22/10/2025
پاکستان کرکٹ ٹیم کا ٹیل اینڈرز سے "عشقِ ممنوع"
کرکٹ کی دنیا میں ہر ٹیم کی اپنی پہچان ہوتی ہے۔ آسٹریلیا کی پہچان جارحیت اور کبھی ہار نہ ماننا، انگلینڈ کی پہچان بدلتا موسم، بھارت کی پہچان تکنیکی طور پر درست بلے باز اور سپنر، جبکہ پاکستان کی...؟ جی ہاں — پاکستان کی پہچان ہے مخالف ٹیم کے ٹیل اینڈرز سے دیرینہ عشق۔
یہ وہ عشق ہے جو کبھی کم نہیں ہوا، بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ اور گہرا ہوتا جا رہا ہے۔
آغازِ عشق: دہلی 1952ء
73 سال کا قصہ ہے کوئی کل کی بات نہیں۔
پاکستان کے پہلے ہی ٹیسٹ میں، ہیمو ادھیکاری اور غلام احمد نے دسویں وکٹ پر 109 رنز جوڑ ڈالے — گویا پاکستان کرکٹ کی تاریخ کے اولین صفحے کی پہلی ہی سطر میں لکھ دیا گیا کہ پاکستانی بولرز ہمیشہ آخری وکٹوں سے دل لگا بیٹھیں گے۔
شاید یہی وہ لمحہ تھا جب ہماری گیند باز برادری نے حلف اٹھا کر عہد کیا کہ:
“ہم مخالف ٹیم کے ٹیل اینڈرز کو کبھی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہونے دیں گے۔”
ستّر اور اسی کی دہائی: زخموں پر نمک چھڑکنے سے شکست کا ذائقہ مزید تلخ ہو جاتا ہے
وقت گزرا تو ہماری یہ عادت خصلت بن گئی۔ 1977ء میں آسٹریلیا کے گیری کوزیئر اور کیری اوکیف نے آٹھویں وکٹ پر 117 رنز بنائے، اور میلبرن کے میدان پر ہماری ٹیم فیلڈنگ کرتے وقت اتنی خاموش تھی جیسے کسی محفل میں لطیفہ سنایا گیا ہو لیکن کسی کو سمجھ نہ آیا ہو۔
پھر 1997ء آیا، جب گیری کرسٹن اور پیٹ سم کاکس نے فیصل آباد میں آٹھویں وکٹ کے لیے 124 رنز کی شراکت قائم کی۔آخری اننگ میں پاکستانی بلے باز بھی "تو چل میں آیا" کی تجسیم بنے رہے اور 145 رنز کا حدف بھی عبور نہ کر سکے۔
اس میچ کے بعد پاکستانی شائقین نے نیا نعرہ متعارف کروایا:
"کرسٹن کو نہیں، سم کاکس کو آؤٹ کرو — اصل خطرہ وہی ہے!"
1998ء میں زمبابوے کی بےبی ٹیم کے خلاف کھیلتے وقت پاکستانی بالرز اتنے "نرم دل" تھے کہ نیل جانسن اور ہیتھ سٹریک کو 6/115 کی صورتحال سے ساتویں وکٹ کے لیے 103 رنز جوڑنے کا موقع دیا۔ یہ دیکھ کر پاکستانی بلے بازوں کا بھی دل پسیجا اور وہ ہنری اولانگا اور پومی مبانگوا کو اپنی وکٹوں کی شکل میں "دل" دیتے چلے گئے۔
یوں پاکستان نے "بڑا بھائی" بنتے ہوئے زمبابوے کو پہلی مرتبہ بیرون ملک سیریز جیتنے میں مدد دی۔
دو ہزار کی دہائی: رومانس عروج پر
نئی صدی میں بھی یہ عشق کم نہ ہوا۔
2009ء میں میکلم اور ویٹوری نے ڈونیشن پر ساتویں وکٹ کے لیے 164 رنز کی شراکت قائم کر کے ہمیں یاد دلایا کہ نیوزی لینڈ میں ہمارے لیے دو چیزیں ہمیشہ خطرناک رہیں گی — موسم اور آخری وکٹ۔
2010ء کے سڈنی ٹیسٹ میں مائیک ہسی اور پیٹر سڈل نے نویں وکٹ کے لیے 123 رنز جوڑ کر پاکستان کی اس "سنہری تاریخ" کو زندہ رکھا۔
پاکستان اس میچ میں جیت کے قریب تھا، مگر جیسے ہی نمبر 9 بلے باز کھیلنے آیا، باولرز سے ریورس سوئنگ تو کجا، عام سی سوئنگ بھی روٹھ گئی جبکہ کامران اکمل شاید اس دن اپنے دستانوں میں "گریس" لگا کر آئے تھے۔۔
لارڈز کی لاڈلی جوڑی
2010ء ہی میں لارڈز پر وہ لمحہ آیا جب اسٹیورٹ براڈ اور جوناتھن ٹراٹ نے 7/102 کی صورتحال سے آٹھویں وکٹ کے لیے 332 رنز بنا ڈالے۔
