La Belle Uniforms Larkano

La Belle Uniforms Larkano It is the retail and whole sale store deals in approximately all schools related items and sports materials.

Enlisted as General Items Supplier across the Country.

سیریز کنکشن کا مطلب ہے کہ سولر پینلز کو ایک کے بعد ایک جوڑا جائے، یعنی:پہلے پینل کا منفی (-) دوسرے پینل کے مثبت (+) سےدو...
26/06/2026

سیریز کنکشن کا مطلب ہے کہ سولر پینلز کو ایک کے بعد ایک جوڑا جائے، یعنی:
پہلے پینل کا منفی (-) دوسرے پینل کے مثبت (+) سے
دوسرے کا منفی تیسرے کے مثبت سے
اسی طرح آخر تک
اس میں:
✅ وولٹیج جمع ہوتا ہے
مثال:
اگر ایک پینل 50V ہے اور 8 پینل سیریز میں لگائیں:
50 × 8 = 400V
✅ ایمپئر وہی رہتا ہے
اگر ایک پینل 13A ہے تو 8 پینلز میں بھی:
13A ہی رہے گا
✅ واٹ (Power) بڑھ جاتی ہے
مثال:
600W × 8 = 4800W
فارمولا:
Voltage = جمع ہوگا
Current = برابر رہے گا
Power = V × A
یہ کنکشن زیادہ تر VFD، سولر پمپ، اور ہائی وولٹیج انورٹرز کے لیے استعمال ہوتا

Sunset at Almanzir Jamshoro
17/06/2026

Sunset at Almanzir Jamshoro

Difference between Satin and Sateen
17/06/2026

Difference between Satin and Sateen

Biogas Layout Plan
17/06/2026

Biogas Layout Plan

Claude Hacks
17/06/2026

Claude Hacks

آئن  سٹائن اور ردرفورڈ سمیت 3000 سائنسدان میڈم کیوری کے احترام میں کھڑے ہو گئے۔جب ایک عورت تمام بہترین دماغوں پے حاوی ہو...
15/06/2026

آئن سٹائن اور ردرفورڈ سمیت 3000 سائنسدان میڈم کیوری کے احترام میں کھڑے ہو گئے۔
جب ایک عورت تمام بہترین دماغوں پے حاوی ہوگئی ۔

دنیا میں ہر عظیم انسان کو سلام پیش کیا جاتا ہے، پر کچھ سلام صرف الفاظ سے نہیں، خاموشی اور عزت کے کھڑے ہونے سے دیے جاتے ہیں۔ 1922 میں برسلز کی Solvay Conference میں جو منظر دیکھا گیا، وہ سائنس کی تاریخ کا سب سے حسین لمحہ تھا۔ جب دنیا کے سب سے بڑے دماغ - آئن سٹائن، پلانک، بوہر، ردر فورڈ - اپنی کرسیوں سے اٹھ کھڑے ہوئے، تو وہ میڈم میری کیوری کے لیے نہیں، انسانیت کے لیے کھڑے ہوئے تھے۔

میڈم کیوری کون تھیں؟
میری سکلوڈوسکا کیوری پولینڈ کی ایک غریب بیٹی تھیں۔ 19ویں صدی میں جب عورتوں کو یونیورسٹی میں داخلہ نہیں ملتا تھا، وہ پیرس جا کر سوربون یونیورسٹی میں داخلہ لینے والی پہلی خاتون بنیں۔ شوہر پیئر کیوری کے ساتھ مل کر انہوں نے "ریڈیو ایکٹیویٹی" دریافت کی۔ یورینیم سے نکلنے والی نئی شعاعوں کا نام انہوں نے خود "Radioactivity" رکھا۔ پھر انہوں نے 2 نئے عناصر دریافت کیے: پولونیم - اپنے وطن پولینڈ کے نام پر، اور ریڈیم - جو روشنی دیتا تھا۔

وہ لمحہ: 1922 کی Solvay Conference
برسلز کا ہال بھرا ہوا تھا۔ سامنے آئن سٹائن بیٹھے تھے، پاس میکس پلانک، نیلز بوہر۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے کائنات کے راز کھولے۔ دروازہ کھلا اور میڈم کیوری داخل ہوئیں۔ سادہ لباس، خاموش قدم، چہرے پر عاجزی۔

