28/06/2026
جناب رانا سکندر حیات صاحب، وزیر تعلیم پنجاب
سر آپ کا اقبال بلند رہے۔ادھر ادھر کی باتیں بہت ہو چکیں۔ آپ چونکہ تعلیم کے وزیر ہیں اور ہم استاد ہیں تو کچھ پڑھی لکھی باتیں کرتے ہیں۔ سر آپ سیاسی آدمی ہیں۔شکوہ اور جواب شکوہ کے عادی ہوں گے۔
جناب وزیر صاحب محکمانہ احتساب اور اپنے ہی ادارے کے خلاف عوامی راۓ بنانے میں بہت فرق ہوتا ہے۔آپ بصد احترام اپنے ہی محکمے کے خلاف عوامی راۓ بنانے کی مہم پہ نکل پڑے ہیں۔آپ مختلف پریس کانفرنسز،سیمنارز،پبلک ٹاکس، اور اپنی سوشل میڈیا پوسٹس میں عوام الناس کو یہ بتا رہے ہیں کہ استاد نالائق ہیں، استاد چور ہیں،استاد نتائج نہیں دیتے،استاد نقل کرواتے ہیں۔وغیرہ وغیرہ۔
سر ! کیسا لگے گا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر پریس کانفرنس کریں کہ ساٹھ فیصد فوجی تو ٹھیک ہیں مگر چالیس فیصد کو ہم لازمی ننگا کریں گے۔ سر کیسا لگے گا کہ وزیر داخلہ پریس کانفرنس کریں کہ ساٹھ فیصد پولیس والے کرپٹ ہیں۔ اگر ہیں بھی تو نہیں کہیں گے۔بلکہ ممکن ہو تو ان کا احتساب کریں گے۔
سر کیسا لگے کہ میڈم سی ایم کسی دن آپ کے خلاف پریس کانفرنس کر دیں کہ میرے آدھے وزیر نااہل ہیں۔میں ان کو پبلک میں لاؤں گی اور ان میں آپ کا نام بھی ہو۔
سر،آپ منطقی طور پہ غلط ڈائریکشن میں بیانیہ بنا رہے ہیں۔آپ نے سچ بولنا ہے تو یہ بولیں کہ کہاں پنکھے نہیں ہیں۔ کہاں بلڈنگ نہیں ہے۔کہاں سکول کو راستہ نہیں جاتا، کہاں صاف پانی نہیں ہے۔پچھلے دس سال میں اساتذہ کی بھرتیاں کیوں نہیں ہوئیں۔
سر آپ تھوڑی جرات کریں نا اپنی حکومت سے لڑائی کریں کہ بجٹ میں تعلیم کا فنڈ کیوں کم کیا۔ہم آپ کا ساتھ دیتے ہیں۔
سر، لڑنے کو، دلیری دکھانے کو، سچ بولنے کو بہت کچھ ہے۔جس کی طرف آپ کا دھیان نہیں جاتا۔
ہم آپ سے عزت کی بھیک نہیں مانگ رہے سر۔عزت و ذلت تو خدا کے ہاتھ میں ہے۔ہم تو چاہتے ہیں آپ بھی ہمارےاساتذہ کے صدقے عزت کمائیں۔ جیتے رہیں ، خوش رہیں۔