Mr.Faizy

Mr.Faizy BE WHAT U WANT

17/01/2023

I've received 1,000 reactions to my posts in the past 30 days. Thanks for your support. 🙏🤗🎉

25/12/2022

سردی میں فالج اور ہارٹ اٹیک کی دو بڑی وجوہات ہیں👇🏻
نمبر 1: لوگ سردی میں اکثر پانی نہیں پیتے جس سے جسم میں پانی کم ہوجاتا ہے اور خون جم جاتا ہے۔
نمبر2: سردی میں خون کی رگیں تنگ ہوجاتی ہے۔لہذا سردی کے موسم میں گرم مشروبات اور نیم گرم پانی ذیادہ پئیں
-------------
⭐اپنے جسم کو گرم کپڑے،پاجامہ،جرابے،ٹوپی،داستانے چادر کوٹ پہن کر گرم رکھیں۔بوڑھے افراد اور بچوں کا خصوصی خیال رکھیں۔شکریہ

24/12/2022

*99 دلچسپ اور حیرت انگیز معلومات*

1۔آپ خواب میں صرف ان چہروں کو دیکھتے ہیں جنھیں آپ جانتے ہیں۔
2۔سونے کی جتنی زیادہ کوشش کریں نیند آنے کے چانس اتنے ہی کم ہیں۔
3۔کی بورڈ کی آخری لائن میں موجود بٹنوں سے آپ انگلش کا کوئی لفظ نہیں لکھ سکتے ۔
4۔انسانی دماغ ستر فیصد وقت پرانی یادوں یا مستقبل کی سنہری یادوں کے خاکے بنانے میں گزارتا ہے۔
5۔پندرہ منٹ ہنسنا جسم کے لیے اتنا ہی فائدہ مند ہے جتنا دو گھنٹے سونا۔
6۔کسی بھی بحث کے بعد پچاسی فیصد لوگ ان تیزیوں اور اپنے تیز جملوں کو سوچتے ہیں جو انھوں نے اس بحث میں کہے ہوتے ہیں۔
7۔ A nut for a jar of tuna
انور تم مت رونا
ایسا جملہ ہے جس میں اسے دائیں سے پڑھ لیں یا بائیں سے ۔ایک ہی بات بن سکتی ہے صرف کچھ سپیس کو درست کرلیں تو۔۔۔۔
8۔ فلاسفی میں ایک لمحے کا مطلب ہوتا ہے نوے سیکنڈ
9۔سردی کی کھانسی میں چاکلیٹ کھانسی کے سیرپ سے پانچ گنا زیادہ بہتر اثر دکھاتی ہے۔
10۔جتنی مرضی کوشش کر لیں جو مرضی کر لیں آپ یہ یاد نہیں کر سکتے آپ کا خواب کہاں سے شروع ہوا تھا۔
11۔کوئی بھی جذباتی دھچکا پندرہ یا بیس منٹ سے زیادہ نہیں ہوتا اس کے بعد کا جذباتی وقت آپ کی "اوور تھنکنگ " یعنی اس کے بارے میں زیادہ سوچنے کی وجہ سے ہوتا ہے جس سے آپ خود کو زخم لگاتے ہیں۔۔
12۔ عام طور پر آپ اپنے آپ کو آئینے میں حقیقت سے پانچ گنا زیادہ حسین دیکھتے ہیں۔ یا سمجھتے ہیں۔
13۔ سائنس کے مطابق نوے فیصد لوگ اس وقت گھبرا جاتے ہیں جب انھیں یہ میسج آتا ہے
"کچھ پوچھوں آپ سے"
Can I Ask you a question
میں بھی اکثر آپ کا یہ مسیج پڑھ کر چونک سا جاتا ہوں۔کہ معلوم نہیں کیا پوچھنا چاہتا ہے۔
14۔ زمین سے سب سے نزدیک ستارہ سورج ہے جو زمین سے 93 ملین میل دور واقع ہے
15۔ مکھی ایک سیکنڈ میں 32 مرتبہ اپنے پر ہلاتی ہے
16۔ دنیا کے 26 ملکوں کو سمندر نہیں لگتا
17۔ مثانے میں پتھری کو توڑنے کا خیال سب سے پہلے عرب طبیبوں کو آیا تھا
