Wali Ball And Cricket

Wali Ball And Cricket Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Wali Ball And Cricket, Sports, qasmi colony, Jhang Sadar.

09/09/2021

رات ایک ٹورنامنٹ کے میچ میں آل راؤنڈ پرفامنس

31/08/2021
23/02/2021

یہ کیچز گرانے کی رات تھی، یہ کرس گیل کی رات تھی، یہ فخر زمان کی رات تھی لیکن سب سے بڑھ کر یہ محمد حفیظ کی رات تھی۔

حفیظ اتنے سکون سے گیند کو باؤنڈری کے پار پہنچاتے رہے کہ ایک چھکے پر کمینٹیٹر ڈیوڈ گوور کہتے ہیں کہ ’چھکے میں 90 فیصد کمال ٹائمنگ کا ہے‘۔ اگلے چھکے پر گوور ہی کہتے ہیں کہ ’یہ چھکا بغیر کسی کوشش کے لگایا لگتا ہے‘ اور پھر سائمن ڈول کو حفیظ کی شاٹس سے گولف کی شاٹس یاد آ گئیں۔

ایک مشکل ٹارگٹ جسے فخر زمان نے ابتدائی اوورز میں سہیل اختر کی سست بیٹنگ کے باوجود مشکل ترین نہیں ہونے دیا، لیکن جب حفیظ کا بلا چلنے لگا تو یہ ٹارگٹ آسان ہوتا چلا گیا۔

تحریر جاری ہے‎

میچ کے لیے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے 2 جبکہ لاہور قلندرز نے ایک تبدیلی کی تھی۔ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اس میچ میں 3 غیر ملکی کھلاڑیوں کے ساتھ گئی جبکہ یہاں کیمرون ڈیلپورٹ کی بیٹنگ اور سلو میڈیم پیس باؤلنگ کافی مفید ہوسکتی تھی۔

؍ # # #کوئٹہ کی اننگز

کوئٹہ کا آغاز اچھا نہیں تھا، ٹام بینٹن جو پچھلے سیزن میں پشاور زلمی کی جانب سے بھی کسی خاص کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرسکے تھے، اس سیزن میں بھی مسلسل دوسرے میچ میں ناکام رہے۔ صائم ایوب ایک بار پھر ناکام ہوئے اور اس بار نہایت غلط شاٹ کھیل گئے۔ صائم کو ان کی عمدہ کارکردگی کی وجہ سے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں موقع ملا اور کرس گیل بھی ان کی کافی تعریفیں کرچکے تھے لیکن انہیں اس طرح وکٹ ضائع کرنے سے بچنا ہوگا۔

تحریر جاری ہے‎

سرفراز احمد نے اننگ کا آغاز عمدہ شاٹس سے کیا تھا لیکن جیسے ہی کرس گیل کی شاٹس لگنے لگیں تو سرفراز بہت سست ہوگئے۔ سرفراز احمد کی اننگ کی خاص بات کریز پر آتے ہی شاہین آفریدی کو 2 مسلسل گیندوں پر چوکے اور پھر حارث رؤف کو ایک چوکا تھا۔

کرس گیل جو پی ایس ایل میں کم ہی کامیاب رہے ہیں، آج بھی ناکام ہوسکتے تھے اگر ان کے 2 کیچ نہ گرا دیے جاتے۔ ان گرائے ہوئے کیچوں سے پہلے اور بعد میں گیل نے کئی عمدہ چوکے اور چھکے لگائے۔

احمد دانیال کا یہ صرف دوسرا ٹی20 میچ تھا، پہلے میچ میں انہیں وکٹ نہ مل سکی لیکن اگر پہلی ہی وکٹ کرس گیل کی مل جائے تو کسی نوجوان فاسٹ باؤلر کو اور کیا چاہیے لیکن گیل کا کیچ جو سیدھا سلمان علی آغا کے پاس گیا تھا، ہاتھوں سے نکل گیا۔

راشد خان لاہور قلندرز کے لیے شاید صرف 2 ہی میچوں کے لیے دستیاب تھے، ہاتھ میں چوٹ بھی لگی لیکن ٹیم کے لیے کچھ کرنا چاہتے تھے۔ کرس گیل کو ہوا میں کھیلنے پر مجبور کیا، گیند باؤنڈری کے بہت اندر تھی لیکن ایک بار پھر گیند کے نیچے سلمان آغا تھے اور ایک بار پھر گیند ان کے ہاتھوں سے نکل گئی۔

تحریر جاری ہے‎

کرس گیل اور سرفراز احمد کی عمدہ پارٹنرشپ کے بعد اعظم خان تو متاثر نہ کرسکے لیکن نواز کی عمدہ ہٹنگ نے گلیڈی ایٹرز کے اسکور کو متاثر کن بنا دیا۔ یہ ایک وننگ ٹوٹل تو نہیں تھا لیکن اس پر لڑا جاسکتا تھا۔ جب نواز بیٹنگ کے لیے آئے تو لگ رہا تھا کہ انہیں بین کٹنگ سے پہلے بھیج کر غلطی کی گئی ہے لیکن محمد نواز نے اس فیصلے کو درست ثابت کر دکھایا۔

لاہور قلندرز کے لیے پہلے میچ میں بہترین باؤلنگ کرنے والے شاہین آفریدی اس میچ میں کافی مہنگے ثابت ہوئے لیکن باقی باؤلرز نے عمدہ باؤلنگ کی۔ حارث رؤف نے اگرچہ 38 رنز تو دیے لیکن 3 اہم وکٹیں بھی حاصل کیں۔ احمد دانیال اور راشد خان جن کی گیندوں پر کرس گیل کے کیچ چھوٹے، انہوں نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

کرس گیل نے اپنی اس اننگ کے دوران ناصرف اپنی بیٹنگ سے شائقین کو محظوظ کیا بلکہ اپنی حرکتوں سے بھی مرکزِ نگاہ رہے۔ اپنی اننگ کے دوران کرس گیل نے مخالف باؤلرز، امپائرز، فیلڈرز، ٹی وی کمنٹیٹرز غرض ہر متعلقہ اور غیر متعلقہ شخص سے گپ شپ جاری رکھی۔

لاہور کی اننگز
لاہور قلندرز کی اننگ کا آغاز بہت تیز نہیں تھا بلکہ کافی پُرسکون تھا۔ ایسا ہرگز نہیں لگ رہا تھا کہ بیٹسمینوں کو ایک بڑے اسکور کے تعاقب میں کسی قسم کی بے چینی ہے۔ ایک جانب فخر زمان ہر اوور میں باؤنڈری کا تسلسل برقرار رکھے ہوئے تھے تو دوسری جانب سہیل اختر سکون سے وکٹیں بچا کر خراب گیند کا انتظار کر رہے تھے۔

نواز کے ایک عمدہ اوور کے بعد زاہد محمود نے ایک گوگلی پر سہیل اختر کو بولڈ کردیا۔ زاہد کی گوگلی زیادہ اسپن تو نہیں ہوئی لیکن تیزی سے وکٹوں میں گھس گئی۔ بین کٹنگ کے اگلے اوور میں بھی صرف 4 رنز ہی بن پائے تو اننگ کے 10 اوور مکمل ہوچکے تھے اور مطلوبہ رن ریٹ 11 رنز کا ہوچکا تھا۔ لیکن قلندرز کے لیے اطمینان کی بات یہ تھی کہ فخر زمان ابھی کریز پر موجود تھے اور 9 وکٹیں ہاتھ میں تھیں۔

