13/06/2026
السلام علیکم!
میری شادی کو سات سال ہو چکے ہیں اور ابھی تک ہماری اولاد نہیں۔ ہمارے مالی حالات بھی اتنے اچھے نہیں۔ سیر و تفریح تو بہت دور کی بات ہے۔ صرف بنیادی ضروریات زندگی ہی بمشکل پوری ہو رہی ہیں۔ لیکن میرے شوہر بہت اچھے ہیں ہر طرح سے میرا خیال رکھتے ہیں۔
بس، وہ قرآن اور نماز میں دلچسپی نہیں لیتے، وعدے تو کرتے ہیں، مگر عمل نہیں کرتے۔ ان کا اخلاق قابلِ تعریف ہے، ہر کسی کا خیال رکھتے ہیں، لیکن نماز کی کوتاہی مجھے پریشان کرتی ہے۔ میں حافظہ قرآن ہوں، شرعی پردہ کرتی ہوں، دین سے محبت رکھتی ہوں، اسی لیے چاہتی ہوں کہ شوہر بھی نماز کی طرف آئیں تاکہ ہمارے گھر پر اللہ کا اور زیادہ کرم ہو۔
میری سسرال کا رویہ بھی میرے ساتھ کچھ اچھا نہیں، کیونکہ میرے بھائی کی شادی میری ایک دوست سے ہوئی ہے، جبکہ میری پھوپھو اپنی بیٹی کا رشتہ وہاں کروانا چاہتی تھیں۔ اس لیے وہ مجھے ذمہ دار سمجھتی ہیں اور دل سے قبول نہیں کرتیں۔ ساس اور نند کبھی بانجھ کہتی ہیں، کبھی کردار پر بات کرتی ہیں، جو میرے لیے ناقابلِ برداشت ہوتا ہے۔ میں ان کے اس رویے سے بہت پریشان ہوں۔ ایک کمرے تک محدود ہو کر رہ گئی ہوں ۔ کچن، بیڈ روم سب کچھ وہی ہے۔ ماں باپ کا گھر چھ گھنٹے کے فاصلے پر ہے، بار بار جانا ممکن نہیں۔
ذہنی کیفیت کچھ یوں ہے کہ دماغ مسلسل چلتا رہتا ہے۔ گھر کے کام ہوں یا ذکر اذکار، دل سکون محسوس نہیں کرتا۔ کئی بار فزیکلی بھی کمزوری محسوس ہوتی ہے۔
میں عربی سیکھ رہی ہوں، اور یہ میرا خواب ہے کہ عربی میں مہارت حاصل کرکے اصل دینی کتب کا ترجمہ کروں تاکہ وہ علم عام لوگوں تک پہنچے، جو زبان کی وجہ سے ہم سے دور ہے۔ لیکن یہ خواب وقت، توجہ، حوصلہ اور تسلسل مانگتا ہے۔ اور یہی چیز مجھ سے نہیں ہو پا رہی۔
اس کے علاوہ میں اپنا ذاتی گھر چاہتی ہوں جہاں تھوڑا سا سکون ہو، ایک پرسکون ماحول ہو، ایسی جگہ جہاں میری اولاد پروان چڑھے تو اسے ماں کی بے عزتی، تہمتیں، شرکیہ ماحول، اور نفرتیں نہ دیکھنی پڑیں۔
توحید پر میں کسی قسم کا کمپرومائز نہیں کر سکتی، اس میں میرا مزاج سخت ہے، شوہر جانتے ہیں۔ مگر یہاں جو ماحول ہے، وہ دین کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ میں اس ماحول سے اپنےلیے، دینی خدمات کے لیے اور اپنی نسل کے لیے نکلنا چاہتی ہوں۔ اب ذہن تھکنے لگا ہے۔ دعاؤں کی منتظر ہوں۔
جواب:
وعلیکم السلام، محترمہ! اگرچہ آپ کے سوال میں مجھے کوئی سنجیدہ مسئلہ نظر نہیں آیا ۔ سسرال والوں کے رویے کو دیکھ کر آپ کی الگ گھر کی خواہش بالکل فطری ہے۔ باقی، رزق اور اولاد کی تقسیم بھی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ہاں، لوگ جینے نہیں دیتے۔ جیسے آپ کو طعنوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صوم و صلوٰۃ کی پابند ہونے کے باوجود بھی ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔
آپ اور آپ کے شوہر اللہ کی رضا میں راضی ہیں لیکن آپ کے آس پاس کا ماحول آپ کے لیے مشکلات کھڑی کر رہا ہے۔ آپ نصیب والی ہیں جو آپ کے شوہر آپ کی قدر کرتے ہیں۔ اس نعمت پر اللہ کا شکر ادا کریں۔ ورنہ بہت سی عورتیں ہیں جن کے حصے میں مالی آسودگی تو آ جاتی ہے لیکن وہ اپنے شوہر کی طرف سے عزت اور جذباتی سپورٹ سے محروم ہوتی ہیں۔ میرے خیال میں عزت سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہوتی۔
