Kaka fans group

Kaka fans group aim to promote tape ball cricket 🏏

17/11/2024

🚨 𝑹𝑬𝑷𝑶𝑹𝑻𝑺 🚨

The ICC has canceled the Champions Trophy tour in Skardu, Murree, and Muzaffarabad, areas located in Pakistan-occupied Kashmir (PoK) ❌

This decision follows a swift response to an announcement made by the PCB the previous day.

The BCCI raised concerns about the tour, prompting the ICC to take immediate action.

17/11/2024

کوہستان کا تعارف!!!!!
کوھستان صوبہ خیبر پختونخوا کے شمال میں واقع بلند وبالا پہاڑیوں کی سرزمین ھے یہ ضلع مشکل زیست، ناکافی ترقی اور پھیلی ہوئی آبادی کی وجہ سے اپنا نمایاں پہچان رکھتا ہے۔ اس کے باوجود ضلع کوہستان عجب جغرافیائی اہمیت۔حکمتِ اور عملانہ مقصدیت کا حامل بھی ہے۔ اس کے سرحدیں شمالی علاقہ جات، مالاکنڈ ڈویژن اور ہزارہ ڈویژن کا ضلع مانسہرہ اور بٹگرام سے ملتی ہیں۔ شاہراہِ قراقرم اور دریائے سندھ اس ضلع کے عین درمیان میں سے بل کھاتے گزرتے ھیں۔جس وجہ سےشعبۂ سیاحت کی بہتری کے لیے کافی استعداد موجود ہے۔ ہزارہ ڈویژن کے وجود سے 1976 میں کوہستان بحیثیت ضلع وجود میں آیا۔ یہ چار سب ڈویژن داسو، کندیا۔پالس اور پٹن پر مشتمل تھےمگر اب یہ خطہ تین اضلاع اپرکوھستان۔لوئر کوھستان اور کولی پالس کوھستان پر بٹ گیا ھے1974 کے تباہ کُن زلزلے کے بعد اس پسماندہ ضلع کی تعمیر و ترقی جغرافیائی دوری۔ معاشی اور معاشرتی کمزوریوں کی وجہ سے دیرپا دوبار اھا۔ غربت عروج پرھونےکےباوجود یہ غیورقوم ھاتھ پھیلانے(بھیک مانگنے)سے محنت مزدوری کو زیادہ ترجیح دیتی ھے۔ اب یہاں حکومت نےداسو اور بھاشا ڈیموں کاکام شروع کیاھےانشا اللہ جو علاقےکی خوشحالی کاباعث بنیں گے۔
یہ ضلع شمالی علاقہ جات یعنی صوبہ گلگت بلتستان کا دروازہ سمجھاجاتا ہے ۔ کوھستان کا اکثر و بیشتر علاقہ پہاڑی ہے لیکن وادیوں کے اندر انتہائی خوبصورت درے ہیں جن تک سڑکیں نہ ہونے کی وجہ سے ان جنت نظیر وادیاں سیاحت کے نظروں سے اوجھل ھیں۔جہاں رسائی مشکل ہے۔ ایک وسیع خوبصورت رقبہ پر پہاڑی سلسلےدیودار بنے ھیں۔ان وادیوں میں قیمتی اورگھنےجنگلات۔ہری بھری جڑی بوٹیاں۔نایاب چرند پرند اور جنگلی بکرے(مارخوراور کیل) کثرت سے پائے جاتےہیں۔ یہاں سے بڑی مقدار میں آخروٹ مارکیٹ تک پہنچتا ہے۔آج کل لوگ چلغوزوں اور معدنیاتی قیمتی پتھروں سے کافی آمدن حاصل کرکےگزربسر کرتے ھیں۔ پانی کے بھی وسیع ذخائرندی۔نالوں۔ چشموں اور آبشاروں کے شکل میں موجود ہیں جن سےآج کل محکمہ واپڈاخوب استفادہ کرنےکی کوشش کررہا ہے یہ کوشش لوگوں کی زندگیوں پر مثبت تبدیلی لا سکتا ہے۔
یہاں کےلوگ سادہ اور محنت کش ہیں ۔ شلوار قمیص اور مخصوص قسم کی ٹوپی پکول زیب تن کرتے ہیں۔ سادہ خوراک کوترجیح دیتے ہیں کھیتی باڑی اورمال مویشی پالنا یہاں کابڑاذریعہ آمدن رہاہے۔اب تعلیم کا رجحان مسلسل بڑھ رہا ہے اور ملازمتوں کے دروازے بھی کھلنا شروع ہوگئےہیں۔ لوگ مذہبی رجحان رکھتےہیں لیکن اپنی روایات اور رسم ورواج کےبڑےپابندہیں۔سیاسی طور پراپناجنبہ یاڈلہ کوترجیح دیتے ھیں جیسے مقامی طورپر(اڑی)کہاجاتاہے۔ شادی بیاہ اپنے قبیلے میں کرناپسند کرتےہیں۔ ذات پات کی سماجی برائی کافی حد تک مظبوط ہے۔ لوگ اپنےسے پست ذات پات والوں میں رشتہ کرنا پسندنہیں کرتےتاہم ضرورت کے مطابق پست طبقہ کی لڑکی سے شادی کی جاسکتی ہے۔ خوشی اور غمی کے مواقع ایک دوسرے کی بھر پورمددکی جاتی ہے۔مہمان نوازی بہت عام ھے۔بیٹھک اور ھجروں کو مہمانوں سےآبادرکھنااپنی عزت سمجھتے ھیں۔
