Usman Ali

Usman Ali Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Usman Ali, Sports, Boura Road, Mian Channun.

12/07/2020

کیپٹن باربروسہ اور تاریخ کا جبر۔۔۔

آپ میں سے جن افراد نے جونی ڈیپ کی شہرہ آفاق ہالی ووڈ فلم ''پائریٹس آف دی کیریبین'' دیکھی ہے یقینا ان کے لیے یہ نام اور کردار نیا نہیں ہو گا۔۔۔۔ فلم میں اس کردار کو ایک تخریبی اور سازشی موقع پرست بحری قزاق کے طور پر دکھایا گیا ہے۔۔۔ لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ کیپٹن باربروسہ صرف ایک افسانوی کردار نہیں بلکہ سلطنت عثمانیہ کی بحری افواج کا ایک مجاہد اور امیر تھا۔۔۔۔

عثمانی خلیفہ سلیم نے البانیہ سے تعلق رکھنے والے امیر البحر بابا عروج کو طلب کیا اور وہ خطوط دکھائے جو ہسپانیہ کی مختلف چرچز کے تنگ و تاریک عقوبت خانوں سے مسلمانوں نے لکھے تھے اور انہیں ان مسلمانوں کو ریسکیو کرنے کا مشن سونپا۔۔۔ بحیرہ روم کے مشرق میں ترکی کے ساحلوں سے بحیرہ روم کے مغرب میں اندلس کے ساحلوں تک کے سفر میں اطالیہ اور پرتگال سمیت بہت سی عیسائی ریاستوں کی بحری افواج حائل تھیں۔۔۔ حکمت عملی کے تحت فیصلہ یہ ہوا کہ امیر البحر بابا عروج بحری افواج کی قیادت کرتے انہیں ہسپانیہ اتاریں گے وہاں ان عقوبت خانوں سے مسلمانوں کو رہائی دلوانے کے بعد مغرب کے بعد انہیں وہاں سے نکالا جائے گا اور افریقہ میں مسلمان ریاست الجزائر لے جایا جائے گا تاکہ عیسائی بحریہ سے واپسی پر کسی قسم کی لڑائی کا کوئی موقع نا بنے اور ان مسلمانوں کو بخیر و عافیت زمینی راستے سے واپس لایا جا سکے۔۔۔ اس مقصد کے لیے بابا عروج نے اپنے بھائی خیرالدین باربروسہ کو الجزائر بھیجا جہاں ان کا مشن عیسائی نواز مسلمان حکمرانوں کو شکست دینا تھا۔۔۔
بابا عروج کو مختلف وجوہات کی بنا پر حکمت عملی بدلنا پڑی اور وہ اپنے بھائی خیرالدین باربروسہ کے پاس الجزائر پہنچے جہاں ایک شہر تلمسان کے محاصرے میں ایک مسلمان حکمران نے غداری کی اور صلیبی حملہ آوروں کو عقب سے حملہ کی دعوت دی۔۔ ترک اور الجزائر فوجوں نے بابا عروج کی قیادت میں ہتھیار ڈالنے کی بجائے شہادت کو ترجیع دی اور یوں بابا عروج نے اس جگہ جام شہادت نوش کیا۔۔۔ کئی دن تک عیسائی جشن میں بابا عروج کے سر کو اندلس کی گلیوں میں لے کر پھرتے رہے اور گرجاگروں سے خوشی میں شادیانوں کی آوازیں آتی رہیں۔۔۔

اس کے بعد کمان خیر الدین باربروسہ کے حوالے کی گئی جنہوں نے خود اپنا ایک بحری بیڑہ ترتیب دیا اور بحیرہ روم میں موجود پرتگالی اور اطالوی افواج کو شکست دی۔۔۔ باربروسہ کو یہ لقب اطالوی افواج نے ہی دیا تھا جس کا مطلب سرخ داڑھی والا ہے۔۔۔ پھر باربروسہ نے تیونس اور الجزائر پر حملے کر کے ان علاقوں کو عیسائیوں کے قبضہ سے پاک کیا۔۔۔ باربروسہ کے کارناموں کی خبر جب ویٹیکین میں پوپ جان پال سوئم کو ملی تو پاپ نے پورے یورپ کا ایک مشترکہ بحری بیڑہ قائم کر کے باربروسہ کو شکست دینے کا حکم دیا۔۔۔ بلاشبہ یہ اس وقت تک کی انسانی تاریخ کا سب سے عظیم بحری بیڑہ تھا جس میں 6000 جنگی بحری جہاز تھے۔۔۔۔ مقابلے میں باربروسہ کے بیڑے میں 1200 بحری جہاز تھے۔۔۔۔۔۔ دونوں افواج کا ٹکراو پرویزیہ کے مقام پر 28 ستمبر 1538 کو ہوا جس میں باربروسہ نے کمال مہارت اور شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے سے پانچ گنا بڑی فوج کو شکست دی اور عیسائی بیڑے کو غرق آب کیا۔۔۔ حالت یہ تھی کہ عیسائی بحریہ کے کمانڈر اینڈریا ڈوریہ نے ایک چھوٹی سی کشتی پر فرار ہو کر اپنی جان بچائی۔۔۔ پھر باربروسہ نے اندلس کے ساحلی علاقوں پر پے در پے حملے کر کے 70000 مسلمان بچوں، عورتوں اور بزرگوں کو چرچ کے مظالم سے نجات دلوائی۔۔۔

باربروسہ کی فتوحات کے نتیجہ میں بحیرہ متوسط جو کہ مشرق اور مغرب کے مابین واحد تجارتی گزرگاہ بھی تھا مسلمانوں کے قبضہ میں تین سو سالوں تک رہا۔۔۔۔ برطانیہ، فرانس اور ہالینڈ وغیرہ جیسی ریاستیں اس عرصہ میں یہاں سے اپنے جہاز گزارنے کے لیے سلطنت عثمانیہ کو ٹیکس دیتی رہیں۔۔۔۔ شاید آپ کو جان کر حیرت ہو کہ پہلے امریکی صدر جارج واشنگٹن نے اس بحری فوج کو امریکہ پر حملے نا کرنے کے معاہدے پر راضی کرنے کے لیے مسلمانوں کے ایک بھاری جزیہ ادا کیا تھا۔۔۔ یہ معاہدہ تقریبا دو صدیوں پر محیط امریکی تاریخ کا واحد معاہدہ ہے جو انگریزی زبان کے علاوہ کسی دوسری زبان میں کیا گیا ہے۔۔۔۔ یہ معاہدہ اس لحاظ سے بھی منفرد تھا کہ اس میں امریکی حکومت کسی دوسری ریاست کو ہر سال باقاعدہ ٹیکس ادا کرنے کی پابند تھی۔۔۔۔۔

افسوس کی بات ہے کہ ہمیں بہت سے اپنے ہیروز کا ذکر تک غیروں سے سننے کو ملتا ہے اور وہ ذکر بھی اس قدر مسخ شدہ چہرہ پیش کرتا ہے کہ ہمیں ان ناموں سے ہی نفرت ہو جاتی ہے۔۔۔۔ قومیں جب اپنی تاریخ دوسروں سے سننا شروع کر دیں تو ایسا ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔۔۔۔۔۔