جیسے ہی سب کی نظر ان پر پڑی، پورا ہال اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا۔ کوئی اشارہ نہیں ہوا، کوئی اعلان نہیں ہوا۔ خود بخود، ایک دل سے۔ تالیاں گونجیں، پر وہ تالیاں ایوارڈ کے لیے نہیں تھیں۔ وہ تالیاں قربانی کے لیے تھیں۔
وہ کیوں کھڑے ہوئے؟
کیوری پہلی شخص تھیں جنہوں نے 2 مختلف شعبوں میں نوبل انعام جیتا۔ 1903 میں فزکس، 1911 میں کیمسٹری۔ یہ ریکارڈ آج تک کوئی نہیں توڑ سکا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ عورت کا دماغ مرد سے کم نہیں۔
قربانی کے لیے: ریڈیم کے ساتھ کام کرتے وقت ان کے ہاتھ جل گئے، جلد کالی پڑ گئی۔ اس وقت لیڈ کی ایپرن، دستانے کچھ نہیں تھے۔ وہ زہر کو گلے لگا کر بیٹھیں تاکہ دنیا کو روشنی ملے۔ آخر میں اسی ریڈیو ایکٹیویٹی نے ان کی جان لے لی۔
عاجزی کے لیے: نوبل کا لاکھوں کا انعام انہوں نے لیب کے لیے دے دیا۔ پیٹنٹ نہیں کرایا تاکہ ریڈیم ہر مریض کو سستا ملے۔ شہرت، پیسہ، شاہی پروٹوکول - سب ٹھکرا دیا۔ آئن سٹائن نے ٹھیک کہا تھا: _"شہرت نے جسے خراب نہ کیا، وہ صرف میری کیوری ہیں"_ اس کھڑے ہونے کا مطلب کیا تھا؟
وہ کھڑے ہونا صرف ایک عورت کا احترام نہیں تھا۔ وہ 3 پیغام تھے:
سائنس کا کوئی جنڈر نہیں: اگر ارادہ پکا ہو تو لیب کا دروازہ ہر ایک کے لیے کھل جاتا ہے۔
علم خدمت کے لیے ہے: جو علم انسانیت کو بچائے وہی اصل علم ہے۔ پیٹنٹ اور پیسے والا علم نہیں۔
عظمت شور نہیں مچاتی: کیوری نے کبھی خود کو "عظیم" نہیں کہا۔ دنیا خود ان کے احترام میں کھڑی ہو گئی۔

آج بھی جب کوئی لڑکی لیب میں پہلا تجربہ کرتی ہے، جب کوئی کینسر کا مریض ریڈییشن تھراپی سے ٹھیک ہوتا ہے، تو وہ دراصل میڈم کیوری کے کھڑے ہونے کو سلام کر رہا ہوتا ہے۔
, , , , , ,

کتے کی نوع جو کتا نہیں ہےتحریر: قدیر قریشی جون 09، 2026 کیا آپ یقین کریں گے کہ   ایک جانور  جو گیارہ ہزار سال پہلے مر  چ...
11/06/2026

کتے کی نوع جو کتا نہیں ہے

تحریر: قدیر قریشی
جون 09، 2026

کیا آپ یقین کریں گے کہ ایک جانور جو گیارہ ہزار سال پہلے مر چکا ہے ، اس کے خلیے آج بھی زندہ ہیں۔ نہ صرف زندہ ہیں ، بلکہ دنیا بھر پھیل چکے ہیں، نئے جسموں میں گھر بنا رہے ہیں، اور اپنی نسل آگے چلا رہے ہیں۔ آپ اس دعوے کو حقیقت تصور کریں گے یا پھر سائنس فکشن قرار دیں گے؟ یہ کوئی سائنس فکشن کا قصہ نہیں، یہ ایک حقیقی جاندار کی کہانی ہے جسے سائنس دانوں نے Canine Transmissible Venereal Tumor یا CTVT کا نام دیا ہے۔ اردو میں ہم اسے ایک کتے سے دوسرے کتے کے جنسی اعضاء میں منتقل ہونے والی رسولی کہہ سکتے ہیں۔ لیکن یہ نام اس بیماری کی عجیب و غریب حقیقت کی مکمل عکاسی نہیں کرتا۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک متعدی کینسر ہے جو ایک کتے سے دوسرے کتے میں خلیوں کی صورت میں منتقل ہوتا ہے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ خلیے گیارہ ہزار سال پہلے کسی ایک کتے کے جسم میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ کتا کب کا مٹی میں مل چکا، لیکن اس کے خلیوں کی نسلیں آج بھی دنیا کے کونے کونے میں موجود ہیں۔

