GPS No.1 Mian Khan

GPS No.1  Mian Khan GPS no .1 Mian Khan was established in 1930.It consists 9 classrooms along with a beautiful lawn.The

گورنمنٹ پرائمری سکول نمبر 1 میاں خان کی شاندار تعلیمی روایتگورنمنٹ پرائمری سکول نمبر 1 میاں خان نے ایک مرتبہ پھر اپنی اع...
30/08/2026

گورنمنٹ پرائمری سکول نمبر 1 میاں خان کی شاندار تعلیمی روایت

گورنمنٹ پرائمری سکول نمبر 1 میاں خان نے ایک مرتبہ پھر اپنی اعلیٰ تعلیمی کارکردگی اور شاندار روایات کو برقرار رکھتے ہوئے نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ خیبر پختونخوا ایٹا اسکالرشپ کے تحت اس سال سکول کے دو ہونہار طلباء فضل حق کالج مردان جبکہ چھ طلباء ایکسیلسیئر کالج سوات کے لیے منتخب ہوئے ہیں۔

یہ کامیابی محض ایک اتفاق نہیں بلکہ گورنمنٹ پرائمری سکول نمبر 1 میاں خان کی مسلسل محنت، بہترین تعلیمی منصوبہ بندی اور اساتذہ کی بے مثال لگن کا نتیجہ ہے۔ قابلِ فخر بات یہ ہے کہ 2016 سے اب تک اس ادارے کے مجموعی طور پر 25 طلباء و طالبات خیبر پختونخوا ایٹا اسکالرشپ کے تحت منتخب ہو چکے ہیں، جبکہ سکول کے ایک ہونہار طالب علم نے پی اے ایف کالج لوئر ٹوپا میں بھی کامیابی حاصل کرکے ادارے کا نام روشن کیا۔

یہ مسلسل کامیابیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ گورنمنٹ پرائمری سکول نمبر 1 میاں خان نہ صرف اپنے علاقے بلکہ تعلیمی میدان میں ایک منفرد اور نمایاں مقام رکھتا ہے۔ محدود وسائل کے باوجود اس ادارے کی شاندار کارکردگی، طلباء کی بہترین تربیت اور مسلسل کامیابیاں اس کی انفرادیت اور اعلیٰ معیارِ تعلیم کی عکاسی کرتی ہیں۔

اس عظیم کامیابی کا سہرا بالخصوص سکول کے محنتی، مخلص اور فرض شناس اساتذہ کے سر ہے، جنہوں نے اپنی انتھک محنت، خلوص، پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور طلباء کی بہترین رہنمائی کے ذریعے انہیں کامیابی کی راہوں پر گامزن کیا۔ اساتذہ کی یہ کاوشیں یقیناً قابلِ تحسین اور خراجِ عقیدت کی مستحق ہیں۔

گورنمنٹ پرائمری سکول نمبر 1 میاں خان کے اساتذہ، طلباء، والدین اور سکول انتظامیہ اس شاندار کامیابی پر دلی مبارکباد کے مستحق ہیں۔ امید ہے کہ یہ عظیم ادارہ مستقبل میں بھی اسی جذبے، عزم اور محنت کے ساتھ نئی کامیابیوں کی تاریخ رقم کرتا رہے گا اور علاقے کے بچوں کو بہترین تعلیمی مواقع فراہم کرنے میں اپنا اہم کردار ادا کرتا رہے گا۔

گورنمنٹ پرائمری سکول نمبر 1 میاں خان — کامیابی، معیار اور روشن مستقبل کی ایک درخشاں پہچان۔

محترم والدین کرام!السلام علیکم!بلاشبہ ہر والدین کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اس کی اولاد بہترین تعلیم حاصل کرے اور مستقبل میں ...
03/06/2026

