AWAN Swimming POOL

AWAN Swimming POOL Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from AWAN Swimming POOL, Sports & Recreation Venue, Jabar Wala, Dera Ismail Khan.

03/08/2020

Paharpur Tehsil, Khyber Pakhtunkhwa, Pakistan

1970 سال اور اگست کے آخری ہفتہ تھا .میں پرائمری سکول کی شروع کی کلاسوں میں تھا .میرے چچا   محمد ادریس مرحوم کی عادت تھی ...
15/07/2020

1970 سال اور اگست کے آخری ہفتہ تھا .میں پرائمری سکول کی شروع کی کلاسوں میں تھا .میرے چچا محمد ادریس مرحوم کی عادت تھی کہ وہ صبح کی نماز سے بہت پہلے مسجد چلے جاتے تھے . گھر کو اْ ن کی واپسی نماز کے بہت دیر بعد ہوتی .نماز پڑھ کر وہ مسلم بازار سے توپانوالہ بازار تک کا ایک لمبا چکر لگا کر گھر کو لوٹتے. مجھے ان کے آنے کی خبر اس طرح سے ہوتی کہ آکر وہ با آواز بلند گھر والوں کو وہ سب بتاتے جو آج دیکھ کر یا کسی سے سُن آئے تھے .جیسے ایک بار سردیوں کی یخ صبح کو بتایا تھا کہ شیر علی کا بھاٹیا بازار میں قتل ہو گیا ہے .

میں اگست 1970 کی گلا دباتی حبس میں اپنے گھر کی چھت سویا تھا. سورج ابھی نہیں نکلا تھا کہ چچا مرحوم آئے اور یہ اندوہناک خبر دی " کو کی کا قتل ہوگیا ہے ..".میں دوسری جماعت کا بچہ بھی تڑپ کر اٹھ بیٹھا تھا . اس خبر سے سارے گھر میں ایک کہرام مچ گیا .فضاء میں یہ خبر ایک لمحے کے لیے ٹھہری ، پھر تڑاخ سے ٹوٹی اور اس کی کُرچیاں چاروں جانب پھیل کر سب کے دلوں میں پیوست ہو گئیں .کسی نے ہائے کہا ،کسی نے اپنا سر پکڑا اور کوئی رو دیا .صدمے نے میرے ہوش و حواس گمُ کر دیے تھے .
میں یہ زخم لیے ننگے پیر گلی کی جانب دوڑا اور اور پھر وہاں سے بھاگتا ہوا مسلم بازار میں آ گیا .ایک کرب و الم ساری فضا میں تیر رہا تھا .ہر چہرہ خاموش تھا اور ہر آنکھ میں ایک ماتم برس رہا تھا .کوئی طوفان تھا جو شائد گذر چکا تھا یا اْ س کے آنے کی خبر ابھی ابھی پہنچی تھی .دوکانوں کے دروازے بند تھے اور تختوں پر چاک گریباں لوگ گمُ سمُ بیٹھے فضاؤں میں تک رہے تھے . کوئی ایک دوسرے کو حوصلہ دینے کے قابل نہ تھا .میں دوڑتا ہوا چوگلے کی جانب چلا گیا .ایک ویرانگی ہماری گلی سے چوگلے تک پھیلی تھی . بند دوکانوں کے تختےلٹُےپٹے لوگوں سے بھرے تھے اور یہ حق نواز گنڈہ پور عرف عام کوکی کی شہادت کا دن تھا .

حق نواز سے ڈیرہ وال محبت صرف اس لیے نہیں کرتے تھے کہ وہ بھٹو کا جیالا تھا . اْن کی عقیدت کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ نڈر اور بہادر تھا .بڑے بڑوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتا تھا . اُس کی آواز میں گھن گرج اپنی دھرتی کی بد حالی اور مزدور کسان کی پسی ہوئی زندگی کے باعث آئی تھی .وہ غریب تھا اور غریبوں کا رکھوالا بن کر اْٹھ کھڑا ہوا تھا .ڈگری کالج کا دلیر اور بے باک طالب علم لیڈر دیکھتے ہی دیکھتے ہر دل کی دھڑکن بن گیا ...میں نے پہلی بار کوکی کا نام اس وقت سنا جب میں گھر میں شام کا کھانا کھا کر بیٹھا تھا .اچانک گلی سے ایک شیر کی دھاڑتی آواز آئی .گھروں کے دروازے کھل گئے .مرد گلی میں نکل آئے اور عورتیں بند دروازوں کے پیچھے گلی میں جھانکنے لگیں . میں باہرآیا تو دیکھا کہ ایک سرخ و سفید جوان ،چہرے پر گھنی مونچھیں اور سر پر پگڑی پہنے دھاڑ رہا ہے . جذبات سے اْس کا چہرہ سرخ اور آنکھیں انگاروں کی طرح دہک رہی ہیں .کسی نے اسے پانی دیا اور اُس نے پانی پی کر گلاس مجھے تھما دیا . اْس کے پیچھے پولیس تھی اور وہ اْ نہی کو للکار رہا تھا . یہ کہ کس میں اتنا دم ہےجو حق نواز کو گرفتار کرے ...
حق نواز بھٹو کا قریبی ساتھ اور طلبا یونین کا صدر تھا .مزدوروں کی آواز اور بہادری کی علامت تھا .
بھٹو نے ایوب خان کے خلاف تحریک کا آغاز ڈیرہ سے کیا تھا اور کئی بار بھٹو نے اس کا ذکر بھی کیا تھا .اپنی ایک کتاب میں بھی اس بات کا ذکر ہے کہ میری تحریک کا آغاز چھوٹے سے شہر ڈیرہ اسماعیل خان سے ہوا تھا .

