Awais Chaudhry

Awais Chaudhry Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Awais Chaudhry, Coach, Hasilpur.

Don't Use Streamlined Sales Tax before watching this video
16/05/2023

Don't Use Streamlined Sales Tax before watching this video

Don't Use Streamlined Sales Tax before Watching ThisYes! Streamlined Sales Tax Website is so popular nowadays to apply for seller permit these days, But it i...

02/04/2023

How to Form LLC in US from State Website Online

How to Apply for EIN number for your LLC
18/04/2022

How to Apply for EIN number for your LLC

In this Video, I have explained how to apply EIN for your LLC or how to get EIN number without using SSN. Yes! You can do it by using SS4 form in about 10 mi...

This video is for the people who have no idea or having a little idea about amazon. Please do watch and let me know if y...
05/04/2022

This video is for the people who have no idea or having a little idea about amazon. Please do watch and let me know if you have any questions 😊




How to learn amazon FBA from start How to sell on amazonWhat is Amazon fba step by stepWhat is Amazon dropshippingWhat is differnce between fba and fbmAll of...

How to Create US LLC in 10 minutes :-)
30/03/2022

How to Create US LLC in 10 minutes :-)

Assalamualaikum,When you are going to start your business be it Amazon Dropshipping, Amazon FBA PL, Amazon Wholesale or Shopify Dropshipping, first thing you...

07/02/2022

"" "" "" جنات👤 کا سائنسی تجزیہ"" "" ""
ایک سائنسدان کے قلم سے۔۔۔۔✍
بہت دلچسپ۔۔۔ضرور پڑھیں

👤‏جنات اللہ کی مخلوق ہیں یہ ہمارا یقین ہے ،
وہ آگ سے پیدا کیے گئے ،
ان میں شیاطین و نیک صفت دونوں موجود ہیں
اس پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے یہ تھریڈ اس بارے میں نہیں ہے ۔

یہ تھریڈ جنات کی سائینٹیفیک تشریح کے بارے میں ہے ۔
کیا وہ ہمارے درمیان ہی موجود ہیں ؟

اور زیادہ اہم سوال یہ کہ ہم انہیں دیکھ کیوں نہیں سکتے ؟

لفظ جن کا ماخذ ہے ‘‘نظر نہ آنے والی چیز’’ اور اسی سے جنت یا جنین جیسے الفاظ بھی وجود میں آئے ۔
جنات آخر نظر کیوں نہیں آتے ؟
اس کی دو وجوہات بیان کی جا سکتی ہیں ۔
پہلی وجہ یہ کہ انسان کا ویژن بہت محدود ہے ۔
اللہ تعالیٰ نے اس کائینات میں ‏جو (electromagnetic spectrum)
بنایا ہے اس کے تحت روشنی 19 اقسام کی ہے ۔
جس میں سے ہم صرف ایک قسم کی روشنی دیکھ سکتے ہیں جو سات رنگوں پر مشتمل ہے ۔
میں آپ کو چند مشہور اقسام کی روشنیوں کے بارے میں مختصراً بتاتا ہوں ۔

اگر آپ gamma-vision میں دیکھنے کے قابل ہو جائیں تو آپ کو دنیا ‏میں موجود ریڈی ایشن نظر آنا شروع ہو جائے گا ۔

اگر آپ مشہور روشنی x-ray vision میں دیکھنے کے قابل ہوں تو آپ کے لیے موٹی سے موٹی دیواروں کے اندر دیکھنے کی اہلیت پیدا ہو جائے گی ۔

اگر آپ infrared-vision میں دیکھنا شروع کر دیں تو آپ کو مختلف اجسام سے نکلنے والی حرارت نظر آئے گی ۔

‏روشنی کی ایک اور قسم کو دیکھنے کی صلاحیت ultraviolet-vision کی ہو گی جو آپ کو اینرجی دیکھنے کے قابل بنا دے گا ۔
اس کے علاوہ microwave-vision اور radio wave-vision جیسی کل ملا کر 19 قسم کی روشنیوں میں دیکھنے کی صلاحیت سوپر پاور محسوس ہونے لگتی ہے ۔

کائینات میں پائی جانی والی تمام ‏چیزوں کو اگر ایک میٹر کے اندر سمو دیا جائے تو انسانی آنکھ صرف 300 نینو میٹر کے اندر موجود چیزوں کو دیکھ پائے گی ۔
جس کا آسان الفاظ میں مطلب ہے کہ ہم کل کائینات کا صرف % 0.0000003 فیصد حصہ ہی دیکھ سکتے ہیں ۔
انسانی آنکھ کو دکھائی دینے والی روشنی visible light کہلاتی ہے اور یہ‏ الٹرا وائیلٹ اور انفراریڈ کے درمیان پایا جانے والا بہت چھوٹا سا حصہ ہے ۔

