07/11/2025
ٹوبہ ٹیک سنگھ پاسپورٹ آفس میں غریب شہری کے ساتھ ظلم! انچارج شیخ ادریس کی غنڈہ گردی عروج پر!
ٹوبہ ٹیک سنگھ
پاسپورٹ ری نیو کروانے کے لیے جانے والے عام شہری کے ساتھ پاسپورٹ آفس میں پیش آیا انسانیت سوز واقعہ!
ہوا یوں کہ شہری پاسپورٹ ری نیو کروانے کے لیے ٹوبہ ٹیک سنگھ پاسپورٹ آفس پہنچے۔ بدقسمتی سے وہ کسی ایجنٹ کے ذریعے نہیں بلکہ ڈائریکٹ اندر چلے گئے — اور یہی ان کی “غلطی” بن گئی
اندر موجود عملے نے اعتراض لگا دیا کہ شناختی کارڈ اور پاسپورٹ پر تاریخِ پیدائش مختلف ہے، لہٰذا آپ کو “فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ” اور “بیانِ حلفی” ساتھ جمع کروانا ہوگا۔
شہری نے معاملہ آفس انچارج شیخ ادریس کے سامنے رکھا تو انہوں نے بھی وہی بات دہرائی۔
مجبوراً باہر نکلے تو ایک ایجنٹ نے آ کر کہا:
“آپ مجھے 2500 روپے دیں، کوئی فکر نہیں، آپ کا پاسپورٹ بن جائے گا۔
2000 اندر دینے ہیں انچارج کو، اور 500 ہماری فیس ہے!”
پیسے دے کر فائل جمع کروائی، مگر جب شہری نے دوبارہ جا کر شیخ ادریس کو بتایا کہ “پاسپورٹ جمع ہو گیا ہے اور اب ہم ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے پاس درخواست دینے جائے گے تو انچارج غصے سے آگ بگولا ہوگئے اور کہنے لگے
“مجھے کسی ڈی سی کی پروا نہیں، جہاں مرضی چلے جاؤ!”
اتنا ہی نہیں — شیخ ادریس نے اپنے گارڈز کو حکم دیا:
“یہ شخص آفس سے باہر نہ جانے پائے، اس سے سلپ وغیرہ چھین لو!”
گارڈز نے شہری کے پر حملہ کر دیا، کپڑے پھاڑ دیے، اور مار پیٹ کی — مگر وہ اپنی جان بچا کر آفس سے باہر نکل آئے۔
اب متاثرہ خاندان کی اعلیٰ حکام سے اپیل ہے کہ:
“ہمارا فوری انصاف کیا جائے
پاسپورٹ آفس میں بیٹھے غریب عوام پر ظلم کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے۔”
کیا عوام کے سرکاری دفاتر میں عزت بھی صرف پیسے والے کے لیے رہ گئی ہے؟
کیا انصاف صرف ایجنٹوں کے ذریعے ہی ملے گا؟
تحریر گزار : "محمد لقمان مانی پوریا"