02/08/2025
وہ ننگے پیر چلتی اندر داخل ہوئی۔ہر قدم پہ دل دھڑک رہا تھا۔ ابھی کہیں کسی کونے سے کعبہ کی جھلک نظر آجائے گی۔بس وہ لمحہ ضائع نہیں کرنا۔کیونکہ اکثر لوگ وہ لمحہ ضائع کردیتے ہیں۔کیونکہ وہ ابھی تک ٹی وی پہ کعبہ کو دیکھتے آئے ہوتے ہیں۔ انہوں نے حقیقت میں اسے نہیں دیکھا ہوتا تو وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ایک چوکور سیاہ عمارت ہے۔ہاں ٹھیک ہے۔ بہت خوبصورت ہے۔ لیکن ایک عمارت ہی ہے‘اور سارا مسئلہ یہی ہے کہ وہ کیمرے کی آنکھ سے اس عمارت کو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔نظر اور کعبہ کے درمیان کیمرے کا شیشہ آجاتا ہے اور اس شے کا راستہ رک جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اَزل سے ابد تک کے لیے خانہ کعبہ میں رکھ دی ہے۔
محبت۔
اور یوں بہت سے لوگ جو کعبہ کے سامنے پہنچتے ہیں‘ جب وہ پہلی نظر اٹھا کے اسے دیکھتے ہیں‘ تو وہ مبہوت رہ جاتے ہیں۔ حالانکہ بچپن سے وہ ٹی وی اور انٹرنیٹ پہ کعبہ کو دیکھتے آئے ہیں۔ لیکن جب وہ اسے حقیقت میں دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ…
یہ وہ نہیں ہے جسے وہ دیکھتے آئے تھے۔ یہ تو کچھ اور ہے۔
خوبصورت۔ایک بہت عالیشان اور خوبصورت گھر جس میں اللہ نے ایسی محبت اور کشش رکھی ہے کہ اس سے نگاہ نہیں ہٹتی۔
اور لوگ دم سادھے وہیں کھڑے رہ جاتے ہیں۔بالکل دم بخود۔
کیونکہ وہ کعبہ آئے تھے دعائیں قبول کروانے۔ بخشش کروانے۔ عمرے اور حج کے نفل اور فرض پورے کرنے۔
وہ محبت کے لیے تیار نہیں ہوتے۔وہ اس خوبصورتی کے لیے تیار نہیں ہوتے جو اس گھر کو چاروں طرف سے لپیٹے ہوئے ہے۔وہ اپنا سوچ کے آئے تھے۔ عبادت کریں گے۔ نمازیں پڑھیں گے۔دعائیں مانگیں گے۔ لیکن اس سیاہ گھر کی خوبصورتی ان کو جکڑ لیتی ہے۔