11ویں اوور میں فخر اور حفیظ نے زاہد کو چھکے لگائے لیکن بین کٹنگ اور انور علی کے 2 عمدہ اوورز نے مطلوبہ رن ریٹ کم نہ ہونے دیا۔ 14ویں اوور کی دوسری گیند پر عثمان شنواری کی باؤلنگ پر محمد حفیظ نے مڈوکٹ پر اونچا شاٹ کھیلا لیکن سلمان آغا کی طرح صائم ایوب بھی کیچ پکڑنے میں ناکام رہے اور وہیں سے میچ قلندرز کے ہاتھوں میں چلا گیا۔

اس کے بعد ہر گیند کے ساتھ حفیظ کی ٹائمنگ بہتر ہوتی گئی اور میچ گلیڈی ایٹرز کے ہاتھوں سے پھسلتا چلا گیا۔ حسنین کی گیند پر ٹام بینٹن نے فخر زمان کا کیچ بھی چھوڑا لیکن اس وقت تک میچ قلندرز کے لیے آسان ہوچکا تھا۔

اس میچ کی خاص بات سرفراز احمد کا فیلڈنگ کے دوران رویہ رہا۔ سرفراز قومی ٹیم اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی قیادت کے دوران ہمیشہ سے کھیل میں مکمل طور پر انوالو رہنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ اس دوران فیلڈرز کو ہر گیند کے بعد بدلنا، باؤلرز کے پاس جاکر انہیں سمجھانا، کسی موقع پر غصہ بھی کر جانا، یہ سرفراز کی کپتانی کا حصہ رہا ہے اور اسی طریقے سے سرفراز نے کامیابی بھی حاصل کی ہے۔

سرفراز احمد کا غیر معمولی رویہ
لیکن آج یہ سب بہت زیادہ ہوگیا تھا، عثمان شنواری اور انور علی پر سرفراز باقاعدہ چلاتے بھی نظر آئے اور اس دوران وقفے میں معین خان اور عمر گل سرفراز احمد کو سمجھاتے ہوئے بھی نظر آئے۔ سرفراز احمد کا یہ رویہ ٹی وی کمنٹری پر بھی زیرِ بحث رہا اور اب شاید سوشل میڈیا پر بھی کافی زور پکڑے گا۔

سرفراز احمد کے اس رویے کی جو بھی وجہ ہے وہ سرفراز احمد ہی سب سے بہتر جانتے ہیں لیکن کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور سرفراز احمد کے لیے ضروری ہے کہ وہ اگلے میچ سے قبل مکمل طور پر پُرسکون ہوجائیں۔ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیم کو 2 مسلسل شکستوں کا سامنا ہے اور پچھلے سال بھی آخری 6 میں سے گلیڈی ایٹرز صرف ایک میچ جیت سکے تھے جبکہ ایک میچ بارش کی نذر ہوا اور 4 میں شکست ہوئی۔

اسی گہما گہمی میں سرفراز احمد سے کپتانی میں کچھ غلطیاں بھی ہوئیں۔ محمد نواز کا سابقہ ریکارڈ محمد حفیظ اور فخر زمان کے خلاف بہت اچھا ہے اور آج بھی وہ اچھی باؤلنگ کر رہے تھے لیکن ان کو اس پارٹنرشپ کے دوران باؤلنگ ہی نہیں دی گئی۔ سرفراز احمد کی کپتانی کا اپنا ایک طریقہ ہے اور وہ اس میں کامیاب بھی رہے ہیں لیکن آج ایک الگ ہی سرفراز نظر آئے جنہیں دیکھنا کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور سرفراز احمد کے چاہنے والوں کے لیے ایک اچھا منظر نہیں تھا۔

آج کے میچ میں وکٹوں کی ہیٹرک
15/02/2021

آج کے میچ میں وکٹوں کی ہیٹرک

10/02/2021

پاکستان ٹیم سیریز 2-0 سے جیت گئی اور اب ٹی ٹونٹی سیریز کی باری ہے- لیکن اس سے پہلے بابر پر بات کر لیں, کافی دن ہو گئے بابر پر پوسٹ ہی نہیں کی تو لگتا ہے کہ جیسے کچھ لکھا ہی نہ ہو- بابر اس سیریز میں ناکام تو نہیں ہوا لیکن اگر اس کے سٹینڈرڈ سے دیکھا جائے تو اسے ناکامی ہی کہا جائے گا- چار اننگز میں صرف ایک نصف سنچری اور ٹیسٹ سنچری کو ایک سال ہو گیا- شائقین کی آنکھیں ترس گئیں بابر صاحب اور آپ ٹرافی پکڑے مسکراتے رہو- اب دو ماہ کا انتظار ہے اور پھر زمبابوے کے خلاف سیریز جو ابھی کنفرم نہیں کہ ہو نہ ہو اور نہ ہوئی تو انتظار چار پانچ ماہ کا ہو جائے گا اور بات ویسٹ انڈیز کے دورے تک جا پہنچے گی-

اس سیریز میں بابر کی ناکامی کی وجہ کپتانی کا دباؤ تو بالکل نہیں تو اور کیا وجہ ہو سکتی ہے- میرے خیال میں دو وجوہات ہیں, ایک تو زخمی ہونے کے بعد واپسی جس کی وجہ سے بابر اپنی اصل گیم نہیں کھیل پایا, نیٹس میں بھی کافی پریشان کیا باؤلرز نے اور بابر کافی جھنجھلایا ہوا بھی دکھائی دیا- ایک بندہ جس کا اوڑھنا بچھونا ہی بیٹ ہو اور وہ اسی بیٹ کو صحیح طرح سے پکڑ نہ سکے تو ایسا ہو جاتا ہے- بابر کی ناکامی کی ایک اور وجہ سست پچز بھی ہو سکتی ہیں کیونکہ بابر سٹوکس کھیلنا پسند کرتا ہے اور ان پچز پر سٹوک میکنگ ذرا مشکل تھی- بابر ایسی پچز پر جہاں بال بلے پر آ رہی ہو اچھا کھیلتا ہے, پھر چاہے ان پچز پر گیند سوئنگ کر رہا ہو یا سپن یا باؤنس زیادہ ہو بابر کھیل لیتا ہے جس کا واضح ثبوت بابر کی انگلینڈ, جنوبی افریقہ اور کسی حد تک آسٹریلیا میں کارکردگی بھی ہے-

اب ٹی ٹونٹی سیریز میں امید ہے کہ بیٹنگ پچز بنیں گی, ایسی پچز جن پر گیند بلے پر آ رہا ہو اور اگر ایسی پچز نہ بھی بنیں تو ٹی ٹونٹی تو بابر کے گھر کا کھیل ہے, یہاں وہ ہر پچ پر سکور کر ہی جاتا ہے- اور اگر اب بھی نہ کیا تو بھائی بابر تیری ساڈی اوتھے ای مک جانی اے, اب ہم سب کا خیال کر اور لائن لگا دے چوکوں کی

