Ikram Afzal

Ikram Afzal Ikram Afzal a famous player if Gilgit Baltastan Pakistan. who was selected to pay for Lahore Qalanders in PSL (Pakistan Supper League) 2018.

HE is Right arm Leg Spinner bowler. According to him Cricket Is his life.

کسی کی بددعاؤں سے نہیں بلکہ ان کے صبر سے ڈرنا چاہیے، کیونکہ بددعا تو کبھی غصے کے ایک لمحے میں زبان سے نکل جاتی ہے، مگر ص...
26/08/2026

کسی کی بددعاؤں سے نہیں بلکہ ان کے صبر سے ڈرنا چاہیے، کیونکہ بددعا تو کبھی غصے کے ایک لمحے میں زبان سے نکل جاتی ہے، مگر صبر وہ خاموش کیفیت ہے جس میں انسان بہت کچھ برداشت کرنے کے بعد اپنے معاملے کو اللہ کے حوالے کر دیتا ہے۔ وہ بار بار شکایت نہیں کرتا، ہر جگہ اپنی کہانی نہیں سناتا، کسی کو برا ثابت کرنے کے لیے دروازے نہیں کھٹکھٹاتا، بس خاموش ہو جاتا ہے۔ اور انسان کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ خاموشی کا مطلب یہ نہیں کہ سامنے والے کو تکلیف نہیں ہوئی، کبھی کبھی خاموشی اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ انسان نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اب وہ اپنا مقدمہ لوگوں کی عدالت میں نہیں بلکہ اللہ کی عدالت میں لے کر جائے گا۔ ہم اکثر کسی کے آنسو دیکھ کر سمجھتے ہیں کہ ہم نے اسے توڑ دیا، مگر یہ نہیں سوچتے کہ کچھ لوگ رونے کے بجائے خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ وہ اپنے دکھ کو لفظ نہیں دیتے، اپنی بے عزتی کا چرچا نہیں کرتے، اپنی قربانیوں کا حساب نہیں مانگتے، بس دل کے اندر ایک دروازہ بند کر لیتے ہیں۔ اور پھر ایک وقت آتا ہے جب وہی شخص جو کبھی آپ کے لیے ہر ممکن کوشش کرتا تھا، آپ سے کچھ مانگنا چھوڑ دیتا ہے، آپ کی وضاحتیں سننا چھوڑ دیتا ہے، آپ کی واپسی کا انتظار چھوڑ دیتا ہے اور سب سے بڑھ کر آپ سے امید رکھنا چھوڑ دیتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تعلق شاید ختم نہیں ہوتا، مگر انسان کے اندر اس تعلق کی اہمیت ضرور ختم ہونے لگتی ہے۔ کسی کے صبر کو اس کی کمزوری سمجھنا بہت بڑی غلطی ہے۔ کچھ لوگ اس لیے خاموش رہتے ہیں کیونکہ وہ بدلہ نہیں چاہتے، وہ صرف سکون چاہتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں، ہر الزام کا دفاع کرنا ضروری نہیں، ہر غلط انسان کو اپنی صفائی دینا ضروری نہیں۔ وہ وقت کو اپنا گواہ بنا دیتے ہیں۔ ایسے لوگ بظاہر ہار جاتے ہیں، مگر اندر سے ایک عجیب طاقت پیدا کر لیتے ہیں۔ انہوں نے سیکھ لیا ہوتا ہے کہ ہر جنگ لڑنے کے قابل نہیں ہوتی اور ہر انسان کو اپنی زندگی میں رکھنے کے قابل نہیں سمجھا جا سکتا۔ کبھی کسی نے آپ کو بہت محبت دی ہو، آپ کے لیے دعائیں کی ہوں، آپ کی غلطیاں برداشت کی ہوں، آپ کی عزت بچائی ہو اور آپ کے برے وقت میں آپ کا ہاتھ پکڑا ہو، تو اس کے صبر کا امتحان نہ لیں۔ کیونکہ محبت کرنے والا انسان بہت کچھ برداشت کر لیتا ہے، مگر مسلسل بے قدری کے بعد اس کے اندر بھی ایک حد آ جاتی ہے۔ وہ ایک دن غصے سے نہیں، سکون سے چلا جاتا ہے۔ نہ شور کرتا ہے، نہ بددعا دیتا ہے، نہ لوگوں کو جمع کر کے اپنی داستان سناتا ہے۔ بس خاموشی سے فاصلے بنا لیتا ہے۔ اور پھر آپ کو اس کی کمی اس وقت محسوس ہوتی ہے جب آپ اسے آواز دیتے ہیں اور دوسری طرف وہ پہلے جیسا جواب نہیں دیتا۔ اس لیے کسی کے ساتھ زیادتی کرنے سے پہلے یہ مت سوچیں کہ "یہ تو مجھے معاف کر دے گا"، بلکہ یہ سوچیں کہ شاید وہ معاف تو کر دے، مگر دوبارہ وہی شخص نہ رہے۔ معافی کا مطلب ہمیشہ یہ نہیں ہوتا کہ تعلق پہلے جیسا بھی رہ جائے گا۔ کبھی انسان دل سے معاف کر دیتا ہے، مگر اپنے سکون کے لیے فاصلے اختیار کر لیتا ہے۔ ہمیں لوگوں کے صبر کی قدر اس وقت کرنی چاہیے جب وہ ہمارے سامنے موجود ہیں، نہ کہ اس وقت جب وہ ہماری زندگی سے نکل چکے ہوں۔ کیونکہ دنیا میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ہمارے لیے خاموشی سے بہت کچھ کرتے ہیں، مگر ہم ان کی محبت کو اپنا حق سمجھ لیتے ہیں۔ ان کی برداشت کو کمزوری، ان کی خاموشی کو بے بسی اور ان کے نرم دل کو معمولی سمجھ لیتے ہیں۔ پھر ایک دن وہ تھک جاتے ہیں۔ اور جب ایک مخلص انسان تھک کر خاموش ہو جائے تو اسے دوبارہ پہلے جیسا بنانا ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا۔ اس لیے کسی کے دل کو اتنا مت دکھائیں کہ اسے اپنے رب کے سامنے صرف یہی کہنا پڑے کہ "یا اللہ، اب میں یہ معاملہ تیرے حوالے کرتا ہوں۔" لوگوں کے ساتھ نرمی کریں، کیونکہ آپ نہیں جانتے کہ کس دل نے آپ کی خاطر کتنی بار خود کو خاموش کیا ہے۔ کسی کے صبر کو آزمانے کے بجائے اس کے خلوص کی قدر کریں۔ کسی کے آنسوؤں سے پہلے اس کی خاموشی کو پڑھنے کی کوشش کریں۔ اور اگر کبھی آپ سے کسی کا دل دکھ جائے تو اپنی انا کو ایک طرف رکھ کر معافی مانگ لیں، کیونکہ بعض رشتے ایک معذرت سے بچ جاتے ہیں اور بعض رشتے ایک ضد کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتے ہیں۔ آخر میں انسان کو دوسروں کی بددعاؤں سے زیادہ اپنے ظلم، اپنی بے قدری اور اپنے رویے کے نتائج سے ڈرنا چاہیے۔ کیونکہ کسی کے صبر کی آخری حد بہت خاموش ہوتی ہے، مگر اس کے بعد آنے والی دوری پوری زندگی محسوس ہو سکتی ہے۔ 🖤