کینسر جو خود ایک جاندار بن گیا
عام طور پر کینسر ایک شخص یا جانور کے اندر پیدا ہوتا ہے، بڑھتا ہے، اور اس جاندار کی موت کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے۔ لیکن CTVT ایک مختلف قسم کا کینسر ہے۔ یہ ایک متعدی کینسر ہے جو ایک جسم سے نکل کر دوسرے جسم میں داخل ہو سکتا ہے اور وہاں زندہ رہ سکتا ہے۔
آپ شاید سوچ رہے ہوں کہ یہ کیسے ممکن ہے؟ ایسا تب ہوتا ہے جب اس مرض میں مبتلا نر یا مادہ کتا جنسی ملاپ کرتا ہے۔ جنسی عمل کے دوران CTVT کے خلیے ایک جسم سے ملاپ کرنے والے دوسرے کتے کے جسم میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ یہ خلیے نئے جسم میں جا کر اپنی جگہ بنا لیتے ہیں اور وہاں ایک نئی رسولی پیدا کر دیتے ہیں۔ لیکن یہ نئی رسولی اصل میں نئی نہیں ، اس رسولی کے خلیے اس کتے کے اپنے جسم کے خلیوں سے نہیں بنتے۔ اس رسولی کے خلیے وہی پرانے خلیے ہیں جو گیارہ ہزار سال پہلے کسی کتے میں پہلی بار پیدا ہوئے تھے۔
ذرا سوچیے کہ جب ہم کہتے ہیں کہ کوئی چیز گیارہ ہزار سال پرانی ہے تو ہمارے ذہن میں پتھر وں کے اوزار آتے ہیں، معدوم جانوروں کے فاسلز آتے ہیں، یا پرانی عمارتوں کے کھنڈرات آتے ہیں۔ لیکن CTVT کے خلیے اتنے ہی پرانے ہیں ، اور ابھی تک زندہ اور فعال ہیں۔ اس طرح یہ خلیے زمین پر موجود کثیر خلوی جانوروں میں سب سے پرانے مسلسل زندہ رہنے والے خلیے ہیں

وہ پرانا کتا کون تھا؟
جب سائنس دانوں نے اپنی تحقیق کی ابتدا میں کینسر زدہ کتوں میں موجود CTVT کے خلیوں کا جینیاتی تجزیہ کیا تو ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی۔ یہ خلیے ان کتوں کے جسم کے خلیے تو تھے ہی نہیں جن کے جسموں سے یہ ٹشو سیمپل لیے گئے تھے۔ ان خلیوں میں موجود DNA سے پتہ چلا کہ یہ خلیے اصل میں اس قدیم کتے کے جسم کے خلیے ہیں جس میں یہ کینسر پہلی بار پیدا ہوا۔ مالیکیولر کلاک کی جینیاتی ٹیکنالوجی کے استعمال سے ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ وہ کتا تقریباً گیارہ ہزار سال پہلے زندہ تھا اور غالباً مشرقی ایشیا یا شاید امریکہ کے علاقے میں رہتا تھا۔
اس کتے کا رنگ کیسا تھا؟ جینیاتی مواد سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ بھیڑیے جیسے سرمئی یا سیاہ رنگ کا قدرے بڑی جسامت کا کتا تھا۔ وہ مکمل طور پر پالتو نہیں تھا لیکن شاید ابھی پالتو بننے کے عمل میں تھا، اور انسانی بستیوں کے گرد گھومتا تھا۔ ایک روز اس کتے کے جسم میں ایک عجیب واقعہ پیش آیا ۔ اس کے جسم میں ایک خلیے میں ایسی میوٹیشن ہوئی کہ وہ خلیہ تیزی سے تقسیم در تقسیم ہوتا چلا گیا اور جلد ہی کینسر کا ٹیومر بن گیا ۔ اس کتے نے اپنی زندگی میں جتنے کتوں کے ساتھ جنسی ملاپ کیا، اس کینسر کے خلیے ان کتوں میں بھی منتقل ہو گئے اور وہ تمام بھی اس کینسر کا شکار ہو گئے۔ وہ پہلا کتا تو مر گیا، لیکن اس کا کینسر امر ہو گیا۔ وہ کینسر ایک کتے سے دوسرے کتے میں منتقل ہوتا رہا، صدیوں اور ہزاروں سالوں کا سفر طے کرتا رہا، اور آج دنیا کے ہر براعظم پر موجود ہے۔

