21/06/2024
برف، ٹائر اور ہم
چلچلاتی دھوپ میں ٹائر کیا پھٹا ہماری ۔۔۔۔ مطلب ٹاِئر سے ہوا کیا نکلی ہماری۔۔۔۔۔ عید کا دن تھا اور ہم نے ٹائر پھٹنے سے کچھ دیر پہلے ہی بہت تگ و دو کے بعد دس کلو برف حاصل کی تھی لیکن ٹائر پھٹنے کے بعد جب برف کو دیکھ تو ہمارے رہی سہی ہوا بھی نکلنے لگی ہمیں یقین ہونے لگا کے برف گھر پہنچنے سے پہلے شرم سے پانی پانی ہوجائے گی کیونکہ وہ ننگی تھی ہمیں یاد آیا واپڈہ کی انتھک کوششوں کی وجہ سے ہم گھر میں بھی برف جمانے میں ناکام رہے ہیں حالانکہ اکثر چہروں پر ایک دوسرے یعنی اپنے ہی رویوں کی وجہہ سے برف جمی ہو ئی ہے ٹائر پھٹنے کے بعد ہمیں لگا سٹیپنی شاید کام آجائے لیکن گرمی میں تو انسان اپنی سوچ نہی بدلتا ہم ٹائر کیسے بدلتے سو غصے سے ایک دو سو میٹر دور ایک پیٹرول پمپ پر موجود پنکچر والے سے اپنے بیٹے کو بھیج رابطہ کیا لیکن اس نے دوکان سے باہر آنے سے صاف انکار کر دیا وہ اپنے سمارٹ فون پر اپنا کاروبار بہتر کرنے کے طریقے ڈھونڈ رہا تھا بیٹآ بھِی پریشان تھآ کب گھر پہنچے گا تاکہ دوبارہ سمارٹ فون پرسکون سے وقت برباد کر سکے سورج سوا نیزے پہ تھا اور ہمارے چہرے پر بارہ بجے تھے لیکن پھر ہم اس ٹائر والے کی طرف لپکے پہلے تو جی چاہا اس کے ہاتھ سے سمارٹ فون لیک توڑ دیں لیکن ایسا تو ہم اپنے بچوں کو ساتھ نہی کرپائے تھے اور وہ تو کسی اور کا بچہ تھآ اور وہ بھی شیخ رشید کی مونچھوں والا۔ ہم نے اسے بہت طریقے سے قائل کیا کہ ہماری گاڑی سو نہی دس میٹر دور اس کی دوکان کے سامنے ہی کھڑی ہے اور ہم صرف ٹائر بدلنے کے اسے دو سو روپے دیں گے ساتھ میں ہم نے انتہائی رونے والی شکل بھی بنائی تاکہ اس ٹامی کو ہم پر رحم آ جائے بالآخر وہ ٹامی مان گیا اور ہم نی اسکا دھکتا جیک اپنے کندھے پر آٹھا کر اسے گاڑی تک پہنچنے میں مدد دی وہ ٹائر تبدیل کرنے لگا اور ہم کار میں بیٹھ کر اسکی نظروں سے چھپ کر اپنی پوٹلی سے دو سو روپے ڈھونڈنے لگے کیونکہ اس نفسا نفسی کے دور میں اگر اسے پانچسو یا ہزار کا نوٹ دیتے تو وہ تین سو کاٹ لیتا، اس سے پہلے کے ہم ایک دوسرے کو اور کاٹتے ، یا گرمی ہم سب کو کاٹتی، ٹائر تبدیل ہوگیا
ٹائر کیا تبدیل ہوا ہم سب کے رویے بدل گئے شاید انسان سوچ اور رویے آزماِئش کے دوران کسی اور طرح ہی ہوتے ہیں ہم نے پہلے گاڑی سٹارٹ کی اور ٹائر تبدیل کرنے والے کو گاڑی میں ساتھ بٹھایا تاکہ جیک کندھے پہ نا آُٹھانا پڑے اور سو میٹر دور اس کی دوکان تک جانے کے پیسے بھی نا دینے پڑ جائیں دو سو روپے اس وقت تک اسکے ہاتھ میں نہ رکھے جبتک وہ اپنا سامان اتار کر ہماری گاڑی سے اتر نہیں چکا تھا اور ہمیں یقین تھا کہ اسکے کسی بھی اضافی مطالبے یا رویے سے پہلے ہم فرار ہو جائیں گے پانچ کلو برف لے کر گھر پہنچے تو والدہ اور بہن کو محسوس ہوا جیسے ہم نے برف لانے کا مذاق کیا ہے۔
تحریر زاہد فقیر