18۔ گھوڑا، بلی اور خرگوش کی سننے کی طاقت انسان سے زیادہ ہوتی ہے، یہ کمزور سے کمزور آواز سننے کے لیے اپنے کان ہلا سکتے ہیں
19۔تیل کا سب سے پہلا کنواں پینسلوینیا امریکا میں 1859ء میں کھودا گیا تھا
20۔ کچھوا، مکھی اور سانپ بہرے ہوتے ہیں
21۔ تاریخ میں القدس شہر پر 24 مرتبہ قبضہ کیا گیا
22۔ دنیا کا سب سے بڑا پارک کنیڈا میں ہے
23۔ہٹلر برلن کا نام بدل کر جرمینیا رکھنے کا ارادہ رکھتا تھا
24۔ دنیا میں سب سے زیادہ پہاڑ سوئٹزر لینڈ میں پائے جاتے ہیں
25۔دنیا کے سب سے کم عمر والدین کی عمر 8 اور 9 سال تھی، وہ 1910ء میں چین میں رہتے تھے۔
26۔ تمام پھلوں اور سبزیوں کی نسبت تیز مرچ میں وٹامن سی کی مقدار سب سے زیادہ ہوتی ہے۔
27۔اللہ تعالی نے سب سے پہلا دن ایتوار (اتوار) بنایا تھا۔( بائبل میں ایسا ہی لکھا ہے اور شائد قرآن اور حدیث اس بارے میں خاموش ہے۔مجھے لگتا ہے جمعہ پہلا دن تھا۔واللہ اعلم)
28-فرعونوں کے زمانے کے مصر میں ہفتہ 10 دن کا ہوتا تھا
29۔تتلی کی چکھنے کی حس اس کے پچھلے پاؤں میں ہوتی ہے
30-دنیا کی سب سے طویل جنگ فرانس اور برطانیہ کے درمیان ہوئی تھی، یہ جنگ 1338ء کو شروع ہوئی تھی اور 1453 کو ختم ہوئی تھی، یعنی یہ 115 سال جاری رہی تھی
31-قطبِ شمالی کے آسمان سے سال کے 186 دن تک سورج مکمل طور پر غائب رہتا ہے
32۔ٹھنڈا پانی گرم پانی سے زیادہ ہلکا ہوتا ہے۔ کیمسٹری
33۔دنیا کے ہر شخص کی اوسط فون کالز کی تعداد 1140 ہے
34-وہیل کی اوسط عمر 500 سال ہوتی ہے۔
35-فرانس کے اٹھارہ بادشاہوں کا نام لوئیس تھا
36-دنیا پر سب سے پہلا گھر کعبہ معظمہ ہی بنایا گیا تھا۔
37-ربڑ کے زیادہ تر درخت جنوب مشرقی ایشیا میں پائے جاتے ہیں
38-اگر موٹے گلاس میں گرم مشروب ڈال دیا جائے تو پتلے گلاس کی نسبت اس کے ٹوٹنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں
39-انسان جب پیدا ہوتا ہے تو اس کے جسم میں 300 ہڈیاں ہوتی ہیں جو بالغ ہونے تک صرف 206 رہ جاتی ہیں۔ چھوٹی ہڈیاں مل کر بڑی ہڈیوں میں تبدیل ہوجاتی ہیں۔
40-اٹھارویں صدی میں کیچپ بطور دواء استعمال ہوتا تھا
41۔ کوے کی بھی اوسط عمر پانچ سو سال تک ہوتی ہے۔
42۔اٹھارہ مہینوں کے اندر دو چوہے تقریباً 1 ملین اپنے ساتھی پیدا کر لیتے ہیں۔
43۔ انسانوں کے برعکس بھیڑ کے چار معدہ ہوتے ہیں اور ہر معدہ انہیں خوراک ہضم ہونے میں مدد دیتا ہے۔
50۔ مینڈک کبھی بھی اپنی آنکھیں بند نہیں کرتا، یہاں تک کہ سوتے ہوئے بھی آنکھیں کھلی رہتی ہیں۔
51۔ شارک کے جسم میں کوئی ایک بھی ہڈی نہیں ہوتی۔
52 ۔جیلی فش کے پاس دماغ نہیں ہوتا۔
53۔ پینگوئن اپنی زندگی کا آدھا حصہ پانی میں گزارتے ہیں اور آدھا زمین (خشکی) پر
54۔ گلہری پیدا ہوتے وقت اندھی ہوتی ہے۔
