04/08/2019
پاک بھارت کشیدگی لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی جارحانہ موجودگی کے تناظر میں ہماری ذمہ داریاں تمام محب وطن پاکستانیوں کے لیے
*حالت جنگ میں کس کا کیا کام ہے*
*افواج* ( بری فضائی و بحری)
ملک کی زمینی فضائی اور سمندری سرحدوں کا تحفظ
*پیرا ملٹری / نیم فوجی دستے*
پہلے سے ملی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ
بطور سیکنڈ ڈیفنس لائن تیار رہنا
*پولیس و سول آرمڈ فورسز*
ملک میں امن و امان برقرار رکھنا اور بطور تھرڈ ڈیفنس لائن تیار رہنا.
سویلین
نوجوان
فوجی بھرتی کے لیے دستیاب رہنا
سول ہسپتالوں میں رضاکار ذمہ داریاں سنبھالنا
فوجی و سول ہسپتالوں میں
خون کے عطیات دینا
شہری دفاع کا حصہ بننا
اگر کسی ایسے علاقے میں موجود ہوں جہاں دشمن خدانخواستہ اپنی فوج کی سپلائی لائن کاٹ دے تو فوری طور پر مقامی مذاحمت کو منظم کرنا، اور کسی ریٹایرڈ فوجی کی سربراہی میں دشمن کے خلاف مسلح اور نیم مسلح جدوجہد کرنا اور دشمن کو گوریلا طرز پر نقصان پہنچانا
*سپلائی لائن کا تحفظ*
فوج جب دشمن سے جنگ میں مصروف ہوتی ہے تو دشمن پاکستانی فوج کی پشت پر چھاتہ بردار اتار کر فوج کی سپلائی لائن کاٹ سکتا ہے
چھاتہ بردار کی پہچان اس کے جہاز یا وردی پر لگے جھنڈے سے ہو سکتی ہے یا سابقہ فوجی اس کو پہچان سکتے ہیں
اگر کسی بھی ایسی کاروائی کو دیکھیں تو پہلے تسلی کر لیں کہ یہ دشمن ہے یا اپنی فوج دشمن کی صورت میں اس کے اترنے کے مقام اور جہاں پر وہ کیمپ لگائے اس پر نظر رکھیں اور کسی بھی ذریعے سے اطلاع اپنی نزدیکی فوجی یونٹ کو دیں
دشمن کے معمولات پر نظر رکھیں خدانخواستہ دشمن اپنی فوج کو کمزور کرنے کی کوشش کرے تو مقامی مزاحمت کو منظ کر کے دشمن کی پشت پر حملہ کریں یاد رکھیں بھارتی فوجیوں کو مارنے کے لیے اسلحہ کا لایسنسن شدہ ہونا ضروری نہیں
کسی جگہ سے اپنی فوج پسپا ہو تو اور دشمن قابض ہو تو دشمن کے معمولات پر نظر رکھین اور حرکات و سکنات کی اطلاع اپنی قریبی فوجی یونٹ کو دیں
اگر قریب یونٹ موجود نہ ہو اور یہ خطرہ ہو کہ دشمن آنے والی کسی فوجی یونٹ کے لیے خطرہ بن سکتا ہے تو فوج کے آنے والے راستے پر آگے کی طرف ٹھکانہ رکھیں تاکہ آمدہ یونٹ کو بتایا جا سکے
اگر قریب میں کوئی یونٹ موجود نہ ہو اور خطرہ ہو کہ چھاتہ بردار اترتے ہی بارڈر پر موجود اپنی فوج کو نقصان پہنچائیں گے تو عورتوں بچوں اور بوڑھوں کو محفوظ علاقے کہ طرف بھیج کر نوجوان فورا مزاحمت کو منظم کریں
*مسلح مزاحمت کے اصول*
جب تک اپنی فوج موجود ہے کسی قسم کا ہتھیار مقامی فوجی کمانڈر کی اجازت کے بغیر نہ اٹھائیں فوج کو معمولات چلانے دیں اور ان کی عمومی ضروریات جیسے پانی راشن مورچے کھدائی کروانا یا دیگر سہولیات میں تعاون کریں
کمانڈنگ آفیسر اگر کہے تو رضاکارانہ خدمات کے لیے پیش رہیں
جنگ کی صورت میں زخمیوں کی مرہم پٹی اور دیکھ بھال کے لیے افواج کا ساتھ دیں
بفرض محال اگراپنی فوج کو پسپا ہونا پڑے تو دشمن کو فوج کا پیچھا نہ کرنے دیں بلکہ عورتوں اور بچوں کو روانہ کرکے نوجوان جنگلوں اور پہاڑوں کا رخ کریں اور کسی سابقہ فوجی کہ قیادت مین مزاحمت کو
منظم کر ے دشمن کو مصروف رکھین تاوقتیکہ اپنی فوج واپس نہ آ جائے مزاحمت کے دوران کوشش کریں کہ کسی نہ کسی ذریعے سے اپنی فوج سے رابطہ برقرار رہے.