09/02/2021

انڈیا نے ایک سپن وکٹ بنائی, تین سپنر کھلا دئیے پر ٹاس ہار گئے- ٹاس جیت کر انگلینڈ کو لمبی بیٹنگ کرنا تھی اور وہ انہوں نے کی, نہ صرف سکور بنایا بلکہ دو دن وکٹ پر گزارے جو بہت اہم تھا- پچ بھی تھک گئی اور انڈیا کے بیٹسمین بھی اور اسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انگلینڈ نے ایک لمبی لیڈ لے لی- اس پچ پر انگلینڈ اگر 400 یا 450 تک آؤٹ ہو جاتے تو میچ انڈیا نے لے جانا تھا لیکن روٹ کو پتہ تھا کہ لمبا کھیلنا ہے- دوسری اننگ میں شین وارن جیسے ماہر کہ رہے تھے کہ ڈیکلئر کرو پر روٹ کی ٹیم سکور بھلے آہستگی سے بنا رہی تھی لیکن ایک بار پھر وقت گزارنا ان کے لئے اہم تھا- وہ انڈیا کو وہاں لے جانا چاہتے تھے جہاں فتح کی سوچ ان کے دماغ سے نکل جائے- وہ اتنے تھکے ہوں کہ دفاع کرنا بھی مشکل لگے اور اس میں انگلینڈ کی ٹیم کامیاب رہی-

38 سالہ جیمز اینڈریسن اب بھی رن اپ میں ایسے بھاگتا ہے جیسے اس کی زندگی کا واحد مقصد یہی ہو, گیند کو ایک ہاتھ سے چھپائے ریوروس سوئنگ کرواتا یہ بزرگ (کرکٹ میں فاسٹ باؤلنگ کے حوالے سے) بے شمار نوجوانوں کے لئے ایک مثال ہے- کرکٹ میں نام بنانا ہے تو یہی لگن, محنت, جوش اور جذبہ دکھاؤ تو کچھ بن پائے گا- ڈوم بیس نے پہلی اننگ میں وکٹیں لیں اور جیک لیچ نے دوسری میں لیکن جمی کا وہ ایک اوور میچ کا پانسہ پلٹ دینے والا تھا جس میں اس نے شبھمن اور رہانے کو بیڈ اور پیڈ میں کھلی جگہ دینے پر مجبور کر دیا-

انڈین ٹیم آسٹریلیا میں بھی پہلا میچ ہارنے کے بعد زبردست کم بیک کر چکی ہے, اب دیکھنا ہے کہ گھر پر انگلینڈ کی ان فارم ٹیم کے خلاف انڈین دوسرے ٹیسٹ میں کیسے سامنے آتے ہیں-

09/02/2021

لاہور قلندرز ایک ایسی فرنچائز ہے جو صرف ڈرافٹ اور ٹورنامنٹ کے دوران نہیں بلکہ سارا سال متحرک رہتی ہے۔ کبھی کسی ٹیلنٹ ہنٹ کا انعقاد ہورہا ہوتا ہے تو کبھی کسی ٹورنامنٹ کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ ٹی10 ٹورنامنٹ میں بھی حصہ لیتے ہیں اور کھلاڑیوں کو مختلف لیگز میں معاہدے دلوانے میں بھی مشغول رہتے ہیں۔

لاہور قلندرز کے پلیئرز ڈیولپمنٹ پروگرام کا آغاز پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے ساتھ ہی ہوا تھا اور اب یہ سلسلہ قلندرز ہائی پرفارمنس سینٹر تک جا پہنچا ہے۔ یہ سب کرنے کے باوجود لاہور قلندرز پاکستان سپر لیگ جیتنے میں ناکام ہے اور اگر مجموعی نتائج دیکھے جائیں تو لاہور قلندرز پاکستان سپر لیگ کی ناکام ترین ٹیم ہے۔

پی ایس ایل میں قلندرز کا اب تک کا سفر

پی ایس ایل کے ابتدائی 4 ٹورنامنٹس میں آخری پوزیشن حاصل کرنے والی قلندرز کی ٹیم 2020ء میں پہلی بار ناک آؤٹ مرحلے اور پھر فائنل تک رسائی حاصل کر پائی لیکن وہاں لاہور کو کراچی کنگز کے خلاف شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

جب 2015ء میں پاکستان سپر لیگ کا اعلان ہوا تو کراچی کنگز اور لاہور قلندرز سب سے مہنگی ٹیمیں تھیں اور ساتھ ہی ان دونوں میں شائقین کرکٹ اور میڈیا کی دلچسپی بھی سب سے زیادہ تھی۔

تحریر جاری ہے‎

لاہور قلندرز کے ڈائریکٹر اور ہیڈ کوچ عاقب جاوید پاکستان سپر لیگ کے آغاز سے ہی قلندرز کے ساتھ ہیں اور ان کے ہر پروگرام کا نہایت اہم حصہ رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف قلندرز نے پچھلے 5 سالوں میں 5 کپتان بدل دیے اور سہیل اختر پچھلے سیزن سے چھٹے کپتان ہیں لیکن عاقب جاوید جہاں تھے وہیں ہیں۔

2016
2016ء میں کھیلے جانے والے پہلے سیزن میں لاہور قلندرز نے اس وقت کے ٹی20 کرکٹ کے بڑے ناموں کو اسکواڈ میں شامل کیا تھا جن میں کرس گیل، ڈیوین براوو، کیمرون ڈیلپورٹ، عمر اکمل، اجانتھا مینڈس اور مستفیض الرحمٰن اہم نام تھے۔ لیکن مختصر فارمیٹ کے اتنے بڑے کھلاڑیوں کی قیادت اظہر علی کو سونپ دی گئی جو ون ڈے فارمیٹ کے لیے بھی مناسب صلاحیت نہیں رکھتے تھے۔

ابتدائی 2 میچوں میں 125 اور 117 رنز بناکر شکست سے دوچار ہونے کے بعد تیسرے میچ میں لاہور قلندرز نے عمر اکمل، ڈیلپورٹ اور ظفر گوہر کی عمدہ کارکردگی کی بدولت فتح حاصل کرلی لیکن اگلے 2 میچوں میں پھر شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ چھٹے میچ میں فتح کے بعد 2 مسلسل شکستوں نے لاہور قلندرز کو ناک آؤٹ مرحلے سے باہر کردیا۔

اگرچہ کراچی کنگز کی کارکردگی بھی لاہور قلندرز جیسی ہی تھی لیکن وہ بہتر رن ریٹ کے باعث اگلے مرحلے میں چلے گئے۔ لاہور قلندرز کی کارکردگی اس ٹورنامنٹ میں نہایت خراب رہی لیکن اس سے بھی زیادہ خراب کارکردگی ان کے اسٹار اوپنر کرس گیل کی رہی جو صرف ایک اچھی اننگ کھیل پائے۔

تحریر جاری ہے‎

پہلے سیزن میں کراچی اور لاہور کی کارکردگی تقریباً برابر تھی تاہم کراچی کو زیادہ رن ریٹ کا فائدہ رہا
قلندرز کی جانب سے عمر اکمل اس ٹورنامنٹ میں بہترین کارکردگی دکھاتے رہے۔ عمر اکمل کی اس عمدہ کارکردگی کے علاوہ اس ٹورنامنٹ میں اسپرٹ آف دی گیم کا ایوارڈ ہی لاہور قلندرز کی واحد کامیابی تھا۔

2017
لاہور قلندرز کرس گیل کی اس کارکردگی سے اتنے مایوس ہوئے کہ گیل کو 2017ء میں سہیل تنویر کے بدلے میں کراچی کنگز کو دے دیا۔ اظہر علی ٹیم میں تو رہے لیکن قیادت برینڈن میک کولم کو سونپ دی گئی جو نیوزی لینڈ کو ایک جارحانہ ٹیم میں بدل چکے تھے۔