*-*-*-*-*-*-*-*-*

برکہ خان یکم رجب 660ھ کو چنگیزخان کے پوتے برکہ خان (برکی خان ) نے اپنے اور اپنی قوم کے مشرف بااسلام ہونے کا اعلان کرتے ہ...
24/01/2020

برکہ خان
یکم رجب 660ھ کو چنگیزخان کے پوتے برکہ خان (برکی خان ) نے اپنے اور اپنی قوم کے مشرف بااسلام ہونے کا اعلان کرتے ہوئے ایک خط لکھ کر مصر کے سلطان رکن الدین بیبرس کو یہ اطلاع دی۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ وہ اپنے چچازاد ہلاکوخان کے خلاف جہاد کے لیے تیار ہے اور اس مقصد کے لیے مصر سے اتحاد کرنا چاہتا ہے۔ سلطان بیبرس نے یہ پیش کش بخوشی قبول کرتے ہوئے آئمہ حرمین شریفین کو برکہ خان کے لیے دعاؤں کا حکم لکھ بھیجا۔ تمام شہروں میں بھی فرمان بھیجا گیا کہ جمعہ کے خطبے میں خلیفہ اور سلطان کے بعد برکہ خان کے لیے دعا کی جائے۔

برکہ خان کی سلطنت قفقاز کے کوہساروں سے بلغاریہ کی حدودتک وسیع تھی۔ شوال 660ھ (ستمبر 1262ئ) میں ہلاکو شام اور مصر پر دوبارہ حملے کی تیاری کررہا تھا کہ برکہ خان کی فوج قفقاز کے فلک بوس درّوں سے نمودار ہونے لگی۔
یہ دیکھ کر ہلاکو خان کو شام کی مہم ملتوی کرکے بحیرۂ خزر کی طرف فوج بھیجنا پڑی۔ اس لشکر نے دریائے تیرک عبور کرکے برکہ کی فوج کو وقتی طور پر پسپا کیا، مگر برکہ کے بھتیجے نوگائی کے جوابی حملے میں ہلاکو کا لشکر درہم برہم ہوکر پیچھے ہٹتے ہوئے دریائے تیرک تک آگیا۔ اس وقت موسم سرما عروج پر تھا۔ دریا کی سطح جو سخت سردی سے منجمد ہوچکی تھی لشکر کے بوجھ سے ٹوٹ گئی اور تاتاریوں کی بڑی تعداد ڈوب کر مرگئی۔ ہلاکوخان کا ایک بیٹا بھی مارا گیا اور وہ خود پسپا ہوکر بحیرۂ آذربائی جان کے ایک جزیرے میں پناہ لینے پر مجبور ہوگیا۔ اس کے بعد ہلاکو کی ایل خانی اور برکہ کی زرّیں خیل سلطنتوں میں جھڑپوں کا دائرہ کار مشرق تک پھیل گیا۔ ہلاکو نے گرجستان اور آرمینیا کے نصرانی حلیفوں کو ساتھ ملا کر زرّیں خیل کی سرحدوں پرحملے شروع کیے۔ جواب میں برکہ نے نہ صرف روسیوں اپنی فوج میں بھرتی کیا،بلکہ وسطِ ایشیا تک تسلط حاصل کرلیا۔ سمرقند و بخارا کے مسلمان جوق درجوق اس کی فوج میں شامل ہونے لگے۔ بحیرۂ خزر کے جنوب مشرق اور جنوب مغرب میں ان دونوں سلطنتوں کے مابین مسلسل جھڑپیں ہوتی رہیں۔ برکہ کے سپاہی ایمان و ایقان سے بھرپور تھے، جبکہ ہلاکو کی فوج کے سامنے خون ریزی کے سوا کوئی ہدف نہ تھا۔ اس کے سپاہی پست ہمت ہوکر منتشر ہونے لگے۔ بہت سے سلطان بیبرس کی تلوار سے خوفزدہ ہوچکے تھے اور بہت سے برکہ خان کے قبولِ اسلام کے بعد توحید کی طرف راغب ہورہے تھے۔ تاتاری اب دو واضح جماعتوں میں بٹ گئے تھے۔ اسلام دشمن اور اسلام دوست۔ اسلام دوست تاتاری خود کو برکہ خان کی طرف منسوب کرنے لگے۔ ان میں جو شامی سرحدوں کے آس پاس تھے، انہیں برکہ خان کی دوردراز مملکت کی بجائے مصر جانا بہتر محسوس ہوا، چنانچہ ہزاروں تاتاری مصر کی طرف منتقل ہونے لگے۔ سلطا ن کو اطلاع ملی تو تمام شہروں کے گورنروں کو حکم دیا کہ ان کی پوری طرح مہمانی اور دلجوئی کی جائے اور زادِسفر دے کر مصر بھیج دیا جائے۔ کچھ دنوں میں تاتاریوں کے کئی گروہ مصر پہنچے اور سلطان سے امان طلب کی۔ یہ تاریخ میں پہلا موقع تھا کہ تاتاری کسی غیرقوم سے امان مانگ رہے تھے، ورنہ اس سے پہلے ان کے ہاں ایسی کوئی مثال نہ تھی۔ وہ صرف مارنا یا مرنا جانتے تھے۔ سلطان نے ان کی بہت بڑی ضیافت کی، انعام و اکرام سے نوازا اور رہائشیں دیں۔ ان کی بڑی تعداد مشرف بااسلام ہوگئی۔ اس طرح ایک سفاک فاتح قوم اسلام کی مفتوح ہوگئی۔

علامہ اقبال نے تاتاری منگولوں(مُغلوں)کو فتنہ تاتار کا نام دیتے ہوئے اور برکہ خان کے مسلمان ہونے پر یہ شعر لکھا

ہے عیاں فتنہ تاتار کے افسانے سے
پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے

ترک قوم.......قسط نمبر 3دولت سلجوقیہدوسری قسط میں ہم ذکر کرچکے ہیں کہ معتصم باللہ کی ترک نوازی کی وجہ سے رفتہ رفتہ ترک ش...
09/01/2020

ترک قوم.......قسط نمبر 3

دولت سلجوقیہ

دوسری قسط میں ہم ذکر کرچکے ہیں کہ معتصم باللہ کی ترک نوازی کی وجہ سے رفتہ رفتہ ترک شہزادے سامرا میں مقیم ہونے لگے اور فوج میں ترکوں کی قوت بڑھتی گئی.

خلیفہ معتصم کے بعد ترکوں کا اقتدار فوج و حکومت میں روز بروز بڑھتا گیا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ نہ صرف تحت بلکہ خلیفہ بغداد کی زندگی بھی ان ہی کے رحم و کرم پر تھی, انہون نے متعدد خلفاء کو تحت سے اتارا اور بعضوں کو قتل بھی کرادیا جسکا نتیجہ یہ ہوا کہ دولت عباسیہ کا زوال سلطنت کے ہر حصے میں نمایاں ہونے لگا.