محترم والدین کرام!
السلام علیکم!
بلاشبہ ہر والدین کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اس کی اولاد بہترین تعلیم حاصل کرے اور مستقبل میں ایک کامیاب، باکردار اور خودمختار انسان بنے۔ اسی مقصد کے تحت بہت سے والدین اپنی آمدنی کا ایک بڑا حصہ بچوں کی تعلیم پر خرچ کرتے ہیں، جو یقیناً ایک قابلِ تحسین عمل ہے۔ تاہم تعلیم کے حوالے سے بعض اہم پہلو ایسے ہیں جن پر بروقت توجہ دی جائے تو مستقبل میں بہت سی مشکلات سے بچا جا سکتا ہے۔
تعلیم محض ایک وقتی ضرورت نہیں بلکہ ایک طویل المدتی سرمایہ کاری ہے۔ اکثر والدین بچوں کو پرائیویٹ سکولوں میں داخل کرواتے ہیں اور 10 سے 12 سال تک باقاعدگی سے بھاری فیسیں ادا کرتے رہتے ہیں۔ ابتدائی اور ثانوی تعلیم کے دوران یہ اخراجات کسی حد تک قابلِ برداشت محسوس ہوتے ہیں، لیکن جب بچوں کی اعلیٰ تعلیم کا مرحلہ آتا ہے تو بعض اوقات مالی حالات، خاندانی ذمہ داریاں یا دیگر معاشی مسائل آڑے آ جاتے ہیں۔ نتیجتاً وہ مرحلہ متاثر ہوتا ہے جس میں درحقیقت سب سے زیادہ سرمایہ کاری اور معاونت کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس لیے ضروری ہے کہ والدین تعلیم کے معاملے میں جذبات کے ساتھ ساتھ حکمت اور منصوبہ بندی کو بھی مدنظر رکھیں۔ اگر کسی خاندان کے مالی وسائل اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ بچوں کو ابتدا سے اعلیٰ تعلیم تک نجی اداروں میں تعلیم دلوائی جا سکے تو یقیناً یہ ایک بہترین انتخاب ہو سکتا ہے۔ تاہم محدود آمدنی رکھنے والے خاندانوں کو اپنی مالی استطاعت، بچوں کی تعداد اور مستقبل کے تعلیمی اخراجات کو سامنے رکھ کر فیصلے کرنے چاہئیں۔
دورانِ ملازمت ایک پولیس کانسٹیبل سے گفتگو کا موقع ملا۔ اس کے دو بیٹے بیکن ہاؤس میں زیرِ تعلیم تھے۔ جب میں نے اس سے اخراجات کے بارے میں دریافت کیا تو اس نے بتایا کہ اس نے اپنی جمع پونجی اور کئی سالوں کی بچت بچوں کی تعلیم پر خرچ کی ہے۔ چند سال بعد دوبارہ ملاقات ہوئی تو اس نے بتایا کہ اس کا ایک بیٹا اعلیٰ تعلیم مکمل کرنے کے بعد بحریہ ٹاؤن کراچی میں اپنا گھر خرید چکا ہے اور پورا خاندان وہاں منتقل ہو رہا ہے۔ اس مثال سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اگر تعلیم پر سرمایہ کاری دانشمندی اور مستقل مزاجی کے ساتھ کی جائے تو اس کے نتائج نسلوں تک مثبت اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
ایک اور اہم مسئلہ جس کا مشاہدہ دورانِ تدریس بارہا ہوا، وہ اولاد کے درمیان تعلیمی عدم مساوات ہے۔ بعض والدین اپنے بیٹوں کو مہنگے پرائیویٹ سکولوں میں تعلیم دلواتے ہیں جبکہ بیٹیوں کو سرکاری سکولوں میں بھیج دیتے ہیں۔ کیونکہ بیٹیاں تو پرائی گھر کی ہوتی ہے کیا ضرورت ؟ اگرچہ ہر خاندان کے اپنے حالات ہوتے ہیں، لیکن محض جنس (Gender) کی بنیاد پر تعلیمی مواقع میں فرق کرنا انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے، خواہ وہ بیٹا ہو یا بیٹی۔ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی تمام اولاد کو حتی الامکان یکساں تعلیمی مواقع اور ترقی کے یکساں امکانات فراہم کریں۔ معاشرے کی ترقی اس وقت ممکن ہے جب بیٹوں اور بیٹیوں دونوں کو یکساں اہمیت دی جائے۔