اگرچہ ڈیوین براوو بھی اس سال لاہور قلندرز کا حصہ نہ بن سکے لیکن سنیل نارائن اور جیسن روئے کا اضافہ بُرا نہیں تھا۔ ان تمام تر تبدیلیوں کے باوجود قلندرز کے حالات تبدیل نہیں ہوئے ان کا آغاز ایک بار پھر سے شکست کے ساتھ ہوا جب وہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے خلاف 137 کا ہدف بھی حاصل نہ کر پائے۔

تحریر جاری ہے‎

تیسرے میچ میں صرف 59 رنز پر آؤٹ ہوکر شکست کا شکار ہونے اور پانچویں میں 201 کے ہدف کا دفاع نہ کرپانے کے باوجود قلندرز نے اپنا دوسرا، چوتھا اور چھٹا میچ جیت لیا اور یوں اگلے راؤنڈ میں رسائی ممکن تھی۔ لیکن اگلے دونوں میچوں میں شکست کے ساتھ قلندرز ایک بار پھر پوائنٹس ٹیبل پر آخری پوزیشن کے ساتھ اگلے مرحلے سے باہر ہوچکے تھے۔

2018
2017ء میں برینڈن میک کولم بھی کرس گیل کی طرح لاہور قلندرز کے لیے کچھ بڑا کرنے میں ناکام رہے لیکن 2018ء میں بھی انہیں کپتان برقرار رکھا گیا۔ اسکواڈ میں اینجلو میتھیوز، شاہین آفریدی اور مچل میکلینگھن کا اضافہ ہوچکا تھا۔ ساتھ ہی ٹورنامنٹ میں ایک نئی ٹیم ملتان سلطانز کی آمد بھی ہوچکی تھی اور قلندرز کا پہلا ہی میچ سلطانز سے تھا۔

لاہور قلندرز کی ٹیم ناصرف اس میچ میں بلکہ 6 مسلسل میچوں میں شکست کے بعد اگلے مرحلے میں رسائی کی دوڑ سے باہر ہوگئی۔ لاہور قلندرز نے آخری 4 میں سے 3 میچ ضرور جیتے لیکن پوائنٹس ٹیبل پر ان کی آخری پوزیشن کو کوئی فرق نہیں پڑا۔

2019
2019ء میں محمد حفیظ کو کپتان نامزد کیا گیا لیکن 2 میچوں کے بعد حفیظ ان فٹ ہوگئے اور کپتانی اے بی ڈی ویلیئرز کے پاس چلی گئی۔ جی ہاں، کرس گیل اور برینڈن میک کولم کے بعد اب لاہور قلندرز کی امیدوں کا مرکز اے بی ڈی ویلیئرز تھے۔

2019ء میں قلندرز کی کپتانی محمد حفیظ کو سونپی گئی لیکن وہ 2 میچوں کے بعد ہی ان فٹ ہوگئے
ڈی ویلیئرز اور محمد حفیظ کے علاوہ اس سال قلندرز کی ٹیم میں کورے اینڈریسن، سندیپ لیمیچانے، برینڈن ٹیلر اور کارلوس بریتھویٹ کا بھی اضافہ ہوچکا تھا۔

اس بار قلندرز نے ایک میچ میں شکست کے بعد ایک میں فتح کا سلسلہ جاری رکھا ہوا تھا اور لگ رہا تھا کہ قلندرز شاید پہلی بار آخری پوزیشن سے اوپر ہی نہیں پہلے 4 میں بھی جگہ بنا لیں گے لیکن آخری 4 میچوں میں مسلسل شکست کے ساتھ قلندرز نے اپنی روایات کو جاری رکھا اور اپنی پسندیدہ آخری پوزیشن حاصل کر ہی لی۔

ٹورنامنٹ کے درمیان ہی قیادت اے بی ڈی ویلیئرز سے فخر زمان کو چلی گئی اور بطور کھلاڑی بھی وہ کچھ خاص نہیں کرسکے، یوں کرس گیل اور برینڈن میک کولم کے بعد اے بی ڈی ویلیئرز بھی قلندرز کی نیّا پار لگانے میں ناکام رہے۔

2020
2020ء میں لاہور قلندرز نے کسی بڑے نام کو کپتان بنانے کے بجائے اپنے پلیئرز ڈیولپمنٹ پروگرام کا حصہ بننے والے سہیل اختر کو کپتان بنانے کا فیصلہ کیا اور اسکواڈ میں بھی زیادہ بڑے ناموں پر توجہ نہیں دی گئی۔

بین ڈنک، کرس لین، فخر زمان اور محمد حفیظ جیسے بیٹسمین اور شاہین آفریدی اور حارث رؤف جیسے بہترین فاسٹ باؤلرز کی موجودگی کے باوجود لاہور قلندرز کا اسکواڈ کچھ خاص نہیں لگ رہا تھا۔

پہلے 3 میچوں میں شکست کے بعد لاہور قلندرز کے لیے یہ ٹورنامنٹ بھی پچھلے 4 سال جیسا ہی لگ رہا تھا لیکن پھر 5 میں سے 4 میچوں میں شکست کے بعد قلندرز نے جیسے پانسہ ہی پلٹ دیا اور اگلے 5 میں سے 4 میچوں میں فتح حاصل کرلی۔

قلندرز کی حاصل کی گئی یہ فتوحات بھی کچھ عام نہ تھیں۔ اس دوران قلندرز نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو 98 پر آؤٹ کیا اور کراچی کنگز، ملتان سلطان اور پشاور زلمی کے خلاف 180 سے زائد کا ہدف حاصل کیا اور یوں پہلی بار لاہور قلندرز نے ٹاپ 4 میں جگہ بنالی۔

لاہور قلندرز نے ٹاپ فور میں جگہ بنائی تھی تو کچھ خاص تو ہونا ہی تھا۔ بس پھر کورونا کے باعث پہلے تو کچھ میچ تماشائیوں کے بغیر کروائے گئے، اور پھر ناک آؤٹ مرحلے میں سیمی فائنل کھیلنے کی منصوبہ بندی کی گئی لیکن کورونا کے زور پکڑ جانے کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہوسکا اور یوں باقی میچ ملتوی کردیے گئے۔

یہ التوا 8 ماہ تک طویل ہوگیا اور اس میں کئی بار یہ افواہیں بھی اڑتی رہیں کہ پوائنٹس ٹیبل پر پہلی پوزیشن حاصل کرنے والی ملتان سلطانز کو چمپیئن قرار دیا جاسکتا ہے لیکن خوش قسمتی سے ایسا نہیں ہوا اور یوں مارچ سے ملتوی شدہ میچ نومبر میں منعقد کروائے جانے کا فیصلہ ہوا۔

پہلے ایلیمینیٹر میں لاہور قلندرز نے پشاور زلمی اور دوسرے ایلیمینیٹر میں ملتان سلطانز کو شکست دیتے ہوئے کراچی کنگز کے خلاف فائنل کھیلنے کا اعزاز حاصل کیا۔ یہ فائنل پاکستان کرکٹ میں ایک بہت پرانی ’کراچی بمقابلہ لاہور جنگ‘ میں ایک نیا اضافہ تھا لیکن مقابلہ اتنا سنسنی خیز نہیں ہوسکا جس کی توقع کی جا رہی تھی۔

