Ramblers on Bikes

Ramblers on Bikes Tourism

08/02/2023

Stunning Rainbow Lake - Minimarg

22/01/2023
بہاولپور -  نوابوں کا شہر ( دوسری قسط)پہلا دن بھرپور گزارنے کے بعد رات کے کھانے میں بہاولپور کے مشہور کباب کھاۓ اور ریسٹ...
14/12/2022

بہاولپور - نوابوں کا شہر ( دوسری قسط)

پہلا دن بھرپور گزارنے کے بعد رات کے کھانے میں بہاولپور کے مشہور کباب کھاۓ اور ریسٹ ہاؤس واپس آگئے ۔ ( کھانوں کی تفصیل انشاءاللہ الگ پوسٹ میں)
اگلی صبح فجر کی نماز کے بعد تیاری شروع کی بائیکس کو چیک کیا اور ناشتہ کرنے نکل پڑے۔ بیکانری فوڈ سٹریٹ میں شاندار ناشتہ ہمارا منتظر تھا۔ ایکسائٹمنٹ ہماری عروج پر تھی کیونکہ بہت عرصے سے جس مقام کو دیکھنے کی خواہش تھی وہ آج پوری ہونے جارہی تھی ۔ قلعہ دراوڑ ❣️
قلعہ دراوڑ بہاولپور سے تقریباً سو کلومیٹر کے فاصلے پر تحصیل احمد پور شرقیہ میں واقع ہے ۔ بہاولپور سے احمد پور شرقیہ جائیں تو ڈیرہ نواب صاحب سے بائیں طرف اترنے والی سنگل روڈ قلعہ دراوڑ کی طرف لے جاتی ہے ۔
احمد پور شرقیہ سے تقریباً 40 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع قلعہ دراوڑ کے چالیس گڑھ کئی میل تک نظر آتے ہیں۔
دراوڑ قلعہ سب سے پہلے 9ویں صدی عیسوی میں بھٹی قبیلے کے ایک ہندو راجپوت حکمران رائے ججا بھٹی نے تعمیر کیا تھا، یہ قلعہ شروع میں ڈیرہ راول کے نام سے جانا جاتا تھا جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کا موجودہ نام دراوڑ کہلانے لگا۔
پرانے قلعوں ، کھنڈرات اور تاریخی عمارتوں کا ویسے ہی مجھ پر جادوئی اثر ہے اور قلعہ دراوڑ کی اس فہرست میں بہت اونچی جگہ ہے۔
قلعہ دراوڑ اور اسکے ساتھ ملحقہ عباسی مسجد کو دیکھتے ہی آپ ماضی میں جینے لگتے ہیں۔ ایسی جگہیں جو صدیوں کی گواہ ہوتی ہیں وہاں پہنچ کر کیا احساسات ہوتے ہیں یہ صرف وہاں جا کر ہی محسوس کیا جا سکتا ہے ۔
اس قدر مضبوط بناۓ گۓ قلعہ کی شکستہ حالت کو دیکھ کر احساس ہوا کہ باقی رہنے والی ذات صرف میرے اللہ کی ہے 🙏

بہاولپور - نوابوں کا شہر بہاولپور کا نام سنتے ہی ذہن میں نوابی ریاست اور محل گھومنے لگتے ہیں ۔ گزشتہ سال بہاولپور جانے ک...
09/12/2022