#بُلَند☝️🇵🇰
٨٨؟

 #مُنکر_اور_مُنافق_پوسٹ_سےدور_رہیں_🖕اگست صرف جھنڈے لہرانے اور نعرے لگانے کا نام نہیں، بلکہاپنے آپ سے ایک سوال کرنے کا دن...
11/08/2026

#مُنکر_اور_مُنافق_پوسٹ_سےدور_رہیں_🖕

اگست صرف جھنڈے لہرانے اور نعرے لگانے کا نام نہیں، بلکہ
اپنے آپ سے ایک سوال کرنے کا دن بھی ہے۔

14 اگست منانے سے پہلے ایک لمحے کے لیے اپنے ضمیر سے ضرور پوچھ لینا: کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟

کیا ہم ظلم کے سامنے خاموش نہیں؟
کیا ہم حق بات کہنے سے ڈرتے نہیں؟
کیا ہم اپنے فیصلے خود کرتے ہیں یا لوگوں کی سوچ کے غلام ہیں؟
کیا ہمارے دل نفرت، تعصب، جھوٹ اور مفاد کی زنجیروں سے آزاد ہیں؟

آزادی صرف سرحدوں کی حفاظت کا نام نہیں، آزادی اپنے کردار، سوچ اور ضمیر کو بھی آزاد رکھنے کا نام ہے۔

آؤ اس 14 اگست پر صرف وطن کی آزادی کا جشن نہ منائیں، بلکہ اپنے اندر کی غلامی کو بھی ختم کرنے کا عہد کریں۔
کیونکہ حقیقی آزادی وہ ہے جہاں انسان حق کے ساتھ کھڑا ہو، ضمیر کے مطابق جیے اور اپنے وطن کی عزت کو اپنی ذمہ داری سمجھے۔ 🇵🇰❤️