کروموسوم کی کہانی
ایک عام کتے کے خلیے میں اٹھہتر کروموسوم ہوتے ہیں۔ CTVT کے خلیوں میں کروموسومز کی تعداد ستاون سے چونسٹھ کے درمیان پائی گئی ہے۔ گویا CTVT کے خلیوں کا جینیاتی ڈھانچہ اتنا بدل چکا ہے، ان کے DNA میں اتنی توڑ پھوڑ ہو چکی ہے ، کہ یہ خلیے اب کسی بھی جدید کتے کے خلیوں سے بہت زیادہ مختلف ہیں ۔ گیارہ ہزار سال میں CTVT نے اپنا الگ جینیاتی سفر طے کیا ہے، اپنی ایک الگ ارتقائی تاریخ بنائی ہے۔

کچھ سائنس دان کہتے ہیں کہ اس لحاظ سے CTVT ایک الگ جاندار نوع کا درجہ رکھتا ہے — یہ نوع کتوں سے پیدا ہوئی، لیکن اب ان سے الگ اپنا وجود رکھتی ہے۔ البتہ روایتی معنوں میں 'نوع' کی تعریف جنسی تولید پر مبنی ہے، اور CTVT تو محض خود کو کاپی کر کے پھیلتا ہے — اس لیے سائنس دانوں میں یہ بحث ابھی جاری ہے کہ اسے نوع قرار دیا جا سکتا ہے یا نہیں۔

مدافعتی نظام کو دھوکہ دینا
یہاں سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب CTVT کے خلیے کسی نئے کتے کے جسم میں داخل ہوتے ہیں، تو اس کتے کا مدافعتی نظام انھیں پہچان کیوں نہیں لیتا؟ آخرکار یہ خلیے اس نئے کتے کے لیے اجنبی ہیں ۔ کسی بھی جانور کے مدافعتی نظام کا تو کام ہی یہ ہے کہ ہر قسم کے بیرونی خلیوں کو پہچانے اور فوری طور پر انہیں ختم کرنے کی کوشش کرے۔ CTVT کے خلیوں میں اس مسئلے کا حل ارتقاء پذیر ہو چکا ہے ، اور یہ حل لاکھوں سال کے ارتقاء کے سفر کے دوران نہیں، بلکہ صرف گیارہ ہزار سال کے سفر میں ہی ارتقاء پذیر ہوا ہے۔ اس کے خلیے دو مختلف طریقوں سے اپنے آپ کو ہوسٹ کے مدافعتی نظام سے چھپاتے ہیں

پہلا طریقہ:
یہ خلیے اپنی سطح پر وہ نشانیاں چھپا لیتے ہیں جن سے مدافعتی نظام بیرونی اجسام کو پہچانتا ہے۔ ان نشانیوں کو MHC مالیکیولز کہتے ہیں۔ CTVT ان کا اظہار کم کر دیتا ہے ، جیسے کوئی مجرم اپنا چہرہ چھپا لے۔اس لیے کتوں کا مدافعتی نظام انہیں بیرونی خلیوں کے طور پر نہیں پہچان پاتا

دوسرا طریقہ:
CTVT کے خلیے اپنے ارد گرد ایک ایسا ماحول بنا لیتے ہیں کہ وہاں ہوسٹ کے مدافعتی خلیے کمزور پڑ جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر ٹیومر کے خلیے ایسے سگنل مالیکیولز خارج کرتے ہیں جو مقامی سطح پر مدافعت کو غیرفعال کر دیتے ہیں۔

لیکن یہ کھیل ہمیشہ نہیں چلتا۔ کئی کینسر زدہ کتوں میں چند مہینوں میں ہی مدافعتی نظام بیدار ہو جاتا ہے، CTVT کو پہچان لیتا ہے، اور رسولی خود بخود سکڑنا شروع ہو جاتی ہے۔ یعنی یہ جنگ دونوں طرف سے لڑی جا رہی ہے ۔ کینسر چھپنے کی کوشش کر رہا ہے اور مدافعتی نظام ان چور خلیوں کو پکڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔

دنیا بھر میں پھیلاؤ
محققین نے دنیا کے مختلف براعظموں سے CTVT کے نمونے اکٹھے کیے اور ان کا جینیاتی تجزیہ کیا۔ اس تجزیے کا نتیجہ حیرت انگیز تھا۔

