04/11/2025
*🏴بسْــــــــــــــمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم🏴*
وَ بَینَما هُوَ یُغَسِّلُها اِذِ اعْتَزَلَها ناحِیَةً وَ صارَ یَبکِی،
وَ الحَسَنُ عَن یَمینِهِ وَ الحُسَینُ عَن شِمالِهِ وَ زَینَبُ بَینَ یَدَیهِ.
فَقالَتْ أَسماءُ: سَیِّدی، أَکمِلْ غُسلَها ثُمَّ ابکِ بَعدَ ذلِکَ لِفِراقِها.
فَقالَ أَمِیرُالمُؤمِنِینَ (علیهالسلام):
یَا أَسماءُ! بَینَما أُغَسِّلُ فاطِمَةَ مَرَّتْ یَدِی عَلَی وَجْهِها فَإِذا هُوَ مُکَدَّرٌ مِن ضَربَةِ ذلِکَ الشَّقِیِّ، وَ عَینُها حَمرَاءُ کَالدَّمِ، وَ ذِراعُها وَرِمَتْ کَالسِّوارِ، وَ بَینَما أُغَسِّلُها مَرَّتْ یَدِی عَلَی ضِلْعٍ مِن أَضلاعِها فَوَجَدتُهُ مَکسُوراً.وَ لَمْ تُخبِرْنی بِذلِکَ حَتّی لا یَشتَدَّ أَلَمی.
جب امیرالمؤمنین علی علیہالسلام حضرت فاطمہ زهرا سلاماللهعلیها کے جسمِ مطہر کو غسل دے رہے تھے،
ایک لمحے کے لیے گوشۂ اتاق میں ہٹ گئے اور رونے لگے۔
امام حسن علیہالسلام ان کے دائیں جانب، امام حسین علیہالسلام بائیں جانب،
اور حضرت زینب سلاماللهعلیها سامنے کھڑی تھیں۔
اسماء (خادمۂ حضرت) نے عرض کیا:
“اے آقا! بہتر یہ ہے کہ پہلے غسل مکمل فرما لیں، پھر جدائی پر گریہ فرمائیں۔”
امیرالمؤمنین علیہالسلام نے فرمایا:
“اے اسماء! جب میں فاطمہ کو غسل دے رہا تھا،
میرا ہاتھ ان کے چہرے پر پہنچا تو دیکھا کہ
اس بدبخت کے تھپڑ کے نشان سے چہرہ نیلا ہو چکا ہے،
آنکھ خون کی مانند سرخ ہے،
اور بازو ایسا ورم کر گیا ہے جیسے بازوبند باندھا ہو۔
پھر جب میں ان کے پہلو پر ہاتھ پھیر رہا تھا،
میرا ہاتھ ایک پسلی پر پہنچا — وہ پسلی ٹوٹی ہوئی تھی
اور فاطمہ نے کبھی مجھ سے اس کا ذکر نہیں کیا،
تاکہ میرے دل کا درد زیادہ نہ ہو جائے اور میں شرمندہ نہ ہوں۔”
📚 منابع:
• أنوار الشهادة، شیخ یزدی، ص ۴۳۴
• العبرة الساکتة، ج ۱، ص ۷۶
*اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ وعَجِّلْ فَرَجَهُمْ و العن اعدائھم*