01/06/2026
غازی غوری نے کل چار نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے شاندار پچاس رنز اسکور کیئے اور اپنے رقیب وکٹ کیپرز کے چانس مزید مدھم کر دئیے ۔
2021 میں پاکستان شاہین نے نیوزی لینڈ کا دورہ کیا اور اس وقت پاکستان کرکٹ ٹیم نیوزی لینڈ میں موجود تھی ۔ شاہین کی قیادت روہیل نزیر کر رہے تھے جو کہ پاکستان انڈر ۱۹ کی بھی قیادت کر چُکے تھے ۔
ان کی قیادت میں بہت سارے ایسے کرکٹرز کھیلے جو پہلے سے انٹرنیشنل کرکٹ کھیل چکے تھے یا اسکے بعد کھیلے لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ روہیل نزیر کو صرف تین ٹی ۲۰ انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے کا موقع ملا کبھی وہ رضوان کے concussion reserve بنے تو کبھی غازی غوری کے ۔ ۲۰۲۴ میں بنگلہ دیش کے خلاف ہوم ٹیسٹ سیریز میں محمد رضوان وکٹ کیہر تھے اور موجودہ ٹیسٹ کرکٹ کوچ سرفراز احمد انکے concussion reserve مامور کییے گئے تھے۔
شاہین کی ٹیم میں روہیل نذیر کے انڈر جو کھلاڑی کھیلے ان میں وہاب ریاض بھی شامل تھے اسکے علاوہ عبداللہ شفیق، حیدر علی، حُسین طلعت ، خوشدل شاہ ، دانش عزیز عماد بٹ ، محمد حسنین ، عثمان قادر اور حارث رؤف شامل تھے ۔
روحیل وہ فارمیٹ کھیلا جو اسکا ہے بھی نہیں ، ایکروزہ اور ٹیسٹ میں وہ بہتر کھیل سکتا تھا لیکن اس کو مواقع نہیں ملے۔ عرفات منہاس کو آسٹریلوی دورے کے لیئے سلیکٹ کیا گیا تھا اس ٹیم میں ابرار احمد ، فیصل اکرم اور سفیان مقیم بھی شامل تھے ۔ عرفات کا ڈیبیو ٹی ۲۰ میں ہوا اور اسکے بعد فیصل اکرم اور عرفات منہاس کو واپس بھیج دیا گیا تھا اور دونوں کو ڈومیسٹک کے چیمپینز کپ کے ایک میچ سے بھی ڈراپ کر دیا گیا تھا ۔
حسیب اللہ نے لسٹ اے میں بہت زیادہ کارکردگی دکھائی تھی اور بیٹنگ ایوریج کو 45.20 سے اوپر لے گئے تھے لیکن انکو بھی چند ایک میچز کھلانے کے بعد فارغ کر دیا گیا تھا۔ روحیل نذیر اور حسیب اللہ دونوں 2024 , 2025. 2026 آئی سی سی کے کسی بھی ایونٹ میں شامل نہیں ہوئے، جہاں پاکستان ٹیم گروپ مرحلے سے آگے نہیں بڑھ سکے۔ ۲۰۲۶ سری لنکا میں اگلے راؤنڈ میں باہر ہو گئے تھے۔
اس کے بعد پی ایس ایل ہوا اور کراچی کنگز نے پلاٹینیم category محمد نواز کو ریلیز کر دیا اور اس ڈرافٹ میں کسی نے انکو نہیں پک کیا اور آخری میں اسلام آباد United نے سلور category میں پک کیا ۔ نواز نے چار میچز میں ۸۸ رنز بنائے اور ۲ وکٹس حاصل کیں اور اسکے بعد ان کو پاکستان کی ٹی ۲۰ اور ایکروزہ انترنیشنل ک