55۔ کموڈو، چھپکلی کی لمبی ترین قسم ہے۔ جس کی لمبائی تقریباً 3 میٹر تک ہوتی ہے۔
56۔کینگرو پیچھے کی جانب نہیں چل سکتے۔
57۔ دنیا میں سب سے بڑا انڈہ شارک دیتی ہے۔
58۔دنیا میں سب سے ذہین جانور ایک پرندہ ہے، جسے انگریزی میں گرے پیرٹ اور اردو میں خاکستری طوطا کہا جاتا ہے۔
59۔ دنیا کا سب سے بڑا سرچ انجن گوگل روزانہ اربوں انسانوں کو ان کی مطلوبہ معلومات اور ویب سائٹس ڈھونڈ کر دیتا ہے۔ یہ سرچ انجن اسقدر پیچیدہ اور بڑی مقدار میں ڈیٹا اور معلومات کو اربوں انسانوں تک پہنچاتا ہے کہ اس کی طاقت اور رفتار کو دیکھ کر انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔
60۔ پینگوئین ایک ایسا جانور ہے جو نمکین پانی کو میٹھے پانی میں تبدیل کرسکتا ہے۔
61۔ گولڈ فش کو اگر کم لائٹ میں پکڑا جائے تو یہ اپنا رنگ کھودیتی ہے۔
62۔ جیلی فش کے سر کو Bell کہا جاتا ہے۔
63۔ ایک مرغی سال میں اوسطاً 228انڈے دیتی ہے۔
64۔ بلیاں اپنی زندگی کا 66 فیصد حصہ سو کر گزارتی ہیں۔
65۔ جھینگے کا خون بیرنگ ہوتا ہے لیکن جب یہ آکسیجن خارج کرتا ہے تو اسکا رنگ نیلا ہوجاتا ہے۔
66۔ بیل نیچے کے بجائے اوپر کی طرف زیادہ تیزی سے دوڑتے ہیں۔
67۔ ہاتھی کے دانتوں کو دنیا کے سب سے بڑے دانت ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔
68۔ دنیا کے سب سے چھوٹے لال بیگ کا سائز صرف 3 ملی میٹر ہے۔
69۔ شارک کے دانت ہر ہفتے گرتے ہیں۔
70۔ دریائی گھوڑا ایک ہی وقت میں دو مختلف سمت میں دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
71۔ برفانی ریچھ 25 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ سکتا ہے اور ہوا میں 6فٹ کی بلندی تک چھلانگ لگاسکتا ہے۔
72۔ ایک ٹائیگر کی دم اس کے جسم کی کل لمبائی کی ایک تہائی تک بڑھ سکتی ہے۔
73۔ مچھلی کسی چیز کا ذائقہ چکھنے کیلئے اپنی دم اور پنکھ استعمال کرتی ہے۔
74۔ ڈریگن فلائی کی 6 ٹانگیں ہوتی ہیں لیکن وہ پھر بھی نہیں چل سکتی۔
75۔ ایسی سفید بلیاں جو نیلی آنکھوں والی ہوتی ہیں عام طور پر وہ بہری ہوتی ہیں۔
76۔ افریقی ہاتھیوں کے 4 دانت ہوتے ہیں۔
77۔ زرافہ جمائی نہیں لے سکتا۔
78۔ ایک گونگا مستقل 3 سال سونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
79۔دنیا میں صرف ایک دن میں اوسطا 55ارب مشروبات استعمال کی جاتی ہیں
80۔ شاہد آفریدی نے جب تیز ترین سنچری کا ریکارڈ بنایا تو وہ بھارتی سٹار سچن ٹنڈولکر کا بیٹ استعمال کررہے تھے۔
81۔کیا آپ اللہ کی قدرت کے مظہر" انسانی جسم "کے متعلق یہ حیرت انگیز بات جانتے ہیں۔کہ انسانی جسم میں موجود خون کی نالیوں کی مجموعی لمبائی 60 ہزارمیل کے برابر ہے۔