ہماری ہی دنیا میں ایسی مخلوقات موجود ہیں جن کا visual-spectrum ہم سے مختلف ہے ۔
سانپ وہ جانور ہے جو انفراریڈ میں دیکھ سکتا ہے
ایسے ہی شہد کی مکھی الٹراوائیلٹ میں دیکھ سکتی ہے ۔
دنیا میں سب سے زیادہ رنگ ‏مینٹس شرمپ کی آنکھ دیکھ سکتی ہے ،
الو کو رات کے گھپ اندھیرے میں بھی ویسے رنگ نظر آتے ہیں جیسے انسان کو دن میں ۔
امیرکن کُک نامی پرندہ ایک ہی وقت میں 180 ڈگری کا منظر دیکھ سکتا ہے ۔
جبکہ گھریلو بکری 320 ڈگری تک کا ویو دیکھ سکتی ہے ۔
درختوں میں پایا جانے والا گرگٹ ایک ہی وقت میں ‏دو مختلف سمتوں میں دیکھ سکتا ہے
جبکہ افریقہ میں پایا جانے والا prongs نامی ہرن ایک صاف رات میں سیارے saturn کے دائیرے تک دیکھ سکتا ہے ۔ اب آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ انسان کی دیکھنے کی حِس کس قدر محدود ہے اور وہ اکثر ان چیزوں کو نہیں دیکھ پاتا جو جانور دیکھتے ہیں ۔

‏ترمذی شریف کی حدیث نمبر 3459 کے مطابق نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ
جب تم مرغ کی آواز سنو تو اس سے اللہ کا فضل مانگو کیوں کہ وہ اسی وقت بولتا ہے جب فرشتے کو دیکھتا ہے.........
اور جب گدھے کی رینکنے کی آواز سنو تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگو کیوں کہ اس وقت وہ شیطان کو دیکھ رہا ہوتا ہے ۔

‏جب میں نے مرغ کی آنکھ کی ساخت پر تحقیق کی تو مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ مرغ کی آنکھ انسانی آنکھ سے دو باتوں میں بہت بہتر ہے ۔
پہلی بات کہ جہاں انسانی آنکھ میں دو قسم کے light-receptors ہوتے ہیں وہاں مرغ کی آنکھ میں پانچ قسم کے لائیٹ ریسیپٹرز ہیں ۔
اور دوسری چیز fovea جو‏انتہائی تیزی سے گزر جانے والی کسی چیز کو پہچاننے میں آنکھ کی مدد کرتا ہے جس کی وجہ سے مرغ ان چیزوں کو دیکھ سکتا ہے جو روشنی دیں اور انتہائی تیزی سے حرکت کریں

اور اگر آپ گدھے کی آنکھ پر تحقیق کریں تو آپ دیکھیں گے کہ اگرچہ رنگوں کو پہچاننے میں گدھے کی آنکھ ہم سے بہتر نہیں ہے لیکن‏ گدھے کی آنکھ میں rods کی ریشو کہیں زیادہ ہے اور اسی وجہ سے گدھا اندھیرے میں درختوں اور سائے کو پہچان لیتا ہے یعنی آسان الفاظ میں گدھے کی آنکھ میں اندھیرے میں اندھیرے کو پہچاننے کی صلاحیت ہم سے کہیں زیادہ ہے ۔

البتہ انسان کی سننے کی حِس اس کی دیکھنے کی حس سے بہتر ہے اگرچہ دوسرے‏ جانوروں کے مقابلے میں پھر بھی کم ہے
مثال کے طور پہ نیولے نما جانور بجو کے سننے کی صلاحیت سب سے زیادہ یعنی 16 ہرٹز سے لے کر 45000 ہرٹز تک ہے
اور انسان کی اس سے تقریباً آدھی یعنی 20 ہرٹز سے لے کر 20000 ہرٹز تک ۔
اور شاید اسی لیے جو لوگ جنات کے ساتھ ہوئے واقعات رپورٹ کرتے ہیں وہ‏ دیکھنے کے بجائے سرگوشیوں کا زیادہ ذکر کرتے ہیں ۔
ایک سرگوشی کی فریکوئینسی تقریباً 150 ہرٹز ہوتی ہے
اور یہی وہ فریکوئینسی ہے
جس میں انسان کا اپنے ذہن پر کنٹرول ختم ہونا شروع ہوتا ہے ۔
اس کی واضح مثال ASMR تھیراپی ہے
جس میں 100 ہرٹز کی سرگوشیوں سے آپ کے ذہن کو ریلیکس کیا جاتا ہے ۔‏
اس تھریڈ کے شروع میں ، میں نے جنات کو نہ دیکھ پانے کی دو ممکنہ وجوہات کا ذکر کیا تھا جن میں سے ایک تو میں نے بیان کر دی لیکن
دوسری بیان کرنے سے پہلے میں ایک چھوٹی سی تھیوری سمجھانا چاہتا ہوں ۔