یہ کوئی عام پارٹنرشپ نہیں تھی — یہ تو قومی صبر کا امتحان تھا۔ (یہ الگ بات ہے کہ اس صبر کا پھل بہت کڑوا نکلا)
اسٹیو اسمتھ اور مچل اسٹارک نے 2016ء میں میلبرن پر ساتویں وکٹ کے لیے 154 رنز جوڑے اور ہم سوچتے رہ گئے کہ یہ ٹیسٹ ہے یا نیٹ پریکٹس؟
اور پھر آئے بنگلہ دیشی بھائیوں کی محبت میں لکھے گئے دو بابِ محبت
2024ء میں راولپنڈی کے میدان پر دو الگ کہانیاں لکھی گئیں مگر انکا انجام ایک جیسا ہوا۔
پہلے مشفق الرحیم اور مہدی حسن میراز نے ساتویں وکٹ کے لیے 196 رنز جوڑ کر پاکستان کو حیران (اور بعد میں پریشان) کر دیا،
پھر چند دن بعد ہی لٹن داس اور میراز نے 6/26 کی صورتحال سے ساتویں وکٹ کے لیے 165 رنز کا اضافہ کیا۔
میراز نے تو اتنے رنز بنائے کہ لوگوں کو یقین ہو چلا کہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد بیٹنگ کوچ بننا چاہتے ہیں، چناچہ ابھی سے پوری پاکستانی ٹیم کو تختہ مشق بنا رہے ہیں۔
اعداد کی زبانی: یہ عشق کتنی بار دہرایا گیا؟
پاکستان کے خلاف ساتویں سے دسویں وکٹ تک 16 ایسی پارٹنرشپ ہو چکی ہیں جنہوں نے 100 سے زائد رنز جوڑے — اور جنکا نتیجہ ہماری شکست پر منتج ہوا۔
- سب سے بڑی پارٹنرشپ: 332 رنز (براڈ–ٹراٹ، لارڈز 2010ء)
- سب سے پرانا زخم: 109 رنز (ادھیکاری–غلام احمد، دہلی 1952ء)
- سب سے تازہ چوٹ: 165 رنز (مہدی–لٹن داس، راولپنڈی 2024ء)
یہ وہ "محبت نامے" ہیں جو پاکستانی بولرز کے دل کے کسی گوشے میں آج بھی محفوظ ہوں گے۔
نفسیاتی تجزیہ: ہم ٹیل اینڈرز کو اتنا پسند کیوں کرتے ہیں؟
ماہرین کے مطابق، پاکستانی باولرز میں انسانیت کا عنصر کچھ زیادہ ہے۔ جب سامنے والا بیٹر نمبر 9 یا 10 ہو تو وہ نرم دل ہو کر کہتے ہیں — “ارے، بچہ ہے، کچھ رنز تو بنانے دو۔”
پھر وہ بچہ ففٹی پر پہنچتا ہے یا پھر سنچری بناتا ہے، تو ہم صرف یہ کہتے رہ جاتے ہیں:
"یار، یہ تو ہمارے منصوبے کا حصہ نہیں تھا!"
بہ الفاظ دیگر ،دنیا کی ہر ٹیم کے لیے ٹیل اینڈرز کا مطلب ہوتا ہے: “چلو اب دو چار اوور کی بات ہے۔”
جبکہ پاکستان کے لیے اس کا مفہوم کچھ اور ہے، یعنی کہ:
“ابھی تو اصل امتحان شروع ہوا ہے۔”
بعض ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستانی باولرز کے اندر ایک "فنکارانہ ہمدردی" پائی جاتی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ میچ میں ڈرامہ برقرار رہے۔ آخر تماشائی بھی تو انٹرٹینمنٹ کے لیے آئے ہیں — سیدھا سیدھا جیتنے سے مزہ نہیں آتا نا۔
اختتامیہ: عشقِ لازوال
چاہے زمانہ قدیم ہو یا جدید، ہمارا یہ عشق کبھی ختم ہونے والا نہیں۔ ہماری باولنگ ہمیشہ ٹیل اینڈرز کو بلے بازی میں اپنا ریکارڈ بہتر کرنے کے مواقع فراہم کرتی رہے گی۔
سوچیے تو سہی، دنیا میں کتنی ٹیمیں اتنی "نرم دل" ہیں جو ہر چند سال بعد کسی نئے نمبر 9 بلے باز کو "میچ کے بہترین کھلاڑی" کا اعزاز دلاتی ہیں؟
پاکستانی قوم بھی کسی سے کم نہیں۔ وہ بھی ہر شکست کے بعد یہی کہتی ہے:
"اگلے میچ میں ہم "لرن" کرتے ہوئے یہ غلطیاں نہیں دہرائیں گے!" (مطلب یہ کہ نئی غلطیاں کریں گے)
آخر میں ہم تو بس یہی کہیں گے:
“یہ عشق نہیں آسان، بس اتنا سمجھ لیجیے
ہر اننگز میں ایک نیا ٹیل اینڈر ہمیں آزماتا ہے!”