12/07/2020
کیپٹن باربروسہ اور تاریخ کا جبر۔۔۔
آپ میں سے جن افراد نے جونی ڈیپ کی شہرہ آفاق ہالی ووڈ فلم ''پائریٹس آف دی کیریبین'' دیکھی ہے یقینا ان کے لیے یہ نام اور کردار نیا نہیں ہو گا۔۔۔۔ فلم میں اس کردار کو ایک تخریبی اور سازشی موقع پرست بحری قزاق کے طور پر دکھایا گیا ہے۔۔۔ لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ کیپٹن باربروسہ صرف ایک افسانوی کردار نہیں بلکہ سلطنت عثمانیہ کی بحری افواج کا ایک مجاہد اور امیر تھا۔۔۔۔
عثمانی خلیفہ سلیم نے البانیہ سے تعلق رکھنے والے امیر البحر بابا عروج کو طلب کیا اور وہ خطوط دکھائے جو ہسپانیہ کی مختلف چرچز کے تنگ و تاریک عقوبت خانوں سے مسلمانوں نے لکھے تھے اور انہیں ان مسلمانوں کو ریسکیو کرنے کا مشن سونپا۔۔۔ بحیرہ روم کے مشرق میں ترکی کے ساحلوں سے بحیرہ روم کے مغرب میں اندلس کے ساحلوں تک کے سفر میں اطالیہ اور پرتگال سمیت بہت سی عیسائی ریاستوں کی بحری افواج حائل تھیں۔۔۔ حکمت عملی کے تحت فیصلہ یہ ہوا کہ امیر البحر بابا عروج بحری افواج کی قیادت کرتے انہیں ہسپانیہ اتاریں گے وہاں ان عقوبت خانوں سے مسلمانوں کو رہائی دلوانے کے بعد مغرب کے بعد انہیں وہاں سے نکالا جائے گا اور افریقہ میں مسلمان ریاست الجزائر لے جایا جائے گا تاکہ عیسائی بحریہ سے واپسی پر کسی قسم کی لڑائی کا کوئی موقع نا بنے اور ان مسلمانوں کو بخیر و عافیت زمینی راستے سے واپس لایا جا سکے۔۔۔ اس مقصد کے لیے بابا عروج نے اپنے بھائی خیرالدین باربروسہ کو الجزائر بھیجا جہاں ان کا مشن عیسائی نواز مسلمان حکمرانوں کو شکست دینا تھا۔۔۔
بابا عروج کو مختلف وجوہات کی بنا پر حکمت عملی بدلنا پڑی اور وہ اپنے بھائی خیرالدین باربروسہ کے پاس الجزائر پہنچے جہاں ایک شہر تلمسان کے محاصرے میں ایک مسلمان حکمران نے غداری کی اور صلیبی حملہ آوروں کو عقب سے حملہ کی دعوت دی۔۔ ترک اور الجزائر فوجوں نے بابا عروج کی قیادت میں ہتھیار ڈالنے کی بجائے شہادت کو ترجیع دی اور یوں بابا عروج نے اس جگہ جام شہادت نوش کیا۔۔۔ کئی دن تک عیسائی جشن میں بابا عروج کے سر کو اندلس کی گلیوں میں لے کر پھرتے رہے اور گرجاگروں سے خوشی میں شادیانوں کی آوازیں آتی رہیں۔۔۔
اس کے بعد کمان خیر الدین باربروسہ کے حوالے کی گئی جنہوں نے خود اپنا ایک بحری بیڑہ ترتیب دیا اور بحیرہ روم میں موجود پرتگالی اور اطالوی افواج کو شکست دی۔۔۔ باربروسہ کو یہ لقب اطالوی افواج نے ہی دیا تھا جس کا مطلب سرخ داڑھی والا ہے۔۔۔ پھر باربروسہ نے تیونس اور الجزائر پر حملے کر کے ان علاقوں کو عیسائیوں کے قبضہ سے پاک کیا۔۔۔ باربروسہ کے کارناموں کی خبر جب ویٹیکین میں پوپ جان پال سوئم کو ملی تو پاپ نے پورے یورپ کا ایک مشترکہ بحری بیڑہ قائم کر کے باربروسہ کو شکست دینے کا حکم دیا۔۔۔ بلاشبہ یہ اس وقت تک کی انسانی تاریخ کا سب سے عظیم بحری بیڑہ تھا جس میں 6000 جنگی بحری جہاز تھے۔۔۔۔ مقابلے میں باربروسہ کے بیڑے میں 1200 بحری جہاز تھے۔۔۔۔۔۔ دونوں افواج کا ٹکراو پرویزیہ کے مقام پر 28 ستمبر 1538 کو ہوا جس میں باربروسہ نے کمال مہارت اور شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے سے پانچ گنا بڑی فوج کو شکست دی اور عیسائی بیڑے کو غرق آب کیا۔۔۔ حالت یہ تھی کہ عیسائی بحریہ کے کمانڈر اینڈریا ڈوریہ نے ایک چھوٹی سی کشتی پر فرار ہو کر اپنی جان بچائی۔۔۔ پھر باربروسہ نے اندلس کے ساحلی علاقوں پر پے در پے حملے کر کے 70000 مسلمان بچوں، عورتوں اور بزرگوں کو چرچ کے مظالم سے نجات دلوائی۔۔۔
باربروسہ کی فتوحات کے نتیجہ میں بحیرہ متوسط جو کہ مشرق اور مغرب کے مابین واحد تجارتی گزرگاہ بھی تھا مسلمانوں کے قبضہ میں تین سو سالوں تک رہا۔۔۔۔ برطانیہ، فرانس اور ہالینڈ وغیرہ جیسی ریاستیں اس عرصہ میں یہاں سے اپنے جہاز گزارنے کے لیے سلطنت عثمانیہ کو ٹیکس دیتی رہیں۔۔۔۔ شاید آپ کو جان کر حیرت ہو کہ پہلے امریکی صدر جارج واشنگٹن نے اس بحری فوج کو امریکہ پر حملے نا کرنے کے معاہدے پر راضی کرنے کے لیے مسلمانوں کے ایک بھاری جزیہ ادا کیا تھا۔۔۔ یہ معاہدہ تقریبا دو صدیوں پر محیط امریکی تاریخ کا واحد معاہدہ ہے جو انگریزی زبان کے علاوہ کسی دوسری زبان میں کیا گیا ہے۔۔۔۔ یہ معاہدہ اس لحاظ سے بھی منفرد تھا کہ اس میں امریکی حکومت کسی دوسری ریاست کو ہر سال باقاعدہ ٹیکس ادا کرنے کی پابند تھی۔۔۔۔۔
افسوس کی بات ہے کہ ہمیں بہت سے اپنے ہیروز کا ذکر تک غیروں سے سننے کو ملتا ہے اور وہ ذکر بھی اس قدر مسخ شدہ چہرہ پیش کرتا ہے کہ ہمیں ان ناموں سے ہی نفرت ہو جاتی ہے۔۔۔۔ قومیں جب اپنی تاریخ دوسروں سے سننا شروع کر دیں تو ایسا ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔۔۔۔۔۔
*-*-*-*-*-*-*-*-*