30/08/2026
Justice for Muhammad Tanvir Shahzad
ایک بار پھر مجھے، ایک فعال اور تجربہ کار پولو کھلاڑی ہونے کے باوجود، سائیڈ لائن کیا جا رہا ہے۔ میری ٹیم چترال انڈیگو میں زیادہ تر جونیئر کھلاڑی شامل ہیں اور میں ٹیم کا واحد تجربہ کار اور سینئر کھلاڑی ہوں، جبکہ دیگر ٹیموں میں تین سے چار تک تجربہ کار اور سینئر کھلاڑی موجود ہیں۔ ایسے میں میرے ساتھ یہ رویہ آخر کیوں؟
یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ مجھے اس صورتحال کا سامنا ہے۔ شندور پولو فیسٹیول کے دوران بھی مجھے اسی نوعیت کی ناانصافی کا سامنا کرنا پڑا، خصوصاً اس لیے کہ میں نے ہمیشہ پولو میں ناانصافی، جانبداری اور سیاست کے خلاف کھل کر آواز اٹھائی ہے۔
آنے والے خیبر پولو فیسٹیول کے ٹرائلز کے حوالے سے بھی کئی اہم سوالات موجود ہیں۔ ٹرائلز سے قبل کھلاڑیوں کے لیے کوئی واضح اور شفاف معیار (Criteria) سامنے نہیں لایا گیا۔ اس کے علاوہ اگر کھلاڑی اپنے گھوڑے ٹرائلز کے لیے لاتے ہیں تو ان گھوڑوں کے اخراجات کون برداشت کرے گا، اس بارے میں بھی پولو ایسوسی ایشن کی جانب سے کوئی واضح اعلان نہیں کیا گیا۔
یہ صرف میرے ذاتی تحفظات نہیں بلکہ ہر اُس سول پولو کھلاڑی کا حق ہے کہ اسے شفاف، منصفانہ اور میرٹ پر مبنی طریقۂ انتخاب فراہم کیا جائے۔
اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو میں مجبوراً پریس کانفرنس کے ذریعے اپنے تحفظات عوام کے سامنے رکھنے اور اپنے آئینی و شہری حقوق کے لیے آواز اٹھانے کا حق استعمال کروں گا۔
اگر ان ٹرائلز کے انعقاد یا نگرانی میں چترال اسکاؤٹس، ایف سی یا ضلعی انتظامیہ کا کوئی کردار ہے تو انہیں ہر سول پولو کھلاڑی کے سامنے شفافیت، میرٹ اور مساوی مواقع کو یقینی بنانا ہوگا۔
پولو کا فیصلہ میرٹ، کارکردگی اور کھیل کی بنیاد پر ہونا چاہیے، نہ کہ اثر و رسوخ، سیاست یا ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پر۔🙏🙏
Copied from Muhammad tanvir Shahzad