CTVT کے ہر نمونے میں موجود جینیاتی میوٹیشنز ایک تاریخی نقشہ بناتی ہیں جس سے ہم یہ جان سکتے ہیں کہ کسی بھی مخصوص کتے کا کینسر کہاں سے چلا، کس راستے سے گزرا، اورکس خطے میں کتنا وقت رہا۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے ماہرینِ لسانیات زبانوں کی تبدیلیوں سے انسانی نقل مکانی کا نقشہ بناتے ہیں ۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہاں زبان کی جگہ DNA ہے اور انسانوں کی جگہ کینسر کے خلیے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ CTVT انسانی تجارتی راستوں کے ساتھ ساتھ پھیلا۔ جہاں جہاں انسان گئے، ان کے ساتھ ساتھ کتے بھی گئے ، اور کتوں کے ساتھ CTVT بھی گیا۔ آج یہ انٹارکٹیکا کے علاوہ دنیا کے ہر براعظم پر موجود ہے۔

CTVT واحد متعدی کینسر نہیں
جب CTVT پہلے پہل دریافت ہوا تو سائنس دانوں کا خیال تھا کہ شاید یہ متعدی کینسر کا ایک اکیلا کیس ہے، اور ایسا شاید دوبارہ کبھی نہیں ہوا ہو گا۔ لیکن پھر اس قسم کی مزید مثالیں سامنے آنے لگیں۔ مثال کے طور پر آسٹریلیا کے تسمینا نامی علاقے میں ایک جانور پایا جاتا ہے جسے Tasmanian Devil کہا جاتا ہے۔ ان جانوروں کے منہ پر رسولی بننے کے بہت سے واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ماہرین نے ان رسولیوں پر تحقیق کی تو انہیں معلوم ہوا کہ یہ بھی متعدی کینسر کی ایک قسم ہے جو کاٹنے کے ذریعے پھیلتا ہے اور ان کی آبادی کو تباہ کر رہا ہے۔ مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ اس جانور میں دو الگ الگ قسم کے متعدی کینسر ہیں ۔ دونوں آزادانہ طور پر پیدا ہوئے، اور دونوں اس آبادی میں ایک ساتھ پھیل رہے ہیں۔
اس کے علاوہ سمندر میں نرم خ*ل والے گھونگھے یعنی Soft-shell Clam میں بھی ایک متعدی کینسر پایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ کئی دوسرے سمندری جانوروں میں بھی متعدی کینسر کی موجودگی دریافت ہوئی ہے۔ گویا متعدی کینسر بار بار اور الگ الگ طریقوں سے کئی بار ارتقاء پذیر ہو چکا ہے ۔
سائنس دان اب سمجھتے ہیں کہ متعدی کینسر ایک نادر لیکن حقیقی ارتقائی مظہر ہے ۔ جب کسی نوع کے کینسر کے خلیوں میں ایسی میوٹیشنز ہو جائیں جو نئے ہوسٹ کے مدافعتی نظام کو ناکارہ کر دیں یعنی کسی دوسرے فرد کا مدافعتی نظام ان اجنبی خلیوں کو قبول کر لے، اور جب کینسر کے خلیوں کے لیے ایک فرد سے دوسرے فرد تک منتقلی کا راستہ موجود ہو تو کینسر ایک جسم کی حد توڑ کر آزاد جاندار بن سکتا ہے۔

کیا انسانوں کو بھی کتوں کے متعدی کینسر سے خطرہ ہے؟
جی نہیں، انسانوں کو ایسا کوئی خطرہ نہیں ہے کیونکہ CTVT انسانوں میں منتقل نہیں ہو سکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسانی مدافعتی نظام کتے کے خلیوں کو فوری پہچان لیتا ہے اور ختم کر دیتا ہے۔ متعدی کینسر صرف اسی صورت میں ایک فرد سے دوسرے فرد میں کامیابی سے منتقل ہو سکتا ہے جب دونوں جانور ایک ہی نوع کے ہوں اور ان کے مدافعتی نظام میں کافی مماثلت ہو۔

