13/07/2026
بٹ کوائن اور روپیہ..... کھاتے!
محمد اویس پراچہ
===================
کیا بٹ کوائن کسی کھاتے کا ایک نمبر ہے؟
میری رائے یہی ہے کہ ایسا نہیں ہے اور اس پر کافی عرصہ قبل لکھ بھی چکا ہوں۔ یہ در اصل ڈاکٹر مبشر رحمانی صاحب کی تحقیق تھی جس پر میں نے لکھا تھا۔ شاید دار العلوم کراچی کے فتوے میں اسی تحقیق کو لیا گیا ہے۔ اس کے لنکس کسی وقت لگانے کا ارادہ ہے۔
سر دست ایک سوال ہے....! کیا کسی کھاتے میں لکھے نمبر کو ہم واقعی کرنسی یا زر اعتباری نہیں کہتے؟ عمومی خیال تو یہی ہے کہ ہم اسے زر اعتباری نہیں کہہ سکتے۔ البتہ جدید معاشی نظام میں بینکس ایک کام کرتے ہیں جسے "تخلیق زر" یعنی کرنسی بنانا کہتے ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ کیسے ہوتا ہے؟
عالم ایک شخص ہے جو "پلاسٹک دانے" کا امپورٹر ہے۔ اس کے پاس دس لاکھ روپے ہیں۔ یہ ایک بینک "اے بی سی بینک" میں اکاؤنٹ کھلوا کر دس لاکھ اس میں رکھ دیتا ہے۔ عالم کے یہ دس لاکھ روپے بینک پر قرض ہیں جنہیں بینک آگے استعمال کر سکتا ہے۔
زید ایک کاروباری ہے۔ اس کی ایک دکان ہے جہاں وہ پلاسٹک کا سامان بیچتا ہے۔ اسے اپنی دکان کے لیے مال چاہیے لیکن پیسے نہیں ہیں۔ وہ اے بی سی بینک کے پاس جاتا ہے اور اسے کہتا ہے کہ مجھے دس لاکھ روپے درکار ہیں۔ بینک اس کا ایک اکاؤنٹ کھول کر اس میں دس لاکھ کی کریڈٹ لمٹ ڈال دیتا ہے۔
اب زید دس لاکھ روپے کا مال خرید سکتا ہے اور بینک اس کے لیے عالم کے ڈلوائے دس لاکھ استعمال کرے گا۔ لیکن فی الحال حقیقت یہ ہے کہ بینک نے یہ دس لاکھ زید کو دیے نہیں ہیں بلکہ ایک وعدہ کیا ہے کہ وہ زید کی ادائیگی کے وقت دس لاکھ دے گا۔
زید گیا بکر کے پاس جس کی پلاسٹک کے سامان کی فیکٹری ہے۔ بکر سے اس نے سامان مانگا تو بکر نے کہا کہ وہ آرڈر تیار کر کے دے گا اور زید اسے ایڈوانس دے دے۔ زید نے اسے پانچ لاکھ کا چیک کاٹ دیا۔ بکر نے چیک اے بی سی بینک کو دے دیا۔
اے بی سی بینک نے بکر کے اکاؤنٹ میں پانچ لاکھ لکھے، زید کے اکاؤنٹ سے پانچ لاکھ منفی کیے اور زید کو پانچ لاکھ کا مقروض ٹھہرا دیا۔ لیکن....... یہ پانچ لاکھ اے بی سی بینک نے کبھی زید کو دیے ہی نہیں تھے تو قرض کیسے ہوا؟ صرف اکاؤنٹ میں لکھنے سے!
اب اس وقت اے بی سی بینک پر قرضہ ہے پندرہ لاکھ کا: دس لاکھ عالم کے اور پانچ لاکھ بکر کے۔ لیکن حقیقت میں پیسے تو کل دس لاکھ ہی ہیں اور باقی پانچ لاکھ کھاتے میں ایک نمبر ہے جو در حقیقت قرض سے نہیں، بلکہ اس کے وعدے سے بنا ہے۔ البتہ اس ملک کی کرنسی اب پندرہ لاکھ سمجھی جائے گی۔
بکر گیا خالد کے پاس جو پلاسٹک دانہ بیچتا ہے۔ اس سے بکر نے پانچ لاکھ کا مال خرید لیا اور چیک دے دیا۔ بینک نے بکر کا اکاؤنٹ منفی کر کے خالد کے اکاؤنٹ میں پانچ لاکھ لکھ دیے. ادائیگی ہو گئی..... کس کی؟ اس رقم کی جو ایک وعدہ تھی اور کبھی کسی کے ہاتھ میں آئی ہی نہیں۔
خالد گیا عالم کے پاس جو پلاسٹک دانے کا امپورٹر ہے۔ خالد نے اس سے پلاسٹک دانہ خریدا اور اسے پانچ لاکھ کا چیک دے دیا۔ عالم نے وہ چیک اے بی سی بینک میں جمع کروا دیا۔
اب صورتحال یہ ہے کہ:
1. عالم کے بینک پر پندرہ لاکھ قرض ہیں جب کہ اس نے صرف پانچ لاکھ جمع کروائے تھے۔
