02/12/2025
کوئٹہ
خان شہید عبدالصمد خان اچکزئیؒ، جنوبی پختونخوا کے نامور آزادی پسند رہنما، جنہوں نے برطانوی سامراج کے خلاف اپنی پوری زندگی جدوجہد میں گزاری، آج بھی اپنی عظیم قربانیوں اور قومی خدمات کے باعث عوام کے دلوں میں زندہ ہیں۔ 1907میں تحصیل گلستان کے گاؤں عنایت اللہ کاریز میں پیدا ہونے والے اس عظیم رہنما نے کم عمری سے ہی سامراجی قوتوں کے خلاف آواز اٹھانا شروع کی۔ محض گیارہ سال کی عمر میں 1918ء میں گلستان میں اسکول کے طلبہ کے جلوس کی قیادت کرکے اپنی سیاسی بیداری اور جرأت کا ثبوت دیا
ابتدائی تعلیم گلستان سے حاصل کرنے کے بعد پشتو، عربی فارسی اور دینی علوم پر عبور حاصل کیا۔ نوجوانی میں ہی انھوں نے اس حقیقت کو بھانپ لیا تھا کہ فکری و نظریاتی بیداری کے بغیر قوم آزادی کی منزل تک نہیں پہنچ سکتی، اسی لیے انھوں نے عملی سیاست کا آغاز فرنگی سامراج کی مخالفت سے کیا
سیاسی جدوجہد کے آغاز پر ہی عبدالصمد خان اچکزئی اپنے بھائی حاجی عبدالسلام خان اور ساتھیوں سمیت گرفتار ہوئے اور کوئٹہ جیل منتقل کیے گئےجہاں انھوں نے قیدیوں سے توہین آمیز رویے پر کھانا تک کھانے سے انکار کیا رہائی کے بعد بمبئی پہنچ کر لندن گول میز کانفرنس میں شرکت کے لیے جانے والے رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں اور جنوبی پختونخوا کے مسائل پر مبنی اپنا تحریری لائحہ عمل تقسیم کیا
1932ء میں جیکب آباد Balochistan Conference کے انعقاد میں کلیدی کردار ادا کیا جبکہ 1933ء میں حیدرآباد اجلاس سے واپسی پر ایک بار پھر تین سال قید کی سزا کا سامنا کیا۔ رہائی کے بعد 1936ء میں ہفت روزہ استقلال اخبار کا اجرا کیا جو وطن کی آزادی کے لئے ایک توانا آواز ثابت ہوا، تاہم حکومت نے 1950ء میں اسے بند کردیا 1938ء میں انجمنِ وطن کی بنیاد رکھی جس نے برصغیر کی تمام آزادی پسند تحریکوں کے ساتھ مشترکہ جدوجہد کی
خان شہید نے پشاور، مچھ، ہری پور، لاہور کے شاہی قلعہ، منٹگمری، مالٹا اور جزائر انڈیمان (کالا پانی) تک کی سختیاں جھیلیں۔ پشتون آزادی کی تحریکوں، خصوصاً قصہ خوانی پشاور قتل عام (23 اپریل 1930)، مردان، ٹکر، بنوں اور دیگر مقامات پر جدوجہد آزادی میں پشتونوں کے بے مثال کردار کی ہمیشہ حمایت کرتے رہے۔ ’ہندوستان چھوڑ دو تحریک میں چودہ ہزار پشتون کارکنان کی گرفتاریوں اور مظالم پر بھی ان کا مؤقف انتہائی دوٹوک رہا
طویل جدوجہد کے بعد 1954ء میں چھ سال مسلسل قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرکے رہائی ملی تو انہوں نے ’’ورور پشتون‘‘ تنظیم قائم کی، جسے بعد ازاں 1956ء میں نیشنل عوامی پارٹی میں ضم کردیا گیا۔ مجموعی طور پر عبدالصمد خان اچکزئی نے 32 سال جیلوں میں گزارے جو مظلوم اقوام کی تاریخ میں ایک منفرد اعزاز رکھتے ہیں
2 دسمبر 1973ء کو کوئٹہ کے علاقے شارع جمال الدین افغانی میں ان کی رہائش گاہ پر نامعلوم حملہ آوروں نے دستی بموں سے حملہ کرکے اس مردِ مجاہد کو شہید کردیا اگلے روز گلستان میں ان کے آبائی قبرستان میں تقریباً 60 ہزار افراد نے ان کی نمازِ جنازہ میں شرکت کی
آج بھی دنیا بھر میں ان کی برسی عقیدت و احترام سے منائی جاتی ہے اور آزادی و جمہوریت کی جدوجہد میں ان کے کردار کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے