Cricket b4u

Cricket b4u Cricket alerts, news, reviews, scandals, controversies, videos, Live scores, techniques, records, tr

10/06/2026

پاکستان نے آخری بار کوئی بین الاقوامی ایونٹ ۔۔۔۔۔مزید پڑھیں

10/06/2026

پندرہ رکنی سکواڈ میں شامل۔کھلاڑیوں ۔۔۔۔
۔مزید پڑھیں

10/06/2026

آئی سی سی کی جانب سے جاری کردہ ۔۔۔۔مزید پڑھیں

پاکستانی ویمن ٹیم کو دیکھ کر خون کھولتا رہتا تھا کہ ایک دن اچانک اس پر نظر پڑ گئی
09/06/2026

پاکستانی ویمن ٹیم کو دیکھ کر خون کھولتا رہتا تھا کہ ایک دن اچانک اس پر نظر پڑ گئی

09/06/2026

ٹیسٹ میچ کے دوران ہی کپتان اور کچھ دوسرے ۔۔۔۔۔مزید پڑھیں

09/06/2026

یہ فیصلہ آئی سی سی کے ریفریز ۔۔۔۔مزیدپڑھیں

06/06/2026

آسٹریلوی سرزمین پر چمکے اس لازوال ستارے گلین میگرا کی گیند بازی کے کچھ ایسے پہلو جس نے 1998 سے 2007 تک کے دور میں ٹی وی پر کرکٹ دیکھنے والے نوجوان شائقین کرکٹ کو بہت کچھ دکھایا اور سکھایا۔

میلومن، نیو ساؤتھ ویلز آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے گلین ڈونلڈ میگرا کی رفتار پھلے ہی اس دور کے تیز رفتار گیند بازوں کے برابر نہیں تھی۔۔لیکن قدرت نے۔میگرا کو جسمانی اور زہنی طور پر جن صلاحیتوں سے نوازا تھا وہ کسی اور بولر کے حصے میں آئیں اور نہ کبھی آئیں گی۔۔

میگرا طویل قدو قامت اور شاندار فٹنس کے حامل ایک انتہائی ذہین ، ، حاضر دماغ اور لائن اینڈ لینتھ کے معاملے میں غیر معمولی حد تک نپے تلے بولر تھے

ان کے۔کیرئر کا سب سے خاص اور نمایاں پہلو آف سٹمپ۔لائن پر ایسی چالاک اور نپی تلی گیند بازی تھی جس سے وہ بڑے بڑے نامی گرامی بلے بازوں ۔کو تگنی کا ناچ نچائے رکھتے تھے ۔

میگرا وکٹ پر۔موجود باؤنس کا ایسا شاندار استعمال کرتے تھے۔کہ بلے باز سے صرف تین ساڑھے تین قدم دوری پر ٹھپہ کھانے والی گیند اچھل کر چھاتی یا گلے کی اونچائی پر آتی تھی ۔ اور وہ بلے باز کے اتنے قریب سے گزرتی تھی کہ اسے چھوڑنا نا ممکن حد تک مشکل ہوتا تھا۔

اب سوال یہ تھا کہ آخر ایسی گیند کا کیا کیا جائے۔ وہ شارٹ پچ باؤنسر بھی نہیں ہوتا تھا کہ پل یا ہک شاٹ کھیلا جائے ۔۔اتنا روم بھی نہیں ہوتا تھا کہ کٹ شاٹ کھیلا جائے۔۔اتنی اونچائی پر ڈرائیو کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔۔ اور سب سے بڑی مصیبت یہ تھی کہ ںلے باز اسے چھوڑ بھی نہیں پاتا تھا۔۔

بلے۔بازوں کو سمجھ نہیں آتی تھی کہ وہ ایسی بولنگ کو کھیلیں بھی تو کیسے
اور چھوڑیں بھی تو کیسے۔ وہ خود کو گیند کے راستے سے ہٹا تک نہیں پاتے تھے۔

بلے باز چار و نا چار گیند کو کھڑے کھڑے آف سائیڈ پر پش کرنے کی کوشش کرتے تو یا تو وہ کیپر ایڈم گلکرسٹ کو کیچ تھما بیٹھتے یا سلپ میں مارک وا کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو جاتے۔۔

کئی ںار تو ایسا ہوتا کہ ںلے۔باز خود کو گیند کے راستے سے ہٹانے کی کوشش میں بھی اسے ہلکا سے دستانے پر کھا بیٹھتے اور پیچھے کیچ آؤٹ ہو جاتے۔

میگرا کو آسٹریلیا کی باؤنسی وکٹ بہت سوٹ کرتی تھی۔ ان کی اور وکٹ کیپر ایڈم گلکرسٹ کی جوڑی بے حد کمال کی تھی۔ دونوں نے مل کر ٹیسٹ میچوں میں 90 اور ون ڈے میں 73 شکار کیے جو ایک ایسا ریکارڈ ہے۔جو شاید ہی کوئی بولر اور وکٹ کیپر مل کر توڑ پائیں

میگرا کی اس مخصوص لائن اینڈ لینتھ کی دھاک بلے بازوں کے دماغ پر ایسے بیٹھ جاتی کہ وہ خود کو کریز میں کھڑے رہنے تک محدود کر دیتے تھے۔ جس پر انتہائی ذہین اور چالاک گلین میگرا بلے بازوں کو اعصابی جنگ کی شکست دے دیتے تھے اور اچانک ایک گیند آگے پھینک دیتے تھے جس پر بلے۔باز کریز میں کھڑے رہنے کی وجہ سے یا بولڈ ہو جاتے یا ایل بی ڈبلیو ہو جاتے۔۔

میگرا کی ایک خوبی یہ بھی تھی کہ مخالف ٹیم کے سب سے بہترین بلے بازوں کو اپنا ہدف بناتے۔ سچن ٹنڈولکر ، برائن لارا، جیک کیلس، جے سوریا، انضمام الحق، کوئی بھی میگرا کے قہر سے محفوظ نہیں تھا۔ ۔ میگرا بہت جارح مزاج تھے۔ وہ اپنے حریف پر فقرے کستے۔ گھورتے ، چڑھائی کرتے۔یہاں تک کہ اس کے انتہائی قریب پہنچ جاتے یا راستے میں آ جاتے تھے ۔کئی کھلاڑیوں کی میگرا سے نوک جھوک بھی ہوئی۔۔

گلین میگرا کو ایک امتیازی خوبی یہ بھی حاصل ہے کہ انھوں نے اپنے ٹیسٹ ، ون ڈے اور ٹی ٹونٹی کیریئر کی آخری گیندوں ۔کر وکٹ حاصل کی۔

ٹیسٹ کرکٹ میں 563 اور ون ڈے کرکٹ میں 381 وکٹیں حاصل کرنے والے گلین میگرا نے۔یقینی طور پر انٹرنیشنل کرکٹ کو جو کچھ دیا ہے اس میں اس دور کے نوجوان فاسٹ باؤلرز کے سیکھنے کےلیے بہت کچھ تھا۔ انھیں بلا شک و شبہ انٹر نیشنل کرکٹ کی تاریخ کے ایک عظیم ترین اثاثے کے طور پر یاد رکھا جائے گا ۔۔

Address

F-7/1
Islamabad
44000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Cricket b4u posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category