29/05/2026
آپ کے نزدیک کون سہی اور کون غلط؟ یاری دوستی اور تعلق سے ہٹ کر نیوٹرل رائے دیں ؟؟
حاصل پور ٹائٹنز اور APL نے باہمی رضامندی سے حاصلپور ٹائٹنز ٹیم کو APL سے الگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس فیصلے کی وجہ APL کا ایک اہم رول ہے۔ APL قوانین کے مطابق “Pure Batter” کے طور پر رجسٹرڈ پلیئر صرف بیٹنگ کر سکتا ہے، بولنگ نہیں۔ APL اپنے قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے تاکہ غیر قانونی بولنگ ایکشن سے متعلق مسائل سے بچا جا سکے۔
حاصلپور ٹائٹنز کے ایک پلیئر، عامر امین، کا بولنگ ایکشن پہلے رپورٹ ہو چکا تھا۔ APL کی جانب سے ان سے کہا گیا تھا کہ وہ ایک مختصر ویڈیو پیغام دیں جس میں وہ یقین دہانی کروائیں کہ وہ ٹورنامنٹ میں فیئر بولنگ کریں گے اور اگر دورانِ میچ امپائر ان کے ایکشن پر اعتراض کرے تو وہ فیصلہ قبول کریں گے۔ بصورتِ دیگر APL انہیں ڈرافٹنگ میں “Pure Batter” کے طور پر رجسٹر کرے گا۔
چونکہ عامر امین کی جانب سے ایسا کوئی ویڈیو پیغام موصول نہیں ہوا، اس لیے APL نے انہیں آفیشلی “Pure Batter” کے طور پر رجسٹر کر دیا۔
ڈرافٹنگ کے دوران باقی پانچ ٹیموں نے عامر امین کو بطور بیٹر پک نہیں کیا، لیکن حاصلپور ٹائٹنز نے انہیں منتخب کیا اور بعد میں APL سے مطالبہ کیا کہ انہیں بولنگ کی اجازت دی جائے۔ APL نے اپنے رولز کے مطابق یہی مؤقف برقرار رکھا، جبکہ حاصلپور ٹائٹنز اس شرط کو ماننے پر تیار نہیں تھے۔ ٹیم کپتان فیصل بھائی کا کہنا تھا کہ وہ عامر امین سے بولنگ کروائیں گے چاہے انہیں “Pure Batter” کے طور پر رجسٹر کیا گیا ہو۔
بدقسمتی سے دونوں فریق اس معاملے پر کسی اتفاقِ رائے تک نہ پہنچ سکے، جس کے بعد حاصلپور ٹائٹنز اور APL نے باہمی رضامندی سے اپنی راہیں الگ کرنے کا فیصلہ کیا۔
ہAPL کا فیصل بھائی اور حاصلپور ٹائٹنز کے ساتھ بہت اچھا وقت گزرا، اور ٹائٹنز کا سفر بھی APL کے ساتھ یادگار رہا۔ انہوں نے 3 میں سے 2 APL ٹائٹلز جیتے اور ہمیشہ ایک دلچسپ اور مضبوط ٹیم کے طور پر سامنے آئے۔ لیکن اس معاملے کی وجہ سے دونوں فریق مزید ایک ساتھ سفر جاری نہ رکھ سکے۔
APL Management