17/05/2026
خلا کی بے آواز تاریکی میں زمین کے گرد گھومتا ایک ایسا عجوبہ موجود ہے جہاں انسان واقعی ستاروں کے درمیان زندگی گزار رہا ہے۔ انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن، جسے ISS کہا جاتا ہے، صرف ایک خلائی لیبارٹری نہیں بلکہ انسان کی ذہانت، ہمت اور خوابوں کی سب سے بڑی مثال ہے۔ یہ زمین سے تقریباً 400 کلومیٹر اوپر خلا میں موجود ہے اور حیران کن بات یہ ہے کہ یہ تقریباً 28 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتا ہے۔ یعنی صرف 90 منٹ میں پوری زمین کا ایک چکر مکمل کر لیتا ہے۔
یہ اسٹیشن اتنا بڑا ہے کہ اس کا سائز ایک فٹبال گراؤنڈ کے برابر سمجھا جاتا ہے۔ اسے مختلف ممالک نے مل کر بنایا، جن میں امریکہ، روس، جاپان، کینیڈا اور یورپی ممالک شامل ہیں۔ سن 2000 سے آج تک یہاں مسلسل انسان رہ رہے ہیں، گویا زمین سے باہر انسان کی سب سے لمبی آبادی یہی ہے۔
ISS کے اندر خلا باز عام انسانوں کی طرح نہیں چلتے بلکہ ہوا میں تیرتے رہتے ہیں، کیونکہ وہاں کششِ ثقل نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ سونے کے لیے انہیں اپنے سلیپنگ بیگز دیواروں سے باندھنے پڑتے ہیں تاکہ وہ نیند میں تیرتے ہوئے کہیں ٹکرا نہ جائیں۔
اس اسٹیشن میں روزانہ حیران کن سائنسی تجربات کیے جاتے ہیں۔ سائنسدان یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ خلا انسانی جسم پر کیا اثر ڈالتا ہے، تاکہ مستقبل میں انسان مریخ تک سفر کر سکے۔ یہاں پانی تک ری سائیکل کیا جاتا ہے، حتیٰ کہ سانس کی نمی اور پسینے کو بھی صاف کر کے دوبارہ پینے کے قابل بنایا جاتا ہے۔
ISS کا سب سے خوبصورت حصہ “Cupola” کہلاتا ہے، جہاں بڑی شیشے کی کھڑکیوں سے خلا باز پوری زمین کو دیکھتے ہیں۔ بہت سے خلا باز کہتے ہیں کہ وہاں سے زمین کو دیکھ کر انسان کو احساس ہوتا ہے کہ سرحدیں صرف نقشوں میں ہوتی ہیں، خلا سے پوری دنیا ایک ہی گھر لگتی ہے۔
اور شاید یہی ISS کی سب سے خوبصورت حقیقت ہے…
زمین پر لوگ زبان، رنگ اور ملکوں میں تقسیم ہیں، لیکن خلا میں یہی انسان ایک چھوٹے سے اسٹیشن میں مل کر زندگی گزار رہے ہیں، جہاں نیچے نیلی زمین خاموشی سے چمکتی رہتی ہے۔ 🌍🚀