82۔سام سانگ کوریائی زبان کے دو لفظوں کا مجموعہ ہے سام اورسانگ ۔سام کا مطلب" تین" اور سانگ کا مطلب "ستارے "ہے۔ یعنی تین ستارے
83۔سمندر کی زیادہ سے زیادہ گہرائی تقریبا11 کلومیڑ (10923میڑ )ہے
84۔دنیا میں بانوے فیصد لوگ گوگل کا استعمال اپنے اسپیلنگ چیک کرنے کے لئے کرتے ہیں۔اور پاکستان میں 80 فیصد لوگ گوگل کا استعمال اس لئے کرتے ہیں کہ پتہ چل سکے انٹرنیٹ چل رہا ہے کہ نہیں۔
85۔مینڈک کی زبان میں تین گنا بڑا شکار دبوچنے کی طاقت ہوتی ہے
86۔ اب تک کا خطرناک ترین ہوائی حادثہ 1977 میں ہوا ۔اور اس حادثے میں583 لوگ موت کا شکار ہوئے تھے۔
87۔افریکی ہاتھی دنیا کا تیسرا سب سے وزنی جانور ہے۔۔ اس کا وزن 13000 کلو گرام تک ریکارڈ کیا گیا ہے۔
88 ۔ دنیا کی تقریباً آدھی آبادی صرف پانچ ممالک چین، بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش اور انڈونیشیا میں رہتی ہے
89۔ نابینا افراد ہماری طرح خواب نہیں دیکھتے۔
90۔ مچھلی کی آنکھیں ہمیشہ کھلی رہتی ہیں کیونکہ اس کے پپوٹے نہیں ہوتے۔
91۔ الو وہ واحد پرندہ ہے جو اپنی اوپری پلکیں جھپکتا ہے۔ باقی سارے پرندے اپنی نچلی پلکیں جھپکاتے ہیں۔
92۔کیا آپ بحیرہ مردار کے متعلق یہ دلچسپ بات جانتے ہیں کہ اگر آپ اس سمندر میں گر بھی جائیں تو بھی آپ اس میں نہیں ڈوبیں گے۔
93۔ پاکستان کا "مکلی قبرستان، ٹھٹھہ " جو کے مسلمانوں کا سب سے بڑا قبرستان ہے۔جہاں ایک ہی جگہ پر لاکھوں مسلمان دفن ہیں ۔یہ قبرستان 6 میل کے طویل ایریا میں پھیلا ہوا ہے۔
94۔عدد کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا نوٹ زمبابوے نے 2009 میں جاری کیا تھا جو کہ 100ٹریلین ڈالر یعنی100 کھرب زمبابوے ڈالرکا تھا۔
95۔ کیا آپ شیروں کے بارے یہ دلچسپ بات جانتے ہیں کہ شیر کے بچے جب اپنے والدین کو کاٹتے ہیں تو وہ اکثر رونے کی ایکٹنگ کرتے ہیں۔
96۔کیا آپ جانتے ہیں کہ قادوس نامی پرندہ اڑتتے اڑتے بھی سو جاتا ہے یا سو سکتا ہے۔
97۔بچھو چھے دن تک اپنا سانس روک سکتا ہے۔بچھو پانی کی تہہ میں سانس نہیں لے سکتا لہذا وہ اپنا سانس روک لیتا بھلے اسے چھے دن وہاں پڑا رہنے دو۔ وہ سانس نہیں لے گا لیکن زندہ رہے گا۔
98۔ایک روسی خاتون "مسٹرس وسیلائیو "کے ایک ہی خاوند سے چالیس سال کے دورانیے میں یعنی سنہ1725ء سے 1765ءکے عرصہ کے دوران 69 بچے پیدا ہوئے
99۔مراکش کے سلطان إسماعيل بن الشريف ابن النصر جس نے مراکش پر 1672ء سے 1727ء تک 55 سال حکومت کی تھی ۔ اس کے مختلف بیویوں اور باندیوں (کنیزوں) سے 525 بیٹے اور 342 بیٹیاں تھیں۔
میں آج آپ سے یہ سوال نہیں کروں گا کہ آپ کو کونسی معلومات سب سے زیادہ دلچسپ و عجیب لگی۔
بس آپ خود ہی بتادیں؟