سنہ 1803 میں ڈالٹن نامی سائینسدان نے ایک تھیوری پیش کی تھی کہ کسی مادے کی سب سے چھوٹی‏ اور نہ نظر آنے والی کوئی اکائی ہو گی اور ڈالٹن نے اس اکائی کو ایٹم کا نام دیا ۔
اس بات کے بعد 100 سال گزرے جب تھامسن نامی سائینسدان نے ایٹم کے گرد مزید چھوٹے ذرات کی نشاندہی کی جنہیں الیکٹرانز کا نام دیا گیا ۔
پھر 7 سال بعد ردرفورڈ نے ایٹم کے نیوکلیئس کا اندازہ لگایا ،
صرف 2 سال‏بعد بوہر نامی سائینسدان نے بتایا کہ الیکٹرانز ایٹم کے گرد گھومتے ہیں
اور دس سال بعد 1926 میں شورڈنگر نامی سائینسدان نے ایٹم کے اندر بھی مختلف اقسام کی اینرجی کے بادلوں کو دریافت کیا ۔

جو چیز 200 سال پہلے ایک تھیوری تھی ، آج وہ ایک حقیقت ہے ، اور آج ہم سب ایٹم کی ساخت سے واقف ہیں‏ حالانکہ اسے دیکھ پانا آنکھ کے لیے آج بھی ممکن نہیں ۔
ایسی ہی ایک تھیوری 1960 میں پیش کی گئی جسے string theory کہتے ہیں ۔ اس کی ڈیٹیلز بتانے سے پہلے میں ایک بات کی وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں ۔
انسان کی حرکت آگے اور پیچھے ، دائیں اور بائیں ، اوپر اور نیچے ہونا ممکن ہے جسے‏جسے تین ڈائیمینشنز یا 3D کہتے ہیں ۔ ہماری دنیا یا ہمارا عالم انہی تین ڈائیمینشز کے اندر قید ہے ہم اس سے باہر نہیں نکل سکتے ۔

لیکن string theory کے مطابق مزید 11 ڈائیمینشنز موجود ہیں ۔ میں ان گیارہ کی گیارہ ڈائیمینشنز میں ممکن ہو سکنے والی باتیں بتاؤں گا ۔

اگر آپ پہلی ڈائیمینش‏....
میں ہیں تو آپ آگے اور پیچھے ہی حرکت کر سکیں گے ۔

اگر آپ دوسری ڈائیمینشن....
میں داخل ہو جائیں تو آپ آگے پیچھے اور دائیں بائیں حرکت کر سکیں گے ۔

تیسری ڈائیمینشن .....
میں آپ آگے پیچھے دائیں بائیں اور اوپر نیچے ہر طرف حرکت کر سکیں گے اور یہی ہماری دنیا یا جسے ہم اپنا عالم کہتے ہیں ، ہے ۔‏اگر آپ کسی طرح سے
چوتھی ڈائیمینشن....
میں داخل ہو جائیں تو آپ وقت میں بھی حرکت کر سکیں گے ۔

پانچویں ڈائیمینشن.....
میں داخل ہونے پر آپ اس عالم سے نکل کر کسی دوسرے عالم میں داخل ہونے کے قابل ہو جائیں گے جیسا کہ عالم ارواح ۔

چھٹی ڈائیمینشن .....
میں آپ دو یا دو سے زیادہ عالموں میں حرکت کرنے کے‏قابل ہو جائیں گے اور میرے ذہن میں عالم اسباب کے ساتھ عالم ارواح اور عالم برزخ کا نام آتا ہے ۔

ساتویں ڈائیمینشن....
آپ کو اس قابل بنا دے گی کہ اس عالم میں بھی جا سکیں گے جو کائینات کی تخلیق سے پہلے یعنی بِگ بینگ سے پہلے کا تھا۔

آٹھویں ڈائیمینشن....
آپ کو تخلیق سے پہلے کے بھی مختلف عالموں‏ میں لیجانے کے قابل ہو گی ۔