یہ بھی مشاہدے میں آیا ہے کہ جب پہلا بچہ سکول جانا شروع کرتا ہے تو والدین مالی طور پر نسبتاً آسودہ ہوتے ہیں اور ابتدائی جماعتوں کی کم فیس کی وجہ سے زیادہ پریشانی محسوس نہیں کرتے۔ لیکن وقت کے ساتھ جب دوسرے، تیسرے اور چوتھے بچے بھی تعلیمی عمر کو پہنچتے ہیں تو اخراجات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ ایسے حالات میں پہلے سے منصوبہ بندی نہ ہونے کی صورت میں والدین شدید مالی دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔
بعض والدین سرکاری سکولوں کے ساتھ معیاری ٹیوشن اور گھر پر مناسب نگرانی کا انتظام کرکے بھی بہترین نتائج حاصل کرتے ہیں۔ اگر پرائیویٹ سکول کی بھاری فیس کا ایک حصہ بچا کر بچوں کی اضافی تدریسی معاونت، کتابوں، یونیفارم، جوتوں، کھیل کود اور دیگر ضروریات پر خرچ کیا جائے تو نہ صرف تعلیمی معیار برقرار رکھا جا سکتا ہے بلکہ مالی توازن بھی قائم رہتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ کامیابی کا تعلق صرف سکول کی عمارت یا فیس سے نہیں بلکہ والدین کی توجہ، بچے کی محنت، اساتذہ کی رہنمائی اور مستقل مزاجی سے بھی ہے۔ دنیا بھر میں بے شمار کامیاب افراد سرکاری اداروں سے تعلیم حاصل کرکے اعلیٰ ترین مناصب تک پہنچے ہیں جبکہ کئی ایسے افراد بھی ہیں جنہوں نے مہنگے اداروں میں تعلیم حاصل کی مگر مطلوبہ کامیابی حاصل نہ کر سکے۔
والدین کے لیے چند اہم رہنما اصول
1. بچوں کی تعلیم کے لیے کم از کم 10 سے 15 سال کی مالی منصوبہ بندی ضرور کریں۔
2. ابتدائی تعلیم کے ساتھ ساتھ اعلیٰ تعلیم کے اخراجات کو بھی مدنظر رکھیں۔
3. تمام بچوں کے ساتھ تعلیمی انصاف کریں اور بیٹوں اور بیٹیوں میں فرق نہ کریں۔
4. تعلیم کے ساتھ کردار سازی، اخلاقیات اور دینی تربیت پر خصوصی توجہ دیں۔
5. صرف سکول کی فیس کو معیارِ تعلیم نہ سمجھیں بلکہ بچے کی کارکردگی کو اصل معیار بنائیں۔
6. اپنی آمدنی کا ایک حصہ بچوں کی مستقبل کی تعلیم کے لیے باقاعدگی سے محفوظ کریں۔
7. بچوں کی تعداد اور گھریلو آمدنی کے مطابق حقیقت پسندانہ تعلیمی فیصلے کریں۔
8. ہر بچے کی صلاحیت، دلچسپی اور رجحان کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کی رہنمائی کریں۔
9. سکول کے ساتھ ساتھ گھر میں بھی تعلیمی ماحول پیدا کریں۔
10. یاد رکھیں کہ جائیداد اور دولت سے بڑھ کر ایک تعلیم یافتہ، باکردار اور خودمختار اولاد ہی والدین کا اصل سرمایہ ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی اولاد کی بہترین تعلیم و تربیت اور ان کے روشن مستقبل کے لیے درست فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
خورشید انور PST GPS No1 Mian Khan