بھٹو کا ڈیرہ میں پہلا جلسہ تھا اور پورے شہر میں کشیدگی تھی .ایک تناؤ کی کفیت میں سارا شہر تھا .میں سکول میں ان دنوں داخل ہوا تھا اور بچہ ہونے کے ناطے مجھے گھر سے نکلنے کی جازت نہ تھی .جہاں آج کل انارکلی مارکیٹ ہے ،اس کے کونے پر ایک دوکان کے اوپر بھٹو تھا اور ساتھ بندوق لیے حق نواز سینہ تانے کھڑا تھا .چینی کی ان دنوں قلت تھی اور بھٹو نے اسی کو اپنی تحریک کی بنیاد بنایا تھا .اس دن پہلی بار شدید شیلنگ اور لاٹھی چارج ہوا تھا .کئی لوگ زخمی ہوئے . ڈیرہ کی پوری فضاء آنسو گیس کی بو میں ڈوب گئی تھی .ہنگامے کا مجھے معلوم ایسے پڑا کہ ہمارے محلے کا شکور ٹین ساز زخمی حالت میں کھڑا پورے محلے کو آج کا ماجرا سنا رہا تھا .وہ یہ کہہ رہا تھا کہ حق نواز نے جینے کا حق ادا کر دیا وہ بھٹو کے ساتھ اپنا سینہ تانے ڈٹا رہا .شکورے ٹین ساز کے ماتھے اور چہرے پر خوں بہہ رہا تھا .
ایک بار حق نواز بیمار پڑا اور سول ہسپتال میں داخل تھا .ڈیرہ وال جوق در جوق ہسپتال کی طرف ہر روز جاتے .ایک دن میں بھی اکیلا گھر سے نکلا ڈسٹرکٹ ہسپتال کے کمرے میں پہنچ گیا .مجھے اب بھی یاد ہے کہ وہ ایک شیرکی طرح بستر پر ٹیک لگاے بیٹھا تھا .مجمع تھا اور پھولوں کے سینکڑوں ہار ایک بڑے ڈھیر کی صورت اس کے بیڈ کے پیچھے پڑے تھے .مجھے دیکھا تو اپنے گلے سے لگا لیا تھا .میں نے ایک ماں کی ممتا اور باپ کا پیار اس کے مضبوط وجود سے امڈتا محسوس کیا .آنے سے پہلے اُس نے تازہ گلاب کے کئی ہار میرے گلے میں ڈال دیے تھے .
ایک بار وہ جلوس لے کر چوگلے سے باکھری بازار میں آیا . میں بھی کسی نہ کسی طرح وہیں پہنچ گیا تھا .اس دن میں نے پہلی بار اپنی آنکھوں سے شدید لاٹھی چارج دیکھا .میں ایک دوکان کی چھت سے یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا .حق نواز بازار کے عین بیچ لہولہان کھڑا للکار رہا تھا .ایک بجلی کوندسے سارا بازار لرزتا تھا . اْسی لمحے کی ایک بڑی تصویر بہت عرصہ نقاش فوٹوگرافر کی دوکان پر لٹکی رہتی تھی جس میں وہ کھڑا ہے اور ہونٹوں سے سرخ خوں بہہ رہا ہے . میں نے اُس دن دیکھا کہ پولیس دور کھڑی اس کے قریب آنے کی جرات نہ کرتی تھی .وہ لہو لہان چہرے والی تصویر پھر ڈیرہ کی روایت بن گئی .
میں نے مصطفیٰ کھر ،حفیظ پیرزادہ ،کوثر نیازی اور جتوئی کو حق نواز کے پیچھے پیچھے چلتے دیکھا ہے .وہ ایک لیڈر تھا .غریبوں اور مزدوروں کی آواز تھا .وہ ایک دلیر انسان تھا .ڈیرہ کے لوگ اس سے پیار کرتے تھے .سب سے جھک کر ملتا مگر سماج کے سامنے ایک پہاڑ کی طرح کھڑا ہوجاتا تھا .
پھر اسے قتل کر دیا گیا .پارٹی کے بہت سے لوگوں کے نام آئے کہ ان کی سازش سے حق نواز شہید کر دیا گیا .ہم جیل کے باہر اس کے پوسٹ مارٹم کا انتظار کرتے تھے .ہزاروں لوگ جمع تھے.ٹولیوں کی صورت ہم جیل کے باہر خاموش بیٹھے تھے .اس کی لاش ایک چار پائی پر برفوں سے گھری پڑی تھی .جسم پر زخموں کے نشانات تھے .سب ڈیرہ وال ایک دوسرے سے گلے مل کر رو رہے تھے .سنا تھا کہ اکسی نے سازش کی اور گھات لگا کر بڑی بے دردی سے مار دیا .مجھے لاش کے قریب جانے لگتا اور ہجوم مجھے پیچھے دھکیل دیتا ..
دوسرے دن جلال پارک میں پورا شہر اس کے جنازے میں جمع تھا .بھٹو ایک کالا چشمہ پہنے موجود تھا.حیات محمد شیر پاؤ بھی وہیں نظر آیا تھا .میں جلال پارک کے سامنے پی آئی اے کی عمارت کی چھت پر بیٹھا تھا .جنازہ میں نے دور سے دیکھا اور پھر اسی پارک کے کونے میں اسے منوں مٹی تلے دفن کر دیا گیا .آج وہ جلال پارک نہیں ،حق نواز پارک کہلاتا ہے اور دائیں جانب کونے میں اس کا سفید مقبرہ ہے .حقنواز کی شہادت سے وڈیروں کے دروازے پارٹی میں کھل گئے .انقلاب ایک طرف اکیلا کھڑا تھا اور سامراج دھڑا دھڑ پارٹی میں آ گھس بیٹھا تھا ..............سب لیڈر بن گئے اور ایک مزدور مٹی تلے جا سویا . ایک انقلابی نعرہ دفن ہو گیا تھا .......میری ایک گزارش ہے سب سے کہ اب کی بار توپانوالہ گیٹ کو جائیں تو ذرا سی دیر کے لیے حق نواز کی قبر پر رک کر اس کے لیے الله کے آگے اپنے ہاتھ کھڑے کر لیں .......ندیم اقبال