نویں ڈائیمینشن....
ایسے عالموں کا سیٹ ہو گا جن میں سے ہر عالم میں فزیکس کے قوانین ایک دوسرے سے مکمل مختلف ہوں گے ۔ ممکن ہے کہ وہاں کا ایک دن ہمارے پچاس ہزار سال کے برابر ہو ۔

اور آخری اور دسویں ڈائیمینشن ۔۔۔
اس میں آپ جو بھی تصور کر سکتے ہیں ، جو بھی سوچ‏ سکتے ہیں اور جو بھی آپ کے خیال میں گزر سکتا ہے ، اس ڈائیمینشن میں وہ سب کچھ ممکن ہو گا ۔

اور میری ذاتی رائے کے مطابق جنت ۔۔۔ شاید اس ڈائیمینشن سے بھی ایک درجہ آگے کی جگہ ہے کیوں کہ
حدیث قدسی میں آتا ہے کہ جنت میں میرے بندے کو وہ کچھ میسر ہو گا جس کے بارے میں نہ کبھی کسی آنکھ نے‏دیکھا ، نہ کبھی کان نے اس کے بارے میں سنا اور نہ کبھی کسی دل میں اس کا خیال گزرا ۔
اور دوسری جگہ یہ بھی آتا ہے کہ میرا بندہ وہاں جس چیز کی بھی خواہش کرے گا وہ اس کے سامنے آ موجود ہو گی ۔

بالیقین جنات ، ہم سے اوپر کی ڈائیمینشن کے beings ہیں....
اور یہ وہ دوسری سائینٹیفیک وجہ ہے
جس کی‏ بناء پر ہم انہیں نہیں دیکھ سکتے ۔
ان دس ڈائیمینشنز کے بارے میں جاننے کے بعد آپ یہ سمجھ سکتے ہیں کہ
جنات کے بارے میں قرآن ہمیں ایسا کیوں کہتا ہے کہ وہ تمہیں وہاں سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھتے ،

یا پھر عفریت اتنی تیزی سے سفر کیسے کر سکتے ہیں جیسے سورۃ سباء میں ذکر ہے‏کہ ایک عفریت نے حضرت سلیمانؑ کے سامنے ملکہ بلقیس کا تخت لانے کا دعویٰ کیا تھا ۔
یا پھر کشش ثقل کا ان پر اثر کیوں نہیں ہوتا اور وہ اڑتے پھرتے ہیں ۔

یا پھر کئی دوسرے سوالات جیسے عالم برزخ ، جہاں روحیں جاتی ہیں ،
یا عالم ارواح جہاں تخلیق سے پہلے اللہ تعالیٰ نے تمام ارواح سے عہد لیا‏تھا کہ تم کسی اور کی عبادت نہیں کرو گے اور سب نے ہوش میں اقرار کیا تھا ،
یا قیامت کے روز دن کیسے مختلف ہو گا ،
یا شہداء کی زندگی کس عالم میں ممکن ہے ۔

ان تمام عالموں یعنی عالم برزخ ، عالم ارواح یا عالم جنات کے بارے میں تحقیقی طور پر سوچنا ایک بات ہے ،
لیکن جس چیز نے ذاتی طور پر‏پر میرے دل کو چھوا ......
وہ سورۃ فاتحۃ کی ابتدائی آیت ہے ۔

الحمد للہ رب العالمین ۔

تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ، جو تمام عالموں کا رب ہے ۔
اور میں سمجھتا ہوں کہ ‘‘تمام عالم’’ کے الفاظ کا جو اثر اب میں اپنے دل پر محسوس کرتا ہوں ، وہ پہلے کبھی محسوس نہ کیا تھا...

How to Create Payoneer Account in Pakistan | Urdu/Hindi Full Tutorial | Simple Steps
19/05/2021

How to Create Payoneer Account in Pakistan | Urdu/Hindi Full Tutorial | Simple Steps


In this video i am going to guide you how to create payoneer account from pakistan, if you have any questions feel free to comment below :-)It will take hard...