پاکستان زندہ باد 🇵🇰

#بُلَند☝️🇵🇰
٨٨؟

We accept a lifetime of loss but we do not accept anyone who clashes with our Ego,👑اگر میں انا پرست ہوں ،تو یہ لائنیں می...
06/08/2026

We accept a lifetime of loss but we do not accept anyone who clashes with our Ego,👑

اگر میں انا پرست ہوں ،تو یہ لائنیں میری حقیقت کا آئینہ ہیں ۔میں وہ شخص ہوں جو نقصان برداشت کر سکتا ہے ،مگر اپنی انا پر سمجھوتہ نہیں ۔میرے لیے رشتے اُس وقت تک قیمتی ہیں جب تک وہ میری عزت نفس کو نہیں چھوتے ۔میں کسی کے سامنے جھکنا پسند نہیں کرتا ،چاہے قیمت کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو ۔میں اپنی ذات کی حرمت پر پہرا دیتا ہوں ،اور جو اسے چیلنج کرے ،وہ میری زندگی سے ہمیشہ کے لیے مٹ جاتا ہے ۔ میں جانتا ہوں کہ دنیا مجھے مغرور کہتی ہے ،لیکن میں اسے یقین نفس کہتا ہوں ۔میں وہ ہوں جو اپنی خاموشی میں بھی وقار رکھتا ہے ،اور اپنی بات میں بھی زہر ۔میں اپنی انا کا قیدی نہیں ،بلکہ اُس کا محافظ ہوں ۔مجھے دوسروں کی تعریفوں یا وضاحتوں کی ضرورت نہیں ،کیونکہ میں خود جانتا ہوں کہ میری قدر کیا ہے ۔ میں محبت بھی کرتا ہوں تو اپنی شرائط پر ،اور رشتہ بھی نبھاتا ہوں تو وقار کے ساتھ ۔اگر کسی نے میری خودداری کو للکارا ،تو میں پیچھے نہیں ہٹتا —میں دور ہو جاتا ہوں ۔میں لوگوں کو کھو دیتا ہوں ،مگر خود کو نہیں ۔میری دنیا میں عزت سب سے بڑی کرنسی ہے ،اور انا اس کا خزانہ ۔میں وہ ہوں جو تنہا رہنا قبول کرتا ہے ،مگر اپنی انا کو جھکانا نہیں ۔کیونکہ میں ہار سکتا ہوں ،مگر ٹوٹ کر نہیں جیت سکتا ۔ اس کے باوجود ،راتوں میں جب چپ کا پردہ گرتا ہے ،تو کبھی کبھی مجھے احساس ہوتا ہے کہ یہ انا ایک خفاظتی دیوار کے سوا اور کچھ نہیں ایک دیوار جو مجھے ٹوٹنے سے بچاتی ہے مگر مجھے زندہ رشتوں سے جدا بھی کر دیتی ہے ۔میں جانتا ہوں کہ انا کے پیچھے نرم دل چھپا ہوتا ہے ؛مگر میں نے فیصلہ کر رکھا ہے کہ وہ نرم دل انہی کے سامنے آئے گا جو میری عزت جانیں گے ،ورنہ میرا فخر ہی میری پہچان رہے گا،🫶

#بُلَند☝️🇵🇰
٨٨؟

لوگوں کا مذاق مت اڑائیے، ان کی مجبوریوں، ناکامیوں، غربت، بیماری، شکل، لباس یا حالات پر ہنسنے سے پہلے ایک لمحہ ضرور سوچ ل...
02/07/2026

لوگوں کا مذاق مت اڑائیے، ان کی مجبوریوں، ناکامیوں، غربت، بیماری، شکل، لباس یا حالات پر ہنسنے سے پہلے ایک لمحہ ضرور سوچ لیجیے۔ زندگی ایک ہی جیسی نہیں رہتی، وقت ہمیشہ ایک سا نہیں ہوتا، اور حالات کسی کے دروازے پر دستک دینے سے پہلے اجازت نہیں لیتے۔ آج جس شخص کو آپ کمزور سمجھ کر نظر انداز کر رہے ہیں، ممکن ہے کل وہی آپ سے زیادہ مضبوط ہو، اور آج جس مقام پر آپ کھڑے ہیں، کل قسمت آپ کو وہاں سے بہت دور لے جائے۔

