17/02/2020
یہ مالٹا ٹرین لاہور میں کس نے بنائی ؟
جی شہباز شریف نے۔
کتنے کی؟
268 ارب کی ۔
یہ پیسے کہاں سے آئے ؟
جی قرضہ لیا گیا۔
اور یہ قرضہ سود سمیت کون واپس کرے گا ؟
جی عمران خان۔
کیسے کرے گا ؟
جی عوام پہ ٹیکس لگا کر۔
ٹیکس لگے گا تو کیا ہوگا ؟
جی مہنگائی ہوگی ۔
پھر کیا ہوگا ؟
پھر لوگ عمران خان کو گالیاں دیں گے اور میاں صاحب کا منہ چومیں گے تحریک انصاف کے ووٹر سپورٹر مایوس ہونگے عوام بددل ہوگی ، اور یوں ایک انقلابی تبدیلی کا علمبردار زمین بوس ہو جاےُ گا اور اگلے الیکشن میں عوام آصف زرداری اور میاں صاحب کہ ساتھ ہوگی اور پھر صدیوں تک اس ملک میں کرپشن بددیانتی اور ذلالت کا راج ہوگا ،ایمانداری گالی بن جاںُیگی اور لوگ عمران خان کی مثال دے کر کہیں گے کہ کسی نئے انقلابی کو اگلے سو سال تک بھی پر نہیں مارنے دیں گے ،
یہ مایوسی کی داستان ہے اور اگر اس میں سے امید نکالنی ہے تو قوم کو توبہ کرنی ہوگی کھاتا ہے تو لگاتا بھی ہے کے اس مرض سے جسکے آگے صرف گہری کھائی اور اندھیری رات قوم کو سمجھنا ہوگا کہ جو قرضہ اس ملک پہ چڑھایا گیا تھا اسکا صرف سود دینے میں عمران خان کو آدھا بجٹ دینا پڑتا ہے ، حکومتیں عوام کہ ٹیکس پہ چلتی ہیں یہ جو موٹر وے مالٹا ٹرین میٹرو بنی ہیں یہ قرضہ لے کر بنی ہیں اب اگر آسان سفر کا مزا لینا ہے تو مزید ٹیکس دینا ہوگا اب مشکل یہ ہے کہ قرضہ لینے والے تو چلے گئے اور بڑے بڑے پراجیکٹوں پر اپنی شکلیں لگا گئے قوم قرضہ تو بھول گئی مگر پروجیکٹ یاد رہ گئے اور ذلالت کہ لئے عمران خان رہ گیا جو بیرون ملک دورے پہ بھی جائے تو عیلحٰدہ جہاز کروانے کی بجائے کمرشل فلائٹ سے جائے جس نے اپنے گھر کی دیوار کے لئے بھی ایک چوّنی قوم کے ٹیکس سے نہ لی جس نے سات وزیراعلیٰ اور دس وزیراعظم ہاؤس نہیں رکھے جو صرف اپنی مشہوری کے لئے ٹی وی چینلوں کو 40 ارب کے اشتہار نہیں دے سکتا ،
عمران خان کا قصور یہ بھی ہی کہ اس ملک میں جہاں 40 فیصد لوگ روٹی کھا کہ نہیں سوتے تھے اس ملک کو ٹھیک کرنے کہ لئے ذلالت کہ پہاڑ کو اپنے سینے پہ اٹھائے ہوئے ہے ،
بات وہی ہے کہ جب کسی معاشرے کے بدمعاش پڑھے لکھے لوگوں سے زیادہ کمائی کرنے لگیں تو پھرکوئی تعلیم کی وقعت پر لیکچر دے تو کلیجہ چبانے کو جی چاہتا ہے .
نوٹ: پوسٹ پر اپنے دوست پٹواریوں کو ضرور بلائیں شکریہ۔