25/10/2020

‏شیر اور شارک

دونوں پیشہ ور شکاری ہیں لیکن شیر سمندر میں شکار نہیں کرسکتا اور شارک خشکی پر شکار نہیں کر سکتی۔*
*شیر کو سمندر میں شکار نہ کر پانے کیوجہ سے ناکارہ نہیں کہا جا سکتا اور شارک کو جنگل میں شکار نہ کر پانے ‏کیوجہ سے ناکارہ نہیں کہا جا سکتا۔*
*دونوں کی اپنی اپنی حدود ہیں جہاں وہ بہترین ہیں۔*
*اگر گلاب کی خوشبو ٹماٹر سے اچھی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسے کھانا تیار کرنے میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔*
‏*ایک کا موازنہ دوسرے کے ساتھ نہ کریں۔*
*آپ کی اپنی ایک طاقت ہے اسے تلاش کریں اور اس کے مطابق خود کو تیار کریں۔*
*کبھی خود کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھیں بلکہ ہمیشہ خود سے اچھی اُمیدیں وابستہ رکھیں۔*
‏یاد رکھیں ٹوٹا ہوا رنگین قلم بھی رنگ بھرنے کے قابل ہوتا ہے۔*
*اپنے اختتام تک پہنچنے سے پہلے خود کو بہتر کاموں کے استعمال میں لے آئیں۔*
*وقت کا بدترین استعمال اسے خود کا دوسروں کے ساتھ*
*موازنہ کرنے میں ضائع کرنا ہے*
*‏مویشی گھاس کھانے سے موٹے تازے ہو جاتے ہیں جبکہ یہی گھاس اگر درندے کھانے لگ جائیں تو وہ اسکی وجہ سے مر سکتے ہیں۔*
*کبھی بھی اپنا موازنہ دوسروں کے ساتھ نہ کریں اپنی دوڑ اپنی رفتار سے مکمل کریں ۔*
‏*جو طریقہ کسی اور کی کامیابی کی وجہ بنا، ضروری نہیں کہ آپ کیلئے بھی سازگار ہو۔*
*خُدا کے عطاء کردہ تحفوں نعمتوں اور صلاحیتوں پر نظر رکھیں*
‏اور اُن تحفوں سے حسد کرنے سے باز رہیں جو خُدا نے دوسروں کو دیے ہیں۔

15/08/2020

کوا وہ واحد پرندہ جو عقاب کو تنگ کر سکتا ہے. یہ پرندوں کے بادشاہ عقاب کی پست پر بیٹھ جاتا ہے اور اپنی چونچ سے اسکی گردن پر کاٹتاہے۔ جبکہ کوے سے زیادہ طاقتور عقاب کوے کا مقابلہ کرنے میں اپنی طاقت اور وقت صرف نہیں کرتا۔ بلکہ وہ اپنے پر کھولتا اور آسمان کی طرف اونچی اران بھرنا شروع کر دیتا ہے۔ عقاب کی پرواز جتنی بلند ھوتی جاتی ہے کوے کی اران اتنی ہی مشکل ہو جاتی ہے اور بل آخر وہ آکسیجن کی کمی کی وجہ سے گر جاتاہے۔ آج سے آپ ان لوگوں کی وجہ سے پریشان ہونا چھوڑ دیں جو آپ کی پیٹھ پیچھے باتیں کرتے ھیں۔ آپ کی پرواز کے سامنے آسمان کھلا ہواہے۔ اپنی اران کو خدا کے ساتھ اونچا کرتے جائیں تو بہت سی رکاوٹيں خود ہی دور ہوتی جائیں گی۔ اپنی طاقت عقاب کی مانند مثبت کاموں میں صرف کريں۔ اپنی پرواز کی قوت کو جان لیجیے۔ یہی کامیابی کا راز ہے۔