اس دنیا میں کسی کے زخم آنکھوں سے نظر نہیں آتے۔ بہت سے لوگ مسکراتے ضرور ہیں، مگر ان کے اندر ایسی جنگیں چل رہی ہوتی ہیں جن کا اندازہ دوسروں کو نہیں ہوتا۔ کسی کے آنسوؤں پر ہنسنا، کسی کی آزمائش کو تماشا بنانا یا کسی کی محرومی کو مذاق سمجھنا صرف اس شخص کو نہیں دکھ دیتا، بلکہ یہ ہمارے اپنے کردار کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ انسان کی اصل پہچان اس کی طاقت، دولت یا شہرت نہیں، بلکہ اس کا اخلاق ہے۔

تقدیر کا پہیہ خاموشی سے گھومتا ہے۔ جو آج دوسروں کے حالات پر قہقہے لگاتا ہے، ضروری نہیں کہ کل خود انہی حالات سے محفوظ رہے۔ اس لیے عاجزی اختیار کیجیے، دوسروں کے لیے آسانی پیدا کیجیے، زخمی دلوں پر نمک نہ چھڑکیے، کیونکہ زندگی کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ وقت کسی کا مستقل نہیں ہوتا۔ آج اگر اللہ نے آپ کو عزت، صحت، آسائش یا سکون دیا ہے تو اس پر شکر ادا کیجیے، غرور نہیں۔

یاد رکھیے، دوسروں کے دکھ پر ہنسنے والا انسان کبھی اندر سے مطمئن نہیں ہوتا، جبکہ دوسروں کے درد کو سمجھنے والا شخص ہمیشہ اللہ کی رحمت کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ اس لیے لوگوں کے زخموں کو کہانی نہ بنائیں، ان کی آزمائشوں کو مذاق نہ بنائیں، کیونکہ آپ نہیں جانتے کہ آنے والا کل آپ کی تقدیر میں کیا لکھ کر لا رہا ہے۔,❤️

#بُلَند☝️🇵🇰
٨٨؟

میں ہزار منافقوں کے درمیان بھی اکیلے قدم رکھنے کا حوصلہ رکھتا ہوں، کیونکہ مجھے لوگوں کی تعداد سے زیادہ اپنے کردار کی طاق...
29/06/2026

