21/07/2025
تفریح کر، مگر حدودِ خدا یاد رکھ
دل کو بہلا، مگر دل کا خدا یاد رکھ
>
اسلامی نقطۂ نظر سے سیر و تفریح (یعنی صحت مند اور جائز تفریح) بذاتِ خود نہ صرف جائز ہے بلکہ بعض اوقات مستحب بھی ہے، کیونکہ اس سے دل کو فرحت ملتی ہے، جسم کو راحت ملتی ہے، اور انسان عبادت و دینی ذمہ داریاں بہتر انداز سے انجام دے سکتا ہے۔
لیکن اگر اس سیر و تفریح کے نام پر:
ناچ گانا کیا جائے
گانے باجے چلائے جائیں
مخلوط محفلیں ہوں (مرد و عورت کا آزادانہ میل جول)
بے حیائی اور فحاشی کی طرف لے جانے والے کام کیے جائیں تو یہ سب شرعاً ناجائز اور گناہ ہے۔
قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق ایسا تفریح جس میں گناہ شامل ہو، وہ تفریح نہیں بلکہ معصیت (گناہ) شمار ہوتی ہے۔
خلاصہ:
✅ سیر و تفریح: جائز
❌ سیر و تفریح کے نام پر ناچ گانا، فحاشی اور خلافِ شریعت امور: ناجائز و حرام
سیر و تفریح ضرور کرو، دل کو خوش رکھو، جسم کو راحت دو —
لیکن یاد رکھو! خوشی وہی اچھی ہے جو اللہ کی رضا کے دائرے میں ہو۔
گناہ کی محفلیں، ناچ گانا اور بے حیائی وقتی ہنسی تو دے سکتی ہیں،
لیکن دل کی روشنی چھین لیتی ہیں اور روح کو بے چین کر دیتی ہیں۔
اصل سکون اور اصل خوشی صرف اسی میں ہے جو اللہ کو راضی کرے۔
-🌿 نصیحت (چند اشعار):
تفریح کر، مگر حدودِ خدا یاد رکھ
دل کو بہلا، مگر دل کا خدا یاد رکھ
ناچ گانے سے ملے گی نہ کبھی راحت دل
ذکر و تسبیح میں اپنا صبا یاد رکھ
یہ جہاں فانی ہے، عیش بھی اک لمحے کا
آخرت کا بھی کبھی اپنا بھلا یاد رکھ
اے مسلمان! دنیا کی یہ وقتی محفلیں، ناچ گانا اور لہو و لعب شاید لمحاتی خوشی دے دیں،
مگر دل کو سچی راحت اور روح کو حقیقی سکون اللہ کی یاد، عبادت اور حلال خوشیوں میں ہی ملتا ہے۔
جو چیز اللہ کو ناراض کرے، اس میں کبھی حقیقی خوشی اور برکت نہیں ہوتی۔
لہٰذا خود کو اور اپنے گھر والوں کو ایسے کاموں سے بچا کر وہی راستہ اختیار کرو جس پر اللہ اور اس کے رسول ﷺ راضی ہوں۔‘‘ 🌿✨
اس لیے مسلمان کو چاہیے کہ ایسے کاموں سے بچے، چاہے وہ تفریح یا خوشی کے موقع پر ہی کیوں نہ ہوں۔
ع غ