پی ایس ایل سیزن 5 کا فائنل کراچی کنگز اور لاہور قلندرز کے مابین کھیلا گیا
پشاور زلمی اور ملتان سلطانز کے خلاف عمدہ بیٹنگ کرنے والی قلندرز کی بیٹنگ لائن فائنل کی سست وکٹ کو سمجھنے میں ناکام رہی اور بڑا ہدف نہیں دے سکی۔

کراچی کنگز کے اہم ترین باؤلر محمد عامر کی مکمل ناکامی کے باوجود عماد وسیم اور ان کے تینوں نوجوان فاسٹ باؤلرز نے قلندرز کو کھل کر کھیلنے سے روکے رکھا۔ پھر کراچی نے بابر اعظم کی سمجھ دارانہ اننگ کی بدولت صرف 135 رنز کا ہدف آسانی سے حاصل کرلیا اور یوں لاہور قلندرز ایک بار پھر چمپیئن بننے سے محروم رہ گئی۔

2020ء میں قلندرز کے باؤلرز اور بیٹسمینوں نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور اس بات کا اندازہ یوں بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ٹورنامنٹ میں 5 سب سے زیادہ رنز بنانے والوں میں سے 4 کا تعلق لاہور سے تھا۔ اسی طرح سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے 5 باؤلرز میں سے 3 لاہور قلندرز کے کھلاڑی تھے۔

2021
2021ء میں پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے ڈرافٹ سے پہلے ہی فخر زمان نے لاہور قلندرز سے راہیں جدا کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا لیکن پلیئرز ریٹینشن لسٹ میں ناصرف فخر زمان کا نام لاہور قلندرز کی فہرست میں شامل تھا بلکہ انہیں ٹیم کا برینڈ ایمبیسیڈر بھی بنا دیا گیا ہے۔

ڈرافٹ میں لاہور قلندرز کا سب سے اہم انتخاب افغانستان کے لیگ اسپنر راشد خان رہے لیکن پچھلے برس کے ہیرو کرس لین کا نہ ہونا بہت سے لوگوں کو پسند نہیں آیا۔

ملتان سلطان کے ذیشان اشرف اس بار لاہور قلندرز کا حصہ ہوں گے لیکن ایک بار پھر لاہور قلندرز میں 4، 5 کھلاڑیوں کے علاوہ کوئی بڑا نام شامل نہیں ہے۔ ساتھ ہی اس بار بھی قلندرز اسکواڈ میں کئی نئے نام شامل ہیں۔ معاذ خان اور محمد فیضان تو پہلے سے اس ٹیم کا حصہ ہیں، جو کچھ خاص کارکردگی نہیں دکھا سکے ہیں جبکہ آغا سلمان، احمد دانیال اور زید عالم بھی ٹی20 کرکٹ میں زیادہ معروف نہیں ہیں۔

اگرچہ سہیل اختر کو کپتان برقرار رکھا گیا ہے لیکن لیکن پچھلے سال ٹیم کی عمدہ کارکردگی کے باوجود ان کی کیٹیگری کم کردی گئی ہے۔ سہیل اختر ابوظہبی میں کھیلے جانے والے ٹی10 ٹورنامنٹ میں شریک رہے اور اس ٹورنامنٹ میں ان کی فارم اس قدر زبردست رہی کہ انہیں ٹورنامنٹ کا بہترین پیٹسمین قرار دیا گیا۔ قلندرز کے مداح امید کریں گے کہ وہ اپنی اس فارم کو پاکستان سپر لیگ تک برقرار رکھ سکیں۔

ٹیم کے سب سے تجربہ کار کھلاڑی محمد حفیظ کو اگرچہ کچھ مسائل کے باعث جنوبی افریقہ کے خلاف پاکستانی ٹیم کا حصہ نہیں بنایا جاسکا لیکن وہ کافی عرصے سے ٹی20 کرکٹ میں بہترین فارم میں ہیں۔

حفیظ قومی ٹیم، لاہور قلندرز اور خیبر پختونخوا کی جانب سے کھیلتے ہوئے تسلسل کے ساتھ کچھ ایسے شاٹس کھیلتے ہوئے نظر آرہے ہیں جو انہوں نے پہلے کبھی نہیں کھیلے۔ محمد حفیظ اگرچہ اب باؤلنگ کم ہی کررہے ہیں لیکن ان کی ایسی ہٹنگ ہی لاہور قلندرز کے لیے نہایت اہم ثابت ہوسکتی ہے۔

مزید پڑھیے: اسلام آباد یونائیٹڈ نے پی ایس ایل 2021ء کے لیے کیسی تیاری کی ہے؟

بین ڈنک کا 2020ء کے پاکستان سپر لیگ میں ببل چباتے ہوئے چھکے لگانا کون بھول سکتا ہے۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا ڈنک کی ببل اور بازوؤں میں ابھی بھی اتنا ہی زور باقی ہے یا نہیں۔

دیکھنا یہ ہوگا کہ بین ڈنک کی ببل اور بازوؤں میں اب بھی زور ہے یا نہیں
ذیشان اشرف کے ساتھ بین ڈنک کی اوپننگ جوڑی مخالف ٹیم کے لیے کسی مصیبت سے کم نہیں ہوگی۔ ذیشان اشرف ملتان سلطان کی جانب سے کیپنگ بھی کرتے رہے ہیں۔ اب دیکھتے ہیں کہ دونوں میں سے کیپنگ گلووز کسے ملتے ہیں۔

ڈیوڈ ویزے شاید جنوبی افریقہ کے لیے اتنی اہم کارکردگی نہیں دکھا سکے جتنی ویزے نے لاہور قلندرز کے لیے دکھا دی ہے۔ جب بھی قلندرز کو ضرورت پڑی تو ویزے اپنے لمبے چھکوں یا کفایتی باؤلنگ کے ساتھ حاضر رہے۔

حارث رؤف اور شاہین آفریدی پچھلے سال ٹی20 کرکٹ میں وکٹیں حاصل کرنے میں سرِفہرست رہے۔ پاکستان سپر لیگ، نیشنل ٹی20 کپ اور پاکستان کے لیے کھیلنے کے علاوہ شاہین آفریدی نے ٹی20 بلاسٹ اور حارث رؤف نے بگ بیش میں بہترین کارکردگی دکھائی ہے۔

قلندرز کو امید ہوگی کہ ان دونوں کی کارکردگی کا تسلسل جاری رہے گا۔ شاہین آفریدی قلندرز کے لیے نئی گیند سے جتنے اہم ہیں حارث پرانی گیند سے اتنے ہی خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔ دونوں ہی وکٹیں گرانے پر بھرپور توجہ رکھتے ہیں اور ایسے باؤلرز ٹی20 کرکٹ میں بھی اتنے ہی اہم ہیں جتنے ٹیسٹ اور ون ڈے کرکٹ میں۔

شاہین آفریدی تمام توجہ وکٹیں گرانے پر مرکوز رکھتے ہیں
راشد خان ٹی20 کرکٹ کے بہترین اسپنر مانے جاتے ہیں اور اپنی اسپن کے جادو سے بیٹسمین کو قابو کرنے کے سبھی گُر جانتے ہیں۔ سمت پٹیل کے ساتھ مل کر راشد مخالف ٹیم کو اسپن وکٹوں پر تگنی کا ناچ نچا سکتے ہیں۔

