28/10/2024
میں اور میرک (پیارا بھائی سنگت) جہاں بیٹھے ہیں جس گدان میں ہیں وہاں پہ ایک تختی بھی ہے اس تختی کا سہارا آپ سب نہیں چھوڑنا۔ میں وہاں جارہی ہوں جہاں سے جسمانی طور واپس ہرگز نہیں مگر روح آواران سمیت پورے گلزمین میں موجود ہوگا۔ میں اپنی آگے کی جدوجہد میرک سمیت تمام ساتھیوں کے ساتھ شروع کرونگی۔
#𝐑𝐈𝐏 𝐂𝐨𝐦𝐫𝐚𝐝𝐞 𝐇𝐚𝐦𝐞𝐞𝐝𝐚 𝐁𝐚𝐥𝐨𝐜𝐡
"عشق گلزمین سے"
حمیدہ بلوچ
ہم زگری ہیں یا مسلمان یہ ضروری نہیں مگر ہم عشق گلزمین سے کرتے ہیں۔ عبادت گاہیں اپنی ہی زمیں پہ ہیں۔سجدہ گاہیں چلتن سے شروع آماچ ، زندان ، نرمک ، دشت پلیجی ، دشت کوگدان ، دڑامب ، سیاہیجی ، شاشان ، حلوائ ، کھیرتھر ، ہربوئ ، کوہ سلیمان ، کوہ باتیل ، کوہ مہدی ، کوہ مراد سمیت ہملند کے سلسلہ سے لیکر مکران (چھابہار)، قصرقند ، دشتیاری ، سرباز ، نیکشہر ، پیشین مند و بلیدہ کے بلند و بالا خوبصورت دیوانگی کے خوشبو سے معطر خوشبو سے جڑے ہیں ۔ہم ان جڑی بوٹیوں کے دیوانے ہیں جو کوہ ماراں سے لیکر بولان ، سنی شوران سے لیکر ڈیرہ غازی خان تک موجود ہیں۔ہم ان درختوں کے مجنون ہیں جو ماراپ سے لیکر ماشکیل اور ہلمند سے لیکر سرحد بلوچ تک زمین سے جڑے ہوئے ہیں۔ہم اس خوبصورت ریگستان کے دیوانے ہیں جو دالبندین سے لیکر کھیرتھر پار دریائے سندھ تک اپنی خوشبو پھیلارہے ہیں۔
ہم اپنے سمندر سے جڑے ہیں جو ایک باپ کی طرح اپنا سایہ ہمیشہ ہمارے سر پہ رکھے مکران سے لیکر ٹھھٹہ تک ہماری انکوکھی تاریخ بیان کررہا ہوتا ہے۔!
ہم ان شہزادوں سے جڑے ہیں جو اس زمین کے کونے کونے سے باری باری قوّی ہمت اور جُرت سے اپنی محبوب کی خاطر ہر مشکل سہنے کو تیار کھڑے ہیں۔
ہم ان سجدہ گاہ کے دیوانے ہیں جہاں میری لاڈلا لخت جگربھائی میرل "میرک"سجدہ ریزہوا۔وہ ہمارا سنجیدہ ساتھی تھا۔میرک اب روح بن گیا۔ امّی اب صغیرکےلیئے پریشان رہتی ہے۔میرک تو امر ہوا۔میرک کوجس جشن سے الوداع کررہے تھے وہی عزّت مجھے بھی چاہیئے۔میں عام سی موت نہیں مرنا چاہتی مجھے صرف مرنا نہیں میری شان ہو میری موت پہ بھی شہنائیاں ہوں۔جشن ہو میں ایک منزل کی طرف رواں ہوں مگر "نُگرا" اور "زگرین" میری زندگی کا حصہ ہیں۔میں کیا کروں کونسا فیصلہ میری حق میں ہے کونسا میرے بچوں کے حق میں کونسا قومی جُڑت میں۔
میں تڑپ رہی ہوں ایک ماں بن کے اپنے دو بچوں سے جُدا ہوجائوں تو یتیم کہلائے جائینگے۔یتیموں کی حالت میرے سامنے ہے۔میں صغیر کو کیسے اکیلا چھوڑوں صغیر اب بھی رات کے پہر اچانک سے چلا کرکہتا رہتاہے مجھے ٹارچر کرنا چھوڑدو میں نے صرف عشق کیا اسی زمین سے اصل عشاق تو میرک نکلے وہی میرک جسکو امّی کبھی ایک لمحہ اپنے