بہاولپور - نوابوں کا شہر
بہاولپور کا نام سنتے ہی ذہن میں نوابی ریاست اور محل گھومنے لگتے ہیں ۔ گزشتہ سال بہاولپور جانے کا موقع ملا اور جیسا اس نوابی شہر کے بارے میں سن رکھا تھا اس سے کہیں بڑھ کر پایا۔ بہت ہی خوبصورت ، پر سکون اور رعب والا شہر ہے ۔
میں اور ارسلان نے فیصل آباد سے صبح 7 بجے موٹر سائیکل پر سفر شروع کیا اور دوپہر 2 بجے بہاولپور پہنچے ( راستے میں دنیا پور میں ذیشان بھائی نے چاۓ اور لذیز حلوہ سے تواضع کی ❣️)
ایک دوست نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے ریسٹ ہاؤس میں کمرہ بک کروادیا تھا یوں اس خوبصورت یونیورسٹی کو دیکھنے کا موقع بھی میسر آگیا ۔
اس پوسٹ میں نور محل کا زکر ہے جو ہم نے پہلے دن وزٹ کیا باقی جگہیں بھی اگلی پوسٹ میں شئر ہونگی
نور محل جسے نواب امیر صادق محمد خان عباسی چہارم نے 1872 عیسوی میں تعمیر کروایا تھا اطالوی فن تعمیر کا بہترین نمونہ ہے

" رتی گلی جھیل "یشک اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو قدرتی حسن سے مالا مال فرمایا ہے ۔ پاکستان کے پہاڑی علاقے اپنی مثال آپ ہیں ...
05/12/2022

" رتی گلی جھیل "

یشک اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو قدرتی حسن سے مالا مال فرمایا ہے ۔ پاکستان کے پہاڑی علاقے اپنی مثال آپ ہیں اور بات اگر کشمیر کی ہو تو خوبصورتی میں اسکا کوئی ثانی نہیں ۔ " زمین پر جنت کا ٹکڑا" کا لفظ کشمیر کے لۓ ہی موزوں ہے ۔ جہاں ہر جگہ کی خوبصورتی ایسی ہے کہ آپ درجہ بندی نہیں کر پاتے کہ پہلے دیکھی گئ جگہ زیادہ خوبصورت ہے یا بعد والی ۔ انہی جگہوں میں سے ایک ہے وادئ نیلم کی رتی گلی جھیل
دیو مالائی کہانیوں میں سنی گئی خوبصورتی کی حامل اس جگہ پر پہنچنے ہی آپ اس کے حسن میں ایسا کھو جاتے ہیں کہ زبان سے صرف سبحان اللہ کا ورد ہی نکلتاہے ۔
میری خوش قسمتی کہ رات رتی گلی بیس کیمپ پر گزارنے کا موقع ملا اور رتی گلی جھیل پر طلوعِ آفتاب کا سحر انگیز منظر دیکھنے کو ملا ۔
12000فٹ کی بلندی پر واقع رتی گلی جھیل تک پہنچنے کیلئے آپ کو دواریاں کے مقام سے جیپ سے جانا پڑتا ہے۔ تین گھنٹے کا یہ سفر خود میں پورا ایڈوینچر ہے

04/12/2022
A bike tour to Kartarpur " کرتارپور کوریڈور "کرتارپور کوریڈور ایک سرحدی گزرگاہ اور مذہبی راہداری ہے جو پاکستان میں ناروو...
04/12/2022

A bike tour to Kartarpur
" کرتارپور کوریڈور "

کرتارپور کوریڈور ایک سرحدی گزرگاہ اور مذہبی راہداری ہے جو پاکستان میں نارووال کے قریب گوردوارہ دربار صاحب کو گرودوارہ ڈیرہ بابا نانک، گورداسپور، انڈیا سے جوڑتی ہے۔ جس کا فاصلہ تقریباً 2.9 میل ہندوستان-پاکستان سرحد سے پاکستانی جانب ہے۔
اس سے قبل، بھارت سے سکھ یاتریوں کو کرتارپور جانے کے لیے لاہور سے بس لے کر جانا پڑتا تھا، جو کہ 125 کلومیٹر کا سفر ہے، جبکہ بھارتی سرحد کی جانب کے لوگ جسمانی طور پر گوردوارہ دربار صاحب کرتار پور کو دیکھ بھی سکتے تھے۔
24 نومبر 2018 کو پاکستان کی طرف سے پاکستان کے وزیر آعظم عمران خان نے اس راہداری کا سنگ بنیاد رکھا۔ یہ راہداری 12 نومبر 2019 کو بابا گرو نانک صاحب کی 550ویں سالگرہ کے موقع پر مکمل ہوئی۔
اس نظریے کے تحت کہ ’’پاکستان نہ صرف سرحد کھول رہا ہے بلکہ سکھ برادری کے لیے اس کا دل بھی "