شاہین اور حارث کی طرح راشد خان بھی وکٹیں گرانے پر ہی توجہ دیتے ہیں۔ راشد کی اسپن باؤلنگ کے ساتھ ساتھ ان کی بیٹنگ بھی نہایت اہم ہے۔ جہاں سمت پٹیل اوپری نمبر پر اننگ کو استحکام دے سکتے ہیں وہیں راشد نچلے نمبر پر بہترین ہٹنگ کرلیتے ہیں۔ تاہم راشد خان ٹورنامنٹ کے ابتدائی میچوں میں لاہور قلندرز کو دستیاب نہیں ہوں گے۔

دیکھنا یہ ہے کہ ٹورنامنٹ کے ابتدائی میچوں میں راشد خان کی جگہ کسے اسکواڈ میں شامل کیا جاتا ہے۔ پاکستان سپر لیگ کے تمام میچ صرف کراچی اور لاہور میں ہونے ہیں اور اس صورت میں اسپنرز زیادہ استعمال ہونے والی پچوں پر اہم ترین کردار ادا کرسکتے ہیں۔

لاہور قلندرز کا اسکواڈ عمدہ کھلاڑیوں پر مشتمل ہے لیکن کئی غیر معروف کھلاڑیوں کی موجودگی میں ایک ڈر ضرور ہے کہ اگر اہم کھلاڑی آؤٹ آف فارم ہوجاتے ہیں تو کیا نئے کھلاڑی ان کی جگہ لے پائیں گے؟

08/02/2021

ٹیسٹ سیریز جیتنا کتنا اہم ہے یہ کل شام کو پتہ چلا جب مارکرام اور وین ڈیر ڈسن نے وکٹ دینے سے انکار کر دیا- قسم سے حالت پتلی تھی, آج صبح حسن آیا اور آتے ہی چھا گیا اور جان میں جان آئی- لیکن حالات جلد ہی بدل گئے اور جو سکون ملا تھا غارت ہونے لگا, حالت پتلی سے پتلی ہوتی گئی- ذہن میں کل کی مئیرز اننگ گھوم رہی تھی, انڈیا کی آسٹریلیا کے خلاف فتح, 99 کا ہوبارٹ ٹیسٹ اور پچھلے سال کا اولڈ ٹریفورڈ ٹیسٹ سبھی نے لائن لگائی ہوئی تھی- کیا جنوبی افریقہ کے خلاف فتح کا خواب پھر خواب ہی رہ جائے گا؟

پر ایک امید تھی کہ جیسے ہی ایک وکٹ گری لائن لگ سکتی ہے- میچ کا پانچواں دن ہے اور جنوبی افریقہ کی ٹیم, ان کی لائن تو تب بھی لگا دیتے تھے جب ہمیں ان سے جیتنا آتا ہی نہیں تھا- اور پھر نئی گیند کے ساتھ حسن نے جادو سا کر دیا, جادو نہیں تو اور کیا تھا, کہاں ایک بالکل سیٹ بیٹسمین اتنی باہر جاتی گیند پر بلا پھینکتا ہے پر شاید وہ سوچ رہا تھا کہ گیند اندر آئے گی- لیکن ابھی تو ڈرامہ باقی تھا, اگلی ہی گیند پر ڈی کک نے ایک باہر جاتی گیند کو چھیڑا اور تب لگا کہ اب میچ اپنا ہے- میچ اپنا ہے اور پھر جسے کہتے لائن لگنا تو وہ لگ گئی-

حسن علی کی واپسی اس سے بہتر شاید ممکن ہی نہیں تھی- حسن علی جب باہر ہوا تو فارم جا چکی تھی, ان فٹ تھا, لوگ حسن کی باؤلنگ سے زیادہ اس کے ڈانسز اور اس کی ذاتی زندگی کو ڈسکس کر رہے تھے لیکن واپس آیا تو جیسے سب بدل گیا- سینٹرل پنجاب کی قیادت سنبھالی تو ٹائٹل تک پہنچا دیا- باؤلنگ میں وکٹوں کی لائن لگا دی اور جب فائنل میں شکست سامنے تھی تو بلا ایسا گھمایا جیسے کلہاڑا اور ایک ہارا ہوا میچ ٹائی کر دیا اور ٹائٹل جیت گیا- اب باری تھی قومی ٹیم میں واپسی کی, پہلے میچ میں وکٹیں نہ ملیں تو باتیں ہوئیں کہ حسن کے پاس ٹیسٹ کی سپیڈ ہی نہیں ہے- شاید ہم فاسٹ باؤلر صرف 150 والا ہی چاہتے ہیں پر حسن نے دکھا دیا کہ وہ 130 سے بھی وکٹیں لے سکتا ہے بلکہ وکٹوں کی لائن لگا سکتا ہے-

ٹیسٹ سیریز جیتنا کوئی عام بات نہیں اور پھر اگر سامنے جنوبی افریقہ کی ٹیم ہو, جس سے ہم ہمیشہ سے ہارتے ہی آ رہے ہیں چاہے وہ ہوم سیریز ہو یا اوے, صرف ایک سیریز جیتے اور ایک اب, پہلی بار جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز میں ایک سے زائد ٹیسٹ جیتے ہیں- رینکنگ جو سیریز کے شروع میں سات تھی پانچ ہو جائے گی- یہاں پر حسن علی کے ساتھ ساتھ شاہین آفریدی, رضوان, فہیم اور باقی ساری ٹیم قابل تحسین ہے اور ہاں کچھ تعریف تو کوچز کی بھی بنتی ہے- عمران بٹ نے بھلے سکور نہیں بنایا پر اس کے کیچز اس سیریز فتح میں برابر کی اہمیت رکھتے ہیں-

ایک کرکٹ فین کو, کرکٹ اور پاکستانی ٹیم سے محبت کرنے والے کو اور کیا چاہئے؟

ویل ڈن ٹیم پاکستان, بہت سا پیار تم لوگوں کے لئے

08/02/2021

رضوان نے آخر پہلی سنچری بنا ہی لی, کئی بار پاس پہنچا تو کہیں خود ہمت ہار گیا اور کہیں اس کے ساتھی لیکن آج پہلے فہیم اور یاسر نے اور پھر نعمان نے اس کا بھرپور ساتھ دیا اور یوں ایک مشکل وکٹ پر نہایت مشکل حالات میں رضوان نے اپنی پہلی ٹیسٹ سنچری بنا ہی لی- رضوان کیپر تو ہمیشہ سے بہترین رہا اور بیٹسمین بھی اچھا تھا لیکن جب رضوان آیا تو وہ سرفراز کے دن تھے, سرفراز سکور بھی بنا رہا تھا اور وکٹوں کے عقب میں بھی عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا تھا- رضوان کو نیوزی لینڈ میں ایک ٹیسٹ میں بطور بیٹسمین کھیلنے کا موقع ملا اور پھر آسٹریلیا میں ون ڈے سیریز پر ان دنوں سرفراز کی فارم اچھی تھی تو سرفراز کی واپسی ہو گئی- پھر سرفراز کپتان بن گیا اور یوں رضوان کے مواقع اور بھی محدود ہو گئے-