کیا CTVT ایک الگ نوع ہے؟
یہ سوال سننے میں کچھ عجیب سا لگتا ہے ۔ ایک کینسر ایک الگ نوع کیسے ہو سکتا ہے؟ اگر ہم غور کریں تو نوع کی روایتی تعریف یہ ہے: جانداروں کا ایک ایسا گروہ جو آپس میں جنسی تولید کر کے زرخیز نسل پیدا کر سکے۔ اس تعریف کی رو سے CTVT ایک نوع نہیں ہے کیونکہ یہ جنسی تولید نہیں کرتا ، محض اپنے خلیوں کو کاپی کرتا ہے۔
لیکن کئی جدید ماہرین حیاتیات کہتے ہیں کہ نوع کی یہ تعریف ناکافی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ بیالوجی ایک بے حد پیچیدہ فیلڈ ہے۔ فطرت میں بیالوجیکل خلیوں کو اس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ انسان انہیں کس طرح مختلف انواع میں تقسیم کرتے ہیں۔
اگر ہم غور کریں تو: اس کینسر کے پاس اپنا ایک الگ جینیاتی ڈھانچہ ہے جو کسی بھی دوسری نوع سے الگ ہے اپنی الگ ارتقائی تاریخ ہے یہ آزادانہ طور پر دنیا میں پھیلتا ہے اپنی بقاء کی جنگ میں اسی طرح مصروف ہے جس طرح کوئی بھی اور نوع مصروف ہے اس کے خلیے کسی بھی زندہ کتے کے خلیوں سے جینیاتی طور پر اس قدر مختلف ہو چکے ہیں کہ انہیں اب کتوں کے خلیے نہیں کہا جا سکتا

ارتقائی حیاتیات کے معیار پر یہ ایک آزاد جاندار بن چکا ہے جو بیالوجی کے کسی بھی جانے پہچانے روائیتی زمرے میں آسانی سے فٹ نہیں بیٹھتا۔

اگرچہ CTVT جنسی تولید نہیں کرتا لیکن ایسے کئی کثیر خلوی جانور موجود ہیں جو جنسی تولید نہیں کرتے۔ مثال کے طور پر چھپکلیوں کی کئی انواع دریافت ہو چکی ہیں جن میں جنسی تولید نہیں ہوتی۔ چنانچہ جنسی تولید کا عدم وجود نوع کی ڈیفینیشن میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ البتہ یہ بات درست ہے کہ CTVT بیالوجی کی کسی بھی کلاسیفیکیشن میں فٹ نہیں ہوتا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سائنس کی تعریفیں حقیقت کے ساتھ ٹکراتی نظر آتی ہیں۔ CTVT ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی ہماری بنائی ہوئی تعریفوں کی پابند نہیں ۔ وہ ان سے باہر نکلتی رہتی ہے، نئی شکلیں اختیار کرتی رہتی ہے۔ زندگی کی شکلیں ہماری سوچ سے کہیں زیادہ متنوع ہیں ۔

اسلام عليڪم آبادگار هاري زميندار ڀائرو اڄ اسان  زمين جي پي ايڇ تي ڪجھ ڳالهائينداسين جيئن تہ هن ننڍڙي اوزارَ  جي ڪم ،،، ز...
08/06/2026

اسلام عليڪم آبادگار هاري زميندار ڀائرو اڄ اسان زمين جي پي ايڇ تي ڪجھ ڳالهائينداسين

جيئن تہ هن ننڍڙي اوزارَ جي ڪم ،،، زمين جي P h مان مراد مٽيءَ جي کٽاڻ يا خاصيت/کاري پاڻ الڪائين آهي. سادي لفظن ۾، هي اهو پيمانو آهي جيڪو ٻڌائي ٿو ته توهان جي ٻنيءَ جي مٽي ڪيتري کٽي، ڪڙي يا متوازن Neutral آهي

پي ايڇ جو پيمانو 0 کان 14 نمبرن تائين هوندو آهي
جيڪڏهن زمين جي pH 7 آهي، ته ان جو مطلب آهي زمين نه کٽي آهي نه کاري. هي پاڻي وانگر متوازن آهي.
7 کان گهٽ pH ايسڊڪ کٽي زمين جيتري pH گهٽ هوندي مثال طور 5 يا 6،
ٻني اوتري وڌيڪ کٽي هوندي. اهڙيون زمينون گهڻو ڪري انهن علائقن ۾ ٿينديون آهن جتي برساتون گهڻيون پونديون آهن.
7 کان وڌيڪ pH (کاري يا ڪلراٺي زمينAlkaline Soil جيتري pH وڌيڪ هوندي مثال طور 8 کان 10 تائين، زمين اوتري وڌيڪ کاري، ڪلراٺي يا چوني واري هوندي. اسان جي سنڌ جي اڪثر زمينن جي pH 7.5 کان 8.5 تائين يعني Alkaline هوندي آهي.

