27/06/2022
ہم جیسے بے حس اور ہری پور کا خوددار سفید پوش
تم سن کے کیا کرو گے کہانی غریب کی
جو سن کے سن رہا ہے کہیں گے اسی سے غم
کبھی گرمی میں اے سی گاڑی کی خوشبودار ٹھنڈک میں سڑک پر دیکھتے ہوئےتحصیل روڈ سرکلر روڈ یا ڈھینڈہ چوک پر آپ نے ان بابا جی کو دیکھا ہو گا ایک پرانا سا جھولا لیے سڑکوں پر گھومتے ہیں کہ بچے اس پر بیٹھیں اور حلال و خودداری کے چند روپے رزق حلال کی شکل میں گھر لے جا کر اپنے اہل و عیال کو کھلا سکیں
میں کسی اور سے کیا گلہ کروں ایسے مفلسوں کی طرف دھیان نہ دینے والے ان بے حسوں میں میرا بھی شمار ہے لیکن کل ایک دوست نے آنکھیں کھولیں افسوس خود پر اور ان پر جنھوں نے کبھی انکو دیکھ کر نہ سوچا کہ اسی سالہ یہ بوڑھا جس سے بیماریوں کی وجہ سے چلنا تک دشوار ہے جو کسی سے بھیک نہیں مانگتا لیکن کیا مجبوری ہے جو اس عمر میں سڑکوں پر جھولا گھسیٹ رہا ہے
کروڑ پتی ارب پتی روزانہ ہزاروں کمانے والے ہری پور کے شہر والوں نے کبھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کیا اس سے بڑا سفید پوش باعزت باکردار اور خوددار کوئ ہو سکتا ہے یہ اس عمر میں اپنی تین معصوم بچیوں کی حلال سے کفالت کرنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے کرائے کا بجلی گیس سے محروم گھر اور تین بچیاں کیسے جی رہی ہیں
کتنے دن ہوں گے اس کروڑ پتیوں کے شہر میں اسکی بچیاں بھوکی سوئ ہوں گی لیکن اس نے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھلایا قربانی کے لیے لاکھوں کے جانور خریدنے کی دوڑ میں لگے ہری پور کے کروڑ پتی ایک لمحے کو سوچیں کیا جس شہر میں معصوم بچے فاقوں کا شکار ہوں انکی قربانیاں قبول ہوں گی
میری اللہ اور آخرت کا خوف رکھنے والے صاحب حیثیت لوگوں سے درخواست ہے ان بابا جی کی مدد کریں اور ان جیسے سفید پوشوں کا بھرم قائم رہنے دیں
پوسٹ پر لائق کمنٹ کے بجائے اپنی حیثیت کے مطابق ان کی اور ان جیسوں کی مدد کریں عید کی خوشیوں میں انکو اپنے ساتھ شامل کریں