09/08/2020

سبق آموز کالم

ڈگری
!!!!!!!!!!!!!!!!
(جاوید چوہدری(
نوجوان نے یونیورسٹی میں پہلی پوزیشن حاصل کی‘ وہ گولڈ میڈلسٹ تھا‘ یونیورسٹیوں میں اول پوزیشن حاصل کرنے والے چہروں پر ایک خاص قسم کا اعتماد ہوتا ہے‘ ان کی آنکھیں روشن ہوتی ہیں‘ یہ بھنویں چڑھا کر دائیں بائیں دیکھتے ہیں‘ ان کی گردن میں تناؤ ہوتا ہے‘ یہ ناک کو بار بار سکیڑتے ہیں‘ ان کی آواز بھاری ہوتی ہے اور یہ عموماً سیدھے ہو کر چلتے ہیں‘ یہ چال‘ ڈھال اور یہ اعتماد شاید کامیابی کی دین ہوتی ہے‘ کامیاب لوگ شاید اتنے ہی بااعتماد ہوتے ہیں لیکن یہ کیونکہ یونیورسٹی میں پہلی پوزیشن حاصل کر کے عملی زندگی میں آنے والے نوجوانوں کی پہلی کامیابی ہوتی ہے چنانچہ ان کا اعتماد ان کی باڈی پر سوٹ نہیں کر رہا ہوتا‘ یہ دور سے پہچانے جاتے ہیں بالکل ان لوگوں کی طرح جو زندگی میں پہلی بار سوٹ پہنتے ہیں‘ جو زندگی میں پہلی بار کافی پیتے ہیں یا جو زندگی میں پہلی بار سگار پیتے ہیں‘ ان نوجوانوں کا اعتماد مانگے ہوئے کوٹ کی طرح ڈھیلا ڈھالا سا محسوس ہوتا ہے‘ میں کیونکہ گولڈ میڈلسٹ تھا اور میں نے زندگی میں بے شمار گولڈ میڈلسٹ دیکھے ہیں چنانچہ میں ان لوگوں کی نفسیاتی حالت اور چال ڈھال سے پوری طرح آگاہ ہوں‘ میں اس معاملے میں اتنا تجربہ کار ہو چکا ہوں کہ میں چند لمحوں میں سو ڈیڑھ سو نوجوانوں میں سے گولڈ میڈلسٹ کو تلاش کر لیتا ہوں اور تلاش کے بعد میں اس کے سوالوں اور جوابوں کا اندازہ بھی کر سکتا ہوں‘ یہ بے چارے بہت ہی بے چارے ہوتے ہیں‘ یہ بعض اوقات قابل رحم بھی ہوتے ہیں‘ یہ قابل رحم اور بے چارے کیوں ہوتے ہیں‘ یہ میں آپ کو اگلی سطروں میں بتاؤں گا‘ ہم سرے دست اس نوجوان کی طرف آتے ہیں‘ یہ نوجوان پورے اعتماد کے ساتھ میرے سامنے بیٹھ گیا۔
میں نے اس سے پوچھا ’’ آپ کیا کرنا چاہتے ہو‘‘ اس نے جواب دیا ’’ میں صحافی بننا چاہتا ہوں‘‘ میں نے عرض کیا ’’ویری گڈ لیکن صحافت کے 34 شعبے ہیں‘ آپ کس شعبے میں کام کرنا چاہتے ہو‘‘ اس نے جواب دیا ’’ میں اگر پرنٹ میڈیا میں رہا تو کالم نگار بنوں گا اور اگر ٹی وی جوائن کیا تو اینکر‘‘ میں نے عرض کیا ’’ بہت اچھا‘ آپ کاغذ اور قلم لو اور مجھے دنیا کے پانچ بڑے کالم نگاروں اور پاکستان کے پانچ اردو اور پانچ انگریزی کے کالم نگاروں کے نام لکھ کر دو‘‘ نوجوان کا رنگ فق ہوگیا‘ اس نے کاغذ لیا اور رک رک کر‘ سوچ کر نام لکھنے لگا‘ وہ دس منٹ کی محنت سے صرف چھ نام لکھ سکا‘ ان ناموں میں لیری کنگ کا نام بھی شامل تھا‘ میں نے اس کے بعد اس سے عرض کیا ’’بیٹا آپ اب ان کالم نگاروں کے سامنے ان کے کالم کا ٹائیٹل اور اخبارات کے نام لکھو‘‘ یہ ایک مشکل کام تھا‘ نوجوان نے تھوڑی سی کوشش کی لیکن جلد ہی ہمت ہار کر قلم نیچے رکھ دیا‘ میں نے عرض کیا ’’آپ ان کالم نگاروں میں سے کس کو سب سے زیادہ پسند کرتے ہیں‘‘ اس نے فوراً جواب دیا ’’ آپ کو‘‘ میں اس کا شکریہ ادا کیا اور اس سے پوچھا ’’ آپ نے میرا آخری کالم کب پڑھا تھا‘‘ وہ اس سوال پر پھنس گیا‘ وہ آئیں بائیں شائیں کرنے لگا‘ میں نے اسے خفت سے نکالنے کے لیے عرض کیا ’’ آپ کو میرے کسی ایک کالم کا تھیم یاد ہو‘‘ اس نے فوراً ایک کالم کا حوالہ دیا‘ میں نے اس کا