2. بینک کے زید پر پانچ لاکھ قرض ہیں جو اس نے زید کو کبھی دیے ہی نہیں تھے۔
3. بینک کے پاس ٹوٹل دس لاکھ ہیں جب کہ اس نے عالم کو پندرہ لاکھ دینے ہیں۔
باقی کے پانچ لاکھ کہاں ہیں؟ آسان جواب ہے جب زید دے گا تو بینک عالم کو دے دے گا۔ لیکن ذرا فرض کیجیے کہ اس ملک کی کل معیشت یہی ہے..... یہ پانچ لاکھ کبھی چھپے ہی نہیں تو زید کے پاس کہاں سے آئیں گے؟ کہیں سے نہیں، اور یہ پوائنٹ ہے جہاں جب عالم پیسے مانگنے جاتا ہے تو بینک دیوالیہ ہو جاتا ہے۔
میں آگے چل کر بتاتا ہوں کہ اس وقت حقیقت میں پاکستان کے پاس کتنی حقیقی کرنسی ہے اور کتنے یہ کھاتے کے نمبر، لیکن پہلے اہم سوالات یہ ہیں:
1. کیا ہم زید کے اکاؤنٹ میں صرف منفی نمبر لکھنے سے اسے قرض دار نہیں مان رہے؟ کیا یہ کھاتے کا ایک نمبر نہیں ہے؟
2. کیا ہم باقی سب کی ادائیگی کھاتے کے اسی نمبر سے درست نہیں مان رہے؟
3. کیا ہم عالم کے کھاتے میں پانچ لاکھ کا نمبر ڈال کر اسے پندرہ لاکھ کا مالک نہیں مان رہے حالانکہ یہ پانچ لاکھ دنیا میں ہیں ہی نہیں؟
4. آخر یہاں "کرنسی" ہے کیا اس وعدے کے سوا جو بینک نے زید سے کیا تھا؟
اس وقت پاکستان کے فنانس ڈویژن کی ویب سائٹ کے مطابق پاکستان میں کل جاری کردہ نوٹ اور سکے بارہ ٹریلین روپے کے ہیں جب کہ پاکستان کی کل ایم ٹو سپلائی تینتالیس ٹریلین روپے ہے۔ باقی تقریباً اکتیس ٹریلین روپے وہ ہیں جو بینکوں کے کھاتوں میں ہیں۔
یعنی پاکستان کی بہتر فیصد کرنسی ایسی ہے جو کبھی دنیا میں بنی ہی نہیں ہے اور صرف کھاتوں کے نمبروں کی شکل میں موجود ہے۔ اگر اہل پاکستان بینکوں سے پیسے مانگنے جائیں تو انہیں صرف اٹھائیس فیصد ہی رقم مل سکتی ہے۔ مل وہ بھی نہیں سکتی کیوں کہ بینکوں کے پاس کل کیش صرف آٹھ سو بلین روپے ہے۔
کیا ہم بینکوں سے ہونے والی ہر ٹرانزیکشن کو یہ کہہ کر غلط قرار دے دیتے ہیں کہ یہ کھاتے میں موجود نمبر ہیں؟ یا یہ ایک قرض کا وعدہ تھا؟ کیا قرض کا وعدہ بھی کرنسی بن سکتا ہے؟ اگر ہاں.... تو پھر کرپٹو کیوں نہیں؟
ڈاکٹر مبشر رحمانی صاحب کمپیوٹر سائنس کے ماہر ہیں اور جب میں یہ کہتا ہوں کہ کرپٹو پر حکم کے لیے مزید علوم کی بھی ضرورت ہے تو ہمارے بعض دوست ناراض ہو جاتے ہیں گویا کہ میں ان کی توہین کر رہا ہوں۔ کمپیوٹر سائنس کے ماہر سے آپ اس سوال کا جواب بھلا کیسے لے سکتے ہیں؟ گو انہیں خود ایسے ہر جواب کو گھمانے کا شوق ہو؟
یہاں کچھ دوست لازماً یہ کہیں گے کہ اس کھاتے کے نمبر کے پیچھے چونکہ حکومت ہے لہذا یہ کرنسی بن جائے گا۔ ان کی خدمت میں دو سوال برائے تحقیق ہیں۔ نہ حل کر سکیں تو مجھے بتا دیجیے گا، میں ہی جواب دے دوں گا:
1. کسی وعدے کے پیچھے حکومتی گارنٹی ہو کہ یہ وعدہ بطور کرنسی قبول کروایا جائے گا تو کیا وہ کرنسی بن جاتا ہے؟ اس کی کوئی فقہی نظیر ہے؟
2. اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ حکومت پیسے چھاپ کر فوراً دے دے گی تو پھر امریکہ وغیرہ میں 2008 اور 2023 میں کئی بڑے بینک دیوالیہ کیسے ہو گئے؟ کیا ان بڑے ممالک کی حکومتوں کے پاس کاغذ کی شارٹیج ہو گئی تھی؟
ایک ٹریلین: دس کھرب
ایک بلین: ایک ارب