17/12/2022

#نماز.
ہم نماز پڑھتے ہیں وہی رٹے رٹائے جملے زبان بولی جا رہی ہے اور دماغ کو معلوم ہی نہیں کہ زبان کیا بول رہی ہے، دماغ کد ھر ہے گھر کے آفس کے دکان کے کاموں میں۔
آئیں نماز کو آسان کرتےہیں اتنی آسان کے بچے بھی شوق سے نماز ادا کریں ان کو بھی سمجھ آئے کہ ہم اللہ سے کیا بات کر رہے ہیں۔

نوٹ:
ترجمہ کا مفہوم بیان کیا گیا ہے۔

تکبیرِ اولی
اللہٌ اَکۡبَر
(اللہ تو سب سے بڑا ہے)
اس کے لئے جب ہم ہاتھ کانوں تک لے کر جاتے ہی تو انسان کہتا ہے اللہ میں نے دنیا کی ہر چیز سے ہاتھ اٹھا لیا ہے اللہ تو نے مجھے بہت بلایا اپنی طرف، مسجدوں میں اعلان کروائے میرے لئے آج میں آ گیا ہوں میں تیرا مجرم ہوں آج گرفتاری دے دی تجھے ہاتھ اٹھا کر۔
اب اللہ اور بندے کی گفتگو شروع ہو گئی۔
اللہ نے کہا تو جس کے پاس آیا ہے تو جانتا ہے کہ کون ہوں میں؟
اَلۡحَمۡدٌللہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ٠ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ٠
(تو تمام عالمین کا رب ہے۔ تو رحمان ہے رحیم ہے۔)
تجھے میری طاقت کا اندازہ ہے؟
مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ٠
(تو قیامت کے دن کا مالک ہے)
اچھا چل آگیا ہے میری بارگاہ میں بات بھی شروع ہو ہی گئی ہے تو بتا چاہتا کیا ہے؟
اِیّاکَ نَعۡبٌدٌ وَ اِیّاکَ نَسۡتَعِیۡنٌ٠
(تیری عبادت کرنا چاہتا ہو اور تو میری مدد فرما)
کیوں؟
اِھۡدِ نَاالصِّرَاطَ الۡمٌسۡتَقِیۡمَ٠
(سیدھے رستے پر چلنا چاہتا ہوں)
تجھے پتا ہے وہ کن کا رستہ ہے؟
صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِم٠
(ان لوگوں کا رستہ جن پر تو نے انعام کیا)
اگر میں تجھے سیدھے رستے پر لے جاؤں تو تو اٌدھر واپس تو نہیں جائے گا؟
غَیۡرِالۡمَغۡضٌوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّالِیۡنَ٠
(تو مجھے اس رستے سے بچا جن پر تو نے اپنا غضب کیا)
اللہ کہتا ہے کہ واہ باتیں تو بڑی اچھی کر رہا ہے، چل تھوڑی اور باتیں کرتے ہیں۔
اور باتیں ہوئیں تھوڑی تو اللہ نے کہا ٹھیک ہے جو باتیں تو نے کی سب ٹھیک باتیں کی ہیں۔
تو جھک کر کہا:
سٌبۡحَانَ رَبِّیَ الۡعَظِیۡمِ٠
چل کہ جو دیا کہ معاف کر دیا ہے اب نہ جانا چھوڑ کر،
سجدے میں جھک گیا اور کہا
سٌبۡحَانَ رَبِّیَ الۡاَ عۡلیٰ٠
اب پھر تو نہیں کیہں جاۓ گا؟
دوبارہ سجدے میں جھک گیا
سٌبۡحَانَ رَبِّیَ الۡاَ عۡلیٰ٠
دوبارہ اٹھ کر کھڑا ہو اور مجھ سے یہی باتیں دوبارہ کر مجھے تیری یہ باتیں کرنا پسند آیا ہے میں چاہتا ہوں یہی باتیں دوبارہ کر مجھ سے۔
پھر سب باتیں ہوئیں۔
اللہ نے کہا چل اب تھک گیا ہے بیٹھ جا اب ، اور مجھے بتا تیرا عقیدہ کیا ہے؟
اَشۡھَدٌ اَنۡ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہ
(تو اللہ ہے اور ایک ہے)
تٌو تو مجھ سے کبھی ملا ہی نہیں مجھے کبھی دیکھا ہی نہیں تو تجھے کیسے معلوم ہوا؟
وَاَشۡھَدٌ اَنَّ مٌحَمَّدً عَبدٌہٗ وَرَسٌولَہ
(مجھے رسولؐ نے بتایا ہے کہ تو ہے۔)
چل تو نے میرے محبوبؐ کا نام لیا ہے تو ان پر درود بھیج دے اب۔
درود پاک پڑھا۔
چل اب مجھ سے مانگ کیا مانگتا ہے؟
(اللہ مجھے نماز کا پابند بنا دے اور میری اولاد کو بھی

25/11/2022

دنیا کا کوئی بهی پرفیوم ماں کی روپٹے کی خوشبو کا مقابلہ نہیں کرسکتی

ٹیپو سلطان 20 نومبر، 1750ء (بمطابق جمعہ 20 ذوالحجہ، 1163ھ ) کو دیوانہالی (بنگلور) میں پیدا ہوئے تھے۔ٹیپو سلطان کی نفرت م...
21/11/2022

