہنگائی کا اثر تو اس پر ہو رہا ہے۔ پہلے بڑا بادام ہوتا تھا، پھر چھوٹا بادام ڈالنے لگے، پھر شاید خوبانی والا اور وہ بھی غ...
09/07/2026

مہنگائی کا اثر تو اس پر ہو رہا ہے۔ پہلے بڑا بادام ہوتا تھا، پھر چھوٹا بادام ڈالنے لگے، پھر شاید خوبانی والا اور وہ بھی غائب کر کے صرف تصویر والے بادام سے کام چلایا جا رہا ہے۔
مہنگائی یوں ہی چلتی رہی تو کچھ عرصہ بعد تصویر سے بھی بادام غائب ہو جائیں گے

میڈیکل کالج میں سیٹس کا بڑھنا خوش آئند ہے۔ میں ہر گز اس کے خلاف نہیں ہوں لیکن جب آپ جابز ہی نہیں دے رہے تو ان سیٹس کا ہم...
07/07/2026

میڈیکل کالج میں سیٹس کا بڑھنا خوش آئند ہے۔ میں ہر گز اس کے خلاف نہیں ہوں لیکن جب آپ جابز ہی نہیں دے رہے تو ان سیٹس کا ہم نے اچار ڈالنا ہے۔ حکومت پہلے ہی ہسپتال پرائیویٹائز کر رہی ہے۔ انتہائی قابل نوجوان اپنی زندگی کے اہم سال اور والدین کی قیمتی کمائی لگائیں اور اُس کے بعد وہ نظام اُن کو قبول ہی نہ کرے تو ایسے میں نظامِ صحت مفلوج ہو کر رہ جائے گا ۔ اربابِ اختیار سے گزارش ہے کہ خدارا ! ہوش کے ناخن لیں۔ بچوں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ نہ کریں۔

11/06/2026

Thanks for becoming the voice of doctors.
Syed Muzammil Official

09/06/2026

Silence in the face of injustice is just permission for history to repeat itself." 💔

08/06/2026

A society that cannot protect its healers is a society in crisis.

سوال قاتل کا نہیں، سوال نظام کا ہےآج بلوچستان کے ایک ڈاکٹر پر تیزاب پھینکا گیا۔ ایک انسان زخمی ہوا، ایک ڈاکٹر جس کا کام ...
07/06/2026

سوال قاتل کا نہیں، سوال نظام کا ہے

آج بلوچستان کے ایک ڈاکٹر پر تیزاب پھینکا گیا۔ ایک انسان زخمی ہوا، ایک ڈاکٹر جس کا کام دوسروں کے زخم بھرنا تھا، خود زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہو گیا۔ مگر اس واقعے نے ایک اور زخم کو بے نقاب کر دیا، وہ زخم جو برسوں سے بلوچستان کے جسم پر لگا ہوا ہے۔

ہم سے بار بار کہا جاتا ہے کہ سب کچھ موجود ہے، ادارے موجود ہیں، اختیارات موجود ہیں، وسائل موجود ہیں۔ اگر واقعی سب کچھ موجود ہے تو پھر بلوچستان کے سب سے بڑے اسپتال میں ایک ڈاکٹر کا علاج کیوں نہ ہو سکا؟ کیوں اسے ایک اسپتال سے دوسرے اسپتال اور پھر کراچی منتقل کرنا پڑا؟

یہ صوبہ سونے، تانبے، گیس اور بے شمار قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، مگر یہاں کے انسان کی جان شاید اب بھی سب سے سستی چیز ہے۔ اربوں روپے کے منصوبوں اور ترقی کے دعووں کے درمیان ایک تلخ حقیقت کھڑی ہے: بلوچستان کا شہری آج بھی اپنی زندگی بچانے کے لیے اپنے ہی صوبے سے باہر جانے پر مجبور ہے۔

یہ صرف ایک ڈاکٹر کی کہانی نہیں۔ یہ ایک ایسے نظام کی کہانی ہے جو بلند دعوے تو کرتا ہے مگر مشکل وقت میں اپنے ہی لوگوں کو سہارا دینے سے قاصر نظر آتا ہے۔ اگر صوبے کا سب سے بڑا اسپتال بھی ایک سنگین زخمی ڈاکٹر کو مکمل علاج فراہم نہیں کر سکتا تو پھر عام آدمی کے لیے امید کہاں ہے؟

ہر بار ہمیں کہا جاتا ہے کہ سوال نہ اٹھاؤ، خاموش رہو، انتظار کرو۔ مگر آخر کب تک؟ کیا ایک انسان کی جان اتنی بے وقعت ہے کہ اسے علاج کے لیے سینکڑوں کلومیٹر دور بھیجنا معمول بن جائے؟

آج کراچی جانے والی ایمبولینس صرف ایک مریض کو نہیں لے جا رہی تھی، وہ بلوچستان کے صحت کے نظام پر ایک خاموش فردِ جرم بھی لے جا رہی تھی۔ ایک ایسا سوال جس کا جواب اب الفاظ سے نہیں، عملی اقدامات سے دینا ہوگا۔

کیونکہ جب ایک صوبہ اپنے بہترین ڈاکٹروں کو بھی بروقت اور مکمل علاج فراہم نہ کر سکے، تو مسئلہ صرف ایک حادثہ نہیں رہتا، بلکہ پورے نظام کی ناکامی بن جاتا ہے۔

06/06/2026

ڈاکٹر ماہ نور ناصر جس پر تیزاب پھینکا گیا تھا ۔۔۔ 13 فیصد وجود جلا ہے ایک آنکھ متاثر ہے اس کا بھی علاج ممکن ہے تمام اعضا...
06/06/2026

ڈاکٹر ماہ نور ناصر جس پر تیزاب پھینکا گیا تھا ۔۔۔ 13 فیصد وجود جلا ہے ایک آنکھ متاثر ہے اس کا بھی علاج ممکن ہے تمام اعضاء سلامت ہیں۔۔۔ آغا خان ہسپتال کراچی کی رپورٹ

06/06/2026

اس واقعے کے بعد کیا ہی لکھوں؟ الفاظ نہیں ہیں کہ جن میں درد بیاں ہو سکے۔ جن پر تیزاب ڈالا گیا وہ بھی تو آخر کسی کی بہن ، بیٹی یا ماں ہوگی۔۔۔انہوں نے اتنے سال ان تھک محنت کی۔۔۔ایم ڈی کیٹ کلیئر کیا، ایم بی بی ایس کے اتنے کٹھن سال گزارے پھر ایف سی پی ایس کیا ہوگا۔۔۔۔اور پھر کوئی تیزاب پھینک کر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آخر کیوں؟ کیا لوگ اتنا سفاک ہو گئے ہیں کہ اپنے مسیحا کو ہی جان سے مارنے کی کوشش کرنے لگے۔۔۔۔۔

اگر ڈاکٹرز کو مکمل طور سیکیورٹی نہیں دی جاتی تو یقین مانیں کہ کوئی بھی ڈاکٹر مریض کے قریب بھی نہیں جائے گا۔
حکومت کو ان معاملات کو سنجیدگی سے دیکھنا چاہیے

Address

Committee Chowk
Rawalpindi
46000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Muhammad Junaid posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Muhammad Junaid:

Shortcuts

Share

Category