01/06/2026
میں ابھی تک مرا کیوں نہیں؟
اس سوال کا جواب پوسٹ پڑھنے کے بعد معلوم ہوا گا۔
اسٹیمیٹس مورائٹس (Stamatis Moraitis) کو 1976 میں امریکہ کے 9 نامور ڈاکٹروں نے بتایا کہ وہ صرف 6 ماہ زندہ رہ سکتا ہے۔
اسٹیمیٹس مورائٹس میں پھیپھڑوں کے ٹرمینل کینسر کی تشخیص ہوئی اور ڈاکٹروں نے تصدیق کی کہ ٹیومر ناقابل سرجری ہے۔ کیموتھراپی تجویز کی گئی تھی، لیکن لاگت اور تشخیص بہت ہی بھیانک تھی۔
اسٹیمیٹس مورائٹس نے ہسپتال میں بیماری سے لڑنے کے بجائے، یونانی جزیرے Ikaria میں اپنے گھر واپس جانے کا فیصلہ کیا، تاکہ وہ خاندان میں آخری سانس لے کر مر جائے اور کم از کم اس کی تدفین ہی تھوڑے پیسوں میں ہو سکے۔
وہاں پہنچ کر اس نے موت کا انتظار کرنے کے بجائے پرانے دوستوں کے ساتھ ہنسنا مسکرانا، دیسی غذا کھانا اور ٹینشن فری زندگی گزارنا شروع کر دی۔ اس میں قدرتی صلاحیتیں بیدار ہوگئی اور اس کو دوپہر میں نیند آنے لگی۔ اس نے اپنے باغ کی دیکھ بھال کی۔ پہاڑیوں کی سیر کی۔ رات کو دوستوں کے ساتھ گھر کی شراب پی۔ اس نے پھلیاں، جنگلی سبزیاں، زیتون کا تیل، بکری کا دودھ، اور گھر کا سادہ کھانا کھایا۔ کوئی رش نہیں تھا۔ کوئی کارپوریٹ تناؤ نہیں تھا۔ کوئی پروسیسرڈ فوڈ نہیں تھا۔ قدرت کا کرشمہ دیکھیے! 6 ماہ گزرے، پھر سال بیتے اور دہائیاں گزر گئیں، مگر موت نے اس کے دروازہ پر دستک نہیں دی۔ اس کی صحت بہتر ہوتی گئی اور کینسر کی تمام علامات ختم ہو گئیں۔
بالآخر، وہ 25 سال بعد اپنے ڈاکٹروں سے ملنے کے لیے امریکہ واپس آیا تاکہ ان ڈاکٹروں کو ڈھونڈ کر پوچھے کہ "میں مرا کیوں نہیں؟" تو اسے پتا چلا کہ موت کی تاریخ دینے والے وہ 9 کے 9 ڈاکٹر خود اس دنیا سے رخصت ہو چکے تھے۔
اسٹیمیٹس کینسر کے باوجود مزید 37 سال زندہ رہا۔ یہ سچا واقعہ آج کی ٹینشن بھری دنیا کے لیے زبردست سبق ہے کہ ذہنی سکون، سادہ خوراک اور اپنوں کے ساتھ ہنسنا مسکرانا ہی بڑی سے بڑی بیماری کا اصل علاج ہے۔