مختلف صوبوں کے گورنروں نے آزاد ہوکر اپنی اپنی خودمختار حکومتیں قائم کرلیں مثلًا ایرانی گورنروں نے خراسان میں طاہریہ, فارس میں صفاریہ, ماوراءالنہر میں سامآنیہ , آذربیجان میں ساجیہ اور جرجان میں زیاریہ کی جداگانہ حکومتیں قائم کرلیں.

اسی طرح ترکوں نے مصر میں طولونیہ, ترکستان میں ایلکیہ, پھر مصر میں اخشیدیہ اور افغانستان و ہند میں دولت غزنویہ کی بنیاد ڈالی. یہ تمام حکومتیں تیسری صدی ہجری کے وسط سے چوتھی صدی ہجری کی وسط تک قائم ہوگئیں, پانچویں صدی ہجری میں (گیارویں صدی عیسوی) میں ترکوں کے ایک گروہ نے خراسان میں دولت سلجوقیہ کی بنیاد رکھی.
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

ترک قوم........قسط نمبر 2 ترکوں اور عربوں کے تعلقات پہلی صدی ہجری میں ولید اول کے عہد خلافت میں قتیبہ بن مسلم باہلی نے پ...
09/01/2020

ترک قوم........قسط نمبر 2

ترکوں اور عربوں کے تعلقات
پہلی صدی ہجری میں ولید اول کے عہد خلافت میں قتیبہ بن مسلم باہلی نے پقند , بخارا, سمرقند, خوارزم, فرغانہ, شاش(تاشقند) اور کاشغر کے ترک علاقے فتح کرکے وہاں اسلامی حکومت قائم کرلی لیکن فتوحات کا اثر ترکوں کے قبول اسلام پر بہت کم پڑا اور وہ بدستور بت پرستی کرتے رہے البتہ سمرقند میں قتیبہ بن مسلم باہلی کی بت شکنی نے بت پرستی کا خاتمہ کردیا, جب قتیبہ بن مسلم باہلی وہاں پہنچا تو اسے بہت سارے بت خانے نظر آئے جن کے بارے میں مشہور تھا کہ انکے ساتھ بے ادبی کرنے والا فوراً ہلاک ہوجاتا ہے قتیبہ بن مسلم باہلی نے ان بت خانوں کو آگ لگا دی مگر اسے کچھ نہ ہوا یہ دیکھ کر بت پرستوں نے اسلام قبول کرلیا.

حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے عہد خلافت میں (99_101ھ) بمطابق 717 تا 720ء نے اشاعت اسلام کی خاص طور پر کوشش کی تو انہوں نے ترک بادشاہوں کو بھی اسلام کی دعوت دی جن میں سے بعض اسلام لائے .

پھر عبداللہ بن معمرالیشکری کو دعوت اسلام کے لئے ماوراءالنہر (یعنی منگولیا اور شمالی چین) بھیجا اور وہاں کے بعض قبیلے مسلمان ہوگئے.

اسکے بعد خلیفہ ہشام کے عہد خلافت 125ھ بمطابق 724تا743ھ) میں ابوصیدا کی تبلیغ سے ماوراءالنہر کے لوگ کثرت سے اسلام میں داخل ہوے, سمرقند اور بخارا وغیرہ (ترکستان کے علاقے) سے جزیہ و اخراج کی توقمیں بیت المال میں آتی تھیں ان میں غلام اور لونڈیاں بھی بھیجے جاتے تھے جو رفتہ رفتہ اسلام قبول کرنے لگے پھر بھی معتصم باللہ کی خلافت ( 218 تا 227 ھ بمطابق 833 تا 842 ء) ترکوں میں اسلام کی اشاعت عام طور پر نہ ہوسکی.

سب سے پہلے خلیفہ منصور (136 تا 158 بمطابق 754 تا 775ء)نے ترکوں کو فوج میں بھرتی کرنا شروع کردیا لیکن انکی تعداد بہت قلیل تھی. ہارون الرشید کے زمانہ خلافت میں اہل عرب و اہل روس کے درمیان جو حریفانہ کشمکش پیدا ہوئی اس نے عربوں کی قوت کا خاتمہ کردیا اور مامون کی عہد میں جسکی ماں ایرانی النسل تھی ایرانیوں کا زور بڑھ گیا.

اسکے بعد جب معتصم باللہ خلیفہ بنا تو اس نے ایرانیوں سے خائف ہوکر ترکوں سے مدد حاصل کرلی چونکہ اسکی ماں ترک تھی اسوجہ سے بھی اسکا میلان ترکوں کی جانب زیادہ تھا. چنانچہ اس نے پچاس ہزار ترک غلام خرید کر انہیں اسلامی تعلیمات اور فوجی تربیت دی اور دارالخلافت میں آباد کردیا ہر سال ہزاروں ترک غلام لائے جاتے اور فوج میں بھرتی کئے جاتے جو زیادہ ممتاز ہوتے تھے انکو فوج کے سپہ سالار مقرر کردیا جاتا اس طرح فوج میں ترکوں کی قوت بڑھتی گئی .

معتصم نے ترکوں کے لئے ایک الگ چھاؤنی سامرا کے مقام پر بنائی جو بغداد سے ساٹھ میل کے فاصلے پر واقع تھا اور سامرا کا نام تبدیل کرکے سرمن رائے رکھ دیا اور وہاں فوجی بارکوں کے علاوہ خلیفہ اور وزراء کے لئے عالیشان محل تیار کروایا اور بغداد کے بجائے سامرا میں رہنے لگا, معتصم کی ترک نوازی کی وجہ سے رفتہ رفتہ ترک شہزادے اور امرا بھی ترکستان سے آکر سامرا میں رہنے لگے جن میں بعض بت پرست اور آتش پرست تھے اور بعض مسلمان ہوگئے .

دارالخلافت میں رہنے کے بعد غیر مسلم ترکوں میں بھی اسلام پھیلنے لگا اور اس تعلق سے ماوراءالنہر کے ترکوں میں جو اپنے وطن میں مقیم تھے اسلام کی اشاعت ہونے لگی. ترک سرداروں کا اسلام قبول کرلینے سے انکے جرگے اور قبیلے بھی مسلمان ہوتے گئے, چوتھی صدی ہجری (10ویں صدی عیسوی ) میں ترک بطوع خاطر بکثرت اسلام میں داخل ہوچکے تھے،

349 ھ بمطابق 920 ء میں دو لاکھ ترک گھرانے (خیمے) مسلمان ہوے، اور ماوراءالنہر کی ایک ترک قوم کے دس ہزار گھرانے جو بلاساغوں اور کاشغر کے نواحی اسلامی علاقوں پر دھاوے مارا کرتے تھے (435 ھ بمطابق دسمبر 1043ء) میں اسلام لائے. (ابن کثیر جلد 8 ص 356 , مطبع بریل).
جاری ہے ......