30/11/2022

Shandur pass

Crossing Shandur Paas on Bikes " شندور پاس 💚 "چھت پر پولو کھیلنے کا اپنا ہی مزہ ہوگا۔ لیکن گھر کی چھت پر کیسے کھیلی جاۓ؟...
30/11/2022

Crossing Shandur Paas on Bikes
" شندور پاس 💚 "

چھت پر پولو کھیلنے کا اپنا ہی مزہ ہوگا۔ لیکن گھر کی چھت پر کیسے کھیلی جاۓ؟
تو جناب گھر کی چھت پر نہیں دنیا کی چھت پر ۔

12500 فٹ بلند شندور پاس جہاں دنیا کا سب سے بلند پولو گراؤنڈ واقع ہے ۔
سحرانگیز خوبصورتی کا حامل شندور پاس جہاں پہنچتے ہی آپ اس کے حسن میں ایسا کھو جاتے ہیں کہ دل چاہتا ہے یہیں کے ہو کر رہ جائیں۔
چترال اور گلگت بلتستان کو ملانے والے اس راستے پر میرا موٹر سائیکل چلانے کا خواب جتنا بڑا تھا وہاں پہنچ کر محسوس ہوا کہ میرا خواب چھوٹا تھا اور اسکا حسن زیادہ۔
دلفریب نظاروں میں گھرے دیومالائ شندور ٹاپ پر موجود شندور جھیل اس کے حسن کو چار چاند لگاتی ہے ۔
اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے دو سال میں دو دفعہ شندور پاس موٹر سائیکل پر کراس کرنے کا موقع ملا ۔ اس سے زیادہ کیا کہوں کہ

فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ 🙏

"وادئ کیلاش"کیا آپ کو ٹائم مشین میں ماضی کا سفر کرنے کا شوق ہے ؟ اگر آپ کا جواب ہاں میں ہے تو فوراً وادئ کیلاش چلے جائیں...
28/11/2022

"وادئ کیلاش"

کیا آپ کو ٹائم مشین میں ماضی کا سفر کرنے کا شوق ہے ؟ اگر آپ کا جواب ہاں میں ہے تو فوراً وادئ کیلاش چلے جائیں جہاں پہنچ کر آپ کو لگے گا کہ ٹائم مشین آپ کو صدیوں پیچھے کہیں لے آئ ہے ۔
جی ہاں ۔۔ چترال شہر سے صرف تین گھنٹے کی مسافت پر واقع وادئ کیلاش جہاں وقت آپ کو صدیوں سے رکا ہوا محسوس ہوتا ہے ۔
افغان سرحد کے قریب ہندوکش پہاڑی سلسلے میں رہنے والے کیلاشیوں کی اصلیت اب بھی باقی دنیا کے لیے ایک معمہ ہے۔
تین وادیوں
1. بمبوریت
2۔ رمبور
3. بریر
کو مجموعی طور پر وادئ کیلاش کہا جاتا ہے ۔ زیادہ تر سیاح بمبوریت کو ہی وزٹ کرتے ہیں ۔
وادئ کیلاش کی ہر گلی ہر نکڑ ہر کونے سے آپ کو صدیوں کی تاریخ چھلکتی ہوئی محسوس ہوتی ہے ۔
اگر آپ کیلاشیوں کے لوکل تہوار " چلم جوشی فیسٹیول" کے دوران کیلاش جائیں تو انکی ثقافت کو زیادہ نزدیک سے دیکھنے کا موقع ملتا ہے

A memorable Bike Tour of Kailash Valley ❤️❤️

Address

Derawar Fort Rd
Derawar Fort

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ramblers on Bikes posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share