22/02/2026
اوکاڑہ کی قانونی برادری کے لیے یہ ایک نہایت افسوسناک اور دل دہلا دینے والا سانحہ ہے 💔 جس نے دوستی، اعتماد اور بھائی چارے جیسے مقدس رشتوں پر گہرا سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔کیا واقعی کوئی اپنے قریبی پر بھروسہ کر سکتا ہے؟
إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ 🤲
مرحوم مرزا فرحان بیگ اور معظم شاہ کے درمیان تقریباً نو سالہ قریبی تعلق اور پیشہ ورانہ رفاقت قائم تھی۔ دونوں ایک ہی چیمبر میں وکالت کر رہے تھے اور ان کی دوستی مثال کے طور پر پیش کی جاتی تھی 🤝۔
اطلاعات کے مطابق معظم شاہ مرحوم کو اپنے ساتھ دریائے راوی لے گیا جہاں مبینہ طور پر اپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ شدید تشدد کیا گیا 😢 جس کے نتیجے میں ان کی جان چلی گئی۔ بعد ازاں لاش کو باندھ کر رینالہ نہر میں پھینک دیا گیا۔ اگلے روز اغواء کی جھوٹی اطلاع دے کر تھانہ صدر میں مقدمہ درج کروایا گیا، جس میں خود ملزم بطور گواہ پیش ہوا 😔۔
4/5 دن بعد مورخہ 17-02-2026 کو نہر سے لاش برآمد ہوئی اور شناخت نہ ہونے پر لاوارث قرار دے کر تدفین کر دی گئی 🕊️۔ افسوس کہ 19-02-2026 کو ورثاء کو معلوم ہوا کہ یہ لاش مرزا فرحان بیگ کی تھی۔ ملزم اس دوران ورثاء کے ساتھ موجود رہا، قبر کشائی کی درخواست بھی دی، اور 21-02-2026 کو نمازِ جنازہ میں پہلی صف میں کھڑا ہو کر شرکت بھی کی 😢۔
بالآخر 22-02-2026 کو پولیس تفتیش کے بعد تینوں ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا 🚔 اور اطلاعات کے مطابق انہوں نے وقوعہ کا اعتراف بھی کر لیا ہے۔
یہ سانحہ صرف ایک انسان کا قتل نہیں بلکہ اعتماد، دوستی اور بھائی چارے کے جذبے کا قتل ہے 💔۔ متعلقہ حکام، بالخصوص ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (DPO) سے مطالبہ ہے کہ مکمل، شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کو یقینی بنایا جائے ⚖️ تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں اور معاشرے میں اعتماد اور بھائی چارے کی فضا بحال ہو سکے۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو صبرِ جمیل نصیب فرمائے۔ آمین 🤲🕊️