البتہ نماز یا قرآن کی طرف سے آپ کے شوہر کی کوتاہی آپ جیسی دین کے بنیادی فرائض پورے کرنے والی بیوی کے لیے یقیناً تکلیف دہ ہے۔ لیکن میں یہاں پر بھی آپ کو یہی کہوں گا، مردوں کا مزاج عورتوں سے تھوڑا مختلف ہوتا ہے۔ انہیں یہ بات پسند نہیں آتی کہ انہیں ایک ہی بات بار بار کہی جائے۔ آپ انہیں مسلسل کہنے کی بجائے اپنے اخلاق اورعمل سے ثابت کر کے کھائیں۔ ان کی باقی اچھائیوں کی تعریف کیا کریں، انہیں بتائیں کہ آپ ان سے بہت محبت کرتی ہیں اور ان کی خیر خواہی چاہتی ہیں ۔ ہر نماز کے بعد ان کے لیے دعا کیا کریں۔ اور اس معاملے کو حکمت سے ہینڈل کرنے کی کوشش کریں۔ اللہ نے چاہا تو ان کا دل ضرور پھرے گا۔ وہ ذات جب چاہے جس وقت چاہے دلوں کو پھیرنے والی ہے۔
جہاں تک سسرالی رویوں کی بات ہے، جب لوگ دلوں میں حسد یا بغض پال لیں تو اسے ہم نکال نہیں سکتے۔ انہیں آپ کی باقی خوبیاں نظر نہیں آتیں ۔ آپ ان کے ساتھ جتنا بھی اچھا کر لیں وہ آپ کے ساتھ ویسے ہی رہتے ہیں۔ ہاں اپنے اچھے اخلاق سے آپ ان سے ممتاز ضرور ہو سکتی ہیں۔ آپ کو بے اولادی کے طعنے یقیناً بہت تکلیف دہ ہیں۔ نہ چاہتے ہوئے بھی آُپ انہیں دل پر لے رہی ہیں جو کہ کل کو آپ دونوں میاں بیوی کے آپس کے تعلقات کے لیے بھی مشکل کھڑی کر سکتا ہے۔ اس لیے ضروی ہے کہ ان سے بچنے کی کوشش کریں۔ بے شک ماں کا درجہ بہت بڑھا ہے لیکن ایک عورت کی عزت، اس کا کردار یا اس کی پہچان صرف ماں ہونے سے ہی نہیں ہوتی ۔ آپ حافظہ قرآن ہیں، عربی سیکھ رہی ہیں، دین کا علم عام کرنے کا خواب رکھتی ہیں — یہ سب اللہ کی دی ہوئی بہت بڑی نعمتیں ہیں۔ ان نعمتوں کو صرف اس لیے چھوٹا نہ سمجھیں کہ ابھی اولاد نہیں۔
آپ کی الگ گھر کی خواہش بالکل بے جا نہیں۔ خاص طور پر جب وہاں آپ کی کوئی عزت نہیں۔ لیکن آپ کے مالی حالات کے مطابق فی الوقت اتنا بڑا فیصلہ لینا ممکن نہیں ۔ مناسب پلاننگ کے ساتھ آمدنی بڑھانے کی کوشش کریں۔ آپ اپنے ہنر کے مطابق گھر پر رہ کر کوئی کام کر کے اپنے شوہر کا ہاتھ بٹا سکتی ہیں۔ جس سے آہستہ آہستہ سیونگ بھی ہونے لگے گی۔
علاج کے ساتھ ساتھ اولاد کے لیے فجر کے بعد حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا رَبِّ لَا تَذَرْنِي فَرْدًا وَأَنتَ خَيْرُ الْوَارِثِينَ پڑھا کریں۔ اس کے علاوہ سورہ محمد بھی بعض کے نزدیک اولاد کے لیے ایک مجرب عمل ہے۔ استغفار کا ورد اپنے مسائل کے حل کی نیت سے پڑھنا شروع کریں۔ یہ بھی مجرب ہے۔ جب بھی دعا کریں اللہ سے اس کے ناموں کا واسطہ دے کر دعا کیا کریں۔
آپ کی کامیابی میری دعاؤں میں شامل ہے۔ اپنی پیشرفت سے ضرور آگاہ کریں! اللہ آپ کے رزق کو وسیع، اور آپ دونوں کو نیک اولاد سے نواز دے۔ آمین
ڈاکٹر وقاص اے خان
پی ایچ ڈی ہیرو شیما یونیورسٹی جاپان
فیلو: جاپان سوسائٹی فار پروموشن آف سائنس
فیلو: انٹر نیشنل اکیڈمی فار لیڈرشپ جرمنی
فیلو : انٹرنیشنل سنٹر فار جرنلسٹس امریکہ
لائف کوچ- پرابلم سالور- ریلیشنشپ کونسلر- وکیل
آپ اپنا مسلئہ ایک ہی میسج میں ہمارے ہیلپ لائن نمبر وٹس ایپ 03009119779 تفصیل سے لکھیں۔ کوئی پہلو خفیہ نہ رکھیں۔ میسج آپ اردو، رومن اردو یا انگلش میں لکھ سکتے/سکتی ہیں۔
1000 روپے کی معمولی فیس ادا کر کے آپ تحریری حل 30 منٹ سے 2 گھنٹے میں On Priority 1۔ حاصل کر سکتے ہیں)
آپ Urgent Paid Answer کے لیے 03009119779 پر وٹس ایپ کرکے اپنا سوال بھیجیں۔
2۔ 5000 روپے (میرے ساتھ لائیو (آڈیو/ویڈیو) کونسلنگ سیشن جو کہ 45 منٹ کے دورانیے پر محیط ہو گا۔ زندگی میں کبھی بھی اپنے دکھ اور مصیبتیں کھول کر مجھے سنانا چاہیں اور ان کا حل جاننا چاہیں تو میرا لائیو سیشن بک کریں
نوٹ: زکوٰۃ اور صدقات کے حقدار افراد کے مسائل کا حل مفت کیا جاتا ہے۔