میں ہزار منافقوں کے درمیان بھی اکیلے قدم رکھنے کا حوصلہ رکھتا ہوں، کیونکہ مجھے لوگوں کی تعداد سے زیادہ اپنے کردار کی طاقت پر یقین ہے۔ زندگی نے مجھے یہ سکھایا ہے کہ ہر مسکراتا ہوا چہرہ مخلص نہیں ہوتا، ہر ساتھ چلنے والا اپنا نہیں ہوتا، اور ہر تعریف کرنے والا خیر خواہ نہیں ہوتا۔ بعض لوگ آپ کے سامنے محبت کا اظہار کرتے ہیں لیکن دل میں حسد رکھتے ہیں، کچھ آپ کی کامیابی پر تالیاں بجاتے ہیں مگر تنہائی میں آپ کی ناکامی کی دعائیں مانگتے ہیں۔ یہی دنیا کا مزاج ہے، اور یہی زندگی کا امتحان بھی۔
وقت انسان کو لوگوں کی حقیقت دکھا دیتا ہے۔ خوشیوں کے دنوں میں ہر کوئی آپ کا ساتھی بنتا ہے، مگر آزمائش کے لمحوں میں وہی لوگ پہچانے جاتے ہیں جو بغیر کسی غرض کے آپ کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔ باقی سب صرف حالات کے دوست ہوتے ہیں۔ جب مفاد ختم ہو جاتا ہے تو تعلقات بھی دم توڑ دیتے ہیں۔ اسی لیے عقلمند وہی ہے جو لوگوں کی باتوں سے زیادہ ان کے کردار کو دیکھے۔
مجھے ہجوم کا حصہ بننے سے زیادہ اپنے اصولوں کے ساتھ جینا پسند ہے۔ اگر سچ بولنے کی قیمت تنہائی ہے تو یہ سودا مجھے قبول ہے۔ اگر حق پر قائم رہنے کے لیے سب کی مخالفت برداشت کرنی پڑے تو بھی کوئی افسوس نہیں، کیونکہ جھوٹ کے ساتھ جیتنے سے بہتر ہے کہ سچ کے ساتھ تنہا رہا جائے۔
دنیا ہمیشہ ان لوگوں کو بدلنے کی کوشش کرتی ہے جو اپنے اصولوں پر قائم رہتے ہیں۔ کبھی مذاق اڑایا جاتا ہے، کبھی حسد کیا جاتا ہے، کبھی کردار پر انگلی اٹھائی جاتی ہے، لیکن وقت گزرنے کے بعد وہی لوگ عزت پاتے ہیں جنہوں نے حالات کے سامنے اپنے ضمیر کا سودا نہیں کیا۔ کردار وہ دولت ہے جو نہ خریدی جا سکتی ہے اور نہ ہی چھینی جا سکتی ہے۔
منافق انسان کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ اس کے چہرے بدلتے رہتے ہیں۔ وہ ہر محفل میں الگ بات کرتا ہے، ہر شخص کے سامنے الگ چہرہ دکھاتا ہے، اور ہر فائدے کے لیے اپنا رنگ بدل لیتا ہے۔ ایسے لوگوں کے درمیان سچا رہنا آسان نہیں، مگر یہی اصل بہادری ہے۔ جو شخص ہر حال میں اپنے اخلاق، اپنی زبان اور اپنے وعدوں کا پاس رکھتا ہے، وہی حقیقی کامیاب انسان ہے۔
مجھے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ میرے ساتھ کتنے لوگ کھڑے ہیں، فرق اس بات سے پڑتا ہے کہ میں جس راستے پر ہوں وہ درست ہے یا نہیں۔ اگر راستہ صحیح ہو تو تنہائی بھی طاقت بن جاتی ہے، اور اگر راستہ غلط ہو تو لاکھوں لوگوں کا ساتھ بھی انسان کو کامیاب نہیں بنا سکتا۔
یاد رکھیں، شیر ہمیشہ اکیلا چلتا ہے کیونکہ اسے اپنی طاقت پر یقین ہوتا ہے، جبکہ بھیڑ ہمیشہ ہجوم میں چلتی ہے کیونکہ اسے اپنے وجود پر اعتماد نہیں ہوتا۔ اسی طرح مضبوط کردار والے لوگ اپنی پہچان خود بناتے ہیں، انہیں لوگوں کی تائید کی ضرورت نہیں پڑتی۔ وہ جانتے ہیں کہ وقتی مخالفت مستقبل کی عزت کا راستہ بنتی ہے۔
زندگی میں کبھی ایسا وقت بھی آتا ہے جب اپنے ہی لوگ اجنبی بن جاتے ہیں۔ جن کے لیے انسان سب کچھ کرتا ہے، وہی سب سے پہلے بدل جاتے ہیں۔ ایسے لمحات دل کو ضرور تکلیف دیتے ہیں، لیکن یہی لمحے انسان کو مضبوط بھی بنا دیتے ہیں۔ کیونکہ جب امید صرف اللہ سے وابستہ ہو جائے تو پھر انسان کسی کے بدل جانے سے نہیں ٹوٹتا۔
اپنے کردار کو اتنا مضبوط بنائیں کہ لوگوں کی منافقت آپ کے اخلاق کو نہ بدل سکے۔ اگر کوئی دھوکہ دے تو آپ سچے رہیں، اگر کوئی نفرت کرے تو آپ انصاف کریں، اگر کوئی حسد کرے تو آپ دعا دیں۔ کیونکہ دوسروں کے اعمال ان کے اپنے ہیں، مگر آپ کا کردار آپ کی پہچان ہے۔
اصل کامیابی یہ نہیں کہ لوگ آپ کی تعریف کریں، بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ آپ رات کو سکون سے سو سکیں، کیونکہ آپ نے کسی کا حق نہیں مارا، کسی کے اعتماد کو نہیں توڑا اور کسی کے ساتھ منافقت نہیں کی۔ دنیا کی تعریف چند لمحوں کی ہوتی ہے، مگر اللہ کی رضا ہمیشہ کے لیے کامیابی ہے۔
اس لیے اگر کبھی آپ کو لگے کہ آپ سچ بولنے، اصولوں پر قائم رہنے یا حق کا ساتھ دینے کی وجہ سے اکیلے رہ گئے ہیں تو مایوس نہ ہوں۔ اکیلا ہونا کمزوری نہیں، بلکہ بعض اوقات یہ اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ اللہ آپ کو ہجوم سے الگ ایک خاص مقام دینا چاہتا ہے۔ اپنی محنت جاری رکھیں، اپنے اخلاق کو بہتر بنائیں، اپنی نیت کو صاف رکھیں اور اپنے رب پر بھروسہ رکھیں۔ وقت خود گواہی دے گا کہ سچ کبھی ہارتا نہیں، صرف آزمائش سے گزرتا ہے۔
"ہزار منافقوں کے ہوتے ہوئے بھی، ہر محفل میں اکیلے قدم رکھنے کا دم رکھتا ہوں۔ کیونکہ میری طاقت ہجوم نہیں، میرا کردار، میرا ضمیر اور میرا رب ہے۔.❤️