11/07/2020
( ونگ کمانڈر ایزد بخش اعوان )                 , برصغیر کا پہلا مسلمان پائلٹ ,برصغیر پاک و ہند کے پہلے مسلمان پائلٹ ایزد ...
25/06/2020

( ونگ کمانڈر ایزد بخش اعوان )

, برصغیر کا پہلا مسلمان پائلٹ ,

برصغیر پاک و ہند کے پہلے مسلمان پائلٹ ایزد بخش اعوان
کا تعلق ڈیرہ اسماعیل خان سے ہے. آپ ڈہرہ اسماعیل خان کے نامور وکیل اور سیاست دان نور بخش اعوان کے بیٹے ہیں.

آپ نے ابتدائ تعلیم گورنمنٹ ہائ سکول نمبر 1 ڈیرہ اسماعیل خان سے حاصل کی . جبکہ اعلیٰ تعلیم لاہور سے حاصل کی.
تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ نے راۂل انڈین اۂرفورس میں شمولیت اختیار کی . اس دور میں ہندو اور سکھ تعلیم پر چھاے ہوے تھے .ان کے مقابلے میں اعلیٰ پوسٹوں پر کامیابی بڑی مشکل سے ہوتی تھی.

آپ نے اۂرفورس کی ٹریننگ انگلینڈ میں حاصل کی.آپ نے آزادی کےبعد پاکستان اۂرفورس میں خدمات سرانجام دیں
اور بطور جانباز بہادر پائلٹ کے پیدا کیا.

اس کے علاوہ 1946 میں پہلی حج پرواز لے جانے کا شرف بھی آپ کو حاصل ہے
راۂل انڈین ایرفورس تاریخی دستاویز میں ایزد بخش اعوان کا نام راۂل انڈین ایر فورس کے poineer کے طور پر شامل کیا گیا ہے آپ یقیناً مسلمان پائلٹوں کے رہنما تھے.

