16/05/2023
تاجِ برطانیہ کے نام لیوا انگلستان کی ٹیم پاکستان کے تاریخی دورے پر سات ٹی ٹونٹی میچز کی سیریز کھیلنے کیلیے روشنیوں کے شہر کراچی میں ڈیرے ڈال چکی ہے۔
یادش بخیر کہ انگلستان کی ٹیم نے 26 سال کے طویل اور صبر آزما انتظار کے بعد پاکستان کے پرجوش شائقین کو محظوظ کرنے کیلیے دورے کی حامی بھری تو پورے وطن کے شائقینِ کرکٹ کھلکھلا اٹھے ۔
اب سیٹی بھی بجے گی، میدان بھی سجے گا، کھیل بھی جمے گا اور تالی بھی بجے گی ۔
یہ بات ملحوظِ خاطر رہے کہ پاکستان اور انگلینڈ کی ٹیمیں تاریخ میں پہلی بار آئی سی سی کے فُل ممبر ہونے کی حیثیت سے سات ٹی ٹونٹی میچز کی سیریز میں مدمقابل آ رہی ہیں ۔
اس سے قبل دونوں ٹیمیں ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میں 21 بار آمنا سامنا کر چکی ہیں، جس میں انگلینڈ کا پلڑا واضح بھاری ہے، انگلینڈ نے 14 میچز میں فتح حاصل کی جبکہ پاکستان کو چھ میچز میں کامیابی ملی، ایک میچ بے نتیجہ رہا ۔
سکواڈ پر نظر دوڑائیں تو دونوں ٹیمیں بہترین اور متوازن تیر اپنے ترکش میں سجا کر میدان میں پہنچی ہیں۔
اوپننگ بلے باز میں دنیا کے نمبر ون کھلاڑی محمد رضوان آرام کر رہے ہیں تو ان کا خلا پر کرنے اور بابر اعظم کا ساتھی بننے کے مضبوط امیدوار حیدر علی ہیں، کپتان بابر کو اپنی روٹھی ہوئی فارم کو منانا ہے تو حیدر علی کو اپنی کلاس اور کارکردگی سے اپنی سلیکشن کو ثابت کرنا ہے، اس کیلیے ان دونوں جوانوں کے پاس یہ شاندار موقع ہے کہ وہ ہوم گراؤنڈ پر اپنے ہی شائقین اور اپنی ہی پچز کا درست اور صائب استعمال کرتے ہوئے اپنا آپ منوا سکیں ۔ انگلینڈ کی بات کریں تو ان کے پاس ٹیم میں کافی عرصے بعد نظر آنے والے الیکس ہیلز ہوں گے جو باری کے طوفانی آغاز کیلیے مشہور اور چہار دانگ عالم میں یہ شو کروا چکے ہیں، ان کے ساتھی ہو سکتے ہیں عالمی نمبر دو ڈیوڈ مالان جو ہر طرح کی کنڈیشن اور حالات میں تیز اور دھیمی باری کھیل سکتے ہیں ۔
ون ڈاؤن میں پاکستان کے پاس شان ِ پاکستان شان مسعود ہیں جو اپنی زندگی کی بہترین فارم سے گذر رہے ہیں، ان کی کارکردگی پی ایس ایل، قائداعظم ٹرافی اور پھر انگلستان کی سرزمین پر کاؤنٹی کھیلتے ہوئے مسلّم ہو چکی ہے، امیدِ واثق ہے کہ پاکستان کے لیے کھیلتے ہوئے اپنی اسی کارکردگی کا مظاہرہ جاری رکھیں گے۔
شان کے بعد مڈل آرڈر میں افتخار احمد، خوشدل شاہ اور آصف علی ہیں جو کسی بھی باؤلنگ لائن کا تیاپانچہ کرنے اور کسی بھ