#بُلَند☝️🇵🇰
٨٨؟

Friday 1st Muharram.♥May Allah give us all good healthand make our coming days good.🤲🏻   ,🕊️🌹 ✨💫                        ...
26/06/2026

Friday 1st Muharram.♥
May Allah give us all good health
and make our coming days good.🤲🏻

,🕊️🌹

✨💫

☝🏽 🇵🇰
88?‎

کسی انسان کے عقیدے سے اختلاف ہونا ایک فطری بات ہے، کیونکہ ہر شخص کا سوچنے کا انداز، ماحول اور تربیت مختلف ہوتی ہے۔ لیکن ...
23/06/2026

کسی انسان کے عقیدے سے اختلاف ہونا ایک فطری بات ہے، کیونکہ ہر شخص کا سوچنے کا انداز، ماحول اور تربیت مختلف ہوتی ہے۔ لیکن اسی اختلاف کو نفرت میں بدل دینا انسان کو اس کے اصل مقام سے نیچے لے آتا ہے۔ انسانیت کی اصل خوبصورتی یہ نہیں کہ سب ایک جیسے ہوں، بلکہ یہ ہے کہ مختلف ہونے کے باوجود ایک دوسرے کو برداشت کیا جائے۔
جب ہم کسی کو صرف اس لیے رد کر دیتے ہیں کہ وہ ہمارے جیسے نہیں سوچتا، تو ہم اس کے عقیدے سے پہلے اس کی انسانیت کو نظر انداز کر رہے ہوتے ہیں۔ اور یہی وہ جگہ ہے جہاں معاشرے میں دراڑیں پڑتی ہیں۔ اختلاف رائے گفتگو پیدا کرتا ہے، لیکن نفرت فاصلے بڑھا دیتی ہے۔
عقیدہ ایک ذاتی معاملہ ہے، لیکن احترام ایک اجتماعی ذمہ داری ہے۔ آپ کسی کی سوچ سے متفق نہ ہوں، لیکن اس کی عزت کرنا، اس کے حقِ زندگی اور اس کی انسانیت کو تسلیم کرنا، یہ ہر مہذب معاشرے کی بنیاد ہے۔ تاریخ ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ وہی معاشرے ترقی کرتے ہیں جہاں لوگ اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کے وجود کو قبول کرتے ہیں۔
نفرت انسان کو وقتی طور پر طاقتور محسوس کراتی ہے، مگر اندر سے اسے سخت اور محدود کر دیتی ہے۔ جبکہ برداشت اور احترام انسان کو وسیع القلب اور بہتر انسان بناتے ہیں۔ اصل امتحان یہی ہے کہ ہم اختلاف کے باوجود اپنے دل میں جگہ کیسے بناتے ہیں—یا بند کر دیتے ہیں
انسانیت کسی عقیدے کی ملکیت نہیں، یہ ایک مشترکہ قدر ہے۔ اور جس دن ہم نے انسان کو انسان سمجھ کر دیکھنا سیکھ لیا، اسی دن معاشرہ زیادہ پرامن، زیادہ متوازن اور زیادہ خوبصورت ہو جائے گا،،❤️

#بُلَند☝️🇵🇰
٨٨؟

اگر آپ ریسٹورانٹ جا کر اکیلے پیزا، پاستا، برگر یا کافی آرڈر کر سکتے ہیں، اور اپنی کمپنی کو اکیلے انجائے کر سکتے ہیں تو ی...
21/06/2026

اگر آپ ریسٹورانٹ جا کر اکیلے پیزا، پاستا، برگر یا کافی آرڈر کر سکتے ہیں، اور اپنی کمپنی کو اکیلے انجائے کر سکتے ہیں تو یقین کیجیے، آپ واقعی خوش قسمت انسان ہیں۔

کیونکہ دنیا کے بہت سے لوگ تنہا تو رہ سکتے ہیں، مگر اپنے ساتھ نہیں رہ سکتے۔ انہیں ہر وقت کسی نہ کسی کی موجودگی چاہیے ہوتی ہے تاکہ وہ اپنی خاموشیوں سے بچ سکیں۔ وہ لوگوں کے درمیان تو رہتے ہیں، لیکن جب اکیلے ہوتے ہیں تو خود سے ملنے سے گھبراتے ہیں۔