ترک قوم................. قسط نمبر 1 طوفان نوح علیہ السلام کے بعد حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے تینوں بیٹوں یعنی سام , یاف...
05/01/2020

ترک قوم................. قسط نمبر 1

طوفان نوح علیہ السلام کے بعد حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے تینوں بیٹوں یعنی سام , یافث اور حام کو اللہ کے حکم سے دنیا کے چاروں طرف بھیجا یافث بن نوح علیہ السلام مشرق اور شمال کے طرف گئے اور وہیں جاکر آباد ہوے ان کے متعدد بیٹے پیدا ہوئے سب سے مشہور بیٹے کا نام ترک ہے. تمام ترکی قومیں یعنی منگول,ازبک, چغتائی اور ایران و رومیہ کے چغتائی اسکی نسل سے ہیں.

ترکوں کی سلطنت

چونکہ یہ ایک خانہ بدوش قوم تھی اسی وجہ سے اکثر مشرقی ایشیا اور وسط ایشیا میں گھومتی پھرتی تھی اور وقتاً فوقتاً ایشیا اور مشرقی یورپ کی آبادیوں پر حملہ آور ہوکر انہیں ویران کردیتی تھی.

چھٹی صدی عیسوی میں انہوں نے ایک زبردست سلطنت قائم کرلی جو منگولیا اور شمالی چین سے لیکر بحرآسودہ تک پھیلی ہوئی تھی. اس سلطنت کے بانی کا نام چینی تاریخوں میں ’’ تومین ‘‘ (Tumen) اور ترکی کتبوں میں ” بومین “ (Bumin) درج ہے. تومین کا ایک بھائی جسکا نام ” استامی “ (Istami) نے مغرب میں فتوحات حاصل کی اور دونوں بھائی الگ الگ حکومتوں پر حکمران تھے, اہل چین ان حکومتوں کو شمالی ترک سلطنت اور مغربی ترک سلطنت کہتے تھے. تومینOttoman ہوا اور پہلی صدی ہجری یعنی ساتویں صدی عیسوی میں ان دونوں حکومتوں کو سلطنت چین کی اطاعت قبول کرنی پڑی لیکن 63 ھ (628ء) میں شمالی ترکوں نے چین کی فرمان روائی سے آزاد ہوکر سابق خود اختیاری پھر حاصل کرلی. ”کتبات اورخان “ جو منگولیا کے دریائے اورخان کے نام سے منسوب ہیں اور ترکی زبان کی قدیم ترین درسگاہیں ترکوں کی اسی شمالی سلطنت سے تعلق رکھتے ہیں. یہ سلطنت 126ھ (737ء) تک قائم رہی.

مغربی ترکوں میں ترگیش کا قبیلہ سب سے زیادہ ممتاز تھا اسکے سرداروں نے پہلی ہجری ( ساتویں صدی عیسوی) کے آخر میں خاقان خان کا لقب اختیار کرلیا تھا لیکن 121ھ (737ء) میں عربوں نے نصر بن سیار کی قیادت میں ترگیش کی حکومت کا خاتمہ کردیا تھا..

جاری ہے......

سلطان بایزید یلدرم کون؟وہ وقت تھا جب یہ بات نوجوانوں کے خون کو گرماتی تھی کہ یورپ کے52شہزادے"سگ برگنڈی"کی قیادت میں مسیح...
28/11/2019

سلطان بایزید یلدرم کون؟
وہ وقت تھا جب یہ بات نوجوانوں کے خون کو گرماتی تھی کہ یورپ کے52شہزادے"سگ برگنڈی"کی قیادت میں مسیحی جہاد کا اعلان کرتےہوئے قسطنطنیہ پر حملہ آور ہوئےتھے توسلطان بایزید یلدرم گھوڑے پر سوار ان پر بجلی کی طرح گرتاتھا۔اسی لئیے اس ترک سلطان بایزید کو "یلدرم"کاخطاب ملا تھا جو ایک ترکی لفظ ہے جس کے معنی"بجلی"کےہیں۔وہ بایزید یلدرم جس نے مسیحی لشکر کےسردار52یورپی شہزادوں کے قافلہ سالار "سگ برگنڈی" کو فتح پانےاور شکست سےدوچارکرنے کےبعد گرفتار کیا اور ہاتھ میں تلوار د ی اور یہ کہہ کر سگ برگنڈی کو چھوڑدیا کہ"جائو۔۔!پھر سے عیسائیوں کو جمع کرکےآئو۔۔بایزید کو تم ہر وقت میدان_جنگ میں تیار پائو گے"واہ کیا یلغار تھی سلطان بایزید یلدرم کی پھر وہ بیشمار لڑائیاں لڑی گئیں جس میں ترک لوگ شان وشوکت کےساتھ فتحمند ہوئے جو آج تک مسلمانوں کیلئےشان وشوکت کاباعث ہیں ۔۔

13/09/2019

لوگوں سے نظر ملانا کوئی مشکل کام نہیں. مشکل کام تو خود سے نظر ملانا ہے.
لوگوں کا کیا ہے ان کو جو بھی کہ دیں انکو تو ماننا ہی ہوتا ہے. کیونکہ وہ ہمارے اندر اتر کر تھوڑی دیکھ سکتے ہیں. کہ ہمارے اندر کیا ہے.

کبھی اتفاق ہو تو اپنی ذات میں غوطہ لگائیں. خود کو پڑھیں خود کو پہچانیں.
آپ سے بڑھا کوئی آپ کا خیر خوا نہیں. اپنی محبت کو محبت، نفرت کو نفرت، حسد کو حسد، بغض کو بغض، منافقت کو منافقت، غلطی کو غلطی، جھوٹ کو جھوٹ، خامی کو خامی، ہار کو ہار، جیت کو جیت تسلیم کریں.

جب آپ خود کو ترتیب دے لیں گے. تو آپ کو ایک شعور کی آنکھ ملے گی. اس شعور کی آنکھ سے آپ کسی سے بھی آنکھ ملا سکتے ہیں. چاہے ساری دنیا آپ کے مخالف کھڑی ہو جاۓ آپ ڈگمگائیں گے نہیں. ایک روحانی سکون آپ کو میسر ہوگا.
ایک قلبی طاقت آپ کو مستقیم رکھے گی۔۔۔

سلطنتِ عثمانیہ کا زوال: (حصہ اول)سلطنتِ عثمانیہ، سلطنتِ مغلیہ، بنو امیہ، خلافتِ عباسیہ اور سلطنتِ مملوک وغیرہ وہ تمام بڑ...
02/09/2019

سلطنتِ عثمانیہ کا زوال: (حصہ اول)

سلطنتِ عثمانیہ، سلطنتِ مغلیہ، بنو امیہ، خلافتِ عباسیہ اور سلطنتِ مملوک وغیرہ وہ تمام بڑی سلطنتیں ہیں جو اپنے دور میں ایک عروج تک پہنچیں. یہاں تک کہ دنیا لرزہ براندم ہوئی. مگر وقت کے ساتھ ساتھ انہیں زوال آیا کہ ان کا نام صرف تاریخی کتابوں میں گم ہو کر رہ گیا. ان کی علاوہ بے شمار چھوٹی اسلامی سلطنتیں قائم ہوئیں مگر وہ بھی تھوڑے عرصے بعد منہدم ہو گئیں. سبھی کے زوال کی اپنی اپنی وجوہات بتائی جاتی ہیں، تاریخ دان اس موضوع پر بحث میں مبتلاء رہے ہیں. اس معاملے میں مشہور تاریخ دان ابن خلدون اپنی ایک تاریخی بحث پر مبنی کتاب "مقدمہ" میں لکھتے ہیں؛
"سلطنتیں کسی فرد کی طرح اپنی ایک عمر رکھتی ہیں. یہ پیدا ہوتی ہیں اور عمر کے ساتھ عروج اور پھر زوال تک پہنچ کر ختم ہو جاتی ہیں".