پاکستان ٹی ٹونٹی میں بہترین کارکردگی دکھا رہا تھا لیکن باقی دونوں فارمیٹ میں بہت اچھی کارکردگی نہ تھی اور پھر سرفراز کی بیٹنگ بھی زوال پذیر ہونے لگی- سرفراز نے ون ڈے اور ٹی ٹونٹی میں خود سے پہلے فہیم, حسن وغیرہ کو بھیجنا شروع کر دیا اور اعتماد جانے لگا- ورلڈکپ 2019 کے بعد سرفراز کو کپتانی سے ہٹایا گیا تو ٹیم سے جگہ بھی جاتی رہی اور یوں رضوان کو موقع مل گیا- پہلی ہی سیریز آسٹریلیا کے خلاف آسٹریلیا میں تھی جہاں مشکل حالات میں رضوان نے ایک بہترین اننگ کھیل کر اپنی بیٹنگ کی صلاحیتوں کا اعتراف سب سے ہی کروا لیا-

پھر انگلینڈ کا دورہ تھا جہاں پاکستان کے کسی بھی کھلاڑی سے زیادہ کمنٹیٹرز نے رضوان کی تعریف کی, ایک ایسی ٹیم جس میں بابر اور شاہین ہوں وہاں یہ کچھ عجیب لگتا ہے لیکن رضوان کی کارکردگی وکٹوں کے آگے اور پیچھے کچھ ایسی تھی کہ جتنی تعریف کی جائے کم تھی- لیکن رضوان سنچری نہ بنا پایا اور ابھی کچھ لوگ تھے جن کو راضی کرنا باقی تھا- نیوزی لینڈ کے دورے پر بابر جسے کپتان بنایا گیا تھا ان فٹ ہوا تو رضوان کو قیادت بھی مل گئی- رضوان نے ایک بار پھر مشکل حالات میں نہایت عمدہ اننگز کھیلیں لیکن میچز بچا نہ پایا اور نہ سنچری بنا پایا لیکن پاکستان کی جانب سے مرد بحران ضرور بنا رہا- اسی دورے پر ٹی ٹونٹی سیریز میں پہلے دو میچز میں کسی حد تک ناکامی کے بعد رضوان نے تیسرے ٹی ٹونٹی میں ایک ایسی دھواں دار اننگ کھیلی جس نے رضوان کے مداحوں میں بے تحاشا اضافہ کر دیا-

جنوبی افریقہ کے خلاف کراچی ٹیسٹ میں رضوان نے ایک بار پھر ایک مناسب بیٹنگ کی لیکن اس کی بہترین کارکردگی ابھی سامنے آنا باقی تھی- پنڈی ٹیسٹ کی پہلی اننگ میں رضوان کچھ بدلا سا لگا, سکور بنانا اس کے لئے بہت مشکل لگ رہا تھا اور کافی عرصے بعد رضوان ناکام واپس گیا- دوسری اننگ میں پاکستانی ٹیم مشکلات کا شکار تھی, اوپنرز کے بعد اظہر, بابر اور فواد بھی ناکامی کا شکار ہو چکے تھے اور لگ رہا تھا کہ شاید جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز جیتنے کا خواب چکنا چور ہو جائے گا لیکن رضوان ابھی باقی تھا- رضوان نے فہیم اشرف کے ساتھ اننگ کو آگے بڑھایا اور پھر آج پہلے یاسر شاہ اور پھر نعمان علی کے ساتھ بہترین پارٹنرشپ سے پاکستان کے سکور کو وہاں تک پہنچا دیا جہاں پر شکست کا خطرہ نہ ہونے کے برابر رہ چکا ہے- ایک مشکل پچ پر جہاں گیند سپن بھی ہو رہا ہے اور نیچا بھی رہ رہا ہے, رضوان نے اننگ کو سنبھالا دیا, دفاعی کھیل کا مظاہرہ کیا اور جہاں موقع ملا گیند کو باؤنڈری کے باہر پہنچا دیا-

رضوان کی یہ پہلی سنچری ہے اور امید یہی ہے کہ آخری نہیں ہو گی اور وہ ایسی اور بہت سی بہترین اننگ کھیلتا رہے گا- رضوان کی ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی کے بعد اس کی کارکردگی پنٹ کے علاوہ تمام وکٹ کیپرز سے بہتر ہے, واٹلنگ, بٹلر, ڈی کک اور ڈکویلا جیسے بہترین وکٹ کیپر بیٹسمینوں سے بہتر اوسط کے ساتھ کھیلنا رضوان کی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے اور رہی بات کیپنگ کی تو اس میں اس وقت رضوان شاید سب سے بہتر ہے-

04/02/2021

کراچی میں چار وکٹیں جلدی گری تھیں پر پنڈی میں تین کے گرنے پر ہی سنبھل گئے اور ایک عمدہ پارٹنرشپ نے پاکستان کی اننگ کو بچا لیا- بابر اعظم شروع میں مہاراج کے سامنے محتاط رہے اور اچھا کیا کیونکہ نئے گیند کے ساتھ بال سپن اور گرپ ہو رہا تھا اور مہاراج باؤلنگ بھی بہت اچھی کر رہا تھا- بابر کو کھیلتے دیکھ کر ایسے لگا تو ہو گا جیسے اپنی محبت کو بہت دنوں بعد دیکھا ہو, اب کل ایک بڑی سنچری ہو جائے تو سمجھیں سونے پر سہاگہ ہو جائے گا- فواد کو مہاراج نے بہت تنگ کیا لیکن برسوں
کی فرسٹ کلاس کرکٹ اور بہترین فارم نے فواد کو بچا لیا اور کل ایک بار پھر فواد جنوبی افریقہ کے باؤلرز کے خلاف کھڑا ہو گا, اسی سٹانس کے ساتھ جس کی وجہ سے اسے بہت عرصہ کرکٹ سے دور رہنا پڑا-

عابد علی بہترین آغاز کے بعد مسلسل ناکامیوں کا سامنا کر رہے ہیں اور ان کے پاس وقت تیزی سے ختم ہوتا جا رہا ہے- نیوزی لینڈ میں بڑی اننگ نہ کھیلنے کے باوجود عابد علی اعتماد سے کھیل رہے تھے لیکن آج تو اعتماد سے بالکل عاری اننگ کھیلی ہے- عمران بٹ کو ایک موقع بھی ملا لیکن اس کا فائدہ نہ اٹھا سکے اور وہی غلطی کرتے ہوئے کیچ دے دیا- اظہر علی نے سیدھی گیند پر ٹانگ آگے کی تو پچھلے کئی سالوں میں پاکستانی بیٹسمینوں کی کھبے باؤلرز کے خلاف مشکلات ذہن میں گھوم گئیں- مونٹی پنیسار ہو, ویٹوری یا رنگنا ہیراتھ پاکستانی بیٹسمینوں کے لئے عذاب ہی بنے رہے-

پنڈی میں کھیلے گئے تمام میچز میں سے پہلے کھیلنے والی ٹیم صرف ایک ٹیسٹ جیت پائی ہے لیکن اس کی وجہ پنڈی کی پچز ہیں جو کہ ہمیشہ فاسٹ باؤلر کے لئے سازگار رہیں لیکن یہ ایک بالکل مختلف پچ ہے جو سپنرز کو مدد دے رہی ہے اور یہ ٹیم انتظامیہ کا بہت اچھا فیصلہ ہے- پاکستان کے پاس سپنرز کی مدد سے یہ ٹیسٹ جیتنے کا بہترین موقع ہے-

