RCC رحیم پور کے نمایاں
کرکٹ کلب میں خوش
آمدید!

04/08/2024

DCC 🆚 RCCیوں تو یہ دو میچوں کا مقابلہ ایک ایک سے برابر رہا لیکن ایک انجان گراؤنڈ میں جا کر بلکل اجنبی پچ پر شکست سے دو چ...
16/07/2024

DCC 🆚 RCC

یوں تو یہ دو میچوں کا مقابلہ ایک ایک سے برابر رہا لیکن ایک انجان گراؤنڈ میں جا کر بلکل اجنبی پچ پر شکست سے دو چار نہ ہونا رحیم پور کے لیے جیت سے کم نہ تھا۔
اگر نظر ڈالیں پہلے میچ پر تو اس سے پہلے کہ جولائی کی گرمی میں کوئی ٹھنڈی سانس لیتے، میزبان ٹیم رحیم پور کے بالرز پر بھوکے شیر کی طرح جھپٹ پڑی۔ پہلے ہی اوور میں حسن شاہ کے پانچ چھکوں کا پیچھا دوسرے اوور کے چار چھکوں نے کیا۔ ابھی علی حمزہ نے تیسرے اوور میں کچھ میچ میں واپسی کروائی ہی تھی کہ چوتھے اوور میں پھر حلال پور کے بیٹسمین مسرور نے چار چھکے جڑ دیے۔ پانچواں اوور شانی نے ہاتھ نہیں کھولنے دیے تو چھٹے اوور میں اچھی گیند بازی کے باوجود بیس رنز لگ گئے۔ یوں یہ 6 اوور میں 120 رنز کا پہاڑ کھڑا تھا جسے دیکھ کر رحیم پور کی ٹیم حکمت عملی بنانے سے بھی قاصر تھی۔ بالآخر اللّٰہ کے نظام پر یقین رکھتے ہوئے اوپنر تو بھیجے گئے لیکن بال تو جیسے اُن سے چھپن چھپائی کھیل رہی تھی۔ یا تو بال کا اچھال اُسے ہواؤں میں تیراتا لے جاتا یا پھر وہ کریز کی گہرائیوں میں ڈوب جاتی۔ یوں پہلے اوور کے اختتام پر بیٹسمینوں کے چہرے پر پُراسرار مسکراہٹ اور ٹیم کی دامن میں محض چار رنز کے علاوہ کچھ نہ تھا۔ جب دوسرے اوور میں بھی کھیل کچھ مختلف نہ ہوا تو ٹیم کو جیتنے کی اُمید اتنی ہی نظر آرہی تھی جتنی بیٹسمینوں کو بال نظر آرہی تھی۔ رحیم پور کے بیٹسمین رنز میں کچھ خاص خلل ڈالے بغیر آ جا رہے تھے کہ اچانک ٹیم کے کپتان مظہر رانجھا نے اس ڈوبتی کشتی کے پتوار اپنے ہاتھوں میں لیے۔ اُن کی شاندار اننگز کی بدولت اسکور پانچ اوور میں چوہتر تک جا پہنچا۔ آخری اوور میں زین نے بھی گیند کو آسمان کی سیر کروائی لیکن تب تک بہت دیر ہوچکی تھی۔ یوں رحیم پور اس ہدف کے تعاقب میں ستاسی رنز تک محدود رہی۔

رحیم پور کی ٹیم کا دل تو ٹوٹا تھا مگر اعصاب مضبوط تھے۔ اس ٹیم کی امتیازی خصوصیت ہی یہ تھی کہ اسے گرنے کے بعد سنبھلنا آتا تھا اور یوں انہوں نے پھر سَر جوڑے اور کھویا ہوا اعتماد اکٹھا کیا۔ اس بار سِکہ بھی ان کے حق میں گِرا اور قسمت بھی۔ مایہ ناز بیٹسمین زین آصف رانجھا اور مظہر رانجھا نے جہاں سے اختتام کیا تھا عین اسی جگہ سے شروعات کی مگر اس بار برق رفتاری اور جذبے میں غضب کی شدت تھی۔ پہلے ہی اوور میں پچیس رنز پڑنے کے بعد میزبان ٹیم بوکھلاہٹ کا شکار تھی۔ مگر اُن کے لیے دوسرا اوور بھی بلکل مختلف نہ تھا۔ بال کو پچ پر کہیں آرام کا موقع نہ مل رہا تھا یا تو پھر وہ گراؤنڈ سے باہر ہوتی یا پھر پچ سے باہر کروانا پڑتی یوں متعدد بار وائیڈ اور نو بال ہوئیں۔ رنز کا یہ تسلسل بڑھتا گیا اور رحیم پور نے چار اوور میں ایک پُر اطمینان چھیاسٹھ رنز کا ہدف مقرر کر لیا۔ اس بار رحیم پور نے ایک مکمل حکمت عملی کے ساتھ آغاز کیا لیکن حسن شاہ کی نظر بال سے نہیں ہٹی اور وہ اُسے تین بار باؤنڈری عبور کروانے میں کامیاب ہوئے جس سے پہلے اوور میں ہی اُن کا اسکور بائیس رنز تک جا پہنچا۔ اٗس وقت یہ باقی کے چوالیس رنز بائیں ہاتھ کا کھیل معلوم ہورہے تھے اور میزبان ٹیم اپنی جیت کی اُمیدوں میں مگن تھی کہ اچانک رحیم پور کا کم عمر مگر ماہر بالر شانی اُن پر ناگہانی آفت کی طرح ٹوٹ پڑا۔ پہلے نعمان کو اپنے شکنجے میں پھنسایا جو عبد الرحمن کے ایک ناقابل یقین کیچ کے علاوہ ممکن نہ تھا۔ اُس کے بعد اُن کی سست رفتار گیند نے حسن شاہ کو تیزی سے چلتا کیا اور پھر اگلی ہی گیند پر عبد الرحمن کیے کیچ کی مدد سے نعمان بھی واپس جا چکا تھا۔ یوں پلک جھپکتے ہی سب کچھ بدل چکا تھا۔ شانی کے سامنے یہ مرکزی کردار ریت کی دیوار ثابت ہوئے۔ اس تاریخی سپیل سے رحیم پور کی جیت یقینی ہوچکی تھی۔ میزبان ٹیم اپنی سانسیں پوری کرتی چار اوور میں محض چالیس رنز تک پہنچ سکی اور یوں فتح رحیم پور کے نام ہوئی۔ ذیشان آصف کو4اوور میں 35رن اور 7وکٹ کی وجہ سے مین آف دی سیریز دیا گیا

09/07/2024

Well Come to RCC
Raheem pur Circket Club💯

Address

Halalpur
HALALPUR TEHSIL KOTMOMIN DISTT. SARGODHA

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when RCC posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category