اپنی کمپنی کو انجائے کرنا دراصل خود سے صلح کرنے کی علامت ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ کو اپنی موجودگی بوجھ نہیں لگتی۔ آپ کو ہر وقت اپنی خوشی کے لیے کسی دوسرے شخص کی ضرورت نہیں۔ آپ ایک کپ کافی کے ساتھ، ایک کھڑکی کے پاس بیٹھ کر، یا کسی ریسٹورانٹ کے کونے میں خاموشی سے وقت گزار کر بھی سکون محسوس کر سکتے ہیں۔

یہ تنہائی نہیں، بلکہ خود سے دوستی ہے۔ اور خود سے دوستی دنیا کے مشکل ترین فنون میں سے ایک ہے۔ کیونکہ اکثر لوگ اپنی زندگی کا بڑا حصہ دوسروں کی توجہ، محبت اور منظوری حاصل کرنے میں گزار دیتے ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ سب سے لمبا ساتھ انہیں خود اپنے ساتھ نبھانا ہے۔

جب انسان اپنی کمپنی کو پسند کرنے لگتا ہے تو وہ لوگوں کا محتاج نہیں رہتا۔ پھر وہ رشتے ضرور بناتا ہے، محبت بھی کرتا ہے، لوگوں کی قدر بھی کرتا ہے، مگر اپنی خوشی کا مرکز کسی اور کو نہیں بناتا۔ وہ جانتا ہے کہ اگر سب لوگ مصروف ہو جائیں تب بھی اس کے پاس ایک شخص موجود ہے جس کے ساتھ وہ اچھا وقت گزار سکتا ہے... اور وہ شخص خود وہی ہے۔

ایسے لوگ عموماً زندگی کو زیادہ گہرائی سے محسوس کرتے ہیں۔ وہ ایک کپ کافی میں بھی سکون ڈھونڈ لیتے ہیں، ایک خاموش شام میں بھی خوبصورتی دیکھ لیتے ہیں، اور اکیلے بیٹھ کر بھی خود کو ادھورا محسوس نہیں کرتے۔ کیونکہ انہوں نے یہ راز جان لیا ہوتا ہے کہ خوشی ہمیشہ ہجوم میں نہیں ملتی، بعض اوقات وہ انسان کو اپنی ہی صحبت میں مل جاتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ خود سے محبت کرنا خود غرضی نہیں، بلکہ ذہنی بلوغت کی نشانی ہے۔ جب انسان اپنی قدر جان لیتا ہے تو پھر وہ دوسروں کی موجودگی کو نعمت سمجھتا ہے، ضرورت نہیں۔

اس لیے اگر آپ کبھی اکیلے بیٹھ کر کھانا کھا لیتے ہیں، سفر کر لیتے ہیں، کافی پی لیتے ہیں یا اپنے خیالات کے ساتھ وقت گزار لیتے ہیں اور پھر بھی دل پرسکون رہتا ہے، تو واقعی آپ خوش قسمت ہیں۔ کیونکہ آپ نے وہ چیز پا لی ہے جس کی تلاش میں بہت سے لوگ پوری زندگی گزار دیتے ہیں: اپنی ذات کے ساتھ سکون،❤️🫶

#بُلَند☝️🇵🇰
٨٨؟

میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں مذہب کی بنیاد پر کسی سے بھی نفرت نہیں کر سکتا۔شاید اس لیے کہ میں نے انسانوں کو ان کے ناموں، عقید...
19/06/2026

میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں مذہب کی بنیاد پر کسی سے بھی نفرت نہیں کر سکتا۔

شاید اس لیے کہ میں نے انسانوں کو ان کے ناموں، عقیدوں اور شناختوں سے پہلے ان کے درد میں دیکھا ہے۔ میں نے آنسوؤں کا کوئی مذہب نہیں دیکھا، میں نے تنہائی کا کوئی فرقہ نہیں دیکھا، میں نے ماں کی دعا، باپ کی فکر، بچے کی مسکراہٹ اور کسی ٹوٹے ہوئے دل کی خاموشی پر کبھی کوئی مذہبی مہر نہیں دیکھی۔

زندگی نے مجھے بہت سے لوگوں سے ملوایا۔ کچھ میرے جیسے تھے، کچھ مجھ سے مختلف۔ کچھ میری طرح سوچتے تھے اور کچھ میری سوچ سے بالکل الٹ تھے۔ مگر ایک بات میں نے ہر جگہ دیکھی، ہر انسان کے اندر خوش رہنے کی خواہش ایک جیسی تھی۔ ہر شخص محبت چاہتا تھا، عزت چاہتا تھا، قبول کیا جانا چاہتا تھا۔ ہر کوئی اپنے دکھوں سے لڑ رہا تھا اور اپنے حصے کی خوشیوں کی تلاش میں تھا۔

