28/12/2025
پاک ایڈونچر کلب کے بانی، میاں اعظم صاحب کا وہ خواب جو برسوں پہلے اُن کی آنکھوں میں سجا تھا، آج میری آنکھوں کے سامنے حقیقت بن کر کھڑا ہے۔ وہ خواب جس میں بائیکر کمیونٹی میں خواتین کو پورا احترام، مکمل آزادی اور حقیقی سپورٹ ملے صرف لفظوں میں نہیں، عمل میں۔ اور اتنی مضبوط آواز کے ساتھ کہ وہ حکومتی سطح تک سنی جائے۔
اسی وژن کو دل میں بسائے، میں نے بطور صدر فیمیل پاک ایڈونچر کلب ایک ذمہ داری اٹھائی۔ لاہور سے مری TDCP کیمپنگ گالا تک، بیس سے زائد فیمیل بائیکرز کے قافلے کی قیادت کرنا میرے لیے صرف ایک رائیڈ نہیں تھی۔ یہ ہمت، خود اعتمادی اور یقین کا اعلان تھا۔ یہ اُن عورتوں کی جیت تھی جنہوں نے سڑک پر نکل کر ثابت کیا کہ خواب کسی صنف کے محتاج نہیں ہوتے۔
میں دل کی گہرائیوں سے اُن تمام فیمیل بائیکرز کو سلام پیش کرتی ہوں جنہوں نے میاں اعظم صاحب کے وژن کو حقیقت بنانے کے لیے حوصلہ دکھایا، خوف کو پیچھے چھوڑا اور ایک مثال قائم کی۔ آپ سب نے آنے والی نسلوں کے لیے راستے ہموار کر دیے ہیں۔
آج 25 دسمبر کو، انہی باہمت خواتین کے اعزاز میں ایک خصوصی ناشتہ رائیڈ کا اہتمام کیا گیا۔ مقام تھا چچا بسا حلوہ پوری، مون مارکیٹ، علامہ اقبال ٹاؤن۔ وہاں صرف مسکراہٹیں نہیں تھیں، وہاں فخر، عزت اور اپنائیت کا احساس تھا۔ تمام فیمیل بائیکرز کو گولڈ میڈلز دیے گئے، ان کی حوصلہ افزائی کی گئی، اور یہ پیغام دیا گیا کہ آپ اکیلی نہیں ہیں — پاک ایڈونچر کلب آپ کے ساتھ کھڑا ہے۔
آخر میں ہم تمام فیمیل بائیکرز نے ایک آواز ہو کر یہ عزم کیا کہ ہم پاک ایڈونچر کلب کے سرپرستِ اعلیٰ راشد راؤ، وائس چیئرمین کاشف رمضان اور جنرل سیکریٹری آصف علی کی قیادت میں 5 فروری، یومِ یکجہتیٔ کشمیر کے موقع پر ان شاء اللہ وادیٔ سماہنی کی ریلی میں شانہ بشانہ شریک ہوں گی۔
یہ صرف شرکت نہیں ہوگی، یہ یکجہتی کا اعلان ہوگا۔
یہ حق کے ساتھ کھڑے ہونے کا وعدہ ہوگا۔
اور یہ ثابت کرے گا کہ جب عورت میدان میں اترتی ہے تو وہ صرف اپنے لیے نہیں، پوری قوم کے لیے آواز بنتی ہے۔
یہ سفر یہاں ختم نہیں ہوتا۔
یہ تو صرف شروعات ہے۔
جب عورت اپنے خوابوں پر یقین کر لے، تو سڑکیں بھی راستہ دے دیتی ہیں۔
پاک ایڈونچر کلب ہمیشہ خواتین کے حوصلے، آزادی اور خودمختاری کے ساتھ کھڑا رہے گا۔
کیونکہ بااختیار عورت ہی مضبوط معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