1337ء میں لکھے گئے ابن خلدون کے یہ الفاظ ہر لحاظ سے درست ثابت ہوئے. اور 1923ء میں مکمل ختم ہونے والی عظیم اسلامی سلطنت یعنی سلطنتِ عثمانیہ نے بھی اس بات کو درست ثابت کیا.

سلطنتِ عثمانیہ ایک چھوٹے سے قبیلے سے شروع ہوئی. ارطغرل غازی اناطولیا کے علاقے میں آئے جن کے ساتھ صرف 300 خاندان تھے. یہاں پر بازنطینی عیسائی سلطنت کی حدودیں تھیں. ارطغرل غازی اور ان کے جانباز سپاہی بہترین جنگجو تھے. ان جنگجو سپاہیوں نے چھوٹے چھوٹے کئی علاقے فتح کئے. جو اس وقت سلجوک سلطنت کا حصہ تھے. ارطغرل کے بیٹے عثمان غازی نے اپنے باپ کے بعد یہ مِشن جاری رکھا. اور سلجوقیوں کے زوال پر اپنے چھوٹے سے مفتوحہ علاقے پر اپنی خود مختار حکومت قائم کر لی. سلطنت عثمانیہ کی بنیاد پڑی. بس پھر کیا تھا. اگلے آنے والے سلاطین پہلے سے بڑھ کر ثابت ہوئے. سلطنت بڑھتی گئی. 1453ء میں قسطنطنیہ کی فتح کے بعد یورپ کے دروازے بھی کھل گئے. سلطان سلیمان اول کے دور تک سلطنت مکمل عروج پر تھی. 1683ء تک جب تک عثمانیوں کو ایک بڑی شکست کا سامنا نہیں کرنا پڑا، سلطنت عثمانیہ بڑھتی ہی رہی.

سیاسی صورتحال اور زوال:
سلطنتِ عثمانیہ کی پیدائش سے لے کے سولہویں صدی کے وسط تک سلطنت کا مرکز صرف سلطان ہی ہوا کرتا تھا. یعنی تمام کے تمام اختیارات صرف اور صرف سلطان کے ہاتھ میں تھے. اگر ایک سلطان وفات پائے گا تو اس کا بیٹا ہی سلطان بنے گا. مگر اس کا کوئی قانون واضع نہیں تھا کہ کونسا بیٹا تخت سنبھالے گا. ایک سلطان کے سبھی بیٹے کم عمری سے ہی تربیت کے لیئے دور دراز علاقوں میں بھیجے جاتے. اور سلطان کے مرنے پر کسی ایک نے سلطان بننا ہوتا. سبھی شہزادے تجربہ کار اور تربیت یا قتہ ہو جاتے. یوں حکومت کا نظام وہ آسانی سے سنبھالتے. مگر مسئلہ خانہِ جنگی کا ہوتا. یعنی تخت کے لیئے بھائیوں کی آپس میں جنگ. اس خانہ جنگی میں اپنی ہی فوج کا کافی نقصان ہوتا. اور اس کی بھرپائی کے لیئے پھر کئی سال درکار ہوتے. اس سے پچنے کا صرف ایک ہی حل تھا، وہ یہ کہ بھائی کا قتل. یہ ایک ایسا کڑوا زہر تھا جو شروع کے تمام عثمانی سلاطین نے پیا. مگر پھر بھی بہت سے مقامات پر بھائی سے جنگ کرنا پڑی. مگر شروع کے تمام کے تمام سلاطین بہترین حکمران تھے. جنہوں نے تمام عہدوں پر خود عہدے دار رکھے اور خود نکالے. تمام کی تمام جنگوں میں خود فوج کی قیادت کی. ہر مسئلے کا حل خود نکالا. یعنی ایک ایسا شخص جو ہر شعبے میں یکتا ہو، وہ سلطان ہوتا تھا. اور یہی ان کے عروج کا راز تھا. سلطان سلیم دوم یعنی سلطان سلیمان کے بیٹے، پہلے سلطان تھے جو خود کسی جنگ میں قیادت نہ کر سکے. اس کے بعد یہ سلسلہ چل نکلا. مگر ایک مسئلہ وہیں کا وہیں تھا، وہ یہ کہ تخت نشینی. جب ایک بادشاہ وفات پائے تو کوئی ایک بادشاہ بنے باقی یا تو بقا کی جنگ لڑیں یا آسانی سے اپنی جان دے دیں. اس مسئلے کا حل سلطان احمد اول نے نکانے کی کوشش کی اور وہ یہ بھائی کے قتل والا قانون ختم کیا. آپ نے یہ قانون بنایا کہ سب سے بڑا شہزادہ تخت نشین ہو گا چاہے وہ سلطان کا بھائی ہو یا بیٹا. باقی محل میں ہی رہتے ہوئے اپنی باری کا انتظار کریں گے. خود انہوں نے اپنے بھائی مصطفی کو اپنا جانشین بنایا. یہ سلطنت میں پہلی بار ہوا کہ باپ کے بعد تخت بیٹے کو نہیں ملا.
اس طریقے سے جہاں خانہ جنگی رکی وہیں اس کے کئی نقصانات بھی ہوئے. مثلاً شہزادوں کو وہ تربیت نہ مل پاتی جو ہونی چاہیئے تھی. کچھ عرصے کے بعد سلاطین بہت زیادہ عمر کا ہونے کے بعد سلطان بنتے. وہ اپنی صلاحتیں نہ دکھا سکتے. دورِ حکومت کم ہوتا. سلاطین میں فوجی قابلیت کم ہوتی.

بے شک اور بلا شبہ سلطان احمد اول رحمتہ اللّٰہ علیہ کا ارادہ اس میں غلط نہیں تھا. مگر اس کے نتائج بالکل بھی سلطنت کے حق میں نہیں گئے. اب جو سلطان بنتا وہ نہ تو کسی طریقے سے تجربہ کار ہوتا نہ ہی تربیت یا فتہ، وہ ہر لحاظ سے اناڑی ہوتے. کئی سلاطین محل میں قید رہنے کے بعد اپنی ذہنی حالت کو بھی برقرار نہ رکھ سکے. تمام تاریخ دان اس بات پر متفق ہیں کہ بھائی کے قتل کا قانون بے شک سلطنت کی بقا کا باعث رہا ہے. مگر اس کے خاتمے پر بہت سے نقصانات بھی اٹھانا پڑے.