فصلن لاءِ سڀ کان بهترين pH ڪهڙي آهي ان کي سمجهڻ ضروري آھي
اڪثر فصلن، سبزين ۽ باغن لاءِ 6.0 کان 7.5 pH سڀ کان بهترين مڃي ويندي آهي. ان حد جي اندر مٽيءَ ۾ موجود سڀئي غذائي عنصر جهڙوڪ نائيٽروجن، فاسفورس، پوٽاش، زنڪ وغيره ٻوٽي کي آسانيءَ سان ملي سگهندا آهن.
زمين جي pH معلوم ڪرڻ ڇو ضروري آهي ان جو جواب ته
جيڪڏهن توهان جي زمين جي pH 8.5 کان وڌيڪ آهي، ته توهان کڻي ڪيتري به ڊي اي پي يا يوريا وجهو، ٻوٽو ان کي پوريءَ طرح کائي نه سگهندو. ڀاڻ مٽيءَ ۾ ڄمي فڪس ٿي. ويندو آهي ۽ ضايع ٿي ويندو آهي.
مائڪرو نيُوٽرينٽس جي کوٽ: وڌيڪ پي ايڇ واري زمين ۾ لوهه ، زنڪ، ۽ بوران جهڙا قيمتي لوڻيات ٻوٽي جي پهچ کان پري ٿي ويندا آهن، جنهن ڪري فصل پيلو ٿيڻ لڳندو آهي.
پاڙن جي واڌ ويجھ لاءِ مونجهارو پيدا ٿئي ٿو
تمام گهٽ يا تمام گهڻي پي ايڇ هجڻ سان ٻوٽي جون پاڙون ڪمزور ٿي وينديون آهن ۽ اڳتي وڌي نه سگهنديون آهن. سنڌ جي زمينن جي pH ۽ ان جو ريشو گهڻو آهي بنسبت پنجاب ،ڪشمير ،خيبر پختونخواه ،گلگت جي ...
جيئن ته اسان جي سنڌ جي موسم گرم آهي ۽ پاڻي ڪن هنڌن تي کارو آهي، ان ڪري اسان وٽ زمينن جي پي ايڇ اڪثر 8 کان وڌيڪ هوندي آهي جنهن کي اسان عام ٻوليءَ ۾ ڪلر يا شور واري زمين به چئون ٿا

جپسم جو استعمال: ڪلراٺي ۽ وڌيڪ پي ايڇ واري زمين جو سڀ کان سستو ۽ پڪو علاج جپسم آهي. هي مٽيءَ جي سختي ٽوڙي پي ايڇ کي هيٺ آڻيندو آهي.
تيزابي ڀاڻن جو استعمال: يوريا سان گڏ امونيم سلفيٽ يا سنگل سپر فاسفٽ استعمال ڪرڻ سان پي ايڇ گهٽبي آهي

ٻنيءَ ۾ مال جو ڇاڻ يا گند ڪچري جو کاد وڌيڪ وجهڻ سان مٽيءَ ۾ قدرتي تيزابيت پيدا ٿيندي آهي، جيڪا پي ايڇ کي توازن ۾ آڻيندي آهي.
سلفيورڪ ايسڊ جيڪو گاڏين جي بيٽرين ۾ پوندو آهي معني تيزاب،،، ڪجهه آبادگار پاڻيءَ سان گڏ سلفيورڪ ايسڊ فلڊ ڪندا آهن، جيڪو عارضي طور تي پي ايڇ کي ڪيرائي ڀاڻ جو اثر وڌائيندو آهي.

توهان لاءِ سفارش آهي ته ........
پنهنجي ٻنيءَ ۾ ڪو به مهانگو ڀاڻ وجهڻ کان اڳ، ڪنهن سرڪاري يا خانگي لئب مان زمين جي ٽيسٽ ضرور ڪرايو، جنهن مان توهان کي زمين جي صحيح pH جي خبر پوندي ۽ توهان صحيح مقدار ۾ ڀاڻ ڏئي وڌيڪ پيداوار حاصل ڪري سگهندؤ....

نوٽ..... هن پي ايڇ ميٽر کي سرزمين تي ٻني جي پي ايڇ
چيڪ ڪرڻ دوران هڪ ننڊو ڪلپ ريڪارڊ ڪري توھان لاءِ پوسٽ ته آڻينداسين...

Double Your Germination Rate with This Simple Seed Soaking MethodMany farmers struggle with slow and uneven germination,...
06/06/2026

Double Your Germination Rate with This Simple Seed Soaking Method

Many farmers struggle with slow and uneven germination, often leading to poor plant stands and reduced yields. One simple technique that can improve germination speed and uniformity is soaking seeds in clean water before planting. This helps soften the seed coat, improves water absorption, and encourages faster emergence.