مجھے ہمیشہ عجیب لگتا ہے جب لوگ صرف اس لیے ایک دوسرے سے دور ہو جاتے ہیں کہ ان کی عبادت کا طریقہ مختلف ہے، ان کی سوچ مختلف ہے یا ان کی شناخت مختلف ہے۔ کیونکہ میں نے دیکھا ہے کہ اچھا انسان ہونا اور اچھا عقیدہ رکھنا دو الگ چیزیں ہیں۔ دنیا میں ایسے لوگ بھی ملے جو میرے نظریات سے مختلف تھے مگر ان کے دل صاف تھے، اور ایسے لوگ بھی ملے جو بظاہر میرے جیسے تھے مگر ان کے رویوں میں سختی اور نفرت بھری ہوئی تھی۔

میں یہ نہیں کہتا کہ سب عقیدے ایک جیسے ہیں یا سب خیالات درست ہیں۔ ہر انسان کو اپنے عقیدے پر یقین رکھنے کا حق ہے، اور میں بھی اپنے یقین کے ساتھ جیتا ہوں۔ مگر کسی سے اختلاف ہونا اور کسی سے نفرت کرنا دو الگ چیزیں ہیں۔ اختلاف عقل کا معاملہ ہے، نفرت دل کا۔ اور میں اپنے دل کو اتنا تنگ نہیں کرنا چاہتا کہ وہ صرف ان لوگوں کے لیے دھڑکے جو میرے جیسے ہیں۔

میں نے زندگی سے یہ سیکھا ہے کہ انسان کو پرکھنے کا سب سے اچھا پیمانہ اس کا کردار ہے۔ وہ کمزوروں کے ساتھ کیسا ہے؟ وہ طاقت ملنے پر کیسا بن جاتا ہے؟ وہ دوسروں کے دکھ پر کیا محسوس کرتا ہے؟ وہ سچ، انصاف اور رحم کے ساتھ کہاں کھڑا ہے؟ یہ وہ سوال ہیں جو میرے لیے زیادہ اہم ہیں۔

شاید اس لیے میں مذہب کی بنیاد پر نفرت نہیں کر پاتا۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ اگر مجھے صرف میرے نام، میری شناخت یا میرے عقیدے کی وجہ سے جج کیا جائے تو مجھے بھی تکلیف ہوگی۔ میں چاہتا ہوں کہ لوگ مجھے میرے کردار سے پہچانیں، میری نیت سے پہچانیں، میرے رویے سے پہچانیں۔ تو پھر مجھے بھی دوسروں کے ساتھ یہی انصاف کرنا چاہیے۔

دنیا میں پہلے ہی بہت نفرت ہے۔ لوگ زبان، رنگ، قومیت، مسلک، سیاست اور نہ جانے کتنی چیزوں کی بنیاد پر ایک دوسرے سے دور ہو چکے ہیں۔ ایسے میں اگر ہم انسانیت کا آخری دھاگہ بھی توڑ دیں تو پھر ہمارے درمیان بچے گا کیا؟

میری خواہش یہ نہیں کہ سب ایک جیسے ہو جائیں۔ خوبصورتی تو اختلاف میں ہے۔ خوبصورتی اس میں ہے کہ مختلف لوگ ایک دوسرے کے وجود کو برداشت کریں، ایک دوسرے کے حقِ زندگی کا احترام کریں، اور ایک دوسرے کو سننے کی ہمت رکھیں۔

کیونکہ آخر میں، جب زندگی اپنے آخری صفحے پر پہنچتی ہے، تو انسان کو یہ یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنے لوگوں سے نفرت کی تھی۔ اسے یہ یاد رہتا ہے کہ اس نے کتنے دلوں کو سکون دیا، کتنے لوگوں کے ساتھ انصاف کیا، اور کتنے انسانوں کے ساتھ انسان بن کر پیش آیا۔

اور شاید میرا مسئلہ یہی ہے...

میں لوگوں کے عقیدوں سے پہلے ان کے زخم دیکھ لیتا ہوں، ان کی شناخت سے پہلے ان کی انسانیت دیکھ لیتا ہوں، اور ان کے اختلاف سے پہلے ان کے دل کو دیکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔

اس لیے مذہب کی بنیاد پر کسی سے نفرت کرنا میرے لیے ہمیشہ مشکل رہے گا، کیونکہ میں نے انسانوں کو پہلے انسان کے طور پر جانا ہے۔ 🤍

#بُلَند☝️🇵🇰
٨٨؟

Address

Gilgit

Telephone

+923555030880

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ikram Afzal posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Ikram Afzal:

Shortcuts

Share