ٹیپو سلطان 20 نومبر، 1750ء (بمطابق جمعہ 20 ذوالحجہ، 1163ھ ) کو دیوانہالی (بنگلور) میں پیدا ہوئے تھے۔
ٹیپو سلطان کی نفرت میں انگریزوں نے کتنے شیر مارے تھے۔۔؟؟؟
یورپ والے ہمیں وائلڈ لائف کے تحفظ کا درس دیتے ہیں لیکن کس بے رحمی سے انگریزوں نے ہندوستان میں شیروں اور وائلڈ لائف کا قتل عام کیا اور قریبا 80 ہزار شیروں کا شکار کیا ۔ آج اس افسوسناک معاملے کے دردناک پہلو پر بات کرتے ہیں۔ کہ یہ سب کیوں کیا گیا؟ اس کے یقینا بہت سے عوامل ہو سکتے ہیں۔ایک قابض قوت مقبوضہ علاقوں کے ساتھ ایسا ہی حسن سلوک کیا کرتی ہے لیکن یہاں شیروں کے قتل عام میں ایک اور فیکٹر بھی کام کر رہا تھا۔پروفیسر جوزف سرامک اپنی کتاب Face Him Like a Briton میں لکھتے ہیں کہ برطانوی راج میں ہندوستان میں شیروں کے اس بے رحمانہ شکار کی ایک وجہ ٹیپو سلطان سے انگریز کی نفرت بھی تھی۔ سلطان ٹیپو شیروں کے دلدادہ تھے ۔انہیں شیر میسور بھی کہا جاتا تھا۔ٹیپو سنسکرت زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے شیر جیسا ۔ ان کی تلواروں اور خنجر پر بھی شیر کی شبیہہ بنی ہوتی تھی۔شیر ہی ان کی سلطنت کا سرکاری نشان تھا اور ان کے لیے جو تخت بنایا تھا وہ بھی ایسا تھا جیسا کوئی شیر کے اوپر بیٹھا ہوا ہو۔ ٹیپو سلطان نے فرانسیسی معماروں سے ایک مجسمہ بنایا تھا جس میں ایک شیر ایک انگریزسپاہی کو گرائے ہوئے ہے۔ یہ مجسمہ آج بھی رائل البرٹ میوزیم میں رکھا ہے۔ چنانچہ ٹیپو سلطان کو شکست دینے کے بعدانگریز نے ٹیپو سلطان کو Outdo کرنے کے لیے شیروں کا اس بے رحمی سے شکار کیا کہ جہاں لاکھوں شیر پائے جاتے تھے وہ برطانوی راج کے اختتام پر محض چند ہزار رہ گئے۔وہشت کے اس سارے کھیل میں شیر میسور کی تذلیل مقصود تھی۔ چنانچہ سلطان ٹیپو کے میسور میں ہی وین انجن اینڈ وین انجن نامی ایک فرم قائم کی گئی جو شیروں کو حنوط کرتی اور کھال میں بھوسہ بھر کے جانوروں کے ماڈل تیار کرتی۔ یہ کام کہیں اور بھی ہو سکتا تھا۔ میسور سے بڑے شہر بھی موجود ہے جہاں کی مارکیٹ کے امکانات میسور سے کہیں زیادہ تھے لیکن چونکہ مقصد سلطان ٹیپو کی نسبت کی تذلیل تھی اس لیے یہ فرم میسور میں قائم کی گئی۔میسور میں وحشت کا یہ کھیل کتنی شدت سے کھیلا گیا اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ صرف اس ایک فرم نے 43 ہزار شیروں اور 30 ہزار چیتوں کی کھال کو پراسس کیا۔جس شہر میں شیر میسور سلطان ٹیپو کی یادیں بسیرا کیے ہوئے تھیں اس میسور کے بازاروں میں اور چوراہوں میں شیروں کی کھالوں کو خشک کیا جاتا ۔ ہندوستان بھر سے شیر مار کر ان کی کھال میسور بھجوائی جاتی ۔ یہی نہیں بلکہ سلطان ٹیپو سے جڑی ہر نسبت کو ذلیل کیا گیا۔ وائسرائے نے اپنے کتے کا نام ٹیپو رکھا۔ اور پھر انگریز ڈپٹی کمشنرز نے اسی رسم کو آگے بڑھایا۔ ٹیپو سلطان کی ریاست میں صوبیدار کا عہدہ گورنر کا عہدہ ہوتا تھا ، انگریز نے ایک لفٹین کے ماتحت عہدے کو صوبیدار کا نام دے دیا۔ سلطان ٹیپو کے وزیر خوراک کے منصب کو خانِ ساماں کہا جاتا تھا انگریزوں نے اپنے باورچی کو خانساماں کہنا شروع کر دیا۔ ٹیپو سلطان نے سلطنت عثمانیہ کے خلیفہ سے مدد چاہی تھی ، انگریزوں نے حجام کا نام خلیفہ رکھ دیا۔ٹیپو کے دربار میںپگڑی کو عزت اور فضیلت کی علامت سمجھا جاتا تھا انگریز نے نوکروں اور غلاموں کو پگڑی پہنا دی۔ٹیپو سلطان کے دور میں جمعدار ایک بہت بڑے پولیس افسر کا نام تھا، انگریوں نے کاکروب کو جمعدار کا نام دے دیا۔ہماری فرمانبرداری دیکھیے ہم آج تک نفرت اور تذلیل کی اس میراث کو گلے سے لگائے پھر رہے ہیں اور سمجھ رہے ہیں کہ ہم ’’ مہذب ‘‘ ہو گئے۔ ٹیپو سے انگریز کی یہ نفرت اس لیے تھی کہ وہ ہندوستان کا آخری آزاد سلطان تھا۔بہادر شاہ ظفر جیسے کردار کو آخری سلطان کہنا ایک بد ترین مذاق سے کم نہیں۔ بہادر شاہ ظفر تو 1857 میں معزول ہوا مغلوں کا تو عالم یہ تھا 1797 میں ٹیپو نے انگریزکے مقابلے کے لیے سلطنت عثمانیہ کو تو خط لکھا لیکن دلی میں بیٹھے اورنگزیب عالم گیر کے بیٹے شاہ عالم کو خط نہیں لکھا۔ کیونکہ ٹیپو سلطان کو معلوم تھا یہ سلطان محض ایک مہرہ ہے جس کے بارے میں دلی شہر میں منچلے نعرے لگاتے تھے کہ ’’سلطنت شاہِ عالم،از دلی تا پالم۔ چنانچہ آخری آزاد سلطان کی ہر نسبت کو ذلیل کیا گیا۔ جارج یول نامی ایک برطانوی افسر نے ہندوستان میں قیام کے دوران 400 شیروں کا شکار کیا اور جیفری نائیٹنگیل نے 300 شیر مارے۔یعنی صرف دو برطانوی اہلکاروں کے ہاتھوں 700 شیر مارے گئے۔ امریکہ کے برگیڈیئر جنرل ولیم مچل 1924میں وائسرائے کے مہمان کے طور پر بھارت آئے تو انہوں نے یہاں جانوروں کا بے رحمی سے شکار کیا۔ یہ وہی صاحب ہیں جنہیں امریکہ میں ’ فادر آف دی ایئر فورس‘ کہا جاتا ہے اور بعد میں جن کا کورٹ مارشل ہوا تھا۔ انہوں نے اسی سال نیشنل جیوگرافک میگزین میں Tiger Hunting in India کے نام سے شائع ہونے والے ایک مضمون میں لکھا کہ: گزشتہ تین دنوں میں ہم نے اتنے زیادہ جانوروں کا شکار کیا کہ ان کی کھالیں خشک نہ ہو سکیں۔ چنانچہ ہم نے یہ ساری کھالیں ٹرک کی چھت پر ڈال دیں کہ راستے میں ہی خشک ہوتی رہیں گی۔ برطانوی افسران اور اہلکاروں نے برصغیر کے جنگلوں میں جس بے رحمی سے شکار کیا وہ ایک تاریک باب ہے۔ گاندھی اروان معاہدے والے وائسرائے لارڈ ارون کے بارے میں کہا جاتاہے کہ انہوں نے 10 ہزار بھڑ تیتر مارے تھے۔راولپنڈی کے ایک ڈپٹی کمشنر صاحب بہادر نے پوٹھوہار کے علاقے میں ایک روز میں 40ہرنوں کا شکار کیا۔ میرے خیالات کا یہ سلسلہ ٹوٹا تو دیکھا ، محفل ابھی جاری تھی۔ برصغیر کی جنگلی حیات کا قتل عام کرنے والے مہربان ، اب ہمیں سمجھانے آئے بیٹھے تھے کہ ایک مہذب قوم کی طرح جنگلی حیات کا تحفظ کیسے کیا جاتا ہے اوراحساس کمتری کے مارے شرکاء کے چہرے بتا رہے تھے کہ ان کے ہاں اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ ہم مقامی لوگوں کے مہذب ہونے میں ابھی بہت وقت لگے گا..!!!

