20/07/2024
اس کے آخری الفاظ یہ تھے: "بس کرو میرے دوست"
غزہ کی ہر کہانی ایک نیا درد دے جاتی ہے..
ڈاون سنڈروم میں مبتلا شجاعیہ محلے کا محمد بہار 24 سال کا تھا مگر اس کی ذہنی سطح ایک سالہ بچے کے برابر تھی، وحشی صیہونیوں نے اس کے گھر پر حملہ کیا اور اپنا تربیت یافتہ کتا محمد پر چھوڑ دیا
کتا محمد کو بھنبھوڑنے لگا، پہلے اس کا سینہ پھر اس کا ہاتھ چبانے لگا، محمد کی دادی کہتی ہیں کہ وہ کھانا یا پانی کے الفاظ کے سوا کچھ نہیں بول سکتا تھا، لیکن اپنا خون دیکھ کر وہ چلانے لگا، ایک سالہ بچے کا سا ذہن رکھنے والے محمد کے بس میں جو تھا وہ یہ تھا کہ وہ کتے کا سر سہلاتے ہوئے اسے کہہ رہا تھا "میرے دوست، بس کرو، مجھے جانے دو" مگر درندوں نے اس کی بات نہ سنی اور محمد نے اپنے گھر والوں کی آنکھوں کے سامنے تڑپ تڑپ کر جان دے دی، اور یہ محمد کا آخری ہی نہیں بلکہ پہلا جملہ بھی تھا، اس کی دادی کہتی ہیں کہ ہم نہیں جانتے کہ اس نے یہ کیسے کہا، ہم نے اس سے پہلےمحمد کو بولتے ہوئے نہیں سنا،
میری آنکھوں کے سامنے سے وہ منظر اور اس کی دردناک چیخیں نہیں جاتیں، وہ بہت معصوم تھا، وہ خود سے کوئی چیز تھام بھی نہیں سکتا تھا، میں اسے اپنے ہاتھ سے کھانا کھلاتی تھی، پھر نجس فوجیوں نے ہمیں اسلحے کے زور پر ہمارے گھر سے نکال دیا اور محمد وہیں تنہا پڑا رہا، ایک ہفتے بعد ہم کسی طرح گھر میں داخل ہوئے تو محمد کی لاش پڑی تھی...