حوالہ سن کر عرض کیا ’’ یہ کالم میں نے نہیں لکھا تھا‘ یہ ہارون الرشید صاحب نے تحریر کیا تھا‘‘ وہ شرمندہ ہو گیا‘ میں نے اس سے عرض کیا ’’ آپ آج کل کون سی کتاب پڑھ رہے ہیں‘‘ اس نے جواب دیا ’’ مجھے کتابوں میں زیادہ انٹرسٹ نہیں‘‘ میں نے پوچھا ’’آپ نے آخری فلم کب دیکھی تھی‘‘ اس نے جواب دیا ’’ میں نے کل ہی شادی کے سائیڈ افیکٹس دیکھی ہے‘‘ میں نے پوچھا ’’ آپ نے ہالی ووڈ کی کوئی فلم دیکھی ہو‘‘ اس نے جواب دیا ’’ ٹائی ٹینک‘‘ میں نے پوچھا ’’ اس کے بعد‘‘ اس نے انکار میں سر ہلا دیا‘ میں نے پوچھا ’’ آپ کون سا اخبار پڑھتے ہیں‘‘ اس نے برا سا منہ بنایا اور انکار میں گردن ہلا دی‘ میں نے پوچھا ’’صحافت کا کوئی ایک کام جو آپ اسی وقت کر سکتے ہوں‘‘ وہ حیرت سے میری طرف دیکھنے لگا‘ میں نے عرض کیا ’’ مثلاً خبر بنا سکتے ہوں‘ مضمون لکھ سکتے ہوں‘ اسٹوری بورڈ بنا سکتے ہوں‘ ریسرچ کر سکتے ہوں‘ خبر ایڈٹ کر سکتے ہوں‘ سرخیاں بنا سکتے ہوں‘ کاپی جڑوا سکتے ہوں اور اخبار کا لے آؤٹ تیار کر سکتے ہوں‘‘ اس نے انکار میں سر ہلا دیا‘ میں نے عرض کیا ’’ آپ صحافت سے باہر نکلیں‘ آپ اس کے علاوہ کوئی کام جانتے ہو مثلاً آپ کو بجلی کی وائرنگ آتی ہو‘ آپ ٹونٹی ٹھیک کر سکتے ہوں‘ آپ دیوار پینٹ کر سکتے ہوں‘ آپ گاڑی ٹھیک کر سکتے ہوں‘ آپ کو اردو ٹائپنگ آتی ہو‘ آپ ریکارڈ مینٹین کر سکتے ہوں یا آپ کمپیوٹر ٹھیک کر سکتے ہوں‘‘ اس نے انکار میں سر ہلا دیا‘ میں نے اس سے پوچھا ’’ کیا آپ کو ڈرائیونگ آتی ہے؟‘‘ اس نے انکار میں سر ہلا دیا‘ میں نے پوچھا ’’ کیا آپ رائفل چلا سکتے ہیں‘‘ اس نے انکار کر دیا‘ میں نے پوچھا ’’ کیا آپ تاش کھیل سکتے ہیں‘‘ اس کا جواب نفی میں تھا‘ میں نے اس سے پوچھا ’’ دنیا کا کوئی ایک کام جس کے بارے میں آپ کو پورا یقین ہو‘ یہ آپ آنکھیں بند کر کے کر سکتے ہیں‘‘ وہ سوچ میں پڑھ گیا‘ میں اس کے چہرے کو دیکھتا رہا‘ اس کے چہرے پر پسینے کے سوا کچھ نہیں تھا‘ میں اپنے سوالوں اور اس کی حالت پر شرمندہ ہو گیا۔
میں نے اس سے عرض کیا ’’بیٹا آپ کو اگر کچھ نہیں آتا تو پھر آپ کو نوکری کیوں دی جائے‘‘ نوجوان نے جواب دیا ’’ سر میں سیکھ جاؤں گا‘ آپ بس مجھے موقع دیں‘‘ میں نے قہقہہ لگایا اور اس سے عرض کیا ’’ یہ جواب ثابت کرتا ہے‘ آپ کی سولہ سال کی تعلیم اور فرسٹ کلاس فرسٹ ڈگری نے آپ کو کچھ نہیں سکھایا‘ آپ یونیورسٹی سے کچھ سیکھ کر نہیں آئے اور آپ کی ڈگری محض ایک ٹکڑے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی‘‘ وہ خاموش رہا لیکن اس کا چہرہ غصے سے تپ رہا تھا‘ اس کے گالوں پر جیسے آگ لگی ہوئی تھی‘ وہ چند لمحے خاموش رہا اور اس کے بعد بولا ’’ کیا آپ گھر سے سیکھ کر آئے تھے‘‘ میں نے انکار میں سر ہلایا اور آہستہ آواز میں جواب دیا ’’نہیں! میں نے یونیورسٹی دور میں سیکھنا شروع کیا تھا‘ میں نے ایم اے میں فیصلہ کر لیا تھا میں نے کالم نگار بننا ہے چنانچہ میں دن کے وقت یونیورسٹی میں پڑھتا تھا‘ شام کے وقت بہاولپور کے ایک اخبار میں مفت کام کرتا تھا‘ خبر بنانا سیکھتا تھا‘ سرخیاں لگاتا تھا اور کالم لکھتا تھا‘ میں روز آدھی کتاب بھی ختم کرتا تھا چنانچہ میں جب پہلی نوکری کے لیے گیا اور مجھ سے غیر