30/12/2024
میڈیکل سائینس کے مطابق مرد اور عورت جب جنسی ملاپ کرتے ہیں تو دونوں کے جسم سے جو خلیات نکلتے ہیں ان میں دو قسم کے جینز ہوتے ہیں ۔ مرد کے پاس XY جبکہ عورت کے پاس XX جینز ہوتے ہیں یعنی دونوں کے ملاپ سے حو بھی بچہ پیدا ہوتا ہے وہ لڑکا ہوگا یا لڑکی اس کا انحصار ان دو قسم کے جینز پہ ہوتا ہے۔
اگر عورت کا ایک X جین اور مرد کا X جین آپس میں ملتے ہیں تو بچہ جو پیدا ہوگا وہ لڑکی ہوگی اور اگر عورت کا ایک X جین مرد کے Y جین سے جاکر ملتا ہے تو بچہ لڑکا پیدا ہوگا۔۔
یہاں آسان الفاظ میں سمجھانے کا مطلب یہ ہے کہ پیدا ہونے والے بچے کی جنس کا دارومدار مرد پہ ہوتا ہے اگر اسکا Y جین طاقتور ہے تو بچہ لڑکا اگر اسکا Y جین کمزور ہے تو اسکا X جین عورت کے X جین سے ملتا ہے نتیجہ میں جو بچہ پیدا ہوگا وہ لڑکی ہوگی۔
لیکن ہمارے معاشرے میں جہالت اس حد تک سرائیت کر چکی ہے کہ پیدا ہونے والے بچے کی جنس پہ عورت کو ہی ذمہ وار سمجھی جاتی ہے اور لڑکی پیدا ہونے پہ صرف اسے ہی موردالزام ٹھرا کر پریشرائز کیا جاتا ہے بلکہ زیادہ تر کیسز میں تو تشدد اور طلاق تک بات پہنچتی ہے۔ معاشرے کی اس جہالت پہ صرف افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