20/11/2022

عام طور پر یہ بات آپ نے سنی ہوگی کہ وٹامن ڈی دھوپ ☀ سے ملتی ہے... لیکن یہ غلط ہے...
وٹامن ڈی دھوپ میں نہیں بلکہ جب سورج کی شعاعیں آپ کے جسم کو لگتی ہیں تو آپ کی جلد میں وٹامن ڈی بننے کا عمل شروع ہوتا ہے. یعنی وٹامن ڈی آپ کا جسم بناتا ہے.
وٹامن ڈی زندگی ہے. اس کے بغیر آپ جوانی میں بڑھاپا دیکھنے لگتے ہیں. اگر آپ کے جسم میں وٹامن ڈی کی مکمل مقدار ہو تو آپ کا بڑھاپا بہت دیر سے آتا ہے. آپ کی جوانی دیر پا رہتی ہے. اس کا کام آپ کے سارے جسم کے نظام پر ہوتا ہے..... وٹامن ڈی اتنا اہم ہے جتنا روزانہ کھانا پینا اہم ہے.
وٹامن ڈی مختلف میڈیسن کے استعمال سے بھی کم ہوتا ہے. مثلاً اگر آپ سٹیرائیڈز لے رہے ہیں تو آپ میں وٹامن ڈی کی شدید کمی ہوجاتی ہے. اس کے علاوہ اگر آپ کو آنتوں کی بیماری ہے یا گردوں کی بیماری ہے تب بھی آپ کو وٹامن ڈی کی کمی ہوگی. ہر سال اپنا وٹامن ڈی لیول چیک کروائیں.
کم از کم 70 mg/dl وٹامن ڈی کی مقدار آپ کے جسم میں ہونی چاہیئے. اکثر فیزیشنز آپ کو کہیں گے کہ 30 mg/dl کافی ہے لیکن دراصل یہ غلط ہے. یہ آپ کے جسم کی ضرورت پوری نہیں کرتی. Toxicity 150 mg/dl سے زیادہ کی مقدار پر شروع ہوتی ہے وہ بھی تب ہوتی ہے جب آپ مسلسل 50 ہزار iu مقدار کی وٹامن ڈی روزانہ کی بنیاد پر لیں اور اسے 3 سے چار ماہ استعمال کریں تب جاکہ ایسا ہوتا ہے. بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ 50 ہزار iu مقدار کا ایک کیپسول ہفتہ میں ایک دن استعمال کریں اور اسے 4 یا 5 ماہ تک استعمال کریں ...... آپ کی ضرورت کیلئے اتنا کافی ہے. پھر ایک سال بعد دوبارہ ٹیسٹ کروائیں. اگر کم ہو تو پھر 2 سے 3 ماہ استعمال کرلیا کریں ہر سال...
وٹامن ڈی کی کمی سے شوگر، کولیسٹرول، بلڈ پریشر، کینسر، پھٹوں کی بیماریاں، موٹاپا، نظر کی کمزوری، گردوں کی بیماری، دماغ کی کمزوری، ڈپریشن، معدے اور آنتوں کی بیماریاں، الرجی اور سانس کی بیماری، ہڈیوں کی بیماریاں، دانتوں کا ٹوٹنا یا کیڑا لگنا، جنسی کمزوری، ٹیسٹو سٹیرون کا نہ بننا وغیرہ جیسی بیماریاں لگ سکتی ہیں. اسے وقت پر کنٹرول کریں.
ڈاکٹر محمد عاصم فارماسسٹ

20/11/2022

ملا نصیرالدین صاحب کے پاس ایک لڑکا آیا اور ان سے پوچھا:
’’ملا صاحب! میرے والد کی آج جمعہ کے مبارک دن وفات ہوئی ہے۔ اگلے جہان میں اُن کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا ؟‘‘
ملا صاحب نے پوچھا: ’’کیا آپ کے والد صاحب نماز روزے کے پابند تھے ؟‘‘
لڑکے نے کہا: ’’نہیں۔ نہ وہ نماز پڑھتے تھے ، نہ روزے رکھتے تھے ، مگر خوش قسمتی سے جمعہ کے دن فوت ہوئے ہیں‘‘۔
ملا نے دریافت کیا: ’’عیاشی تو نہیں کرتے تھے ؟‘‘
لڑکے نے بتایا: ’’عام طور پر تو نہیں۔ مگر جس روز رشوت کی رقم زیادہ مل جاتی، اُس روز جوا بھی کھیل لیتے ، عیاشی بھی کرلیتے۔ اس کے باوجود انھیں جمعہ کے مقدس دن وفات پانے کا شرف حاصل ہوا ہے‘‘۔
ملا : ’’کچھ صدقہ خیرات بھی کرتے تھے ؟‘‘
لڑکا: ’’جی نہیں، فقیروں کو بُری طرح پھٹکارکر بھگا دیتے تھے کہ شرم نہیں آتی مانگتے ہوئے ؟ مگر فوت جمعہ کے دن ہوئے‘‘۔
ملا: ’’عزیزوں، رشتے داروں اور محلے والوں سے اُن کا سلوک کیسا تھا ؟‘‘
یہ سوال سن کر لڑکا جھلا گیا۔ کہنے لگا: ’’جی ، وہ تو پورے محلے میں لڑاکا اور جھگڑالو مشہور تھے۔ سب ان کو دیکھتے ہی اِدھر اُدھر ہوجاتے تھے۔ مگر ملا صاحب! میں صرف اتنا جاننا چاہتا ہوں کہ میرے والد صاحب جمعہ کے متبرک دن فوت ہوئے ہیں ، ان کے ساتھ اگلی دُنیا میں کیسا سلوک کیا جائے گا ؟‘‘
ملا صاحب نے اُسے پیار سے سمجھاتے ہوئے دلاسا دیا: ’’بیٹا! جمعے کے دن تو اُنھیں کچھ نہیں کہا جائے گا۔ مگر جیسے ہی ہفتے کا دن آئے گا سارا حساب کتاب بے باق کردیا جائے گا!‘‘
😂

Address

London
24221

Opening Hours

9am - 5pm

Telephone

+923138653346

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mr.Faizy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Mr.Faizy:

Share

Category