ٹیسٹ کے دوران ایک اور تصویر بھی دکھائی گئی جس میں بتایا گیا تھا کہ وقار یونس کے بعد سے کوئی پاکستانی فاسٹ باؤلر ایسا نہیں آیا جو 200 ٹیسٹ وکٹوں تک پہنچا ہو اور اس دوران صرف پاکستان, بنگلہ دیش اور زمبابوے ہی ایسی ٹیمیں ہیں جن کے فاسٹ باؤلرز یہ کارنامہ انجام نہ دے سکے- اس دوران شعیب اختر, محمد آصف, عمر گل اور محمد عامر ایسے باؤلر آئے جن سے یہ امید تھی لیکن کچھ کی فٹنس اور کچھ کی سرگرمیوں نے اجازت نہ دی- محمد عباس کے آغاز سے حوصلہ ہوا تھا کہ شاید عباس وہ باؤلر بن سکتا ہے لیکن پچھلے دو سال سے عباس کی کارکردگی مسلسل زوال کا شکار ہے- اب یہ توقع نئے باؤلرز سے ہی لگائی جا سکتی ہے جن میں سے شاہین آفریدی سرفہرست ہے لیکن جس تسلسل سے وہ میچز کھیل رہا ہے, یہی ڈر ہے کہ وہ بھی اس کارنامے سے پہلے ہی کرکٹ سے دور ہو سکتا ہے-

29/01/2021

نعمان علی
کل تک ایک گمنام کرکٹر ، چند گھنٹوں میں
پاکستان کی “ ڈارلنگ” کیسے بنا ؟

پاکستان کی کرکٹ نے اس سے پہلے یہ منظر کبھی نہیں دیکھا تھا کہ ایک بولر، اپنے ڈیبیو ٹیسٹ میں ساری ٹیم کو لیڈ کرتا ، گیند ہاتھ میں لہراتا گراؤنڈ سے باہر گیا ہو مگر 29 جنوری 2021 بروز جمعہ کو ایسا ہوا ہے کہ لیفٹ آرم سپنر نعمان علی اپنے کیریئر کے پہلے ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں جنوبی افریقہ کے 5 بلے بازوں کو آؤٹ کر کے اس اعزاز کا مالک بن گیا ہے۔

سچ ہے “ خدا کے ہاں دیر ہے ، اندھیر نہیں “ - نعمان علی کی عمر 34 سال 114 دن ہو چکی ہے ، وہ عمر کہ جب بولر ریٹائر ہو رہے ہوتے ہیں مگر 26 جنوری تک اس ٹیسٹ کے آغاز سے پہلے اسے تو کبھی انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے کاموقع بھی نہیں ملا تھا ۔ عمومی خواہش تو یہی ہو گی کہ کاش انٹرنیشنل ڈیبیو ہو جائے مگر خدا نے اس عمومی خواہش کو نہ صرف ڈیبیو بلکہ ایک اننگز میں پانچ وکٹوں سے نئی تاریخ مرتب کرا کے خصوصی بنا دیا ہے ۔ اسی لئے تو کہتے ہیں کہ خدا جب دیتا ہے تو چھپڑ پھاڑ کر دیتا ہے ۔فواد عالم ااور نعمان علی ، نئے کرکٹروں کے لئے یہ دو سٹڈی کیس ہیں کہ جن کی دوران تربیت بھی مثال دی جانی چاہئے کہ ہم بہت عرصہ سے success stories کے لئے ترسی ہوئی قوم ہیں۔

ضلع سانگھڑ، سندھ کے ایک چھوٹے قصبہ “کھپرو”کے پیدائشی نعمان علی کے حوالہ سے ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ابتدا میں اس کی بولنگ اوسط “اوسط درجہ” کی رہی مگر جونہی 32 سال کا ہوا ، اس میں بہت زیادہ نکھار آیا ہے ۔ اس نے اپنے پورے فرسٹ کلاس کیریئر کی 56.50 فیصد وکٹیں ، گزشتہ تین سالوں میں لی ہیں ۔ وہ 2007 سے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیل رہا ہے اور اب تک 79 میچز کھیل چکا ہے مگر پہلے 10 سالوں میں ہر سال وہ بہت کم وکٹیں لے سکا تھا، پھر اس کی کارکردگی میں نکھار آیا اور صرف گزشتہ سال میں ہی اس نے چھ مرتبہ اننگز میں پانچ اور تین مرتبہ میچ میں دس وکٹیں حاصل کی ہیں ، اسی کارکردگی کی بناء پر تو اسے قومی کرکٹ ٹیم (اس ٹیسٹ)کے لئے بھی چُنا گیا تھا۔

نعمان علی کہتے ہیں کہ فرسٹ کلاس کرکٹ کے گزشتہ دو سیزن میں جب میں نے بولنگ میں بہترین پرفارمنس دی تو مجھے امید تھی کہ نیشنل ٹیم کے لئے کال کیا جائے گا - یاد رہے کہ نعمان علی بڑی عمر میں ٹیسٹ ڈیبیو کرنے والے چوتھے پاکستانی کرکٹر ہیں ، جن کی عمر 34 سال اور 111 دن تھی ۔ ان سے پہلے محمد اسلم نے 34 سال 177 دن ، ذوالفقار بابر نے 34 سال اور 308 دن کی عمر میں پہلا ٹیسٹ کھیلا تھا ، جبکہ سب سے زیادہ عمر والے 47 سال اور 284 دن کے میراں بخش رہے ہیں ۔میراں بخش نے 29 جنوری 1955 کو بھارت کے خلاف اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلا تھا ۔

نعمان علی ٹیسٹ ڈیبیو کرنے والے 243 ویں پاکستانی کرکٹر بھی بنے ہیں ۔انہوں نے پہلی اننگز میں گو صرف دو بلے بازوں کو آؤٹ کیا تھا مگر بہت ڈسپلن سے لائن و لینتھ پر گیندیں کی تھیں ۔ نعمان نے ایک مشکل صورتحال میں بہت ذمہ داری سے بیٹنگ کرتے ہوئے 24 رنز بھی بنائے تھے اور دوسری اننگز میں صرف 35 رنز کے عوض ان کی پانچ وکٹوں نے جنوبی افریقہ کو 245 رنز تک محدود کر دیا تھا ۔ پاکستان یہ ٹیسٹ 7 وکٹوں سے جیت کر سیریز میں اب 0-1 سے آگے ہے-

نعمان علی بتاتے ہیں کہ وہ کھپرو میں پیدا ہوئے ، پلے بڑھے اور وہیں سٹڈی بھی کی تھی مگر کرکٹ میں پروفیشنل کیریئر کے لئے اپنے انکل کے ساتھ حیدر آباد موو ہو گئے تھے- واضح رہے کہ کھپرو کراچی سے 285 کلومیٹر دور ہے اور ایک عام سے گھرانے سے تعلق رکھنے والے نعمان کے لئے بڑے شہر میں موو ہونا آسان نہیں تھا ۔اس کے والد ان دنوں حیدرآباد کی ایک آئل فیکٹری میں بطور کلرک کام کرتے ہیں ۔

نعمان علی کو ٹیسٹ کرکٹ میں وہ آغاز تو مل گیا ہے کہ جس کی کوئی بھی بولر خواہش کر سکتا ہے ، اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس پہلے چانس کو قومی ٹیم میں اپنی مستقل جگہ کیسے بناتے ہیں ۔ شائقین کرکٹ کی نیک خواہشات ان کے ساتھ ہیں ۔گُڈ لک نعمان علی فار اے لانگ اینڈ سکسیس فل کیریئر 👍🏏🇵🇰 ( کاپی )

Address

Qasmi Colony
Jhang Sadar
6845966

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Wali Ball And Cricket posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category