📢 داخلہ جاری ہے! 📢اپنے بچوں کے روشن مستقبل کے لیے آج ہی بہترین انتخاب کریں!🏫 گورنمنٹ پرائمری سکول نمبر 1 میاں خان میں نئ...
06/04/2026

📢 داخلہ جاری ہے! 📢

اپنے بچوں کے روشن مستقبل کے لیے آج ہی بہترین انتخاب کریں!

🏫 گورنمنٹ پرائمری سکول نمبر 1 میاں خان میں نئے تعلیمی سال کے لیے داخلے کھل چکے ہیں۔ہم فراہم کرتے ہیں:✨ معیاری تعلیم✨ تجربہ کار اساتذہ✨ جدید تدریسی طریقے✨ بہترین تعلیمی ماحول

📚 نرسری سے پرائمری تک داخلے جاری ہیں۔

🎯 محدود نشستیں — جلدی کریں!

📞 رابطہ نمبر: 03469309817

آئیں! اپنے بچے کے خوابوں کو حقیقت بنانے میں ہمارا ساتھ دیں۔

#تعلیم

آج ہمارے سکول میں فسٹ سمیسٹر کے شاندار نتائج کے سلسلے میں ایک پروقار تقریب منعقد کی گئی، جس میں سکول انچارج جناب مشتاق ع...
31/12/2025

آج ہمارے سکول میں فسٹ سمیسٹر کے شاندار نتائج کے سلسلے میں ایک پروقار تقریب منعقد کی گئی، جس میں سکول انچارج جناب مشتاق علی صاحب نے نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء و طالبات میں انعامات تقسیم کیے۔ اس موقع پر طلبہ کی محنت، لگن اور اساتذہ کی رہنمائی کو بھرپور انداز میں سراہا گیا۔
تقریب کے دوران تاج نواب صاحب نے اس دن کی اہمیت پر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور طلباء کو مزید محنت اور لگن کے ساتھ آگے بڑھنے کی تلقین کی۔ پروگرام کے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض نہایت خوش اسلوبی سے بلال احمد صاحب نے سرانجام دیے۔
اس موقع پر اسکول انچارج جناب مشتاق علی صاحب نے تمام طلباء و طالبات کو بہترین نتائج پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی اور اسکول کے اساتذہ کی ٹیم ورک، محنت اور فرائض کو بطریقۂ احسن انجام دینے پر انہیں زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔
یہ کامیابی طلباء، اساتذہ اور ادارے کی مشترکہ محنت کا ثمر ہے، جو ایک روشن تعلیمی مستقبل کی نوید ہے

جی پی ایس نمبر 1 سکول کی انتظامیہ اور تمام بچوں کی طرف سے ہم اپنے ایک محترم دوست کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتے ہیں...
08/12/2025

جی پی ایس نمبر 1 سکول کی انتظامیہ اور تمام بچوں کی طرف سے ہم اپنے ایک محترم دوست کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے ہمارے اسکول کے بچوں کے لیے پچاس (50) جوڑے شوز عطیہ کیے۔

ان کا یہ جذبۂ ایثار، ہمدردی اور خدمتِ خلق نہ صرف بچوں کی ضروریات پوری کرنے کا ذریعہ بنا بلکہ ان کے چہروں پر خوشی اور دلوں میں اعتماد بھی پیدا کیا۔

ہم دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس عظیم نیکی کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، اور انہیں صحت، خوشیوں اور رزق میں بے حساب برکتیں عطا کرے۔
ان کا یہ عمل ہم سب کے لیے ایک روشن مثال ہے۔

جزاکم اللہ خیراً و أحسن الجزاء

— انتظامیہ
جی پی ایس نمبر 1 میاں خان

23/11/2025

مشتاق علی صاحب وہ روشن چراغ ہے جن کی رہنمائی میں ہمارا ادارہ آگے بڑھ رہا ہے۔
ان کے فیصلوں میں دانائی، رویّوں میں شرافت اور کام میں بے مثال ذمہ داری جھلکتی ہے وہ نہ صرف ایک بہترین انچارج ہے بلکہ ایک ایسے سچے راہبر بھی ہے جو ہر دل میں احترام پیدا کرتے ہیں۔
ان کی قیادت نے اسکول کے ماحول میں نظم و ضبط، اعتماد اور محبت کی فضا قائم کی ہے۔
خلوصِ نیت، محنت اور مثبت سوچ ان کی پہچان ہے—اور ہمارا ادارہ ان کی خدمات پر بجا طور پر فخر کرتا ہے۔

The students of GPS No. 1 Mian Khan who won, along with their teachers, participated in the Sports Gala 2025.
20/11/2025

The students of GPS No. 1 Mian Khan who won, along with their teachers, participated in the Sports Gala 2025.

31/08/2025
*تمام والدین کو مطلع کیا جاتا ہے کہ بروز بدھ یعنی کل، 9 اپریل 2025 سے تمام سرکاری اسکول باقاعدہ طور پر کھل جائیں گے۔*  *...
08/04/2025

*تمام والدین کو مطلع کیا جاتا ہے کہ بروز بدھ یعنی کل، 9 اپریل 2025 سے تمام سرکاری اسکول باقاعدہ طور پر کھل جائیں گے۔*
*اور 26-2025 سیشن کا باقاعدہ آغاز ہوجائے گا -*

*پرائمری اسکولوں کے لیے حاضری کا وقت: صبح 7:30 تا دوپہر 12:35*

Address

Village & Post Office Mian Khan Tehsil Katlang Dist (Mardan)
Mardan

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when GPS No.1 Mian Khan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share