مگر اس کے باوجود کہ سلطان پہلے کی طرح تجربہ کار نہیں تھے. پھر بھی وہ بااختیار تھے. مگر بعض سلاطین فوج پر قابو نہ پا سکے. کچھ وزراء ان کو بہت بہترین میسر آئے اور سلطنت کا عروج برقرار رہا. مگر جب سلطان مکمل طور پر طاقت ور نہ ہو تو بہت سے عہدیدار رشوتوں اور سفارشوں سے عہدوں تک پہنچے. کئی فوج نے اپنی مرضی سے لگوا دیئے. کئی اچھے عہدیداران بغاوتوں میں مارے گئے. کیونکہ سلطان فوج پر مکمل کنٹرول نہیں رکھ پایا.
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ سلطان احمد اول کے دور سے پہلے تک سلطان کے بیٹوں میں سے جو بھی سلطان بن جاتا وہ ہر لحاظ سے تربیت یا فتہ ہوتا تھا خواہ کوئی بھی ہوتا. وہ ایک بالکل نوجوانی کی عمر میں سلطان بنتا. اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھاتا. ایک لمبا دور میسر آتا. مگر جب بھائی کے قتل کا قانون ختم کیا گیا تو تربیت ختم. تب سلاطین بالکل غیر تربیت یا فتہ ہوتے.
سلاطین نے خود فوج کی سپہ سالاری چھوڑ دی. اس سے پہلے فوج کی قیادت سلطان کے ہاتھ میں ہوا کرتی. وہ جنگ میں بذات خود فوج لے کر جاتے. مگر یہ رسم ختم ہوئی تو فوج سلاطین کے ہاتھ سے نکلتی چلی گئی. تاہم سلطان احمد کے ایک بیٹے سلطان مراد چہارم جو ہر لحاظ سے سلطان بننے کے قابل تھے. ایک عرصے بعد اپنے آباءواجداد کی روایت کو برقرار رکھا اور فوج کی کمان خود سنبھالی. سلطنت کو پاؤں پر کھڑا کیا. مگر آپ آخری سلطان ثابت ہوئے جنہوں نے 1638ء میں خود فوج کی قیادت کی. اسے بعد کوئی نہ کر سکا.
جب سلاطین ناتجربہ کار ہوتے تو سلطنت کے اہم عہدوں پر بھی غلط اور ناتجربہ کار افراد لگا دیئے جاتے. اس طرح سلطنت کو نقصانات پہنچتے. بہت سے عہدیداران قابلیت کی بجائے رشوت اور سفارش پر بھرتی ہوئے. بے شمار فوج کی مداخلت سے اپنے عہدوں تک پہنچے. یہ ایک وجہ بنی سلطنت کے زوال کی.
اس کے بعد جب مرکز (سلطان اور دارالحکومت استنبول) کمزوری کا شکار ہوا تو علاقائی گورنر جو دوسرے علاقوں کے تھے وہ زیادہ طاقتور محسوس کرنا شروع ہو گئے. اس کا مطلب کہ جو ٹیکس اکٹھا ہو وہ استنبول کم بھیجا جائے خود زیادہ رکھا جائے. یوں مرکز معاشی طور پر کمزور تر ہوتا گیا. مرکزی حکومت یعنی سلطان کا وہ رعب و دبدبہ ختم ہوتا گیا جو ہونا چاہیئے تھا. اور یہ سب تب ہو رہا تھا جب یورپ اپنا سر اٹھا رہا تھا یعنی برطانیہ, روس, فرانس آسٹریا وغیرہ کی سلطنتوں کا عروج شروع ہو رہا تھا...

معاشی صورتحال اور زوال:
ہم نے سیاسی صورتحال کی بات کی. ایک وجہ معاشی حالت بھی ہے. سلطنت کے شروع میں سلطنت کی دولت اور خزانے کے بہت بڑے حصے بے شمار ہونے والی جنگوں میں سے مالِ غنیمت کے طور پر آتے تھے. مگر آہستہ آہستہ عثمانیوں کی یہ آمدن بہت کم ہوتی گئی. ایک جنگ کرنے پر بہت آکراجات آتے تھے. مگر اس جنگ کے بے نتیجہ ہونے پر فوائد حاصل نہ ہوتے. خزانے کا ضیاع ہوتا. اور دوسرا سلطنت بہت بڑی ہو چکی تھی. تو علاقے مزید فتح کرنے ہوتے یا یوں کہہ لیں کہ جو سلطنت کے بارڈر تھے, وہ دارالحکومت استنبول سے بہت دور تھے. لہذا جنگی اخراجات بڑھتے چلے گئے اور مالِ غنیمت کم سے کم تر ہوتا گیا. سلطنت مزید بڑھنا بند ہو گئی. یہ بات معاشی لحاظ سے سمجھ میں بھی آتی ہے.
ایک دوسری وجہ جو سلطنت کی معاشی صورتحال کی خرابی کی وجہ تھی جو 1700ء کے اردگرد کے دور میں شروع ہوئی, وہ عثمانی کرنسی کی قدر (value) تھی. عثمانیوں میں چاندی کے سکوں کی کرنسی چلتی تھی. تمام کاروبار چاندی کے سکوں سے چلائے جاتے. ٹیکس چاندے کے سکوں کے اکٹھے کیئے جاتے. تنخواہیں چاندی کے سکوں میں دی جاتیں. ان دنوں انگلینڈ اور فرانس وغیرہ نئے علاقے فتح کر کے سونے اور چاندی کے بے شمار سکے مالِ غنیمت میں حاصل کر رہے تھے اور ان کے پاس چاندی کی فراوانی کی وجہ سے عثمانی سکوں کی قدر میں کمی واقع ہوئی.
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ چاندی کے ان سکوں کی قدر, وقت کے ساتھ کتنی کم ہوئی. 1580ء میں 60 چاندی کے سکوں سے 1 سونے کا سکا خریدا جا سکتا تھا. دس سال بعد یعنی 1590ء میں وہی سونے کا سکہ 120 چاندی کے سکوں کے برابر تھا. اور 1640ء تک یہ حال تھا کہ 250 چاندی کے سکوں سے صرف 1 سونے کا سکہ ملتا. یہ سلسلہ بڑھتا گیا.

(ابھی یہاں تک ہم نے صرف معاشی اور سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا بہت سی وجوہات ابھی باقی ہیں جو اگلی پوسٹس میں بیان کی جائیں گی)

جاری ہے..................