مورخین کامانناہےکہ کوہستانی نسلاً آریائی ہیں اور ایک ہزار سال قبل مسیح آکر اباسین کے آرپار آباد ہوگئے تھے۔شروع شروع میں شکاران کا ذریعہ معاش رھا لیکن جلد زراعت کو ذریعہ معاش بنادیاگیا۔
کوہستان میں ذات پات کو نمایا ں مقام حاصل ہےیہاں کےقبائل ذات پات کے بندھنوں میں جکڑےہوےہیں۔بڑے خیل کےبعدچھوٹےاورذیلی خیل ہیں لیکن اس نظام میں بنیادی تین بڑے گروہ ہیں۔ جیسے اُولسے، استانہ اور قصبی یا غیر اُولسےکہاجاتاہے۔
لسانی طور پر دریا ئے سندھ کوہستان کودوحصوں میں قدرتی طورپرتقسیم کرتاہے۔مغربی جانب بنکڈ،رانولیا،دوبیر،جیجال، پٹن،کیال،سیواورکندیامیں کوہستانی زبان بولی جاتی ھےجسے اباسین کوہستانی(کوستئیں)بھی کہتےہیں۔
مشرقی جانب شینا کوہستانی بولی جاتی ہے ضلع کے اس حصے کو”انڈس کوہستان “یاھزارہ کوھستان کہاجاتا ھے۔ شیناآریائی زبانوں کےہند،ایرانی گروہ کی ایک زبان ہے۔یہ زبان نصف سے زیادہ ضلع کوہستان کےعلاقہ مدخیل، کولئی، پالس، جالکوٹ، سازین اور ہربین میں بولی جاتی ہے۔یہ زبان چونکہ آریائی زبانوں کی شاخ ہے۔ مورخین کاکہناہےکہ آریوں کی آمدسےپہلےیہاں پیساچہ نامی ایک قوم آبادتھی۔ پیساچہ اور آریا کی ملاوٹ سےکافی زبانیں پیدا ہوئیں جن میں کوہستانی اور شینا بھی شامل ہیں۔ مشہور سکالرز رزول کوھستانی اورپروفیسر عثمان علی اس پر یوں روشنی ڈالتے ہیں ” پیساچہ قدیم بولیوں اور دردی بولیوں کی ملاوٹ سے کشمیری، کوہستانی ،شینا، کھوار کے علاؤہ بھی کافی زبانیں پیدا ہوئیں“
ماہرین نے ان زبانوں کی خصوصیات کی بنیاد پر انہیں دردی زبانوں کا خانداں قرار دیا ہے ۔ اس وطن کا نام ابھی تک دردستان نہیں تھا نہ یہاں کے لوگ جانتے تھے کہ انہیں کوئی درد کہتا ہے ٕٕ۔ موصوف آگے چل کر لکھتے ہیں کہ پیساچہ بولنے والے لوگ جو کوہستان ، کشمیر ، داریل، تانگیر، گریز، چترال تک پھیل گئے تھے نے دردی زبانوں کےلئے خام مواد فراہم کیا ۔ کیونکہ پیساچہ زبانیں بعد میں وادی سندھ میں آنے والے لوگوں کےلئے کوئی اجنبی نہ تھیں کیونکہ جب ان کےبھائی افغانستان اور ایران سے ہند آئے تو وہ بھی وہی بولیاں بولتے تھے جو ان کے بھائی بولتے ہوئے وادی سندھ میں آئے تھے ان دونوں بولیوں کا خمیر ایک ہی تھا۔
کوہستان میں ان دو بڑی زبانوں کے علاوہ اور بھی زبانیں بولنے والے موجود ہیں جیسے پشتو،بٹیڑی اور گوجری۔ گباری اورچھلیسو تقریبا معدوم ہوگئیں ہیں۔ گوجری بولنے والے کوہستان میں بکھرے ہوئے ہیں جبکہ بٹیڑی ایک یونین کونسل بٹیڑہ میں بولی جاتی ہے ۔ پشتو بولنے والوں کے بھی کوہستان میں دو تین گاوں آبادہیں اور وہ اپنی لہجہ میں پشتو بولتے ہیں۔
کوہستانی زبان کئی لہجوں میں بولی جاتی ہیں۔
اباسین کوہستان اپنی خوبصورت وادیوں کے ساتھ ساتھ اپنی خوبصورت بولیوں۔لہجوں۔مہمان نوازی اور خداترسی کی وجہ سے مشہور ھے۔کوھستانی قبائل مہمانوں کو دل میں محبت نگاھوں میں حسرت اور زبان عزت دیتے ھیں۔اب یہ خطہ محکمہ واپڈا اور محکمہ وائلڈ لائف کا گھر بھی سمجھا جاتا ہے

09/11/2024

باسط علی 🗣️
رضوان بیٹا آج اپکی ٹیم اور آپکی کپتانی نے دل خوش کردیا اس ٹیم کو واپس اپنے اصل مقام تک لانا تیرے زمہ داری ہے دو میچوں میں رضوان کی کپتانی دیکھ کر میری امید جاگ گئی ہے کہ محمد رضوان پاکستان ٹیم کےلیے ایک بہترین کپتان ثابت ہونگے ٹیم بھی وہی ہے کھلاڑی بھی وہی لیکن اب سب ٹیم صرف جیت کیلئے جان لڑا رہے ہیں

| |

Address

Besham Qala
HASAN32

Telephone

+923475707860

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kaka fans group posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category