آپ نے انگلش میں ایک کتاب The winged wagon لکھی یہ اۂر فورس پر ایک نادر کتاب سمجھی جاتی ہے.

ڈیرہ اسماعیل خان کے اس مایہ ناز سپوت کا انتقال5 اگست 1989 میں ہوا. آپ آج بھی اہلیان ڈیرہ کے دلوں میں زندہ ہیں.

بحوالہ کتاب..آئینہ تاریخ

ابراہیم نخعیؒ اور حسن بصریؒ کہتے تھے: ایک شخص کے فتنہ وابتلاء کے لیے یہی کافی ہے اسے دینی یا دنیاوی لحاظ سے اتنی شہرت مل...
24/06/2020

ابراہیم نخعیؒ اور حسن بصریؒ کہتے تھے: ایک شخص کے فتنہ وابتلاء کے لیے یہی کافی ہے اسے دینی یا دنیاوی لحاظ سے اتنی شہرت مل جائے کہ لوگوں میں اس کا چرچا ہونے لگے؛ اس شہرت کے ساتھ اللہ ہی کسی (کے دین ایمان) کی حفاظت فرمائے!

الزهد لابن السري 2 /442

A "green highway" snakes through world's second largest shifting sand desert, the Taklimakan Desert, which is also known...
20/06/2020

A "green highway" snakes through world's second largest shifting sand desert, the Taklimakan Desert, which is also known as "the Sea of Death" in northwest China's Xinjiang Uygur Autonomous Region. The 552-kilometer-long highway was built in 1995 and has long been seen as an important road for economic development in the southern part of the autonomous region. The trees planted along the road function as an environmentally-friendly way of protecting vehicles from sand blown by the wind.

No words to describe this picture Never lose hope nor be sad Believe Allah the only creator
15/06/2020

No words to describe this picture
Never lose hope nor be sad
Believe Allah the only creator

پہاڑپور کی قدیم بلڈنگگورنمنٹ ھاٸی سکول نمبر 1 پہاڑپور ڈیرہ اسماعیل خان شہر پہاڑپور کیتقریباً 150 ایک سو پچاس سال کم وبیش...
14/06/2020

پہاڑپور کی قدیم بلڈنگ
گورنمنٹ ھاٸی سکول نمبر 1 پہاڑپور ڈیرہ اسماعیل خان شہر پہاڑپور کی
تقریباً 150 ایک سو پچاس سال کم وبیش پرانی عمارت انگریز دور کے فن تعمیر کا منہ بولتا ثبوت ہے ، جو آج بھی اپنی اصلی حالت میں شان وشوکت کے ساتھ موجود ہے ،
شہر کو پہلا دواخانہ انگریزوں نے عطا کیا،
اس شاندار بلڈنگ کو انگریزوں نے سن 1873 اٹھارہ سو تہتر میں شہر کا پہلا دواخانے کے طور پر قاٸم کیا گیا ،
جو بعد میں گرلز سکول لاڑی اڈا منتقل ہوا ،
پھر اسکو سن 1898 اٹھارہ سو اٹھانوے میں پہلا عصری تعلیمی پراٸمری سکول کا درجہ دیا گیا قرار پایا،
جو بعد میں مڈل سکول قرار پایا ، تقسیم ہند سے پہلے مسلمان ہندٶ کا شہر میں اکلوتا تعلیمی ادارہ تھا ، جس کا ایک پہاڑپور کے پیداٸشی و رہاٸشی ہندٶ سندر داس کھتری نے اپنے ایک ویڈیو کلپ میں بھی ذکر کیا تھا ،
اس شاندار بلڈنگ کی اندرونی دیواروں کی چوڑاٸی تقریباً 18 انچ تک موٹی ہیں ، اس کے دوگیٹ ہیں مین گیٹ مشرقی شمالی سمت مین بازار لاڑی اڈا کی طرف اور دوسرا گیٹ مغربی جنوبی سمت محلہ سلطانیہ کی طرف ہے اندر کوٹ کے علاوہ اس محلے میں مسلمانوں کے ساتھ ہندٶ بھی کافی تعداد میں رہاٸش رکھتے تھے یہ انگریز دور کی عمارت ایک بہترین فن تعمیر کا منہ بولتا ثبوت ہیں ،
یہ تصویر اس بلڈنگ کی تصویر آج سے 30 سال پہلے سن 1990 انیس سو نوے میں بی اے باطیش صاحب نے اسکے سامنے والی چھت پر بیٹھ کر اپنے ہاتھ سے بناٸی تھی ،

Address

Jabar Wala
Dera Ismail Khan
29050

Telephone

+923459781920

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when AWAN Swimming POOL posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to AWAN Swimming POOL:

Share