02 ستمبر 1945دوسری جنگ عظیم کا اختتام ہوا تھا۔جاپان نے آخرکار ہتھیار ڈال دیے ۔انسانی حقوق کے نام نہاد چیمپین امریکہ کا س...
02/09/2019

02 ستمبر 1945
دوسری جنگ عظیم کا اختتام ہوا تھا۔
جاپان نے آخرکار ہتھیار ڈال دیے ۔

انسانی حقوق کے نام نہاد چیمپین امریکہ کا سیاہ ترین چہرہ

(ایک دوست کی وال سے)

برسات اور گرمی کا ملاجلا موسم بھی دوسری جنگ عظیم کی شدت کو کم کرنے میں ناکام ثابت ہورہا تھا،اتحادی امریکی افواج جولائی 1945ء تک جاپان کو شدید نقصان پہنچا چکی تھیں ، اس جنگ کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ پوری جنگ جاپان کے علاقے میں ہی لڑی جارہی تھی لہذا ہونے والا تمام نقصان جاپان کو ہی برداشت کرنا پڑرہا تھا ،اسی مہینے صرف ایک رات میں امریکی ایئر فورس کے جہازوں نے جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں تاریخ کی شدید ترین بمباری کرکے ایک اندازے کے مطابق ایک لاکھ چالیس ہزار افراد ہلاک کیئے ۔دوسری جانب امریکی اور اتحادی افواج کی آبدوزیں جاپان کی مکمل ناکہ بندی کرچکی تھیں ۔

بیرونی ذرائع سے جاپان کو پہنچنے والی تمام غذائی اشیاء ،تیل اوررسد کے تمام سامان کی جاپان کو فراہمی مکمل طور پر بند ہوچکی تھی ،دوسری جانب دارالحکومت ٹوکیو میں جاپانی افواج کے ہیڈ کوارٹر میں جاپانی افواج کے جرنیل صورتحال جاننے کے باوجود خون کے آخری قطرے تک دفاعِ وطن کے منصوبے ترتیب دے رہے تھے ،

جاپانی افواج کسی بھی طرح اپنے سب سے بڑے دشمن امریکہ کو جاپان پر قبضے کا موقع نہیں دینا چاہتی تھیں ،جس کی وجوہات میں جنگ عظیم کے دوران جہاں امریکہ نے جاپان کے لاکھوں شہریوں اور فوجیوں کو موت کے گھات اتارا تھا وہیں جاپانی افواج نے بھی امریکہ کے ہزاروں فوجیوں کو موت کے منہ میں دھکیلا تھا ،نفرت کی آگ دونوں جگہ ہی پوری شدت کے ساتھ بھڑک رہی تھی ،جس کی چھوٹی سی مثال یہ اعداد و شمار ہیں جن کے مطابق جاپانی بندرگاہ ایواجیما پر قبضے کے لیئے 6800 امریکی فوجی ہلاک ہوئے تو 19 ہزار جاپانی فوجیوں کو بھی اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے ،دوسری جانب جاپانی شہر اوکی ناوا پر امریکہ کو قبضے کے لیئے سات ہزار چھ سو فوجیوں کی قربانی دینا پڑی تو جاپان کے ایک لاکھ دس ہزار فوجیوں اور عام شہریوں کی بھی اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے ۔

امریکہ کو بھی یہ یقین ہوچکا تھا کہ جاپان پر قبضے کے لیئے امریکہ کو نہ صرف اپنے ہزاروں لوگوں کی جان گنوانا پڑے گی جبکہ لاکھوں جاپانی شہریوں اور فوجیوں کی جان بھی لینا پڑے گی ،ساتھ ہی جاپان کو پہنچنے والے سخت ترین جانی و مالی نقصان کے باوجود جاپانی افواج کی جانب سے مسلسل مزاحمت بھی امریکی جرنیلوں کویہ پیغام دے رہی تھی کہ جاپانی افواج خون کے آخری قطرے تک ملک کی حفاظت کے لیئے مزاحمت کا فیصلہ کرچکی ہیں ۔

ان ساری وجوہات کی بناء پر ہی امریکہ نے جاپان پر ایٹمی حملے کا فیصلہ کیا ۔ ان تمام حالات و واقعات کے بعد بالاآخر 6 اگست1945 کی صبح آٹھ بج کر پندرہ منٹ پر جب ہیروشیما پر ایٹم بم گرایا گیا تو ہیروشیما پر امریکی افواج کے کرنل پاؤل تبت کو بھی اندازہ نہ تھا کہ وہ کتنے مہلک ہتھیارسے جاپانی قوم پر حملہ آور ہونے والا ہے ۔

دوسری جانب دارالحکومت ٹوکیو میں موجود جاپانی افواج کے کمانڈرز ایٹم بم کے حملے کے اگلے سولہ گھنٹے تک اس واقعے سے بے خبر تھے ، کیونکہ ایٹم بم کے حملے کے اگلے ہی منٹ میں ہیروشیما کا تمام ٹیلیفونک نظام تباہ ہوچکا تھا ، ستر ہزار افراد لقمہ اجل بن چکے تھے ، دارالحکومت ٹوکیو میں واقع فوجی ہیڈ کوارٹر کو صرف اس بات کا ہی اندازہ ہوسکا تھا کہ ہیروشیما سے تمام رابطے منقطع ہوچکے ہیں جسکی وجہ جاننے کے لیئے جاپانی حکام نے اعلیٰ فوجی عہدیدار کو ہوائی جہاز کے ذریعے ہیروشیما بھجوایا ،جس نے موقع پر پہنچ کر شہر کی ہولناک تباہی کی خبر جاپانی حکام کو فراہم کیں تاہم اصل صورتحال کا علم واقعے کے سولہ گھنٹے کے بعد امریکی صدر ٹرومین کی جانب سے ریڈیو پر جاپان کے شہر ہیروشیما پر ایٹم بم کے کامیاب حملے کے اعلان کے بعد ہوا۔

جاپان کے شہر ہیروشیماپر حملے کے روز ہی امریکی صدر ٹرومین نے امریکی عوام سے ریڈیو پر خطاب کرتے ہوئے ہوئے کہا کہ امریکہ نے جاپان پر نئے اور جدید ایٹم بم سے حملہ کیا ہے جس نے ہیروشیما کو شدید تباہی سے دوچار کیا ہے لہذا اگر اب بھی جاپان نے بلا شرائط امریکہ کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے تو امریکہ جاپان کے مزید شہروں پر ایٹم بم کے حملے کرسکتا ہے ،

اس موقع پہ جاپانی عوام کے عزم و حوصلے کی بھی داد دینی پڑتی ہے جس نے ایٹم بم کے حملے کے اگلے ہی روز ہیروشیما کے ایٹمی حملے سے محفوظ رہ جانے والے علاقوں میں نہ صرف بجلی بحال کردی بلکہ ریلوے نظام بھی بحال کردیا ، ملک کے دفاع کا یہی عزم جاپانی افواج میں بھی موجود تھا جس کے کمانڈرز ایٹمی حملے کے باوجود امریکہ سے جنگ جاری رکھنے کے منصوبے بنارہے تھے اور اپنے ملک کو کسی بھی صورت میں امریکی قبضے سے بچانے کے لیئے اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہادینے کا عزم کیئے ہوئے تھے ، جاپانی کمانڈرز کے خیال میں امریکہ کے پاس صرف ایک ہی ایٹم بم تھا جو اس نے ہیروشیما پر استعمال کرلیا تھا لہذا ہتھیار ڈالنے کے بجائے امریکی افواج سے مقابلہ ملک کی سالمیت و بقا کے لیئے بہترحل تھا

