13/05/2025
کاٹھور: کراچی کے سرسبز وجود کا آخری مورچہ
حفیظ بلوچ
سندھ کے سب سے بڑے شہر کراچی کے مضافاتی علاقے کاٹھور، جو گڈاپ میں واقع ہے، اپنی زرخیز زمینوں، سرسبز باغات اور قدیم زرعی روایت کے باعث ایک اہم پہچان رکھتا ہے۔ کاٹھور کے ایک طرف ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (DHA) جیسے جدید رہائشی منصوبے ہیں تو دوسری جانب بحریہ ٹاؤن کراچی جیسے بڑے کمرشل منصوبے۔ مگر ان دونوں کے بیچ کاٹھور آج بھی فطرت کے حسن اور زمین کی سخاوت کا نمائندہ ہے۔
یہ علاقہ صرف آم کے باغات تک محدود نہیں بلکہ یہاں سیتاپھل، پپیتا، چیکو، گندم، اور کئی دیگر پھلوں و سبزیوں کی کاشت بھی کی جاتی ہے۔ ضلع ملیر کی زرخیزی کا زندہ ثبوت کاٹھور کے یہی باغات ہیں۔ عہدِ قدیم سے یہ خطہ ایک زرعی اور دیہی معاشرے کے طور پر جانا جاتا ہے، جہاں کے کنویں اور زمینیں آج بھی اس ماضی کی گواہی دیتی ہیں جب یہاں کی مٹی میں اتنی طاقت تھی کہ جو بھی بویا جاتا، بہترین انداز میں اگتا ہے ـ
مگر گزشتہ چالیس برسوں سے یہاں کے کسان اور زمیندار مایوسی کا شکار ہیں۔ اس زمین کی طاقت کا انحصار یہاں بہنے والی ندیوں پر ہے، جن میں قدرتی ریت اور بجری موجود ہے۔ بدقسمتی سے جب سے تعمیراتی صنعت نے ریت و بجری کو بطور کنسٹرکشن میٹیریل استعمال کرنا شروع کیا، تب سے ان ندیوں پر بلڈر مافیا اور ریتی بجری مافیا کا قبضہ ہو چکا ہے۔ اگرچہ قانونی اور آئینی طور پر ملیر میں ریتی و بجری کی مائننگ اور چوری پر پابندی ہے، مگر حکومت، اس کے ادارے اور اثرورسوخ رکھنے والے افراد اس غیر قانونی عمل کی سرپرستی کر رہے ہیں۔ عدالتیں اس ظلم کے آگے بےبس نظر آتی ہیں۔
اس بے لگام لوٹ مار کے باعث زیرِ زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک نیچے جا چکی ہے، جو نہ صرف کاشتکاری بلکہ انسانی زندگی کے لیے بھی خطرہ ہے۔ اس کے باوجود ملیر، گڈاپ اور کاٹھور کے کسان آج بھی اپنی مدد آپ کے تحت کاشتکاری جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اب سندھ بھر میں کارپوریٹ فارمنگ کا خطرہ منڈلا رہا ہے، مگر ملیر میں تو گزشتہ بیس سالوں سے زرعی زمینوں کی سرمایہ داروں میں بندر بانٹ جاری ہے۔ کاٹھور سمیت پورا ملیر آج اس خوف میں مبتلا ہے کہ کہیں ان سرسبز باغات کو ملیامیٹ کر کے زمینیں بلڈر مافیا کے حوالے نہ کر دی جائیں۔
یہاں آم کے کئی درخت ایسے ہیں جنہیں پچاس سال سے زیادہ ہو چکے ہیں اور وہ آج بھی ثمر بار ہیں۔ یہ وہ قیمتی اثاثے ہیں جنہیں صرف بچانے کی ضرورت ہے۔ کراچی جیسے گنجان اور آلودگی زدہ شہر کے لیے اگر کوئی فطری آکسیجن زون باقی ہے تو وہ یہی ملیر، گڈاپ، کاٹھور، درسانہ چنہ، چوہڑ اور ان سے ملحقہ علاقے ہیں، جہاں آج بھی ایگریکلچر سسٹم زندہ ہے، جہاں آج بھی دیہی معاشرہ اپنی زمین، ندی، درختوں اور گاؤں سے محبت کرتا ہے۔
یہ محض کاٹھور کے لوگوں کی نہیں، بلکہ پورے کراچی کے شہریوں کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ وہ اس خطے کی حفاظت کریں۔ کیونکہ حکومتیں، عدالتیں اور ریاستی ادارے آج بھی سرمایہ داروں، قبضہ گروپوں، بلڈر مافیا اور ریتی بجری مافیا کے آگے بےبس نظر آتے ہیں۔ یہ ایک ایسا دھندا ہے، جو نہایت گندا ہے— اور اس کے نتیجے میں ہم اور ہمارا ماحول تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