15/05/2021
🌺⭐ شوٹنگ والی بال کا سابق ہیرو ⭐🌺
احمد حسین بھٹی آف عینو تحصیل نور پور تھل
ضلع خوشاب
احمد حسین بھٹی 12 اگست 1973ء کو ضلع
خوشاب کی تحصیل نورپور تھل کے قصبے عینو
میں پیدا ہوئے, والد کا نام حاجی امام بخش ہے
احمد حسین بھٹی نے F.A تک تعلیم حاصلی کی
بچپن ہی سے والی بال کا شوق تھا, پہلے پلاسٹک
والی بال کھیلتے رہے, پھر شوٹنگ والی بال شروع
کی,1992ء تک علاقائ سطح پر شوٹنگ والی بال
میں کافی نام پیدا کرلیا, جس کی وجہ سے سابق
معروف کھلاڑی سجاد اکبر زخمی نے اپنےکلب میں
شامل کرلیا,لیکن احمد حسین بھٹی جس کو والی
کی دنیا میں,,بھٹی عینو آلا,,کے نام سےپکارا جاتا تھا , اس حد تک شہرت حاصل کرچکے تھے کہ
23مارچ 1993ء کو شوٹنگ والی بال کے کنگ مہر الطاف حسین ملاح نے اپنے کلب کیلیئے اس پلیئر
سے معاہدہ کرلیا, جو پھر احمد حسین بھٹی کے
2005ء تک کویت جانےتک برقرار رہا,احمد حسین
بھٹی اور مہر الطاف ملاح کا مزاج بھی کافی ملتا
تھا,احمدحسین بھٹی اسوقت گیم سےہٹ کر کچھ
زیادہ شرمیلے تھے,آپ پرانی تصویر سے اندازہ لگا
سکتے ہیں, پیچھے دیوار کے ساتھ چادر اوڑھ کر
سمٹے بیٹھے ہیں,لیکن گیم کے وقت جادوگر شوٹر
تھے,احمدحسین بھٹی کو والی بال پرحیرت انگیز
حد تک مہارت حاصل تھی, احمد حسین بھٹی کی
شاٹ بالکل نیٹ کی اوپر والی پٹی کراس کرتی
ہوئ حیرت انگیز طور پر نیچے لگتی تھی, مخالف
ٹیم کے ڈیفینسر ,اور نیٹ مین اس شاٹ بال کو
سمجھنےمیں اکثر ناکام رہتےاور احمدحسین بھٹی
کی ٹیم کیلیئے یقینی پوائنٹ ہوتا, 12 سال کی
مہر الطاف حسین ملاح کے ساتھ طویل رفاقت کے
بعد کویت چلے گئے,اور میرے خیال میں ابھی تک
وہیں ہیں,احمد حسین بھٹی اور مہر الطاف ملاح
کے تبدیل ہونے والے فرنٹ مینوں کے نام لکھوں تو
ایک بڑی فہرست تیار ہوجائے گی, لیکن یہ دونوں کھلاڑی ہمیشہ اکٹھے رہے, اسوقت مدمقابل بھی
سابق DSP مہر امجد یار لک آف ماڑی لک ضلع
سرگودھا اور سردار عامر خان بلوچ مرحوم آف
کوٹ موسٰی خان ضلع سرگودھا کےکلبز تھے جنکے
ایک ایک کھلاڑی کا نام شوٹنگ والی بال کی تاریخ
میں سنہری حروف سے نقش کنندہ ہے,وقت کسی
کی جاگیر نہیں,میری دعا ہے اللہ پاک احمد حسین
بھٹی کوصحت وسلامتی سےشاد و آبادرکھے.آمین
دعاگو: ذوالفقار راجوخیل