یہ 08 اگست 1945 کا دن تھا ہیروشیما پر ایٹمی حملے کو صرف دو دن ہی گزرے تھے۔جاپانی عوام اور فواج ایٹم بم کے حملے کے بعد کی صورتحال سے باہر ہی نہیں آسکے تھے کہ روس نے بھی جاپان کے خلاف اعلان جنگ کرتے ہوئے منچیورا کے علاقے میں جاپانی افواج پر حملہ کردیا جس سے جاپان افواج کے امریکی افواج کے مقابلے میں دفاع وطن کے عزم پر کاری ضرب لگی ، تاہم روس کے حملے کے اگلے ہی روز 09 اگست 1945 کی صبح امریکی جہازوں نے جاپان کے مختلف شہروں پر پمفلٹ گرانے شروع کیئے جس میں جاپانی عوام کو ہیروشیما پر امریکی حملے سے آگاہ کیا گیا تھا اور ایٹم بم کی تباہ کاری سے عوام کو ڈرایا گیا تھا یہ عمل جاپانی عوام کے امریکہ کے خلاف حوصلے پست کرنے کی ایک جنگی کوشش تھی ،جس کے بعد 09 اگست 1945 کو ہی امریکہ نے جاپان کے شہر ناگاساکی پر ایک اور ایٹم بم گرا کر جاپانی حکومت اور عوام کی کمر توڑ دی اور جاپان کے شہنشاہ اس بات پر مجبور ہوگئے کہ بے قصور عوام کو مزید ہلاکتوں سے بچانے کے لیئے بغیر کسی شرائط کے امریکہ کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے جائیں ۔

امریکہ جو ایک جانب جاپان سے بغیر شرائط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کررہا تھا تو دوسری جانب جاپان پر مزید ایٹمی حملوں کی منصوبہ بندی بھی کررہا تھا جس کا اگلا نشانہ کوکورا اور نیگاتا تھے ، جن کے لیئے امریکی فضائیہ کو 17 اور 18 اگست 1945 کی ڈیڈلائن دی گئی تھی ۔

تاہم جاپانی افواج کی جانب سے صرف ایک شرط کے ساتھ کہ جاپانی شہنشاہ کو ملک کے اہم ستون کے طور پر برقرار رکھا جائے گا جاپانی حکومت نے ملک پرامریکی قبضہ قبول کرلیا اور اس موقع پر امریکی صدر ٹرومین نے اپنی افواج کو جاپان پر مزید ایٹمی حملے بند کرنے کا حکم دے دیا ،جاپانی شہنشاہ کی جانب سے اپنے عوام کو مزید ہلاکتوں سے بچانے کے لئے ہتھیار ڈالنے کا حکم جاپانی فوج کے اعلیٰ ترین جرنیلوں کے لیئے قابل قبول نہیں تھا تاہم جاپانی شہنشاہ سے عہد وفاداری نے جاپانی افواج کے جرنیلوں کو زباں بندی پر مجبور کیئے رکھا تاہم اس وقت جنگی امور کے نگراں جنرل انامی کوریچیکا نے خودکشی کرکے نہ صرف اپنے آپ کو شہنشاہ کی حکم عدولی کرنے سے بچایا جبکہ جاپانی رسوم و رواج کے مطابق ایک باعزت موت کو گلے لگا لیا ۔

جاپان کی جانب سے شکست قبول کرنے اور ہتھیارڈالنے کے بعد 2 ستمبر1945 کو باقاعدہ ہتھیار ڈالنے کی تقریب امریکی بحری جہاز یو ایس ایس میزوری پر منعقد ہوئی ، جس کے بعد امریکہ نے امریکی افواج کے جنرل ڈگلس میک آرتھر کو جاپان کا نیا سپریم کمانڈر منتخب کیا۔

سقوط جاپان کے نتیجے میں دوسری جنگ عظیم کاخاتمہ ہوا۔اس جنگ میں 61 ملکوں نے حصہ لیا۔ ان کی مجموعی آبادی دنیا کی آبادی کا 80 فیصد تھی۔ اور فوجوں کی تعداد ایک ارب سے زائد۔ تقریباً 40 ملکوں کی سرزمین جنگ سے متاثر ہوئی۔ اور 5 کروڑ کے لگ بھگ لوگ ہلاک ہوئے۔ سب سے زیادہ نقصان روس کا ہوا۔ تقریباً 2 کروڑ روسی مارے گئے۔ اور اس سے اور کہیں زیادہ زخمی ہوئے۔ روس کے 1710 شہر اور قصبے ۔ 70000 گاؤں اور 32000 کارخانے تباہ ہوئے۔ پولینڈ کے 600،000 ، یوگوسلاویہ کے 1700000 فرانس کے 600000 برطانیہ کے 375000 ، اور امریکا کے 405000 افراد کام آئے۔ تقریباً 6500000 جرمن موت کے گھات اترے اور 1600000 کے قریب اٹلی اور جرمنی کے دوسرے حلیف ملکوں کے افراد مرے۔ جاپان کے 1900000 آدمی مارے گئے۔ جنگ کا سب سے ظالمانہ پہلو ہیروشیما اور ناگاساکی پر امریکا کا ایٹمی حملہ تھا۔ جاپان تقریباً جنگ ہار چکا تھا لیکن دنیا میں انسانی حقوق کے نام نہاد ٹھیکے دار امریکہ نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لیے لاکھوں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

ہر سال 2 ستمبر کو امریکہ میں جاپان پہ فتح کا دن منایا جاتا ہے۔

جب فرانسیسی جنرل "گورو" نےشام میں قدم رکھا صلاح الدین ایوبی کی قبر پرگیا اور قبر کو لات مارکرکہا:"اٹھوصلاح الدین ہم  پھر...
21/07/2019

جب فرانسیسی جنرل "گورو" نےشام میں قدم رکھا صلاح الدین ایوبی کی قبر پرگیا اور قبر کو لات مارکرکہا:
"اٹھوصلاح الدین ہم پھرآگئے"
جب فرانسیسی جنرل "لیوتی" نے مراکش میں قدم رکھا توسف بن تاشفین کی قبر کے پاس گیا اور قبرکو لات مارکرکہا:
"اے تاشفین کے بیٹے اٹھو ہم تمہارے سرہانے پہنچ گئے ہیں"
جب صلیبیوں دوبارہ اندلس پر قبضہ کیا تو "الفونسو" نے حاجب منصور کی قبر پر سونے کی چارپائی بچھائی اور بیوی کو لے کر شراب پی کر لیٹ گیا اور کہا:
"دیکھو میں نے مسلمانوں کی سلطنت پر قبضہ کرلیا ہے"
جب یونانی فوج ترکی میں داخل ہوئی تو یونانی فوج کے سربراہ "سوفوکلس وینیزیلوس" خلافت عثمانیہ کے بانی عثمان غازی کی قبر کے پاس گیا اورکہا:
"اٹھو اے بڑی پگڑی والے اٹھو اے عظیم عثمان اٹھو دیکھو اپنے پوتوں کی حالت دیکھوں ہم نے اس عظیم سلطنت کا خاتمہ کیا جس کی تم نے بنیاد رکھی تھی ہم تم سے لڑنے آئے ہیں"
یہی اسی یونانی جنرل کی تصویر ہے جو 1920ء میں عثمان غازی کی قبرکے پاس کھڑا ہے۔
کیا اب بھی کسی کو اس بارے میں شبہ ہے کہ یہ صلیبی جنگجو ہیں

Address

Boura Road
Mian Channun
58000

Telephone

+923367251862

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Usman Ali posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Usman Ali:

Share

Category