09/08/2023
وہ کہانی تو آپ نے سنی ہوگی کہ ایک باپ اپنے نوجوان بیٹے کے ساتھ ٹرین میں سفر کرتا ہے اور نوجوان بچوں کی طرح ہر چیز پہ حیران ہوتا ہے۔ اسے پیچھے کی طرف دوڑتے درخت عجیب لگتے ہیں۔ وہ رد عمل دیتا ہے اور دوسرے مسافر اس کی بچکانہ حرکتوں کا برا مناتے ہیں اور اس پہ ہنستے ہیں۔۔۔جبکہ درحقیقت نوجوان کی بینائی زندگی میں پہلی دفعہ واپس آتی ہے۔ اس کا باپ اسے آپریشن کے بعد ہسپتال سے ہی واپس لا رہا ہوتا ہے۔۔۔اور وہ شخص اردگرد کو پہلی دفعہ دیکھ اور محسوس کر رہا ہوتا ہے۔۔۔
ہمارے ہاں دیکھنے، سننے، سوچنے، سمجھنے کا زاویہ ایک ہی ہے۔ ایک سیدھا رستہ جو آگے جا کے بند ہو جاتا ہے۔ہم دوسرے زاویوں سے سوچنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اگلے کے بارے میں ججمینٹل ہو جاتے ہیں اور اپنی بنائی ہوئی ججمنٹ کے حساب سے دوسرے کے ساتھ رویہ اپناتے ہیں جبکہ دوسرے کو اس بات کا علم تک نہیں ہوتا۔ غور کیجئے یہ حرکت ہم چھوٹی چھوٹی باتوں پہ زیادہ کرتے ہیں بنا سوچے کہ اگلے کے اپنے مسائل کس قسم کے ہوں گے۔۔۔ نتیجہ۔۔۔وہ شخص پھر خود کو دوسروں سے شرمندگی کے باعث دور کر لیتا ہے۔۔۔اور آپ کو اپنے ججمنٹ کے اندھے پن میں ذرا سا احساس نہیں ہوتا۔۔۔۔
نوٹ: یہ جنرل پوسٹ تھی۔۔۔