13/04/2024
پاکستانی سکواڈ کا اعلان اور بابر، شاہین سے متعلق سوال: ’ایسا لگ رہا تھا کہ ہم کاکول نہ جاتے تو یہ ایک دوسرے کو مار دیتے‘
گذشتہ برس اکتوبر کے اختتام اور نومبر کی شروعات میں پاکستان میں ہر ٹی وی چینل پر موجودہ اور سابق کرکٹرز بابر اعظم کی کپتانی اور بیٹنگ کے طرزِ عمل پر تنقید کرتے دکھائی دے رہے تھے۔
ان میں سے دو نمایاں کھلاڑی فاسٹ بولر محمد عامر اور آل راؤنڈر عماد وسیم تھے۔
محمد عامر نے سنہ 2020 کے اختتام پر کرکٹ بورڈ سے اپنے ’ورک لوڈ‘ سے متعلق اختلافات کی بنیاد پر ریٹائرمنٹ حاصل کر لی تھی جبکہ عماد وسیم کئی سالوں سے پاکستان کی ون ڈے ٹیم کا حصہ نہیں تھے۔
عامر اور عماد دونوں کی ہی جانب سے بابر اعظم کو آڑے ہاتھوں لیا گیا اور عامر نے تو دبے لفظوں میں یہ بھی کہا کہ ’کپتانی اہم ہوتی ہے۔ جب تک کپتان کی سوچ تبدیل نہیں ہو گی، نظام کچھ نہیں کر سکتا۔ کیا نظام کی وجہ سے ابرار احمد کو (ورلڈ کپ سکواڈ میں) شامل نہیں کیا گیا تھا اور فخر زمان کو پہلے میچ کے بعد بٹھا دیا گیا تھا؟‘