Below is a recommended seed soaking time table for common vegetable crops:

• Napa cabbage – 3 to 4 hours
• Cauliflower – 3 to 8 hours
• Cucumber – 4 to 6 hours
• Green beans – 5 to 6 hours
• Tomatoes – 6 to 8 hours
• Chickpea – 8 to 12 hours
• Zucchini – 5 to 6 hours
• Eggplant – 20 to 24 hours
• Celery – 24 to 30 hours
• Spinach – 10 to 12 hours
• Chilli peppers – 12 to 24 hours

Important tips:

• Use clean water for soaking.
• Do not exceed the recommended soaking time, as over-soaking can damage seeds.
• After soaking, drain the water and plant the seeds immediately in moist soil.
• Seed soaking works best for fresh, high-quality seeds.

This simple practice can help achieve faster germination, more uniform crop establishment, and stronger seedlings, giving your crop a better start from day one.

Have you tried soaking your seeds before planting? Share your experience in the comments section and let us know which crops responded best.

for expert crop production guidelines download heximas app 👇

  پیارے پیارے سیکیولینٹس ہمارے گارڈن کی خوبصورتی میں کافی زیادہ اضافہ کرتے ہیں۔ ایک بار اگر آپ ان کو گھر میں لے آئیں تو ...
06/06/2026


پیارے پیارے سیکیولینٹس ہمارے گارڈن کی خوبصورتی میں کافی زیادہ اضافہ کرتے ہیں۔ ایک بار اگر آپ ان کو گھر میں لے آئیں تو یہ خود بخود بےبی پلانٹس بناتے رہتے ہیں اور ان کی خوبصورت شکلیں، پتے اور رنگ ہر آنے جانے والے کا دل لبھاتے رہتے ہیں۔گنجائش کے مطابق اپنے گارڈن میں ایک "سیکیولینٹس کارنر" ضرور بنائیں۔ یہ زیادہ تر انڈور ہوتے ہیں یا آؤٹ ڈور رکھنے ہوں تو تیز گرمی سردی سے بچائیں۔

اگر آپ سیکیولینٹ لگائیں تو ان باتوں کا خیال کریں۔

1۔ کیونکہ ان کے پتوں میں بہت سا پانی موجود ہوتا ہے، اس لیے اوور واٹرنگ سے پرہیز کریں، جب پاٹنگ میٹیریل اچھی طرح خشک ہو جائے پھر ضرورت کے مطابق پانی دیں۔

2۔ عام مٹی میں یہ اچھی طرح گرو نہیں کرتے۔ بہتر ہے ان کے لیے موٹی ریت، بھل مٹی، ورمی کمپوسٹ اور پرلائیٹ کا آمیزہ تیار کرلیں۔

3۔ پلاسٹک پاٹس میں یہ خوش نہیں رہتے اس لیے ٹیراکوٹا پاٹس استعمال کریں۔ پاٹس میں ایک دو ہولز لازمی ہونے چاہییں تاکہ زائد پانی نکل جائے۔

4۔ سیکیولینٹس کو نہ زیادہ دھوپ چاہیے ہوتی ہے نہ کم۔۔۔ سیمی شیڈ بہترین ہے۔

5۔ سال میں کم از دو بار "مینیور ٹی" یا کوئی آرگینک سیکیولینٹ فیڈر دیں۔

6۔ ایک پاٹ میں بہت زیادہ پودے نہ لگائیں، یعنی رش ڈال لیں گے تو گروتھ متاثر ہو سکتی ہے۔

7۔ اپنے سیکیولینٹس کو ایسی جگہ نہ رکھیں جہاں زیادہ حرارت ہو مثلاً اے سی کے بیرونی یونٹ کے پاس یا چولھے وغیرہ کے پاس۔

8۔ سیکیولینٹس کو ہر ٹائم ہتھ لا لا کے ٹچ نہ کرتے رہیں، فِیل کر جاتے ہیں۔

9۔ جب آف شوٹس یا بےبی پلانٹس زیادہ ہو جائیں تو ان کو الگ الگ ریپوٹ کر دیا کریں۔

10۔ اپنے سیکیولینٹس کو صاف ستھرا رکھیں تاکہ بگز حملہ نہ کر سکیں۔
آپ کی خیر ❤️

Address

G. P. O Road Larkano
Larkana
77150

Opening Hours

Monday 10:00 - 22:15
Tuesday 10:00 - 22:00
Wednesday 10:00 - 22:00
Thursday 10:00 - 22:00
Friday 10:00 - 17:00
Saturday 10:00 - 23:00
Sunday 10:00 - 22:00

Telephone

03314043888

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when La Belle Uniforms Larkano posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to La Belle Uniforms Larkano:

Share