ملکی‘ اردو اور انگریزی کے پانچ پانچ کالم نگاروں کے نام پوچھے گئے تھے تو میں نے چند منٹوں میں سارے نام لکھ دیے تھے‘‘ اس نے مسکرا کر میری طرف دیکھا اور پوچھا ’’ آپ یقینا بجلی کی وائرنگ‘ دیواروں پر پینٹ اور موٹرمکینک کا کام بھی جانتے ہوں گے‘‘ میں اس کا طنز بھانپ گیا‘ میں نے ہاں میں سر ہلایا اور عرض کیا‘ میں ساتویں اور آٹھویں کلاس میں شام کے وقت ریڈیو اور ٹیپ ریکارڈر ریپیئر کرنے والے ایک شخص کے پاس جاتا تھا‘ میں نے آٹھویں جماعت میں یہ کام بھی سیکھ لیا اور بجلی کی وائرنگ بھی‘ میں بچپن میں دیواروں پر پینٹ بھی کر لیتا تھا اور میں نے ایف ایس سی میں رائفل کھولنے‘ جوڑنے اور نشانہ لینے کی ٹریننگ بھی لے لی‘ میں سکاؤٹ بھی بن گیا‘ میں نے کیمپنگ بھی کی اور میں نے بی اے میں ڈرائیونگ اسکول سے گاڑی چلانا بھی سیکھ لیا‘ میں گرمیوں کی چھٹیوں میں فری کوچنگ کلاسز لیتا تھا‘ میں چھوٹے بچوں کو پڑھانا سیکھتا تھا‘ میں نے آگ بجھانے کا ڈپلومہ بھی لیا اور میں نے سلائی مشینیں ٹھیک کرنے کا کورس بھی کیا‘‘۔
اس نے قہقہہ لگایا اور بڑے دلچسپ ریمارکس دیے‘ اس کا کہنا تھا ’’ آپ ایک کنفیوژ شخصیت ہیں‘‘ میں نے بھی قہقہہ لگایا اور عرض کیا ’’ ہاں آپ کہہ سکتے ہیں لیکن میں نے بچپن اور جوانی میں وقت ضایع نہیں کیا‘ میں سیکھتا رہا‘ میں آج بھی سیکھ رہا ہوں‘ یہ سوچ کر سیکھ رہا ہوں‘ مجھے اگر کسی دن صحافت چھوڑنی پڑ گئی تو میرے پاس کوئی نہ کوئی ایسا ہنر ضرور ہونا چاہیے جو مجھے کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بچا سکے‘ میں سلائی مشینیں ٹھیک کرنے کی دکان پر کام کر لوں‘ میں آگ بجھانے والی کمپنی میں کام کر لوں‘ میں بجلی کی وائرنگ کر لوں‘ دیواروں پر پینٹ کر لوں یا پھر کسی کا ڈرائیور بن جاؤں مگر بھکاری نہ بنوں‘ مجھے کسی انسان کے سامنے شرمندہ نہ ہونا پڑے‘‘ وہ نوجوان تھوڑا سا شرمندہ ہو گیا‘ میں نے اس سے عرض کیا ’’ میری شدید خواہش ہے‘ میں روز کسی نہ کسی یونیورسٹی جاؤں اور وہاں موجود طالب علموں سے ایک سوال کروں‘ کیا تم کوئی ایسا ہنر جانتے ہو جو تمہیں فوری طور پر روزی دے سکے‘ تم جس کی مدد سے اپنا بوجھ اٹھا سکو‘ جس جس نوجوان کا جواب ہاں ہو اسے ڈگری دے دی جائے اور جو انکار کرے اسے ڈگری کے لیے نااہل قرار دے دیا جائے کیونکہ جو ڈگری آپ کو ہنر نہیں دیتی‘ وہ ڈگری کاغذ کے معمولی ٹکڑے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی‘ وہ محض وقت کا ضیاع ہوتی ہے۔

Trademark Applying (After getting Search Report)Subscribe my channel to get more informative videos.www.youtube.com/awai...
04/08/2020

Trademark Applying (After getting Search Report)
Subscribe my channel to get more informative videos.
www.youtube.com/awaischaudhry

In this video i will demonstrate you how you can apply trademark online in pakistan. There is no need to pay extra fees to any person, Just watch this tutori...

Address

Hasilpur

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Awais Chaudhry posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Awais Chaudhry:

Share

Category