19/04/2026
گوجرانوالہ 19 اپریل 26ء(پرائم سپورٹس ڈاٹ پی کے/رانا نزیر حسین) پاکستان ہاکی فیڈریشن میں آسٹریلیا ٹور پرو ہاکی لیگ کے بعد اچانک پاکستان ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں کی آسٹریلیا میں غیر معیاری رھاش اور کھانے پینے کے متعلق شکایت ٹیم کے کپتان عماد شکیل بٹ کی طرف سے پاکستان پہنچتے ہی اںیر پورٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا پر وائرل ہوںی اس کی وجہ سے ایک جھٹکے میں ہی پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر و جنرل سیکرٹری کو وزیراعظم پاکستان کے سخت نوٹس لینے کی وجہ سے گھر جانا پڑ گیا جو کہ شاںد پاکستان ہاکی فیڈریشن میں سالوں تک بیٹھنے کی امید لگائے بیٹھے تھے اور حالات بھی ان کے مکمل کنٹرول میں تھے لیکن ایک حقیقت ھے کہ اللہ جسے چاہے ایک منٹ میں عرش سے فرش اور فرش سے عرش پر بیٹھا دے یہ سب اللہ پاک کی صفات میں سے ایک صفت ھے اور وہ بہتر نظام چلانے والی ہستی ھے۔پاکستان ہاکی فیڈریشن میں رجیم تبدیلی کے فوری بعد وزیراعظم پاکستان کی ہدایت پر جناب مہی الدین وانی صاحب کو ایڈہاک پریزیڈنٹ پاکستان ہاکی فیڈریشن لگا دیا گیا جنہوں نے آتے ہی اپنی عقل و دانش سے پاکستان ہاکی فیڈریشن کے عبوری سیٹ میں اہم تبدیلیاں کیں جس میں پورے پاکستان سے چن چن کر سابق اولمپیئن انٹرنیشنل کھلاڑیوں کی سلیکشن کمیٹی بناںی گی۔پاکستان سنیر جونیر و انڈر 18 ہاکی ٹیموں کے ہیڈ کوچ اور کوچیز نامزد کیے گئے جنہوں نے ایڈہاک پریزیڈنٹ جناب مہی الدین وانی صاحب کی گاںیڈ لاںن کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی فوری ڈیوٹیاں سرانجام دینا شروع کر دیں جس کی مثال کراچی ۔لاہور میں پاکستان سنیر و جونیر کے اوپن ٹراںل ہوچکے ہیں اور اب چند روز بعد شاںد پشاور میں بھی اس سلسلہ میں ٹراںل ہونگے۔اس کے ساتھ ہی اسلام آباد میں جونیر نیشنل یوتھ انڈر-18 ہاکی چیمپئن شپ بھی منعقد کی گئی جس کا آج فاںنل میچ ھے جس میں پورے پاکستان کے جونیئر انڈر 18 کھلاڑیوں کو اپنے جوھر دیکھانے کا موقع ملا جسے ان ٹیموں کے نامزد کوچیز اور سلیکشن کمیٹی نے بھی بڑی باریک بینی سے دیکھا اور جو کھلاڑی اس چیمپین شپ میں رھ گیے ان کے اوپن ٹراںل لے کر ان کو بھی اپنے جوھر دیکھانے کا بھرپور موقع فراہم کیا گیا جس کے نتیجے میں بہت جلد کیمپ بھی لگائے جانے کی شنید ھے۔موجودہ ایڈہاک پریزیڈنٹ جناب مہی الدین وانی صاحب نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے اور اپنی عقل و دانش سے جو اس سلسلہ میں اب تک فیصلے کیے ہیں میری ایک بطور گراس روٹ لیول پر کام کرنے والے ہاکی لور کی حیثیت سے پاکستان کے تمام ہاکی سے وابستہ درد دل رکھنے والے دوستوں سے گزارش ھے کہ چاہے ان کا سیاسی لحاظ سے داںیں بازو یا باںیں بازو کے سیاسی دھڑوں سے تعلق ہو وہ جو بھی موجودہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کی جانب سے قومی کھیل ہاکی کو بہتر ٹریک پر چلانے کے لیے سٹاف لگایا گیا ھے اپنی پسند نا پسند کو پس پشت ڈالتے ہوئے قومی کھیل ہاکی کے وقار کے لیے ان کو صدق دل سے اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے قومی کھیل ہاکی کی ترقی کے لیے میکسیمم ٹائم دیا جاے اور ان کی اس سلسلہ میں بھرپور سپورٹ کی جاے اور اگر کوںی اس میں مزید مثبت اضافہ ممکن ہو تو اس کی مثبت انداز میں تجویز دی جاے تاکہ قومی کھیل ہاکی میں بہتری دیکھنے کو ملے اور ٹیمپریچر ڈاؤن ہو۔جن سابق لیجنڈز کو زمہ داریاں سونپی گئی ہیں امید ھے وہ دن رات ایک کرکے غیر سیاسی رھ کر میرٹ پر فیصلے کرکے قومی کھیل کو عروج دلانے میں اپنا کردار ادا کریں گے اور اپنی سابقہ ساکھ پر بھی حرف نہی آنے دیں گے اور ہم یہ بھی امید رکھتے ہیں کہ ہمارے جو لیجینڈ سابق اولمپیئن انٹرنیشنل کھلاڑی جو کہ ماضی میں پاکستان کا پوری دنیا میں نام روشن کر چکے ہیں وہ اپنے منصب کے ساتھ انصاف کریں گے اور اگر خدانخواستہ ان کو جو ڈیوٹیاں سونپی گئی ہیں اگر وہ ان کو اس کے معیار کے مطابق ادا نہ کرسکے تو وہ ایک اچھی روایت کو مثال بنا کر خود ہی ان عہدوں سے مستعفی ہو جائیں گے بجاے اس کے کہ کوںی ان کو فارغ کرے یا ان پر کوںی انگلی اٹھاے اس سے ایک فاںدہ یہ ہوگا کہ کمپیٹیشن اور پراگس کی دوڑ شروع ہوگی اور جو رھ گیے ہیں اور جو شاںد ان سے بھی بڑھ کر ان منصبوں پر اچھا پرفارم کر سکتے ہوں ان کو بھی مسقبل میں موقع میسر ہوگا میں آخر میں پورے پاکستان سے ہاکی سے وابستہ افراد سے ریکوسٹ کروں گا کہ جو ہاکی کو بہتر ٹریک پر چلانے کے لیے سٹاف لگایا گیا ھے اسے کم از کم ایک سال ضرور ملن چاہیے اور وہ بھی بغیر کسی تنقید کے تاکہ جن کو زمہ داریاں ملی ہیں وہ بغیر کسی پریشر اور تنقید کے اپنا کام بہتر انداز میں کرسکیں۔https://www.facebook.com/PrimeLiveSports.Pk
𝐖𝐞𝐥𝐜𝐨𝐦𝐞
𝐏𝐫𝐢𝐦𝐞 𝐒𝐩𝐨𝐫𝐭'𝐬.𝐏𝐤
𝐂𝐄𝐎: 𝐑𝐚𝐧𝐚 𝐍𝐚𝐳𝐢𝐫 𝐇𝐮𝐬𝐬𝐚𝐢𝐧